18/10/2026
میں بندۂ ناداں ہوں، مگر شکر ہے تیرا
رکھتا ہوں نہاں خانۂ لاہوت سے پیوند
لیکن مجھے پیدا کیا اُس دیس میں تُو نے
جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!
علامہ اقبالؒ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے میرے رب! میں کم علم اور کمزور انسان ہوں، لیکن میرا تعلق تیری ذات سے ہے۔
مگر افسوس کہ تو نے مجھے ایسی سرزمین پر پیدا کیا جہاں کے لوگ غلامی کو قبول کر لیتے ہیں۔ یہاں غلامی سے مراد صرف کسی دوسری قوم کے ماتحت ہونا نہیں، بلکہ اپنی سوچ، ضمیر اور فیصلوں میں دوسروں کے محتاج ہو جانا بھی ہے۔
اس شعر کا اصل پیغام یہ ہے کہ انسان کو صرف آزاد ملک میں پیدا ہونا کافی نہیں، بلکہ اس کی سوچ، کردار اور ضمیر کا آزاد ہونا بھی ضروری ہے۔ جو قومیں ناانصافی کے سامنے خاموش رہتی ہیں، غلط کو غلط کہنے سے ڈرتی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھاتیں، وہ آزادی کے باوجود غلامانہ ذہنیت کا شکار ہو سکتی ہیں۔