ShahZad LaKha

ShahZad LaKha Explore The Historical Places

25/04/2026

امریکہ پر 36 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے۔*
چین پر 15 ٹریلین ڈالر۔
جاپان پر 10 ٹریلین ڈالر۔
جرمنی پر 3 ٹریلین ڈالر۔
برطانیہ پر 3 ٹریلین ڈالر۔
فرانس پر 3.5 ٹریلین ڈالر۔
زمین پر تقریباً ہر بڑی ریاست قرض میں ڈوبی ہوئی ہے۔
عالمی قرضہ مجموعی طور پر 317 ٹریلین ڈالر ہے۔
317 ٹریلین ڈالر۔

یہ رقم عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 330 فیصد کے برابر ہے۔
دنیا میں جتنی بھی سالانہ پیداوار ہوتی ہے، وہ کل قرض کے برابر بھی نہیں بنتی۔
اگر پوری دنیا تین سال تک کچھ بھی خرچ نہ کرے تو تب جا کر یہ قرض ادا ہو سکتا ہے۔

لیکن ایک سوال ہے جو کوئی نہیں پوچھتا۔
اگر سب مقروض ہیں تو قرض دینے والا کون ہے؟
اگر دنیا پر 317 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے تو پھر 317 ٹریلین ڈالر کے اثاثے کس کے پاس ہیں؟
جب دنیا کے پاس 317 ٹریلین ڈالر کی ذمہ داریاں ہیں تو وہ اثاثے کس نے رکھے ہوئے ہیں؟

قرض ایک صفر جمع صفر کا کھیل ہے۔
ہر قرض لینے والے کے مقابلے میں ایک قرض دینے والا ہوتا ہے۔
اگر امریکہ پر 36 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے تو کسی کے پاس امریکہ کے خلاف 36 ٹریلین ڈالر کے دعوے موجود ہیں۔
اگر عالمی قرض 317 ٹریلین ڈالر ہے تو کسی کے پاس 317 ٹریلین ڈالر کے عالمی اثاثے ضرور ہیں۔

وہ کون ہے؟

اس سوال کا جواب انسانی تاریخ کے سب سے بڑے دولت کے ارتکاز کے نظام کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ نہ جنگ کے ذریعے ہوا، نہ چوری سے،
بلکہ ایک ایسے نظام کے ذریعے جہاں اکثریت قرض لیتی ہے اور اقلیت قرض دیتی ہے،
جہاں سود ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے،
اور جہاں قرض ریاضیاتی طور پر کبھی مکمل ادا نہیں ہو سکتا،
لہٰذا وہ مسلسل بڑھتا رہتا ہے اور دولت کو اوپر کی طرف منتقل کرتا رہتا ہے۔

یہاں ہم بتائیں گے کہ اصل میں 317 ٹریلین ڈالر کا عالمی قرض کس کے پاس ہے،
یہ نظام کیسے قرض تو پیدا کرتا ہے مگر اسے ادا کرنے کے لیے پیسہ پیدا نہیں کرتا،
یہ حادثہ نہیں بلکہ دانستہ ڈیزائن کیوں ہے،
کون سے مخصوص ادارے اور افراد دائمی قرض سے فائدہ اٹھاتے ہیں،
اور یہ نظام آخرکار کیوں لازماً ٹوٹے گا۔

اس کو سمجھنا صرف معاشیات کا معاملہ نہیں ہے،
بلکہ یہ دیکھنے کا معاملہ ہے کہ عالمی قرض کا نظام کس طرح دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹتا ہے،
اور اس ارتکاز کو قدرتی اور ناگزیر بنا کر پیش کرتا ہے۔

لیکن اس سے پہلے کہ ہم بتائیں کہ قرض کس کے پاس ہے،
آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید نظام میں قرض اصل میں ہوتا کیا ہے۔

زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ قرض ذاتی ادھار کی طرح کام کرتا ہے۔
آپ بینک سے 10 ہزار ڈالر لیتے ہیں۔
بینک کے پاس پہلے سے 10 ہزار ڈالر ہوتے ہیں جو وہ آپ کو دے دیتا ہے۔
جب آپ واپس کرتے ہیں تو بینک کو اس کے 10 ہزار ڈالر اور اس پر سود مل جاتا ہے۔

