All Pakistan Wapda Hydro Electric Workers Union Sialkot

All Pakistan Wapda Hydro Electric Workers Union Sialkot Only Recognized Representative of WAPDA Employees in Pakistan.

he main aims of the Hydro Union are to promote rights at work, encourage decent employment opportunities, enhance social protection and strengthen dialogue on work-related issues.

لائن سٹاف تجھے سلامتحریر: عبدالرزاق، زونل انفارمیشن سیکرٹری، سیالکوٹ زونایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم آج بھی اس بات کو تسلیم...
10/07/2026

لائن سٹاف تجھے سلام
تحریر: عبدالرزاق، زونل انفارمیشن سیکرٹری، سیالکوٹ زون
ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم آج بھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ واپڈا کا لائن سٹاف لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار نہیں، بلکہ بجلی کی ترسیل اور بحالی کے نظام کی اصل ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہم روزانہ ان کی محنت اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، لیکن تنقید کا پہلا نشانہ بھی انہی کو بناتے ہیں۔
ہر سال گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں اور عوام ان پر یقین بھی کر لیتے ہیں، مگر ان دعوؤں کے پیچھے وہ گمنام ہیرو نظر نہیں آتے جو شدید گرمی، طوفان، بارش اور رات کی تاریکی میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بجلی کا نظام بحال رکھتے ہیں۔ یہی وہ لائن مین ہیں جن کی جدوجہد اور قربانیوں پر پورا نظام قائم ہے۔
ہم سوشل میڈیا کے موسمی تجزیہ کاروں اور ناقدین سے صرف اتنی گزارش کرتے ہیں کہ ایک دن کسی لائن مین کے ساتھ گزار کر دیکھیں۔ شاید اس کے بعد بہت سی غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جائیں۔ تب معلوم ہوگا کہ لائن پرمٹ، ہنگامی فالٹس، جلے ہوئے ٹرانسفارمرز کی تبدیلی، اور کئی دہائیوں پرانے ترسیلی نظام کو چلائے رکھنے کے لیے ایک ایک لائن مین بسا اوقات دس افراد کے برابر ذمہ داریاں نبھا رہا ہوتا ہے۔
وہ ایک جلے ہوئے ٹرانسفارمر کو تبدیل کرکے ابھی گھر بھی نہیں پہنچتا کہ لائن سپرنٹنڈنٹ کی کال آ جاتی ہے:
"فوراً واپس آؤ، ایک اور ٹرانسفارمر جل گیا ہے۔"
وہ بغیر کسی عذر کے دوبارہ میدان میں اتر جاتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی معمولی سی تاخیر بھی سینکڑوں بلکہ ہزاروں گھروں کو اندھیرے میں ڈبو سکتی ہے۔
بلاشبہ اسے اس خدمت کا معاوضہ ملتا ہے، مگر کیا چند ہزار روپے اس جان لیوا پیشے کی قیمت ہو سکتے ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر لمحہ ایک ایسے نادیدہ دشمن، یعنی بجلی، کا سامنا کرتے ہیں جو معمولی سی غلطی پر جان لے سکتی ہے۔ اسی لیے وہ صرف تنخواہ کے نہیں بلکہ پوری قوم کے احترام، عزت اور تحسین کے بھی حق دار ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ترقی کے مواقع بھی ان کے لیے خواب بن چکے ہیں۔ ایک لائن مین پچیس پچیس سال تک گریڈ 9/11 میں خدمات انجام دیتا رہتا ہے، مگر اس کی محنت، تجربے اور قربانی کا وہ صلہ نہیں ملتا جس کا وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اگر نظام کے کسی بھی حصے میں غلطی ہو، خواہ گرڈ اسٹیشن میں، انتظامی فیصلوں میں یا کسی تکنیکی خرابی کی صورت میں، جان اکثر اسی شخص کی جاتی ہے جو بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر عوام کی سہولت کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالے کھڑا ہوتا ہے۔
قیامِ پاکستان سے آج تک ہم اپنے بجلی کے نظام کے بہت سے بنیادی مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں کر سکے۔ افسوس کہ قومی میڈیا اور بعض صحافی بھی حقائق تک پہنچنے کے بجائے اکثر وہی بیانیہ دہراتے ہیں جو زیادہ سنسنی خیز ہو:
"واپڈا والے ظلم کر رہے ہیں، جان بوجھ کر لوڈ شیڈنگ کر رہے ہیں، اور خود دفاتر میں اے سی چلا رہے ہیں۔"
حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے دوران جب لوگ شکایت لے کر دفتر پہنچتے ہیں تو وہاں بھی بجلی موجود نہیں ہوتی۔ مگر سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے، اور کڑوا سچ قبول کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان گمنام محنت کشوں کو صرف اس وقت یاد نہ کریں جب بجلی چلی جائے، بلکہ ان کی خدمات، قربانیوں اور پیشہ ورانہ مہارت کا بھی اعتراف کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اہلِ خانہ کی دعاؤں کے سہارے ہر روز ایک ایسے محاذ پر جاتے ہیں جہاں واپسی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔
آئیے! آج ہم واپڈا کے تمام لائن مینوں اور ان تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کریں جنہوں نے قوم کے گھروں کو روشن رکھنے کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانیاں صرف محکمانہ ریکارڈ کا حصہ نہیں بلکہ پوری قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔
سلام ہے ان ہاتھوں کو جو اندھیروں سے لڑ کر روشنی واپس لاتے ہیں۔
سلام ہے ان قدموں کو جو ہر موسم، ہر آندھی اور ہر بارش میں اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہیں۔
سلام ہے واپڈا کے ہر لائن مین کو، اور سلام ہے ان تمام شہداء کو جنہوں نے روشنی کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔

