Tabrez Naama

Tabrez Naama ایک آوارہ گرد۔۔

اس تصویر کو دیکھا! ہزاروں عنوان ذہن میں آئے۔ہزاروں مطلب، تشریحات، وغیرہ!عورت۔۔جو اپنے احساسات و جذبات کی عکاسی الفاظ سے ...
14/04/2024

اس تصویر کو دیکھا!
ہزاروں عنوان ذہن میں آئے۔
ہزاروں مطلب، تشریحات، وغیرہ!

عورت۔۔
جو اپنے احساسات و جذبات کی عکاسی الفاظ سے کرتی ہے، اور اس کے یہ الفاظ، تتلیوں کی مانند ہوتے ہیں۔۔خوبصورت، نرم، نفیس!
جب مرد عورت کے جذبات کا گلہ گھونٹتا ہے، تو ان تتلیوں کا خون ہوجاتا ہے۔۔ اس کے الفاظ کی تتلیاں مر جاتی ہیں
اور عورت بوجھل دل کے ساتھ ان احساسات، اور جذبات کا abortion کر دیتی ہے!

میں اتنا سمجھ سکا ہوں کہ عورت احساسات کے معاملات میں کمزور ہے، اور اس کا فائدہ کم ظرف مردوں نے ، باپ بھائی اور شوہر کی صورت میں، خوب اٹھایا۔۔ کبھی جائیداد سے محروم رکھ کر، کبھی نکاح کے مشورہ کے بغیر اسے کسی کا ہمسفر بنا کر، کبھی ہاتھ اٹھا کر۔۔ اور کبھی زہریلی زبان کا استعمال کر کے!

تبریز

جانتی ہو؟دیوانوں کا حق ہے خاموشی پر، اور ڈھلتے سورج پر، اور شام کی آخری کرنوں پر، اور دریا پر کانپتی لہروں پر، اور ان لہ...
17/03/2024

جانتی ہو؟

دیوانوں کا حق ہے خاموشی پر، اور ڈھلتے سورج پر، اور شام کی آخری کرنوں پر، اور دریا پر کانپتی لہروں پر، اور ان لہروں پر بنتے بگڑتے روشنیوں کے عکس پر، اور ان تمام احساسات پر، جن پر صاحبِ فہم و ادراک اپنا حق کھو چکے ہیں، یا ان کا شمار اب ترجیحات میں نہیں!

شام، خاموشی، افق، روشنی، تنہائی، بیانان۔۔ انہیں دنیا عاق کر چکی ہے! اور تم تو جانتی ہو جنہیں دنیا عاق کر دے انہیں دیوانے اپنی آغوش میں جگہ دیتے ہیں، انہیں پالتے ہیں، پرورش کرتے ہیں! یہی آغوش پھر ان احساسات کی لحد ثابت ہوتی ہے!اور تم سے بہتر یہ کوئی نہیں تم جانتا کیوں کہ تم عاق کی گئی ہو اس جہان سے۔۔

ربِّ دو جہان پھر ان خانہ بدوش لمحوں اور احساسات کے والی، دیوانوں کو ایک انعام بخشتا ہے! اور آغوش کو کل کائنات میں تبدیل کر دیتا ہے! ایسی کائناتوں میں سکون کے لمحات، مسرت، اور محبت کے سوا کسی اور چیز کی گنجائش نہیں رہتی!

تبریز
— at Kabul River.

جانتی ہو؟مہمند کی شامیں، اب تک کسی بھی علاقے میں دورانِ سروس دیکھی جانے والی شاموں میں سب سے زیادہ منفرد ہیںان  شاموں می...
20/12/2023

جانتی ہو؟
مہمند کی شامیں، اب تک کسی بھی علاقے میں دورانِ سروس دیکھی جانے والی شاموں میں سب سے زیادہ منفرد ہیں

ان شاموں میں ہر رنگ ہے
ہر احساس ہے
زندگی کی لہر ہے
کسی طوفان کے گزر جانے کے بعد کی خاموشی ہے
اپنائیت ہے
اُنس ہے
خاموشی ہے
وقار ہے

گمان ہوتا ہے جیسے رنگوں کا طوفان آسمان سے افق پر اتر رہا ہو!

تبریز

تمہیں میرے الفاظ آواز دیتے ہیں۔۔تمہیں بُلاتے ہیں، پُکارتے ہیں!!اگر تمہیں میرے الفاظ سے خوشبُو آتی ہے، تو وہ تمہاری ہے؛ ا...
28/06/2023

تمہیں میرے الفاظ آواز دیتے ہیں۔۔

تمہیں بُلاتے ہیں، پُکارتے ہیں!!