جدید مالی نظام اس طرح کام نہیں کرتا۔

جب کوئی حکومت بینک سے 10 ہزار ڈالر قرض لیتی ہے تو بینک کو اصل رقم اور سود واپس ملتا ہے،
لیکن جب حکومت بانڈ جاری کر کے قرض لیتی ہے تو پیسہ پہلے سے موجود نہیں ہوتا۔

قرض لینے کا عمل ہی پیسہ پیدا کرتا ہے۔

مرکزی بینک یا کمرشل بینک حکومتی بانڈ خریدتے ہیں
اور یہ رقم محض کھاتوں میں اندراج کے ذریعے، یعنی ہوا سے، پیدا کی جاتی ہے۔

امریکی حکومت کو ایک ٹریلین ڈالر چاہئیں۔
وہ ٹریژری بانڈ جاری کرتی ہے۔
فیڈرل ریزرو اعلان کرتا ہے کہ وہ 500 ارب ڈالر کے بانڈ خریدے گا۔
کمرشل بینک باقی 500 ارب ڈالر کے بانڈ خریدتے ہیں۔

فیڈرل ریزرو کو یہ 500 ارب ڈالر کہاں سے ملتے ہیں؟
یہ اس کے پاس ہوتے ہی نہیں۔
وہ کمپیوٹر میں نمبر ٹائپ کر کے یہ پیسہ بنا لیتا ہے۔

فیڈرل ریزرو کے بیلنس شیٹ میں 500 ارب ڈالر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
لیکن صرف اصل رقم پیدا کی جاتی ہے۔
سود پیدا نہیں کیا جاتا۔

اگر حکومت ایک ٹریلین ڈالر 5 فیصد سود پر قرض لیتی ہے
تو اسے ایک ٹریلین کے علاوہ ہر سال 50 ارب ڈالر سود بھی دینا ہوگا۔
لیکن نظام میں صرف ایک ٹریلین ڈالر پیدا ہوئے تھے۔

یہ 50 ارب کہاں سے آئیں گے؟
یا تو مستقبل میں مزید قرض لے کر،
یا پھر موجودہ رقم پر ٹیکس لگا کر۔

یہ ایک ریاضیاتی جال ہے۔
کل قرض ہمیشہ کل رقم سے زیادہ ہوتا ہے
کیونکہ قرض پر سود واجب الادا ہوتا ہے مگر وہ رقم کبھی پیدا ہی نہیں کی جاتی۔

اس نظام کو زندہ رہنے کے لیے مسلسل نئے قرض کی ضرورت ہوتی ہے
تاکہ پرانے قرض کا سود ادا ہو سکے۔

یہ خرابی نہیں ہے۔
یہی اس کا ڈیزائن ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ قرض آخرکار کس کے پاس ہے۔

جواب چار بڑی اقسام میں ہے۔

پہلی: مرکزی بینک۔
دوسری: ادارہ جاتی سرمایہ کار۔
تیسری: غیر ملکی حکومتیں۔
چوتھی: انتہائی امیر افراد۔

پہلی قسم: مرکزی بینک۔

فیڈرل ریزرو کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا امریکی حکومتی قرض ہے۔
بینک آف جاپان کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا جاپانی قرض ہے۔
یورپی مرکزی بینک کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا یورپی قرض ہے۔
پیپلز بینک آف چائنا کے پاس تقریباً 3 ٹریلین ڈالر ہیں۔

دنیا بھر کے مرکزی بینک مجموعی طور پر تقریباً 25 ٹریلین ڈالر کے حکومتی بانڈ رکھتے ہیں۔
یہ کل 317 ٹریلین ڈالر کے قرض کا تقریباً 8 فیصد بنتا ہے۔

لیکن یہی بنیاد ہے،
کیونکہ مرکزی بینک حکومتوں کو ٹیکس سے زیادہ خرچ کرنے کے قابل بناتے ہیں
بانڈ خرید کر اور پیسہ پیدا کر کے۔

