Shafiq buneri

Shafiq buneri Explore USA with Shafiq buneri

06/28/2026

اپوزیشن لیڈر جناب عباداللہ خان نے وزیر اعلیٰ اور سپیکر دونوں کو دھو ڈالا

آج کل سوشل میڈیا پر ابدالی سکول اینڈ کالج جوڑ بونیر کے بارے میں ایک طوفان برپا ہے کہ یہ تعلیمی ادارہ کی بجائے ایک سیاسی ...
06/23/2026

آج کل سوشل میڈیا پر ابدالی سکول اینڈ کالج جوڑ بونیر کے بارے میں ایک طوفان برپا ہے کہ یہ تعلیمی ادارہ کی بجائے ایک سیاسی اکھاڑہ ہے حالانکہ جو لوگ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ان سے ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ ابدالی سکول اینڈ کالج سے پہلے پورے علاقہ سلارزئ اور عشیزومیرہ اور نویکلے کے کتنے نوجوان میڈیکل اور انجنیئرنگ کالجوں تک رسائی حاصلکر تے تھے تو آپ کو اس تعلیمی ادارے کی افادیت معلوم ہوجایئگئ ابھی تک اس قیمتی ادارے سے بہت بڑی تعداد میں ایسے قیمتی طلبہ مختلف میدانوں میں نکل چکے ہیں جن کے بدولت بونیر کانام روشن ہورہاہے طب کا میدان ہو انجنیئرنگ کا میدان ہو تعلیم کا میدان ہو ہر جگہ اس ادارے کے نوجوان آپ کو خدمت کرتے دیکھائی دینگے بلکہ میں تو کھبی کھبار اپنے استاد محترم جناب عالم خان صاحب کو جب دیکھتا ہوں تو اس بندے پر رشک اتاہے کہ کتنا خوش قسمت انسان ہے کہ کسی بھی محکمہ جاو تو اس بندے کے شاگردوں کی ایک لڑی نظر آئیگی اب اس کو صرف اس لئے نشانہ بنارہے ہیں ہے کہ ان کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہیں کیا کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنا گناہ ہے اور کیا دوسرے تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہوتا ایک بات زھن نشین رکھنا چاہیئے کہ یہ ایک نجی تعلیمی ادارہ ہے چھٹیوں میں اگر یہ اپنے سکول میں کوئی سیاسی یا مزھبی پروگرام منعقد کرتا ہے تو اس پر کسی کو معترض نہیں ہونا چاہیئے اور ہاں اگر تعلیمی سیشن کے دوران یہاں پر کوئی سیاسی ایونٹ کا انعقاد کیا جاتاہے تو اس پر اعتراض بنتاہے لیکن یہاں پر تعلیمی سیشن کے دوران کسی نے کوئی پروگرام کرتے نہیں دیکھا ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک شاندار ادارہ کو بلاوجہ پولیٹسائز نہیں کرانا چاہیئے بلکہ کھلے دل سے اس کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیئے اور ہاں ایک ضروری گزارش کہ جو لوگ مجھے جانتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ نظریاتی طور پر ان لوگوں کی نظریات سے میرا شدید اختلاف رہا ہے

06/22/2026

پی ٹی آئی والوں نے پروپیگنڈے کر کرکے اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب اگر کوئی بات ایسی کرے جو حقیقت میں سچ ہو تو کوئی سچ ماننے کو تیار نہیں صوبائی حکومت کا بجٹ واضح مثال ہیں

ایمل ولی خان کومولاناسے سیکھناچاہئے     تحریر: محمد آصف محمودہو سکتا ہے یہ میری کوتاہ نظری ہو یا محض اتفاق ہو لیکن ایمل ...
06/21/2026

ایمل ولی خان کومولاناسے سیکھناچاہئے
تحریر: محمد آصف محمود

ہو سکتا ہے یہ میری کوتاہ نظری ہو یا محض اتفاق ہو لیکن ایمل ولی خان صاحب کو میں نے جب بھی گفتگو کرتے دیکھا، جلال کی ایک ہی جیسی کیفیت میں دیکھا۔ اگر تو انہوں نے بڑے ہو کر پاکستان تحریک انصاف کا مرکزی رہنما بننا ہے تو پھر تو بالکل ٹھیک ہے، وہاں اسی رویے اور اسی طرز گفتگو کو دلاوری کہا جاتا ہے اور اسی کی پزیرائی ہوتی ہے۔ لیکن اگر انہوں نے ولی باغ کی سیاسی روایات کی وراثت سنبھالنی ہے تو پھر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ رویہ انہیں بالکل بھی نہیں جچ رہا۔