اگر تمہیں میرے الفاظ سے خوشبُو آتی ہے، تو وہ تمہاری ہے؛ اور اگر تمہیں میرے الفاظ سے بدبُو کا احساس ہوتا ہے، تو وہ میری ہے!

تمہیں ہر شخص پر میرا ہونے کا گُمان ہوتا ہے اور تمہیں لگتا ہے کہ میں ہر شخص جیسا ہوں۔

تم ایک ایسا تخیل ہو جس کا کوئی وجود نہیں؛ اور ایسا ایک وجود ہو جو ہر تخیّل پر حاوی نظر آتا ہے۔

میرے الفاظ تمہارا تعارف ہیں جبکہ اس زمین پر حُسن کا تعارف تم ہو!

تمہارا اور سب کا
لیکن محض اپنا

تبریز

زندگی۔۔مرغزاروں کی لحد میں زندہ درگور ہونے کا دوسرا نام ہے!تبریز
09/06/2023

زندگی۔۔مرغزاروں کی لحد میں زندہ درگور ہونے کا دوسرا نام ہے!

تبریز

کراچی نامہ: چوتھی قسطائیر پورٹ سے نکلتے وقت کوسٹر کے بائیں سمت میں دروازے کے ساتھ کھڑکی ست متّثل سیٹ ملی۔ میری نگاہیں مس...
09/06/2023

کراچی نامہ: چوتھی قسط

ائیر پورٹ سے نکلتے وقت کوسٹر کے بائیں سمت میں دروازے کے ساتھ کھڑکی ست متّثل سیٹ ملی۔ میری نگاہیں مسلسل باہر کے مناظر پر مرکوز تھیں۔ کراچی کی شام اور شاہراہِ فیصل کا ازلی ابدلی ساتھ، نئے آنے والے مہمانوں کے ذہنوں پر نا قابلِ یقین حد تک پُرکیف اثرات چھوڑ رہے تھے۔
ڈرگ روڈ جنکشن سے گزرنے کے بعد ہی کچھ عجیب و غریب عمارتیں نظر آئیں اگرچہ کہ شائید ان میں کچھ خاص عجیب نہیں تھا۔ یہ اپارٹمنٹس تھے، جو کئی منزلہ عمارات پر مشتمل تھی۔ ان سب کی بالکونیاں ایک عقوبت خانہ کی مانند سلاخوں سے بند تھی، اور تمام منازل پر ، تمام اپارٹمنٹس میں ایک ہی طرز کے جنگلے لگائے گئے تھے اور اس انداز اے لگائے گئے تھے شائید ہوا بھی قدرے تکلّف سے داخل ہو۔ یہ سلاخیں دیکھ کر مجھے عمران سیریز کے عقوبت خانہ یاد آئے۔

آدھے گھنٹے تک مسلسل میں عمارتوں اور سڑک کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ ہوٹل موون پک پر ہماری گاڑی رُکی۔ یہ ایک جدید طرز کا بہترین ہوٹل تھا۔ اس کے ایک سمت پی سی ہوٹل جبکہ دوسری جانب سرکاری عمارتیں تھی۔ داخلی دروازے پر گاڑیوں کا ایک جمِ غفیر تھا۔ ہوٹل داخل ہوتے ہوئے سامنے مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے ایک خوبصورت ہال انتہائی نفاست سے بنایا گیا تھا۔ ہال کے ساتھ دائیں جانب ریسیپشن کاؤنٹر تھا جہاں پر مہمانوں کا داخلہ اور اخراج ہوتا۔ اور اسی طرح لابی کی بائیں جانب بھی ایک کاؤنٹر تھا جو مہمانوں کا سامان کے کر جانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس کاؤنٹر سے تین راستے نکلتے تھے۔ ایک راستہ لفٹ کی طرف جاتا تھا، دوسرا عقب میں موجود ڈائننگ ہال کی طرف اور تیسرا ایک بڑے ہال کی طرف جہاں پر صبح کا ناشتہ پیش کیا جاتا۔

