Manoor Valley Travallers shakeel jani

Manoor Valley Travallers shakeel jani beautyfull place

اس سال کی پہلی برف باری جو منور ویلی کے ٹاپ پہاڑوں پر ہلکی ہلکی پڑی ہے
04/09/2026

اس سال کی پہلی برف باری جو منور ویلی کے ٹاپ پہاڑوں پر ہلکی ہلکی پڑی ہے

ملاں والی بستی
04/09/2026

ملاں والی بستی

Writingمنور ویلی کا راستہ کھل گیا، مگر سیزن ختم ہونے کو ہے!الحمدللہ! آج یکم ستمبر 2026 کو منور ویلی کا راستہ ریوڑی تک کھ...
04/09/2026

Writing
منور ویلی کا راستہ کھل گیا، مگر سیزن ختم ہونے کو ہے!
الحمدللہ! آج یکم ستمبر 2026 کو منور ویلی کا راستہ ریوڑی تک کھل گیا ہے۔ یہ خوشی کی بات ضرور ہے، لیکن دل میں ایک سوال بھی ہے: جب باقی علاقوں میں ٹورزم اپنے عروج پر تھا، تو منور ویلی کا راستہ ابھی کیوں بحال ہوا؟
ہم منور ویلی کے لوگ واقعی بدقسمت ہیں کہ اپنے علاقے کا راستہ سیزن کے دوران نہیں بنوا سکے۔ اگر یہ راستہ وقت پر مکمل ہو جاتا تو ہمارے جیپ مالکان، دکانداروں اور دیگر کاروباری لوگوں کو اس سیزن میں بہت فائدہ ہوتا۔ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھتے اور سیاح بھی زیادہ تعداد میں یہاں کا رخ کرتے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ عوام نے اس مسئلے پر وہ توجہ دی، نہ عوامی ایکشن کمیٹی نے، اور نہ ہی سیاسی نمائندوں نے اس معاملے کو اس طرح اٹھایا جس طرح اٹھانا چاہیے تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سیزن کے آخر میں، یعنی ساتویں مہینے میں، راستہ بیاڑی تک کھلا، اور اب نویں مہینے میں ریوڑی تک گاڑی پہنچ رہی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ریوڑی تک گاڑی پہنچنے میں دریا کا پانی کم ہونے کا بھی فائدہ ہوا۔ اگر پانی زیادہ ہوتا تو شاید یہ راستہ بھی اتنی آسانی سے نہ کھلتا۔
اب وقت ہے کہ سیاسی نمائندے اور عوامی ایکشن کمیٹی مل کر ریوڑی کو ملانے والے پل کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھائیں۔ یہ پل منور ویلی کے لیے صرف ایک پل نہیں، بلکہ ٹورزم کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر یہ پل بن جائے تو منور ویلی میں ٹورزم کی بحالی اور ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں۔
ہمیں صرف راستہ کھلنے پر خوش نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگلے سیزن میں منور ویلی کے لوگوں کو اپنے کاروبار اور روزگار سے محروم نہ ہونا پڑے۔
منور ویلی کے عوام، سیاسی نمائندوں اور عوامی ایکشن کمیٹی سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھائیں اور ریوڑی پل کی تعمیر کے لیے عملی اقدامات کریں۔
منور ویلی کی ترقی، یہاں کے لوگوں کا حق ہے۔
#ریوڑی #ٹورزم

04/09/2026

منور ریوڑی پہاڑوں میں بانسری کا اپنا مزہ ہوتا ہے تو چٹھی لے کے آجا بالماں

ماشاءاللہ ❤️ الحمدللہ 🤲اس سال 31 اگست 2026 کو ہمیں اپنے چند پیارے دوستوں کے ساتھ پاکستان کی خوبصورت ترین جھیلوں میں سے ا...
01/09/2026