لائن سٹاف تجھے سلام۔

پریس کٹنگ 28 جون 2026آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے
29/06/2026

پریس کٹنگ 28 جون 2026
آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے

21/06/2026

تماشے کی منڈی میں علم کی تنہائی

تحریر: عبدالرزاق زونل سیکرٹری انفارمیشن سیالکوٹ

یہ کیسا زمانہ آ گیا ہے کہ شہرت کے پیمانے بدل گئے ہیں۔ کبھی معاشروں میں عزت و احترام علم، کردار، تدبر اور خدمتِ خلق کی بنیاد پر تقسیم ہوتے تھے۔ استاد، ادیب، محقق، مفکر اور سائنس دان قوموں کے رہنما تصور کیے جاتے تھے۔ ان کی بات غور سے سنی جاتی تھی اور ان کے تجربات سے نسلوں کی رہنمائی کی جاتی تھی۔ مگر آج منظر نامہ یکسر مختلف دکھائی دیتا ہے۔ اب شہرت کے دروازے اکثر صلاحیت، علم اور کردار سے نہیں بلکہ شور، سنسنی اور تماشے سے کھلتے نظر آتے ہیں۔

سوشل میڈیا نے بلاشبہ اظہارِ رائے کو وسعت دی ہے۔ اس نے عام آدمی کو آواز عطا کی ہے اور معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے۔ یہ ایک ایسی قوت ہے جو چاہے تو علم کو گھر گھر پہنچا سکتی ہے، نوجوانوں کی فکری تربیت کر سکتی ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ اسی طاقت کو اکثر غیر سنجیدہ رجحانات نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

آج اگر کوئی شخص علمی گفتگو کرے، کسی کتاب کا تعارف پیش کرے، تحقیق کی روشنی میں مسائل کا تجزیہ کرے یا اخلاقی اقدار کی بات کرے تو اس کی بات محدود حلقوں تک رہ جاتی ہے۔ دوسری طرف ایک غیر مہذب جملہ، ایک بے مقصد حرکت، دوسروں کی تضحیک پر مبنی ویڈیو یا مصنوعی تنازع چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے معاشرہ تفکر سے زیادہ تفریح اور شعور سے زیادہ تماشے کا طلبگار ہو چکا ہے۔

اصل تشویش اس بات کی نہیں کہ کچھ لوگ غیر سنجیدہ مواد تخلیق کر رہے ہیں۔ تشویش اس امر پر ہے کہ اسے دیکھنے، پسند کرنے اور پھیلانے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ آخر یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کیا مقبول ہوگا؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے: ہم سب۔ ہمارے کلکس، ہماری پسندیدگیاں، ہمارے تبصرے اور ہمارے شیئرز ہی دراصل اس معاشرے کی اجتماعی ترجیحات کا اعلان ہوتے ہیں۔