ہم تمام دوستوں کو وائی فائی داخلی کارڈ دیا گیا۔مجھے دوسری منزل پر ایک کمرہ دیا گیا تھا سو میں سامان لے کر کمرہ پہنچا۔ کارڈ لگانے کی کوشش کی تو دروازہ نا کھلا، دوبارہ کوشش کی تو اندر سے لوگوں کی آوازیں آئیں۔ مجھے اتنے بڑے ہوٹل میں اتنی بڑی غلطی کی توقع نا تھی کہ مجھے پہلے سے بُکڈ شدہ کمرہ دے دیا جائے گا سو تیسری بار نا کام کوشش کرنے کے بعد اندر سے کسی نے دروازہ کھولا۔ دروازہ اندر سے لاک تھا۔ یہ ایک اٹھارہ بیس برس کا نوجوان تھا۔ اب منظر کچھ یوں تھا کہ ہم دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو حیرانگی و پریشانی کے عالم میں دیکھتے رہے۔ آکر کار میں نے ہمت کر کہ پوچھا “۲۰۵”؟ “جی بالکل۔۔ فرمائیے” میں نے اپنے کارڈ پر موجود کمرہ نمبر دیکھا۔ اندر سے مختلف لوگوں کی آوازیں آرہی تھیں اور مجھے لگا جیسے میں نے ان احباب کی محفل میں خلل ڈالا، سو چُپ چاپ سامان اٹھا کر کاؤنٹر کی طرف چل پڑا۔

میں۔۔بے بس اور لاچار۔۔دیارِ غیر میں۔۔ خیر روہانسہ سا ہو کر میں نے سٹاف کو اپنی روداد سنائی تو اپنی غلطی پر نادم ہوئے اور مجھے اس غلطی کے سبب اعلی درجہ کا کمرہ عنایت کرنے کا فیصلہ سنایا۔ یہ کمرہ تیسری منزل پر واقع تھا۔
سامان ساتھ لیا اور کمرہ نمبر ۳۰۴ پہنچا۔ دروازہ کھولا تو اندر گھُپ اندھیرا تھا۔ موبائل کی ٹارچ کھولی تو e-connection دھونڈنے لگا۔ قریباً پانچ برس پہلے مطالعاتی دورے پر کراچی آنا ہوا تو ایمبیسی ان ہوٹل میں قیام تھا۔ وہاں کا نظام بھی اسی ہوٹل کی مانند تھا یعنی کارڈ کے ذریعے نا صرف دروازہ کھلتا بلکہ بجلی کا نظام بھی اسے کارڈ کے منسلک تھا جس کے لیے ایک آلہ کمرے میم عموماً دروازے کے سامنے نصب ہوتا تھا جس میں کارڈ ڈالنے سے بجلی کا نظام بحال ہوجاتا۔ خیر، میں نے موبائل ٹارچ سے کارڈ ڈیوائس ڈھونڈنا شروع کیا۔ پورے کمرے میں مکمل اندھیرا تھا، اور میں یہاں وہاں وائی فائی کارڈ کے استعمال کرنے کی جگہ ڈھونڈتا رہا۔ اکثر ہوٹلوں میں یہ کمرے کے داخلی دروازے پر نصب ہوتا۔ موبائل آف ہونے کے قریب تھا۔ پندرہ بیس منٹ کے “سرچ آپریشن” میں ناکامی کے بعد میں نے دوبارہ سٹاف سے رابطہ کرنے کا سوچا اور لابی میں موجود انٹرکام سے اپنی بجلی کے مسئلہ کے بارے میں بتایا۔ واپس آکر دوبارہ سرچ آپریشن شروع کیا تو دروازہ کے پیچھے، ذرا اوپر مجھے ڈیوائس نظر آئی۔ یہ جگہ نظروں سے اوجھل اور دروازے کے پیچھے تھی سو ایک نئے شخص کے لیے اندھیرے میں ڈھونڈنا مشکل تھا۔ بجلی بحال ہو گئی۔ میں پلنگ پر چادر کی طرح پھیل کر لیٹ گیا۔ اچھا دروازے پر دستک ہوئی، دروازہ کھولا تو ایک نیا منظر دیکھنے کو ملا۔ ایلیکڑیشنز electricians کی ایک ٹیم باہر موجود تھی، کسی کے ہاتھ میں tool box, کوئی سیڑھی اُٹھائے، کوئی ہتھ میں تاریں لیے۔ میں نے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ مجھے یہ سب mister bean کے ڈرامہ کی کوئی قسط لگنے لگی۔ یا پھر ہیرا پھیری فلم کا کوئی منظر۔ میں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو کہنے لگے “سر آپ نے کمپلین کی تھی کہ بجلی کا مسئلہ ہے” ۔ میں نے غُصہ کو دباتے ہوئے مسکراتے ہوئی کہا “جی! تھا۔ ہوگیا حل۔ شکریہ” اور دروازہ بند کر دیا کیونکہ پوری داستان سنانے کی نا میری ہمت تھی اور نا سکت۔۔

اندھیرے کمرے میں بجلی نے بارتی فلم سوادیس کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔۔ روشنی۔۔ امید۔۔ !!