اب سوال یہ ہے کہ مرکزی بینکوں کا مالک کون ہے؟

فیڈرل ریزرو حکومت کی ملکیت نہیں ہے۔
یہ ایک نجی ادارہ ہے جس کی ملکیت اس کے رکن کمرشل بینکوں کے پاس ہے۔
امریکہ کے 12 علاقائی فیڈرل ریزرو بینک
اپنے رکن بینکوں کو حصص جاری کرتے ہیں۔

جے پی مورگن چیس، بینک آف امریکہ، سٹی بینک،
ویلز فارگو
فیڈرل ریزرو کے ان حصص پر سالانہ 6 فیصد منافع وصول کرتے ہیں۔

جب فیڈرل ریزرو 5 ٹریلین ڈالر کے حکومتی بانڈ رکھتا ہے
اور ان پر سود وصول کرتا ہے،
تو یہ سود بالآخر انہی نجی بینکوں تک پہنچتا ہے
جو فیڈرل ریزرو کے مالک ہیں۔

عوام سمجھتی ہے کہ فیڈرل ریزرو حکومت کا حصہ ہے۔
ایسا نہیں ہے۔

یہ 1913 میں بنایا گیا ایک نجی بینکاری نظام ہے
تاکہ نجی بینک حکومتی قرض سے منافع کما سکیں۔

بینک آف انگلینڈ، جو 1694 میں قائم ہوا،۔۔۔

12/04/2026

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکُوتِ لالہ و گُل سے کلام پیدا کر
اُٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفالِ ہند سے مِینا و جام پیدا کر
میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر
مرے ثمر سے میء لالہ فام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر!

03/04/2026

8 مارچ 2022
عالمی منڈی میں قیمت: 128 ڈالر فی بیرل
پاکستان
پٹرول 149.86 روپے فی لٹر
ڈیزل 144.15 روپے فی لٹر

2 اپریل 2026
عالمی منڈی میں قیمت:108.28 ڈالر فی بیرل
پاکستان
پٹرول 458.49 روپے فی لٹر
ڈیزل 520.35 روپے فی لٹر

اور مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ اور بھینس کے گوبر پر ٹیکس ساتھ بونس ھے-

02/04/2026

موجودہ حکومت نے بجلی اور گیس کے بلوں کی مد میں وہ ظلم ڈھائے ہیں کہ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ۔ سفید پوش کی چمڑی سے کھال تک ادھیڑ جا رہی ہے ۔ اتنا ظلم ہونے کے باوجود کچھ لوگ ابھی بھی موجودہ حکومت کے حمایت یافتہ ہیں ۔
سب سے بڑا ظلم اس حکومت نے بجلی کے اور گیس کے بلوں میں سلیب ریٹ کا کیا اور کیا بھی کس کے ساتھ انتہائی غریب شہریوں کے ساتھ یعنی دو سو یونٹ والوں کے ساتھ اگر دو سو یونٹ سے ایک یونٹ زیادہ ہو تو بجلی کا بل چالیس سے پچاس فیصد زیادہ اور پھر اگلے چھ ماہ تک وہی چالیس فیصد زیادہ قیمت یہ اتنا بڑا ظلم ہے جو کہ صرف پاکستان میں ہو رہا ہے اور کوئی بھی اس پر آواز نہیں اٹھا رہا دوسرا ظلم بجلی استعال کریں یا نہ کریں فکسڈ چارجز لگا دئے جو کہ ہر حالت میں دینے ہی دینے ہیں ۔ تیسرا بڑا ظلم اس مہنگائی کے دور میں اگر آپکا بل کی آخری تاریخ ہے مثال کے طور پر سات اپریل اگر وہ گذر گئی تو آپکو جرمانے کے ساتھ بل بھرنے کی سہولت ہوتی تھی لیکن اب سات اپریل آخری تاریخ اور پھر دس اپریل تک جتنی مزید زیادہ اور اگر پھر بھی بل نہیں بھرا تو بھاری جرمانے ساتھ پھر تاریخ مقرر کر دی ۔ غریب دہاڑی دار اور سفید پوش سے یہ آپشن چھین لی گئی کے اگر پیسے نہیں ہیں تو تھوڑی سی لیٹ فیس سے بل اب جمعی نہیں کروا سکتا وہ جہاں سے مرضی پیسے کمائے مقرر کردہ تاریخ تک بل جمع کروائے ۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھیں بتائیں اتنا بڑا ظلم کبھی کسی دور میں ہوا جو اب ہو رہا ہے ۔ اب آخر میں ایک اہم بات سنیں