ولی باغ کی سیاسی میراث کو لے کر چلنا ہے تو مزاج کی تہذیب کرنا ہوگی اور اس کی ایک ہی صورت ہے جو مجھے نظر آ رہی ہے۔ وہ صورت یہ ہے کہ ایمل ولی خان صاحب کبھی کبھار وقت نکال کر مولانا فضل الرحمن کے ہاں آیا جایا کریں اور ان سے سیکھا کریں ۔ روایتی سیاست کا ایک ہی مکتب باقی ہے جس کا نام ہے مولانا فضل الرحمن۔

مولانا کے مکتب سے رجوع کرنے کی تین بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ مولانا ہیں، دوسری وجہ محترم باچا خان مرحوم اور تیسری وجہ مرحوم ولی خان صاحب ہیں۔

مولانا کا معاملہ تو ہمارے سامنے ہے۔ وہ ایک پورا سیاسی مکتب فکر ہیں۔ بات کہنے کا جو اسلوب ان کا ہے، کسی کا نہیں۔ سخت سے سخت بات بھی اس شائستگی سے کہہ جاتے ہیں کہ سننے والا بد مزہ ہونے کی ہمت بھی نہیں کر پاتا۔ ان کی گفتگو ایک گلدستہ ہے۔ اس میں کبھی پھولوں کی مہک نمایاں ہوتی ہے تو کبھی کانٹے بڑھ جاتے ہیں۔ جس کو وہ گلدستہ تھما دیتے ہیں اس کی قسمت کہ اسے خوشبو محسوس ہو یا کانٹوں کی چبھن۔ لیکن ہر صورت میں رہتا یہ گلدستہ ہی ہے۔ لینے والے کو بھلے کانٹا ہی چبھ رہا ہو، لیکن وہ مسکراتا ہے اور مولانا کا شکریہ ہی ادا کرتا رہ جاتا ہے۔ جوانی میں اگر ایسا مکتب ایمل ولی خان صاحب کو مل جائے تو ان کے سیاسی مزاج کی تہذیب ہو سکتی ہے ورنہ یہ شعلہ بیانی بتا رہی ہے کہ اسے روکا نہ گیا تو ولی باغ کی سیاسی روایات گھائل ہو جائیں گی۔

دوسری وجہ ولی باغ کی سیاسی روایات ہیں۔ محترم باچا خان مرحوم کے ہاں علم کے باب میں اتنی عاجزی تھی کہ اتنی بڑی شخصیت ہونے کے باوجود وہ سیکھنے سمجھنے کے عمل کو اعزاز سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمن کی ایک گواہی قابل غور ہے۔ مولانا بتاتے ہیں کہ:
“ایک دن شائد ولی باغ میں ہم بیٹھے تھے، مشہور یہ تھا کہ باچا خان بڑی سختی کرتے ہیں اور مہمان کو جب چائے پلاتے ہیں تو بڑے کنٹرول کے ساتھ کہ ایک کپ سے زیادہ نہیں پینا، اِس سے زیادہ روٹی نہیں کھانی اور مجھے اتنا یاد ہے کہ جب بھٹو صاحب کے زمانے میں تحریک چل رہی تھی تو خان عبدالولی خان، مفتی محمود صاحب، چوہدری ظہور الہی، نوابزادہ نصراللّٰہ خان یہ قافلے میں چل رہے ہوتے تو خان عبدالغفار خان بھی اُن جلسے جلوسوں میں شریک ہوتے تھے تو پھر یہ سارے حضرات باچا خان سے چھپ چھپا کے ایک گھر میں چائے کھانا بیٹھ کر کھایا کرتے تھے، اور جب خان صاحب کو پتہ چلتا تھا تو پھر اُن کو ڈانٹ بھی ملتی تھی کہ تم کیا انقلاب برپا کرو گے جو تم یہ عیاشیاں کرتے ہو، تو ایک دن میں اُن کا مہمان ہوا، میرے مہمان بننے کا سبب یہ تھا کہ دہلی میں جمعیت علماء ہند نے حضرت شیخ الہند سیمینار رکھا تھا تو میری ڈیوٹی لگائی تھی کہ آپ نے باچا خان کے پاس جاکر اُن کو دعوت دینی ہے تاکہ وہ یہاں دہلی ا کر اُس میں شریک ہوسکیں تو اِس وجہ سے میں اُن کے پاس گیا تھا، تو میں نے دیکھا کہ میز کے اوپر مٹھائی بھی پڑی ہوئی ہے اور چائے بھی، میں نے ڈرتے ڈرتے ایک کپ پیا تو خیال کیا کہ اب تو باچا خان ہمیں دوسرا کپ پینے نہیں دیں گے تو باچا خان نے کہا مولانا صاحب کو دوسرا کپ بھی بھرکے دو، تو اُس کے بعد جب سب میں مٹھائی تقسیم کی تو واپس آ کے کہا کہ مٹھائی مولانا صاحب کے سامنے رکھو، میں نے سوچا کہ آج معمول سے رویے بدلے ہوئے ہیں۔ یہ اُن کی ایک شفقت تھی، محبت تھی جن کا انہوں نے اظہار کیا ۔میرے طرف دیکھ کر کہا کہ فضل الرحمن بات سنو یہ ولی کو ذرا سمجھاو اِس کو سیاست کرنی نہیں آتی، اب میں ہکا بکا اُن کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ چلو ولی کہنا تو آپ کا حق ہے آپ کا بیٹا ہے لیکن میرے لیے تو اُن کی حیثیت باپ کی ہے میں تو اُن سے سیاست سیکھتا ہوں میں نے اُن کو کیا سمجھانا ہے ۔”