جب ایک نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ برسوں کی محنت سے حاصل ہونے والی علمی حیثیت کے مقابلے میں چند لمحوں کا تماشا زیادہ شہرت دے سکتا ہے، تو اس کی سوچ اور ترجیحات بھی متاثر ہوتی ہیں۔ وہ مطالعے کے بجائے نمائش، کردار سازی کے بجائے مقبولیت، اور صلاحیت کے بجائے شارٹ کٹ کو کامیابی کا راستہ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب معاشرے کی فکری بنیادیں کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اہلِ علم کی قدر کی، انہوں نے دنیا کی قیادت کی۔ جنہوں نے اساتذہ، مفکرین، سائنس دانوں اور اہلِ دانش کو عزت دی، وہ تہذیبی اور معاشی ترقی کی بلندیاں چھونے میں کامیاب رہیں۔ لیکن جن معاشروں میں شور و غوغا، سطحیت اور وقتی تفریح نے سنجیدگی اور بصیرت کی جگہ لے لی، وہاں زوال نے دروازے پر دستک دینے میں دیر نہیں لگائی۔

اس صورتِ حال کا حل کسی ایک ادارے یا طبقے کے پاس نہیں۔ والدین کو اپنی اولاد میں مطالعے کی عادت پیدا کرنا ہوگی۔ تعلیمی اداروں کو تنقیدی شعور کی آبیاری کرنا ہوگی۔ میڈیا کو اپنی سماجی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کس مواد کو فروغ دے رہے ہیں۔ معاشرے کی سمت صرف حکمران نہیں بدلتے، عوام کی ترجیحات بھی اس کے مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کے لیے کس طرح کا معاشرہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں اہلِ علم گمنام رہیں اور تماشہ کرنے والے ہیرو بن جائیں، یا ایسا معاشرہ جہاں تحقیق، کردار، دیانت اور خدمت کو اصل مقام حاصل ہو۔

کیونکہ جب وائرل ہونے کا معیار علم نہیں، تماشا بن جائے، تو پھر سوال کسی ایک فرد پر نہیں اٹھتے، پورا معاشرہ سوالوں کے گھیرے میں آ جاتا ہے۔ اور یہ سوال صرف ہمارے حال سے نہیں، ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔

19/06/2026

I got over 4,500 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

08/06/2026
08/06/2026

ہار بہادروں کی ہوتی ہے

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کامیابی ہمیشہ ان لوگوں کے حصے میں آئی جنہوں نے ناکامیوں کا سامنا کیا، ٹھوکریں کھائیں، گرے مگر دوبارہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ "ہار بہادروں کی ہوتی ہے، کیونکہ بزدل کبھی میدان میں اترتے ہی نہیں۔" یہ ایک ایسا سچ ہے جو زندگی کے ہر شعبے پر صادق آتا ہے۔

انسان کی زندگی جدوجہد کا نام ہے۔ جو شخص کسی مقصد کے حصول کے لیے کوشش کرتا ہے، وہی کامیابی یا ناکامی دونوں امکانات سے دوچار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص خوف، تردد اور مصلحت کے حصار میں قید رہتا ہے، وہ بظاہر ناکامی سے تو بچ جاتا ہے مگر کامیابی کا ذائقہ بھی کبھی نہیں چکھ پاتا۔ بزدل لوگ اپنی محفوظ دنیا میں رہتے ہیں، لیکن ان کی زندگی میں وہ ولولہ، جذبہ اور خود اعتمادی پیدا نہیں ہوتی جو مشکلات کا سامنا کرنے والوں کا خاصہ ہے۔

تاریخ کے عظیم کرداروں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی کامیابی کا سفر بغیر ناکامی کے طے نہیں کیا۔ سائنس دانوں نے سینکڑوں تجربات میں ناکامی کے بعد نئی ایجادات کیں، سیاسی رہنماؤں نے طویل جدوجہد اور مخالفتوں کے بعد اپنے مقاصد حاصل کیے، جبکہ معاشرتی اصلاح کاروں نے بے شمار مشکلات جھیل کر معاشروں میں تبدیلی پیدا کی۔ اگر یہ لوگ ابتدائی ناکامیوں سے گھبرا جاتے تو شاید دنیا آج ان کے نام سے بھی واقف نہ ہوتی۔