کمرہ خوبصورتی سے منظم طریقے سے بنایا اور ترتیب دیا گیا تھا۔ انگریز دور میں سرکاری گیسٹ ہاؤس کی طرز کا میز، اور اس پر رکھا ہوا لیمپ، کرسیاں، جدید طرز کی الماری اور دو آرام دہ بستر۔۔

میں نے سب سے پہلے اپنے دوست ہارون کو اپنے پہنچنے کی خبر دی کیونکہ ٹریننگ کے لیے لیپ ٹاپ کا انتظام ہارون نے ہی کرنا تھا۔ ہارون نے مجھے ۹ بجے کا وقت دیا۔ نو بجنے میں کافی وقت تھا سو میں اور حسیب صاحب کھانے کے لیے باہر نکل گئے۔

حسیب صاحب نے یہ پہلا قریبی تعارف تھا۔ کسی بڑے بھائی کی مانند حسیب صاحب رہنمائی کرنے لگے اور ہم قریبی ہوٹل پہنچے۔ میں نے ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے اندازہ لگا لیا تھا کہ سر حسیب بہت خیال رکھنے والے اور نرم دل کے مالک تھے جو اپنے جونئیر افسران کو چھوٹے بھائیوں کی طرح سمجھتے تھے۔ سر سے ایک طویل نشت رہی اور طعام کے بعد سر آواری ہوٹل کی طرف چل پڑے ۔

مجھے کچھ دیر پیدل اکیلے سڑک پر چلنا پڑا کہ اچانک کچھ موٹر سائیکل دیکھ کر میرے کانوں میں کراچی کا نیشنل اینتھم بجنے لگا

“آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے”

میں نے جلدی سے بٹوے میں سے ضروری کارڈز اور دستاویزات نکال لی کہ چھنتے وقت ان کی بچت ہو جائے!

ہارون کے دس بجے کا وعدہ رات تین بجے وفا ہوا، اور پوچھنے پر جواب ملا “ اہم میٹینگ چل رہی تھی”۔ واللّٰہ اعلم یہ کونسی میٹنگ تھی، کہاں تھی، لیکن جناب محترم تین بجے لیپ ٹاپ سمیت وارد ہوئے!

جاری ہے

دو لخت ہو گیا ہے جہانِ تصوّرات آدھے میں چہل پہل ہے ، آدھا اُداس ہےنا معلوم
09/06/2023

دو لخت ہو گیا ہے جہانِ تصوّرات
آدھے میں چہل پہل ہے ، آدھا اُداس ہے

نا معلوم

فطرت و قُدرت کے ملنگ!"تم جیسوں کا شُمار کسی خانہ میں نہیں ہوتا۔۔آوارگی کا نا تو خُدا کے قُرب سے تعلق ہے اور نا روحانیّت ...
08/06/2023

فطرت و قُدرت کے ملنگ!

"تم جیسوں کا شُمار کسی خانہ میں نہیں ہوتا۔۔آوارگی کا نا تو خُدا کے قُرب سے تعلق ہے اور نا روحانیّت سے"

ایک عرصہ سے ہم جیسے آواردہ منش لوگوں کی بنیاد اس مفروضہ پر قائم کر کے اہلِ دین و دنیا نے ہمیں اور ہمارے ذوقِ آوارگی کو خدا کے حسُن سے تعلق ، اور خُداءِ واحد کے اس دنیا میں بانٹے گئے حسن اور حسین رنگوں سے منقطع کر دیا ہے۔ اہلِ دانش نے ان چند دشت نوردوں کو اس فہرست میں شامل رکھا ہے جس میں ہر اس شخص کو شامل کیا جاتا ہے جس نے اس دنیا میں آ کر اپنے نقصان کو ترجیح دی ہے!
وقت و دولت کی بے قدری، جوانی کے خوبصورت ایّام کو سڑکوں پر بھٹکتے ہوئے گُزار دینے کا الزام اور۔۔۔ تنہائی پسندی کا طعنہ۔۔ اور ایسی بہت سے باتیں جنہیں ہمارے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔

حقیقت اس کے بر عکس ہے!

میں، آواردگی کے اس سفر میں، سیالکوٹ میں علی الحق شہید کے مزار پر بے سُدھ پڑے فقیروں سے لے کر، داتا گنج بخش کے مزار پر ناروال سے آئے ہوئے اُس نابینا حافظ تک ، جو اس آوارگی کے سفر میں مجھے ایک خوبصورت شام کو آج سے دس سال پہلے ملا۔۔ اور کسی گوشہ تنہائی میں بیٹھے مجذوب تک، جو خُدا سے اپنے رابطے بحال کرنے میں مصروف ہے۔۔ ہر شخص کو اپنے طور طریقے جنون اور دیوانگی کے مطابق، اپنی وجود سے روح کو چند لمحوں لے لیے جُدا کر کے خُدا کے قریب کرنے کی جستجو میں وقف پایا ہے!