آپ غور کریں، آپ باچا خان صاحب کا بڑا پن دیکھیں، آپ عمروں اور مراتب کا فرق دیکھیں کہ مولانا کہہ رہے ہیں وہ ولی خان صاحب کو باپ کی حیثیت دیتے تھے لیکن باچا خان صاحب کہہ رہے ہیں کہ فضل الرحمن بات سنو یہ ولی کو ذرا سمجھاو اِس کو سیاست کرنی نہیں آتی۔

یعنی اس گھرانے کی روایات میں سیکھنا باعث اعزاز ہے۔ یہ بات ایمل ولی خان کو بھی پلے باندھ لینی چاہیے۔ ولی باغ کے سیاسی وارث کے لیے تحریک انصاف جیسا آتشیں لہجہ سیکھ لینا کوئی باعث اعزاز نہیں ہے ۔ اس کے لیے باعث اعزاز وہی علمی اور تہذیبی روایت ہونی چاہیے جو اس کا اصل ورثہ ہے۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ خود مولانا فضل الرحمن بتاتے ہیں کہ انہوں نے ولی خان مرحوم سے سیکھا۔ یعنی یہ باہمی ادب و آداب اور سیاسی تربیت، دونوں گھرانوں کے لیے اجنبی نہیں۔ کل مولانا نے ولی خان صاحب سے سیکھا تو آج ایمل ولی، مولانا سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔

مولانا کی روایت ہے کہ: “آج بھی میرے دل سے ولی خان کے لیے دعا نکلتی ہے جب میں اُن کے گھر گیا اور ہم ایم آر ڈی میں تھے مارشل لاء کے خلاف تحریک تھی، تو میں اُن کے ساتھ بیٹھا تو مجھے کہا کہ بیٹا فضل الرحمن میں نے بھی جوانی میں سیاست شروع کی تھی آپ ہی کے عمر میں تھا جب میں نے سیاست شروع کی اور جوانی میں آدمی جذباتی ہوتا ہے اور جذبات میں جب مقصد حاصل نہیں ہوتا، منزل نہیں ملتی تو آدمی مایوس ہوجاتا ہے، تو تیرے اوپر بھی ایسے مراحل آئیں گے، خبردار مایوس نہیں ہونا، آگے بڑھنا ہے، بخدا بہت سے مراحل میرے پاس آئے لیکن یہ بات اُس وقت مجھے سہارا دے گئی اور آج تک میں اُس سہارے کو استعمال کرتا ہوں۔”