شکست دراصل ایک استاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ انسان کو اس کی کمزوریوں سے آگاہ کرتی ہے، اس کے تجربے میں اضافہ کرتی ہے اور اسے آئندہ بہتر حکمت عملی اختیار کرنے کا موقع دیتی ہے۔ جو شخص اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھ لیتا ہے، وہ درحقیقت کامیابی کی جانب ایک قدم اور بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے دانشور کہتے ہیں کہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔

ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ ناکامی کے خوف سے بڑے خواب دیکھنے سے گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ خواب وہی حقیقت بنتے ہیں جن کے لیے انسان خطرات مول لیتا ہے، قربانیاں دیتا ہے اور مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔ جو لوگ خواب دیکھنے اور ان کی تعبیر کے لیے قدم اٹھانے کی جرأت رکھتے ہیں، وہی تاریخ کا حصہ بنتے ہیں۔ باقی لوگ محض تماشائی بن کر وقت کے دھارے میں گم ہو جاتے ہیں۔

تاریخ کبھی ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جو کنارے پر کھڑے ہو کر دوسروں کی جدوجہد کا تماشا دیکھتے رہے۔ تاریخ ان لوگوں کے نام محفوظ کرتی ہے جو نامساعد حالات کے باوجود ڈٹے رہے، جو بار بار گر کر اٹھے، اور جنہوں نے مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے ان کا مقابلہ کیا۔ یہی لوگ آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنتے ہیں۔

مختصراً، ہار کوئی انجام نہیں بلکہ کامیابی کے سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ اصل شکست تو ہمت ہار دینے میں ہے، جبکہ ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرنا بہادری کی علامت ہے۔ زندگی انہی لوگوں کی قدر کرتی ہے جو خواب دیکھنے، خطرہ مول لینے اور جدوجہد کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر راستے میں شکست مل جائے تو اسے ناکامی نہیں بلکہ ایک سبق سمجھنا چاہیے، کیونکہ ہار ہمیشہ بہادروں کا مقدر ہوتی ہے اور کامیابی بھی آخرکار انہی کے قدم چومتی ہے۔

02/06/2026

عام پاکستانی کی فریاد کیا ریاست اس کی آواز سن رہی ہے؟
تحریر عبدالرزاق زونل انفارمیشن سیکرٹری سیالکوٹ
معاشروں کی ترقی کا اصل پیمانہ بلند و بالا عمارتیں، بڑے منصوبے یا عالمی سطح پر کیے جانے والے معاہدے نہیں ہوتے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک عام شہری کی زندگی کتنی محفوظ، باعزت اور آسودہ ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آج عام آدمی کی بنیادی ضروریات اور مسائل قومی مباحثے میں وہ اہمیت حاصل نہیں کر پا رہے جس کے وہ حق دار ہیں۔

روزانہ ذرائع ابلاغ پر سیاست، اقتدار کی کشمکش، بین الاقوامی تعلقات، معاشی اشاریوں اور مستقبل کے منصوبوں پر طویل بحثیں سنائی دیتی ہیں، لیکن ایک عام پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ اس کی روزمرہ زندگی کے مسائل کب زیرِ بحث آئیں گے؟ اس کے گھر کا بجھتا ہوا چولہا، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات، بے روزگاری، مہنگائی اور عدم تحفظ آخر کب قومی ترجیحات میں شامل ہوں گے؟

حقیقت یہ ہے کہ عام شہری کو سب سے پہلے سستی اور معیاری خوراک، مناسب لباس، معیاری تعلیم، خالص ادویات، محفوظ سفری سہولیات اور اپنے بچوں کے لیے باعزت روزگار درکار ہے۔ وہ کسی غیر معمولی آسائش کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اسے اور اس کے خاندان کو باوقار زندگی گزارنے کے مواقع میسر ہوں۔ ایک چھوٹا سا محفوظ گھر، پُرامن ماحول اور مستقبل کے بارے میں اعتماد ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

مہنگائی کی مسلسل بڑھتی ہوئی لہر نے متوسط اور محنت کش طبقے کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ دن رات محنت کرنے کے باوجود لاکھوں خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں جبکہ علاج اور رہائش جیسے بنیادی شعبے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں بڑے بڑے دعوے اور خوش کن اعلانات اس وقت تک بے معنی محسوس ہوتے ہیں جب تک ان کے ثمرات عام شہری کی زندگی میں نظر نہ آئیں۔