ماشاءاللہ ❤️ الحمدللہ 🤲
اس سال 31 اگست 2026 کو ہمیں اپنے چند پیارے دوستوں کے ساتھ پاکستان کی خوبصورت ترین جھیلوں میں سے ایک دودی پت سر جھیل کا سفر کرنے کا موقع ملا۔ 🏔️🏕️
ہم کل 9 دوست تھے اور اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان اور کیمپنگ کے لیے ٹینٹ بھی لے کر گئے تھے۔ ہم اپنی جیپ پر بیسل تک پہنچے اور وہاں سے ہمارا اصل سفر شروع ہوا۔۔۔ پیدل سفر! 🚶‍♂️🏔️
کافی دیر پیدل چلنے کے بعد رات تقریباً 10 بجے ہم ایوب ہوٹل سے تقریباً چار کلومیٹر آگے ایک انتہائی خوبصورت مقام پر پہنچے۔ وہ جگہ قدرت کے حسن کا ایک شاہکار تھی۔ ہم سب بہت تھک چکے تھے، اس لیے وہیں اپنے ٹینٹ لگائے اور خوبصورت پہاڑوں اور ٹھنڈی فضاؤں کے درمیان رات گزاری۔ 🏕️🌙
صبح ہوتے ہی ہمارے چند دوست دودی پت سر جھیل کی طرف روانہ ہو گئے۔ آگے تقریباً چار گھنٹے کا پیدل ٹریک تھا، لیکن راستے کی خوبصورتی تھکن کو بھلا دیتی تھی۔ 🏔️
آخرکار ہم اس حسین جھیل تک پہنچ گئے۔۔۔ 💚
دودی پت سر!
بادلوں، بلند پہاڑوں اور قدرت کے حسین نظاروں کے درمیان یہ منظر واقعی زندگی بھر یاد رہنے والا تھا۔ 🌊🏔️☁️
ہم تقریباً ایک گھنٹہ جھیل کے کنارے رہے، تصویریں بنائیں، قدرت کے حسین نظاروں سے لطف اٹھایا اور پھر بادلوں کے بڑھنے کی وجہ سے جلدی واپسی کا فیصلہ کیا۔
تقریباً دو سے تین گھنٹے میں واپس اپنے کیمپ پہنچے، کھانا کھایا اور پھر بیسل کی طرف روانہ ہو گئے۔
شام کو بیسل پہنچ کر اپنی جیپ اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف سفر شروع کیا۔ راستے میں ناران کے مقام پر ہلکی سلائیڈنگ کی وجہ سے رکنا پڑا، پھر دبوک کھٹی کے مقام پر بھی سلائیڈنگ تھی، جہاں تقریباً ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا۔
لمبا، تھکا دینے والا لیکن بے حد خوبصورت سفر طے کرنے کے بعد آخرکار رات تقریباً 4 بجے ہم اپنے گھر پہنچ گئے۔ ❤️
یہ سفر صرف پہاڑوں اور جھیلوں کا سفر نہیں تھا۔۔۔
یہ دوستی، یادوں، تھکن، ہنسی مذاق اور قدرت کے قریب جانے کا ایک خوبصورت تجربہ تھا۔ 🏔️❤️
ماشاءاللہ پاکستان واقعی جنت ہے، اور اس کے شمالی علاقے قدرت کا بے مثال تحفہ ہیں۔ 🇵🇰💚
دودی پت سر کا یہ سفر ہمیشہ ہماری یادوں میں زندہ رہے گا۔ ❤️🏕️🏔️
الحمدللہ ہر حال میں 🤲❤️

19/08/2026

🏔️ منور ویلی — قدرت کا حسین تحفہ، مگر سہولیات سے محروم
منور ویلی ایک انتہائی حسین اور قدرتی حسن سے مالا مال وادی ہے، مگر افسوس کہ آج بھی یہ وادی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ روڈ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے منور ویلی سیاحت کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔
ٹورسٹ یہاں آتے ضرور ہیں، لیکن بہت کم تعداد میں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آگے جانے کے لیے مناسب راستہ اور سہولیات موجود نہیں۔ ریوڑی ہٹس کو ملانے والا پل بھی نہ ہونے کی وجہ سے کئی سیاح راستے ہی سے واپس لوٹ جاتے ہیں۔
جو لوگ ہمت کرکے تقریباً دو کلومیٹر کا راستہ پیدل طے کرتے ہیں، وہی ریوڑی میدان تک پہنچ پاتے ہیں۔ ذرا سوچیں، اگر یہی راستہ اور پل موجود ہو تو کتنے زیادہ سیاح یہاں آ سکتے ہیں اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے کتنے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ صرف ایک پل یا سڑک کا مسئلہ نہیں، بلکہ منور ویلی کے مستقبل، سیاحت اور مقامی لوگوں کے روزگار کا مسئلہ ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سیاسی نمائندے اور متعلقہ ادارے اس خوبصورت علاقے کی سیاحتی اہمیت کو وہ توجہ نہیں دے رہے جس کا یہ حق دار ہے۔ منور ویلی میں قدرت نے سب کچھ دیا ہے، صرف بنیادی سہولیات اور بہتر رابطہ سڑک کی ضرورت ہے۔
📢 مطالبہ ہے کہ سیاحتی سیزن کے دوران روڈ اور ریوڑی ہٹس کو ملانے والا پل بروقت مکمل کرکے کھولا جائے، تاکہ سیاح بلا رکاوٹ اس خوبصورت وادی تک پہنچ سکیں اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے دروازے کھل سکیں۔
منور ویلی کو اس کا حق دو — سڑک بھی، پل بھی، سیاحت بھی اور روزگار بھی! 🏔️❤️

🏔️ منور ویلی — قدرت کا حسین تحفہ، مگر سہولیات سے محروممنور ویلی ایک انتہائی حسین اور قدرتی حسن سے مالا مال وادی ہے، مگر ...
19/08/2026

