26/05/2026
عربی زبان میں خلیف یا تخلف کے معنی پیچھے رہ جانے یا پیچھے رکنے کے ہیں۔ مکہ مکرمہ کی اصطلاح میں اس سے مراد نو ذوالحجہ یعنی عرفہ کا دن ہے۔
جب آٹھ ذوالحجہ اور نو ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ کے تمام مرد، نوجوان اور جوان طبقہ حاجیوں کی خدمت، امن و امان کی صورتحال سنبھالنے، یا خود حج کی ادائیگی کے لیے منیٰ اور عرفات روانہ ہو جاتے ہیں، تو مکہ مکرمہ کے گھر اور بازار مردوں سے بالکل خالی ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر جو خواتین، بچے اور بزرگ مکہ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، انہیں خلیف کہا جاتا ہے، اور اسی مناسبت سے اس دن کو یومِ خلیف کا نام دیا گیا ہے۔
اس دن کی سب سے خوبصورت روایت یہ ہے کہ نو ذوالحجہ کو جب مسجد الحرام یعنی حرم شریف حاجیوں سے بالکل خالی ہو جاتا ہے کیونکہ تمام حاجی میدانِ عرفات میں ہوتے ہیں، تو مکہ مکرمہ کی خواتین بچوں اور بزرگوں کے ہمراہ حرم مکی کا رخ کرتی ہیں۔ یہ خواتین اس دن کو غنیمت جانتے ہوئے، جب مطاف بالکل خالی ہوتا ہے، بڑے سکون سے طواف کرتی ہیں اور حجرِ اسود کو بوسہ دیتی ہیں۔ روایتی طور پر مکہ کی خواتین اس دن مطاف کی صفائی، خوشبو لگانے اور حرم کی دیکھ بھال میں انتظامیہ کا ہاتھ بھی بٹاتی ہیں۔
صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم ❤️❤️❤️ #وسلمتوووووووا #وسلمتووووووا ゚