ایک جمہوری اور فلاحی ریاست کی ذمہ داری صرف سرحدوں کا تحفظ یا معاشی اعدادوشمار میں بہتری نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی، قانون کی بالادستی، سماجی انصاف اور معاشی مواقع کی مساوی فراہمی وہ ستون ہیں جن پر مضبوط معاشرے قائم ہوتے ہیں۔ جب عام آدمی کو یہ احساس ہو کہ اس کی آواز سنی جا رہی ہے اور اس کے مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی ترجیحات کا مرکز عام پاکستانی کو بنایا جائے۔ ترقی کے تمام منصوبوں، معاشی پالیسیوں اور سیاسی فیصلوں کا اصل مقصد شہری کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ اگر ایک محنت کش باپ اپنے بچوں کو مناسب خوراک، تعلیم، علاج اور محفوظ مستقبل فراہم کرنے کے قابل نہیں تو ترقی کے دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔

ریاست کی کامیابی کا حقیقی معیار یہی ہے کہ ایک عام شہری خود کو محفوظ، بااختیار اور باوقار محسوس کرے۔ جب تک روٹی، روزگار، تعلیم، علاج، تحفظ اور انصاف ہر فرد تک نہیں پہنچتے، تب تک ترقی کا سفر ادھورا رہے گا۔ عام پاکستانی کی یہ فریاد درحقیقت کسی ایک فرد کی آواز نہیں بلکہ ایک پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ اسے اس کے آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کے مطابق جینے کا حق دیا جائے۔

31/05/2026
30/05/2026

روٹی، رزق اور محنت کش کا لہو
تحریر: عبدالرزاق زونل انفارمیشن سیکرٹری سیالکوٹ زون
"مقامِ شکر ہے صوفی خدا کے ہاتھ ہے روزی
اگر یہ حق بھی انساں کو دیا ہوتا تو کیا ہوتا"
انسان نے جب بھی طاقت، دولت اور اختیار اپنے ہاتھ میں لیا، اس نے اسے عدل و انصاف کی بجائے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اگر رزق کی تقسیم کا اختیار بھی مکمل طور پر انسان کے ہاتھ میں ہوتا تو شاید زمین پر محرومی، بھوک اور استحصال کی وہ داستانیں رقم ہوتیں جن کا تصور بھی روح کو لرزا دیتا ہے۔ لیکن افسوس کہ محدود اختیارات کے باوجود انسان نے وسائل کی تقسیم میں ایسی ناانصافیاں پیدا کر دی ہیں کہ کروڑوں انسان دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں جبکہ چند ہاتھوں میں اتنی دولت جمع ہو چکی ہے کہ نسلیں بھی اسے ختم نہیں کر سکتیں۔
آج کا سرمایہ دارانہ نظام اسی عدم توازن کی ایک نمایاں مثال ہے۔ دنیا بھر میں پیدا ہونے والی دولت کا بڑا حصہ ان طبقات کی تجوریوں میں جاتا ہے جو محنت سے زیادہ سرمائے کی طاقت رکھتے ہیں، جبکہ وہ ہاتھ جو زمین سے اناج اگاتے، کارخانوں کے پہیے چلاتے، بجلی پیدا کرتے، سڑکیں تعمیر کرتے اور شہروں کو آباد رکھتے ہیں، بنیادی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان میں حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ روٹی، کپڑا، علاج اور تعلیم عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کی رفتار اور اجرتوں کے درمیان خلیج روز بروز وسیع ہو رہی ہے۔ ایک سرکاری یا نجی ملازم جب ماہانہ تنخواہ وصول کرتا ہے تو اس کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے:

"کس ضرورت کو دباؤں کسے پورا کر لوں
اپنی تنخواہ کئی بار گنی ہے میں نے"