اے این پی کے اکثر بزرگ اس دنیا سے رخصت ہو چکے، جو باقی ہیں معلوم نہیں، ایمل ولی خان ان سے کچھ سیکھتے بھی ہیں یا ان کو صرف حکم سناتے ہیں ۔ یہ جماعت کے اندر کی باتیں ہیں اور مجھے معلوم نہیں۔ لیکن جو مجھے معلوم ہے اور جو اندر کی بات نہیں بلکہ سامنے کی حقیقت ہے وہ ایمل خان صاحب کا لب و لہجہ ہے جس میں تلخی اور تندی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اگر آخری فیصلہ نہیں کر لیا کہ بڑے ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہونا ہی ہونا ہے تو انہیں اپنے رویے کی تہذیب کرنا ہو گی۔

دستیاب مکتب ایک ہی ہے: مولانا۔ اور ولی باغ کی تہذیبی روایات بتاتی ہیں کہ یہ ان کے گھر کا مکتب ہے۔ یہ کوئی پرائی بات نہیں ۔ یہ گھر کا معاملہ ہے۔
21جون2026ء

وہ ۲۲ جنوری کا گرم ترین دن تھا درجہ حرارت ۳۵ ڈگری سے زیادہ تھا جب میں ملائشیاء کے خوبصورت شہر کولالمپور سے اتحاد ائیرلائ...
06/19/2026

وہ ۲۲ جنوری کا گرم ترین دن تھا درجہ حرارت ۳۵ ڈگری سے زیادہ تھا جب میں ملائشیاء کے خوبصورت شہر کولالمپور سے اتحاد ائیرلائن کے زریعے ابوظہبی کے شیخ زید انٹر نیشنل ائیرپورٹ کے لئے اڑان بھر رہاتھا لیکن اپنے پیچھے پچاس دن کی لازوال یادگاریں لئے اپنے دوستوں کو الوداع کر رہاتھا ملائشیاء مشرق بعید کا ایک ابھرتا ہوا ترقی یافتہ ملک ہے جو کہ پاکستان سے کافی سالوں بعد آزاد ہوا لیکن ترقی میں ہم سے پچاس سال آگے ہیں تقریبا تین کروڑ تیس لاکھ آبادی کے اس ملک میں انسانوں سے زیادہ تعداد میں گاڑیاں ہیں جن کی تعداد تین کروڑ ستر لاکھ کے قریب ہیں گوگل کرکے اس کی تصدیق کرائی جاسکتی ہیں فیول کی قیمتیں انتہائی کم ہیں یہی وجہ ہے کہ پورے ملائشیاء میں آپ کو پیدل لوگ نظر نہیں ائینگے کہا جاتاہے کہ اونیس سو اکیاسی سے پہلے ملائشیا ء کی معاشی صورتحال اچھی نہیں تھی لیکن پھر ایک مرد آہن مہاتر محمد اس ملک کو نصیب ہوا جنہوں نے اس ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالدیا اور آج یہ ملک دنیا کے نقشے پر ایک ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ شکل میں موجود ہیں ملائشیاء تیرہ ریاستوں پر مشتمل ایک وفاقی مملکت ہیں جو تین حصوں پر مشتمل ریاست ہے گیارہ صوبے یا ریاستیں مغربی ملائشیاء کہلاتاہے جبکہ دو ریاستوں صبا اور سراواک کو مشرقی ملائشیاء کہا جاتاہے مشرقی دونوں ریاستیں اندرونی طور پر بہت زیادہ خودمختار ہیں جس کا اندازہ اس کی اپنی امیگریشن قوانین سے لگایا جاسکتاہے ملائشیاء میں پاکستانی کمیونٹی کافی تعداد میں آباد ہیں جن میں اکثریت ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے پختونوں کی ہیں جو زیادہ تر اپنا تجارت کرتے رہتے ہیں بعض علاقوں میں تو پتہ نہیں چلتا کہ یہ پاکستان کے کسی پختون کمیونٹی کا علاقہ ہیں یا ملایشیاء کا کوئی شہر بونیر کے باسیوں کے بارے میں مشہور ہیں کہ ملائشیاء ان کا دوسرا گھر ہے پاکستانی کمیونٹی کی عام رپوٹیشن اچھی ہے لیکن بعض علاقوں میں ان کے خلاف شکایتیں بھی بڑی تعداد میں ہیں ملایشئاء میں امیگریشن قوانین بڑی سخت ہے جس کی خلاف ورزی پر غیر انسانی سزائیں عام ہے خاص کر پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد وہاں کی جیلوں میں بندہیں جن کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان سفارتی سطح پر ملائشین حکومت سے رابطہ کرکے پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرے کیونکہ ان لوگوں کی وجہ سے پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں زرمبادلہ ارہاہے