یہ بلاول یہ مریم یہ شہباز یہ حمزہ یہ آصف علی زرداری یہ آصفہ بھٹو ان سب شخصیات نے تین سو یونٹ تک بجلی مفت دینی تھی اب بھی اگر سوشل میڈیا پر جب ان شخصیات کی حمایت یافتہ لوگ کی موجودگی دیکھتے ہیں تو دل سے ان کے لئے بے شمار ل ع ن ت نکلتی ہے ۔معذرت کے ساتھ

خبردار شور مت کریں۔ عوام سو رہی ہے۔
31/03/2026

خبردار شور مت کریں۔ عوام سو رہی ہے۔

30/01/2026

اج دی یاری

وقت گزاری

میڈی اللہ

توبہ زاری

دھوکے ملین

کینجھے دھاری

ہاے ڑی قسمت

کرمیں ماری

عشق اچ اپنڑاں

سب کجھ ہاری

روندے رہ گئے

عمرا ساری

رل گئے ساجن

ہاں ت ٹھاری

(شھزاد لاکھا)

چنگ چی یا پھٹا رکشہ ۔ مقامی معیشت میں ایک اہم کردار رکھتا ہے۔ اس رکشہ کو چلانے والے اکثر پروفیشنل مزدور یا پلے دار ہیں ج...
29/11/2025

چنگ چی یا پھٹا رکشہ ۔ مقامی معیشت میں ایک اہم کردار رکھتا ہے۔ اس رکشہ کو چلانے والے اکثر پروفیشنل مزدور یا پلے دار ہیں جو ہر طرح کے سامان کی مال برداری میں مددگار ہیں۔ انتہائی مناسب قیمت پر مال ڈھوتے بھی ہیں اور پہنچاتے بھی ہیں۔ یوں ان پر پابندی سے نہ صرف شہر میں لیبر شارٹیج آئے گی بلکہ پہلے ہی مزدور بمشکل ملتے ہیں۔ اس طرح ان پر پابندی سے ایک بہت بڑا عام کاروباری نقصان ہوگا ۔۔ اور ساتھ میں اربوں روپے کے یہ رکشہ بھی کباڑ ہو جائیں گے۔ یوں مزدور طبقہ نہ صرف بے روزگار ہوجائے گا بلکہ ایک بڑی سرمایہ کاری سے محروم ہوجائے گا۔ اس ظالمانہ اقدام پر نظر ثانی کی جائے اور اس مناسب قیمت سہولت کو قانونی تحفظ دیا جائے۔

تاریخ کی کمزور ترین نسل۔وہ نسل جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی۔آج 23، 24 سال کی عمر میں ہےمگر یہ انسانی تاریخ کی سب سے کمزور...
24/11/2025

تاریخ کی کمزور ترین نسل۔
وہ نسل جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی۔
آج 23، 24 سال کی عمر میں ہے
مگر یہ انسانی تاریخ کی سب سے کمزور، ناتواں اور نفسیاتی دباؤ کا شکار نسل ہوچکی ہے۔

جسمانی طور پر لاغر۔۔
ذہنی طور پر منتشر۔۔
اور جسکی تربیت سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی ہے
، نہ کہ بزرگوں سے

ہر وقت موبائل فون، اسکرین، ٹک ٹاک، انسٹاگرام۔۔۔
نتیجہ؟
گردن میں خم
آنکھوں میں کمزوری
جسم میں طاقت کی کمی
رشتوں میں برداشت کی عدم موجودگی
اور صفر جذباتی ذہانت (EQ)

یہ وہ نسل ہے جو پانچ کلومیٹر پیدل نہیں چل سکتی،
دھوپ میں آدھا گھنٹہ کھڑے ہو کر گزار نہیں سکتی،
چھوٹا سا اختلاف ہو تو بلاک، ان فالو، اور رشتہ ختم۔