یہ صرف ایک شعر نہیں، کروڑوں خاندانوں کی روزمرہ زندگی کا خلاصہ ہے۔ تنخواہ ختم ہونے سے پہلے مہینہ ختم نہیں ہوتا بلکہ ضروریات ختم نہیں ہوتیں۔ بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، بجلی کے بل، علاج کے اخراجات اور روزمرہ خوراک کے درمیان ایک محنت کش مسلسل پس رہا ہے۔
اس صورتحال کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کی ظاہری چمک دمک اور ترقی کا بڑا حصہ انہی مزدوروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، شاندار سڑکیں، روشن بازار اور جگمگاتے دفاتر دراصل ان گمنام ہاتھوں کی یادگار ہیں جن کے نصیب میں اکثر محرومی لکھی جاتی ہے۔ حبیب جالب نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:

"ہم اہلِ درد نے یہ راز آخر پا لیا جالبؔ
کہ دیپ اونچے مکانوں میں ہمارے خُوں سے جلتے ہیں"

یہ شعر سرمایہ اور محنت کے درمیان موجود اس تاریخی تضاد کو بے نقاب کرتا ہے جس میں خوشحالی کی عمارتیں محنت کش کے پسینے اور بعض اوقات اس کے خون پر کھڑی ہوتی ہیں، لیکن اس خوشحالی کے ثمرات اس تک نہیں پہنچتے۔

پنجابی شاعر کا یہ مصرعہ بھی اسی استحصالی نظام پر گہرا طنز ہے:
"جے اے سرخی چُونے، کتھے والی نئیں
فِر اے تُھک، مزدور نیں تُھکی ہووے گی"
یعنی اگر دیوار کی سرخی صرف چونے کی نہیں تو یقیناً اس میں مزدور کے تھکے ہوئے وجود اور اس کی محنت کا رنگ بھی شامل ہے۔ کوئی عمارت، کوئی فیکٹری، کوئی ترقیاتی منصوبہ اور کوئی معاشی کامیابی محنت کش کے کردار کے بغیر ممکن نہیں، مگر بدقسمتی سے سب سے کم حصہ بھی اسی کے نصیب میں آتا ہے۔
اسلام کا معاشی اور اخلاقی فلسفہ اس صورتحال کا مکمل متبادل پیش کرتا ہے۔ اسلام دولت کے ارتکاز نہیں بلکہ گردش کا داعی ہے۔ وہ محنت کش کو عزت دیتا ہے، مزدور کی اجرت بروقت ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے اور انسانوں کے درمیان رحم، انصاف اور مساوات کا درس دیتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا:

"کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر"

معاشروں کی اصل عظمت دولت کے انباروں سے نہیں بلکہ کمزور طبقات کے ساتھ حسنِ سلوک سے جنم لیتی ہے۔ کوئی ریاست اس وقت تک فلاحی نہیں کہلا سکتی جب تک اس کا مزدور، کسان، ملازم اور دیہاڑی دار عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر نہ کر سکے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی ترقی کے پیمانے تبدیل کیے جائیں۔ ترقی کا مطلب صرف شرحِ نمو، بڑے منصوبے یا بلند عمارتیں نہیں بلکہ وہ آسودگی ہے جو ایک مزدور اپنے بچوں کو بھوکا سلائے بغیر محسوس کرے۔ وہ سکون ہے جو ایک ملازم کو مہینے کے آخر میں قرض مانگنے پر مجبور نہ کرے۔ وہ انصاف ہے جو دولت پیدا کرنے والے کو اس کا جائز حصہ فراہم کرے۔
ورنہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جب دولت چند ہاتھوں میں قید ہو جائے، جب روٹی عزت سے مہنگی ہو جائے، جب محنت کی قدر کم اور سرمائے کی طاقت زیادہ ہو جائے، تو معاشرے بظاہر ترقی یافتہ مگر اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔
انسانیت کا مستقبل اسی دن محفوظ ہوگا جب محنت کو عزت، مزدور کو انصاف، اور وسائل کو منصفانہ تقسیم نصیب ہوگی۔ کیونکہ دنیا کی ہر چمکتی ہوئی روشنی کے پیچھے کسی مزدور کے پسینے کی نمی اور کسی محنت کش کے خوابوں کی قربانی ضرور شامل ہوتی ہے۔

Address

Sialkot

Telephone

+923007134427

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All Pakistan Wapda Hydro Electric Workers Union Sialkot posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to All Pakistan Wapda Hydro Electric Workers Union Sialkot:

Shortcuts

Share