06/14/2026

مولانا فضل الرحمن کا قومی اسمبلی میں گرجدار خطاب

۴ جون کو بلوچستان کے ضلع پشین میں ہو نیوالی ایک بہت بڑے جلسہ عام میں جب مولانا راشد سومرو نے اپنے مخصوص انداز میں سابق س...
06/13/2026

۴ جون کو بلوچستان کے ضلع پشین میں ہو نیوالی ایک بہت بڑے جلسہ عام میں جب مولانا راشد سومرو نے اپنے مخصوص انداز میں سابق سینٹر حافظ حمداللہ کو ڈائس پر بلایا تو پورے مجمع نے ان کا شاندار استقبال کرکے صوبائی جماعت کے کرتا دھرتاوں کو پیغام دیا کہ آپ جتنا بھی اس آدمی کے راستے میں روڑے اٹکاتے رہو انہیں دیوار سے لگاتے رہو یہ ہمارے دلوں میں ہیں جمعیت علماء اسلام میں تو حافظ صاحب مقبول ہے ہی لیکن آپ کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن سے پاکستان کے مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پانچ مقبول سیاستدانوں کے بارے میں پوچھ لے تو میرا یقین ہے کہ حافظ صاحب اس میں سرفہرست رہینگے قومی میڈیا پر ان کے بے لاگ تبصرے پارٹی کا موقف جس بہترین انداز میں حافظ صاحب پیش کرتاہے ان کی نظیر ملنا مشکل ہے ساتھ ہی ان کا انداز بیان دوسری جماعتوں کے کارکنوں کو بھی اپنے جانب مائل کرتاہے لیکن صوبائی اور مرکزی جماعت اس آدمی کو نہ تو ان کی صلاحیت کے مطابق عزت دے سکی اور نہ ان سے کام لے سکی عام انتخابات میں ان کی ٹکٹ کو کشمیر کا مسلہ بنادیا جاتاہے تو سینٹ کے الیکشن کے موقع پر ان کے نام پر سرے سے غور ہی نہیں کیا جاتا بلکہ ایسے لوگوں کو مسلط کیا جاتاہے جو بعد میں پارٹی کے لئے درد سر اور باعث شرم بن جاتے ہیں اسی طرح خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے ایک مرد حر مولانا مفتی کفایت اللہ کا حال بھی حافظ صاحب سے مختلف نہیں ان کو پارٹی کا کوئی عہدہ
نہیں دیا جاتا الیکشن کے دوران ان کو صوبائی حلقہ کے بجائے قومی حلقہ پر صرف اسی لئے میدان میں اتارا جاتا ہے کہ یہ کہیں الیکشن جیت نہ لے حالانکہ ان کے صوبائی حلقے سے تعلق رکھنے والے ورکرز بیچارے چیختے چلاتے رہ جاتے ہیں کہ ان کو اس حلقہ سے میدان میں اتارا جائے جہاں سے وہ ایک مرتبہ ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں لیکن نہ مفتی صاحب کی سنی جاتی ہے اور نہ ورکروں کی مفتی کفایت اللہ صاحب کے بارے میں ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ دو ہزار پانج کے سینٹ الیکشن کے موقع پر پارٹی کے بعض ممبران سلپ ہو گئے تھے جب ان سے تفتیش کی گئی تو انہوں نے مفتی صاحب پر الزام لگایا کہ انہوں نے پینلز میں ردو بدل کرکے ہمیں مشکل میں ڈالا تھا حالانکہ انہوں نے بھی مفتی صاحب پر پیسوں کی لین دین کا کوئی الزام نہیں لگایاتھا لیکن تاک میں بیٹھے ہوئے چند دوست نما دشمنوں کو موقع ملا اور مفتی صاحب کو پارٹی سے کک اوٹ کرایاتھا اس وقت میں نے مفتی صاحب کو فون کرکے پوچھا تھا کہ مفتی صاحب آگے کا لائحۂ عمل کیا ہوگا تو مفتی صاحب نے جو جواب دیا تھا وہ سنہرے حروف سے لکھنے کا قابل تھا ان کا کہنا تھا کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید کو سپہ سالاری سے معزول کرکے عام سپاہی بنایا تھا تو خلد بن ولید عام سپاہی بن کر کافروں کے لئے خوف کا نشان بن گئے تھے میں بھی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل کرکے عام ورکر کی حیثیت سے پارٹی کے لئے اپنی خدمات جاری رکھو نگا اور پھر انہوں کر بھی دکھایا بعض کارکن پارٹی کے شان ہوتے ہیں دوسری جماعتوں کے لوگ بھی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پارٹی ورکرز بھی ان سے محبت کرتے ہیں ایسے ہی چند افراد جمعیت علما ء اسلام کے ماتھے کے جھومر ہے جن میں حافظ حمداللہ مفتی کفایت اللہ مفتی فضل غفور اور مولانا راشد سومرو صاحب ہے ان لوگوں سے کام لینا چاہیئے یہ کام کرنا جانتے بھی ہیں اور کام کرنا بھی چاہتے ہیں بس ان کو موقع دینا چاہیئے اگر چہ آخر الذکر دونوں گڈ بکس میں ہونیکی وجہ سے کام کر رہے ہیں لیکن اول الذکر دونوں اشخاص کو زمہ داری دیکر ان سے کام لینا ہوگا یہ لوگ پارٹی کا اثاثہ ہے اس کو ضائع نہی کرنا چاہیئے