سب کچھ فوری چاہئے ۔
صبر صفر،
غصہ 100%

جنہیں نہ تہذیب، نہ زبان، نہ مقصد، نہ غیرت، اور نہ ہی ایمان کی فکر ہے۔
اور ذرا سوچیں
اگر اس قوم پر کبھی غزہ، شام، عراق، یا یمن جیسی آزمائش آگئی۔۔۔
تو کیا یہ نسل زندہ رہ سکے گی؟
لکڑی سے آگ جلانا تو دور،
انہیں مشرق اور مغرب کا فرق بھی نہیں پتہ،
یہ سروائیول تو چھوڑیں، سوشل میڈیا ڈاؤن ہوجائے تو پاگل ہوجاتے ہیں!
ابھی وقت ہے بیداری کا،
اپنی نسلوں کو بچائیں

انہیں قرآن، سیرت، غیرت، حیا، قربانی اور جدوجہد سکھائیں. مقصد دیں، ورنہ یہ دنیا انہیں گمراہ کردے گی 💔💔
Agreed۔🥀❤️

ایران کی خشک سالی  پاکستان کے لیے ایک خطرناک اشارہایران اِن دنوں اپنی تاریخ کی بدترین خشک سالی سے گزر رہا ہے۔ تہران جیسے...
17/11/2025

ایران کی خشک سالی پاکستان کے لیے ایک خطرناک اشارہ

ایران اِن دنوں اپنی تاریخ کی بدترین خشک سالی سے گزر رہا ہے۔ تہران جیسے بڑے شہر میں پانی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔ دریاؤں کا بہاؤ رک گیا ہے، ڈیم خالی ہو رہے ہیں، اور لاکھوں لوگ پانی کی قلت سے دوچار ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کیا یہ صرف ایران کا مسئلہ ہے؟

نہیں! یہ پاکستان کے لیے ایک الارم ہے۔

پاکستان اور ایران کی آب و ہوا تقریباً ایک جیسی ہے۔ دونوں ممالک بارشوں پر انحصار کرتے ہیں، دونوں میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور دونوں کے زیرِ زمین پانی کو حد سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو وہی منظر جو آج تہران میں ہے، کل لاہور، کراچی، کوئٹہ یا ملتان میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے خطرات

1. اس وقت فی کس دستیاب پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان اگلے چند سالوں میں شدید پانی کی قلت والے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔

2. اگر بارشیں کم ہوئیں اور ڈیم خشک رہے تو گندم، چاول، کپاس جیسی اہم فصلیں بُری طرح متاثر ہوں گی۔

3. بڑے شہروں میں پینے کے پانی کی فراہمی مزید مشکل ہو سکتی ہے، جبکہ زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔

4. کم پیداوار، بڑھتی مہنگائی اور روزگار کے مسائل سب کچھ پانی کی کمی سے جڑا ہے۔

ان حالات میں حکومت کو کیا کرنا ہوگا؟

بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم بنائے جائیں۔

کسانوں کو ڈرِپ اریگیشن جیسے جدید طریقے اپنانے کی ترغیب دی جائے۔

شہروں میں پانی کے ضیاع پر سخت پابندی اور نگرانی کی جائے۔

عام عوام میں پانی بچانے کی آگاہی مہم چلائی جائے۔

پانی اب محض ایک قدرتی نعمت نہیں بلکہ زندگی کی ضمانت بن چکا ہے۔

ایران ہمیں خبردار کر چکا ہے اور اب فیصلہ پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔

ہم چاہیں تو اس بحران سے بچ سکتے ہیں، ورنہ اگلی خشک سالی شاید ہمارے دروازے پر ہو۔

خشک_سالی

بینک آف بہاولپور ایک تاریخی بینک تھا جس نے پاکستان کی ابتدائی مالی مشکلات میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کے قیام ک...
07/11/2025

بینک آف بہاولپور ایک تاریخی بینک تھا جس نے پاکستان کی ابتدائی مالی مشکلات میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد جب ملکی خزانہ خالی تھا تو بینک آف بہاولپور نے پاکستان کی کرنسی کی ضمانت دی اور اس نے پاکستان کے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں فراہم کیں۔ یہ ایک نادر مثال تھی جس میں بہاولپور ریاست نے پاکستان کی مدد کی۔