🏔️ منور ویلی — قدرت کا حسین تحفہ، مگر سہولیات سے محروم
منور ویلی ایک انتہائی حسین اور قدرتی حسن سے مالا مال وادی ہے، مگر افسوس کہ آج بھی یہ وادی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ روڈ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے منور ویلی سیاحت کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔
ٹورسٹ یہاں آتے ضرور ہیں، لیکن بہت کم تعداد میں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آگے جانے کے لیے مناسب راستہ اور سہولیات موجود نہیں۔ ریوڑی ہٹس کو ملانے والا پل بھی نہ ہونے کی وجہ سے کئی سیاح راستے ہی سے واپس لوٹ جاتے ہیں۔
جو لوگ ہمت کرکے تقریباً دو کلومیٹر کا راستہ پیدل طے کرتے ہیں، وہی ریوڑی میدان تک پہنچ پاتے ہیں۔ ذرا سوچیں، اگر یہی راستہ اور پل موجود ہو تو کتنے زیادہ سیاح یہاں آ سکتے ہیں اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے کتنے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ صرف ایک پل یا سڑک کا مسئلہ نہیں، بلکہ منور ویلی کے مستقبل، سیاحت اور مقامی لوگوں کے روزگار کا مسئلہ ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سیاسی نمائندے اور متعلقہ ادارے اس خوبصورت علاقے کی سیاحتی اہمیت کو وہ توجہ نہیں دے رہے جس کا یہ حق دار ہے۔ منور ویلی میں قدرت نے سب کچھ دیا ہے، صرف بنیادی سہولیات اور بہتر رابطہ سڑک کی ضرورت ہے۔
📢 مطالبہ ہے کہ سیاحتی سیزن کے دوران روڈ اور ریوڑی ہٹس کو ملانے والا پل بروقت مکمل کرکے کھولا جائے، تاکہ سیاح بلا رکاوٹ اس خوبصورت وادی تک پہنچ سکیں اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے دروازے کھل سکیں۔
منور ویلی کو اس کا حق دو — سڑک بھی، پل بھی، سیاحت بھی اور روزگار بھی! 🏔️❤️

دوستوں کے ساتھ منور کی یادگار سیر ❤️🏔️بڑے دنوں کے بعد اپنے پیارے دوستوں کے ساتھ منور کی حسین وادیوں میں گھومنے پھرنے کا ...
19/08/2026

دوستوں کے ساتھ منور کی یادگار سیر ❤️🏔️
بڑے دنوں کے بعد اپنے پیارے دوستوں کے ساتھ منور کی حسین وادیوں میں گھومنے پھرنے کا موقع ملا۔ منور میں کچھ جگہیں ایسی ہیں جنہیں انسان جتنا بھی دیکھ لے، دل دوبارہ وہاں جانے کو چاہتا ہے۔ ❤️
اس بار بھی دوستوں کے ساتھ ایک خوبصورت ٹور کا پروگرام بنا۔ رات ہم ریوڑی میں رکے اور صبح سویرے سب دوست بگنڑاں کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہاں ایک خوبصورت سی چھوٹی جھیل کے پاس کچھ وقت گزارا۔ پہاڑوں کی خاموشی، ٹھنڈی ہوا اور قدرت کے حسین مناظر نے دل خوش کر دیا۔ 🏔️💚
سب سے بڑھ کر وہاں کے مقامی دوستوں کی محبت اور خلوص نے اس سفر کو یادگار بنا دیا۔ انہوں نے ہمیں دیسی لسی پلائی اور اس کے بعد دیسی دودھ کی چائے بھی پلائی۔ سچ پوچھیں تو اس محبت اور ذائقے کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ☕🥛❤️
کچھ وقت وہاں گزارنے کے بعد واپس سفر شروع کیا اور شام کو اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
ایسے سفر صرف جگہیں دیکھنے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے یہ خوبصورت لمحات زندگی بھر کی یادیں بن جاتے ہیں۔ ❤️
منور کی خوبصورتی، دوستوں کی محبت اور دیسی لسی و چائے—بس یہی تو اصل زندگی ہے! 🌿🏔️☕

Mansehra
24/07/2026

Mansehra

12/07/2026

Writing
منور ویلی میں ٹیلی نار کی تو کیا، کئی جگہوں پر موبائل سروس ہی دستیاب نہیں۔ انٹرنیٹ تو دور کی بات، عام فون کال بھی نہیں ہو پاتی۔ یہ صورتحال علاقے کے عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔
سوچنے کی بات ہے کہ اگر کسی مریض کو فوری گاڑی یا ایمبولینس کی ضرورت پڑ جائے تو رابطہ کیسے ہوگا؟ اگر کسی گھر میں خدانخواستہ کوئی وفات ہو جائے تو دور دراز رہنے والے رشتہ داروں کو اطلاع کیسے دی جائے؟
متعلقہ اداروں اور موبائل کمپنیوں سے اپیل ہے کہ منور ویلی جیسے دور افتادہ علاقوں میں موبائل نیٹ ورک کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ عوام کو بنیادی رابطے کی سہولت میسر آ سکے۔ مواصلاتی سہولت آج کے دور میں ایک بنیادی ضرورت ہے، عیاشی نہیں۔
شکیل جانی منوری

Address

Jeddah

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Manoor Valley Travallers shakeel jani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Manoor Valley Travallers shakeel jani:

Shortcuts

Share