دوغلے پن کا بدترین مثال
06/13/2026

دوغلے پن کا بدترین مثال

06/12/2026
آج مجھے ایک رشتہ دار نے ایک شکر یہ کا پوسٹ دکھایا تاکہ میں اس پر کچھ کمنٹ کرلوں لیکن  میں نے اس پر کچھ کمنٹ نہیں  کیا او...
06/06/2026

آج مجھے ایک رشتہ دار نے ایک شکر یہ کا پوسٹ دکھایا تاکہ میں اس پر کچھ کمنٹ کرلوں لیکن میں نے اس پر کچھ کمنٹ نہیں کیا اور کمنٹ اس پر کیا کرتا کہ شکر یہ کے ان دو الفاظ سے کیا ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں تو تعزیت کےلئے تو بہت دور دور سے کافی تکلیف سھ کے لوگ پہنچے تھے اور ایک ایک گھر سے کئی کئی لوگ ائے تھے اور بعض تو دو دو اور تین تین مرتبہ ائے تھے سلارزی عشیزی اور گدیزی اور پورے ضلع میں ایسا گاؤں نہیں تھا جس سے لوگ نہیں ائے تھے ساتھ ہی ہمسایہ اضلاع مردان سوات اور دیر سے بھی لوگ ائے تھے جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور پھر تین دن تک عوام کا تانتا بندھا رہا ہمارے سڑکوں کی حالت بھی قابل رحم ہیں اوپر سے پٹرولیم مصنوعات کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں کی باوجود عوام کی جوق درجوق آمد نے یقینن ہمارے غم کو ہلکا کرنے میں ہماری مدد کی تو لوگوں کی اتنی تکالیف کا تو ہم دو الفاظ سے شکریہ ادا نہیں کرسکتے البتہ اپنے کریم و رحیم رب ذوالجلال کے حضور دست بہ دعا ہیں کہ جن جن لوگوں نے ہماری بہن کی جنازہ اور بعد میں تعزیت اور فاتحہ خوانی میں شرکت کی اور جنہوں نے فون اور میسیجز کے ذریعے تعزیت کی اللہ رب العزت ان کو اجر عظیم عطا فرمائیں ان کی ایک ایک قدم پر ان کو نیکیاں دیدیں جن کے والدین حیات ہیں ان کو صحت وعافئیت والی زندگی عطا فرمائیں جن کے والدین اور رشتیدار وفات پاچکے ہیں ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دیدے جن کے گھروں میں بیماریاں اور پریشانیاں ہیں ان کے بیماروں کو شفایاب کردیں ان کی پریشانیوں اور مصیبتوں کو دور کردیں سوگواران مختار احمد ایڈوکیٹ رئیس احمد استاد صیب شفیق احمد اور سوگوار خاندان

Address

12647 Dulcinea Place
Woodbridge, VA
22192

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shafiq buneri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share