06/23/2026
آج کل سوشل میڈیا پر ابدالی سکول اینڈ کالج جوڑ بونیر کے بارے میں ایک طوفان برپا ہے کہ یہ تعلیمی ادارہ کی بجائے ایک سیاسی اکھاڑہ ہے حالانکہ جو لوگ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ان سے ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ ابدالی سکول اینڈ کالج سے پہلے پورے علاقہ سلارزئ اور عشیزومیرہ اور نویکلے کے کتنے نوجوان میڈیکل اور انجنیئرنگ کالجوں تک رسائی حاصلکر تے تھے تو آپ کو اس تعلیمی ادارے کی افادیت معلوم ہوجایئگئ ابھی تک اس قیمتی ادارے سے بہت بڑی تعداد میں ایسے قیمتی طلبہ مختلف میدانوں میں نکل چکے ہیں جن کے بدولت بونیر کانام روشن ہورہاہے طب کا میدان ہو انجنیئرنگ کا میدان ہو تعلیم کا میدان ہو ہر جگہ اس ادارے کے نوجوان آپ کو خدمت کرتے دیکھائی دینگے بلکہ میں تو کھبی کھبار اپنے استاد محترم جناب عالم خان صاحب کو جب دیکھتا ہوں تو اس بندے پر رشک اتاہے کہ کتنا خوش قسمت انسان ہے کہ کسی بھی محکمہ جاو تو اس بندے کے شاگردوں کی ایک لڑی نظر آئیگی اب اس کو صرف اس لئے نشانہ بنارہے ہیں ہے کہ ان کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہیں کیا کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنا گناہ ہے اور کیا دوسرے تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہوتا ایک بات زھن نشین رکھنا چاہیئے کہ یہ ایک نجی تعلیمی ادارہ ہے چھٹیوں میں اگر یہ اپنے سکول میں کوئی سیاسی یا مزھبی پروگرام منعقد کرتا ہے تو اس پر کسی کو معترض نہیں ہونا چاہیئے اور ہاں اگر تعلیمی سیشن کے دوران یہاں پر کوئی سیاسی ایونٹ کا انعقاد کیا جاتاہے تو اس پر اعتراض بنتاہے لیکن یہاں پر تعلیمی سیشن کے دوران کسی نے کوئی پروگرام کرتے نہیں دیکھا ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک شاندار ادارہ کو بلاوجہ پولیٹسائز نہیں کرانا چاہیئے بلکہ کھلے دل سے اس کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیئے اور ہاں ایک ضروری گزارش کہ جو لوگ مجھے جانتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ نظریاتی طور پر ان لوگوں کی نظریات سے میرا شدید اختلاف رہا ہے