ریاست بہاولپور اور پاکستان کے درمیان الحاق کا معاہدہ طے پایا تھا جس میں طے کیا گیا تھا کہ خارجہ، دفاع، اور کرنسی کے امور وفاق کے پاس ہوں گے جبکہ باقی معاملات اور اختیارات بہاولپور اور اس کی عوام کے پاس رہیں گے۔ لیکن اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی اور ریاست بہاولپور کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے انحراف کیا گیا۔

بہاولپور بینک اس وقت تک موجود رہا جب تک بہاولپور خود مختار صوبہ رہا۔ مگر 1970 میں جب ون یونٹ کا خاتمہ ہوا تو بہاولپور اور اس کی عوام کو تخت لاہور کے حوالے کر دیا گیا، گویا انہیں لوٹ کا مال سمجھا گیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں ایک منفرد اور متنازعہ مثال ہے کہ ایک صوبے کو دوسرے صوبے کو "تحفے" کے طور پر پیش کیا گیا۔ غیر آئینی اور غیر اخلاقی طور پر صوبہ بہاولپور کو پنجاب کے ماتحت کر دیا گیا، اور اس کی خود مختاری ختم کر دی گئی۔

لاہور نے بہاولپور کے تمام وسائل پر قبضہ کر لیا، اور بینک آف بہاولپور کا وجود بھی ختم کر دیا گیا۔ اس بینک کی عمارتوں اور دیگر اثاثوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔
اس طرح، بہاولپور کے لوگوں کے ساتھ ناانصافیوں، حق تلفیوں اور محرومیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا، جس کا خاتمہ اب تک نہیں ہوا.

ائندہ کچھ سالوں میں سے بھی نہیں ملے گا یہ بیچارے معصوم بچے آج کل ہر منڈی میں بک رہے ہیں  کبھی بھینس کے بچے تو کبھی گائے ...
06/11/2025

ائندہ کچھ سالوں میں سے بھی نہیں ملے گا
یہ بیچارے معصوم بچے آج کل ہر منڈی میں بک رہے ہیں کبھی بھینس کے بچے تو کبھی گائے کے بچے
میری ایک تجربہ کار مویشی منڈی سے ریلٹڈ بندے سے بات ہوئی وہ کہ رہا تھا یہ پیدا ہوتے ہے بچوں کو چند دن بعد ماں سے جدا کر دیتے ہیں اور بھینسوں کا دودھ بیچتے ہیں اور دور دراز بیک ورڈ علاقے کے لوگوں کو یہ بچے جا کر بیچ دیتے ہیں یا کسی قصائی کو دے دیتے ہیں ہلکے دام میں اور وہ قصائی ان کو گوشت میں بیچ دیتا ہے یہ 99 فیصد اکثر بچے بیچارے اتنی ہی عمر میں ماں سے جدائی میں مر جاتے ہیں ایک بندے نے میری پہلی پوسٹ پر کمنٹ کیا کہ ہم نے لئے لیکن مر گئے میرے خیال میں سرا سر یہ ظلم ہے مزید تجربہ کار بندے کا کا کہنا تھا یہ لوگ فارم ڈیرے وغیرہ سے خرید کر منڈیوں میں بیچنے آتے ہیں اور ان بیو پاریوں کا کہنا ہے کہ ہم نے بھینسیں ان کو دودھ پلانے کےلیے نہیں رکھی کاروبار کےلیے رکھی میں سمجھتا ہوں بہت گرا ہوا بد ترین ظلم ہے یہ کہ معصوم بچے کو ماں سے جدا کر کہ آپ یہ کاروبار کرتے ہو
کچھ اللہ سے ڈرا کرو بھائی آپ لوگ جو بھی ہو اگر میری پوسٹ آپ تک جا رہی ہے تو پلیز آواز اٹھاؤ ان معصوموں کی خرید و فروخت پر حکومت کو پابندی عآئد کرنی چاہئے

Address

Rahim Yar Khan
Rahimyar Khan
64000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ShahZad LaKha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ShahZad LaKha:

Share