میرا یہ یقینِ کامل ہے ہم جیسے آوارہ گردوں کا بھی شمار انہیں میں کیا جائے گا !

اندھیری راتوں میں، دشت و صحرا و بیابانوں کا سینہ چیرتی، اور حُسن کے تصوّر کی مہکتی فضاوں میں اڑان بھرتی ہماری تمنّائیں، دیوانگی اور جنونیّت، ہمیں خُدا کے قریب کرنے کا شاید واحد وسیلہ ہے!
ہمیں اسی فطرت پر پیدا کیا گیا جانا تھا، سو پیدا کر دیا گیا ہے!

ہمیں فطرت کے ملنگ کہا جائے۔۔

اپنی جذب و مستی اور روحانی وجد کے پرچار کے لیے لبوں پر بابا فرید کا کلام نا سہی، اور نا ہی ہاتھوں میں ستار کے تاروں سے پُر سوز دھنیں بنانے کےہنر سے محرومی، لیکن آنکھوں میں سوز، سینے میں جذب و مستی، دماغ میں فطور اور کسی منزل پر پہنچنے کی آگ وہی ہے!

کسی خوبصورت، دور دراز مقام پر خدا کی خدائی کو محسوس کرنا، اپنے گناہوں کا اقرار کرنا، اعترافِ جرم کر کے اُس مقام پر، جہاں پہنچنے میں کئی راتوں کی نیندیں اور کئی دنوں کا سکوں قربان کیا گیا ہو، اپنے ہونے کا احساس یقین میں بدلنا، اور۔۔ خُدا سے کلام کرنا۔۔ہم فطرت کا مجزوبوں کا امتیاز رہا ہے!

ہم نے ہر منزلِ مقصود پر پہنچ کر اپنے دل کو سینے سے نکل کر خدا کے بانٹے گئے حسن کے گرد دھمال کرتے پایا پے!
اس منزل کےب حصول میں آنے والی ہر نئی راہ، نئی مشکل، ہمارے لیے ایک جذب و مستی کا سامان رہی ہے!

ہم نے ہر گام پر کسی شاعر کو ہمارے کان میں یہ سرگوشی کرتے سُنا ہے کہ

"محبّت کو لازم ہے آوارگی بھی
نہیں عشق کرتا اثر بیٹھے بیٹھے”

تبریز

کراچی نامہ: تیسری قسطتیسری قسطجہاز ، شعیب اختر کے طرح “باؤنڈری لائن” تک واپس آیا اور پھر رفتار پکڑ کر زمین کی قید سے آزا...
07/06/2023

کراچی نامہ: تیسری قسط

تیسری قسط

جہاز ، شعیب اختر کے طرح “باؤنڈری لائن” تک واپس آیا اور پھر رفتار پکڑ کر زمین کی قید سے آزاد ہو گیا۔ چند ہی لمحوں میں ہم پرندوں کی مانند آزاد فضا میں تھے۔گھر، لوگ، آبادیاں، نظروں میں ریت کے ذروّں میں برابر دکھائی دینے لگے۔ اچانک بادلوں نے جہاز کو اپنی “بانہوں” میں لینے کا ارادہ کیا جس سے ایک ہلکی سے جھرجھری جہاز نے لی، گویا جہاز پر کپکپی طاری ہو گئی ہو۔ جہاز اور بادلوں کا یہ رومانس ہم مسافروں پر کافی بھاری پڑھا، اوریہ سب ، منہاج صاحب سمیت اکثر مسافروں کے چہروں کے تاثرات، تسبیح کی رفتار، اور کلمات کی ادائیگی سے واضع ہو رہا تھا۔

میں نے ارد گرد کے ماحول پر نظر ڈالی۔ حسیب صاحب باہر کے مناظر سے لُطف اندوز کو رہے تھے۔ شوزب صاحب کانوں میں ائیر پاڈز لگائے کسے دوسری دنیا میں کھوئے دکھائی دیے۔ جبکہ سکندر صاحب نیند کی آغوش میں لینڈنگ کے لیے تیار تھے۔اپنے ان قریبی پڑوسیوں کو اس حال میں دیکھ کر تسلی ہوئی اور دھیان سفر نامہ لکھنے پر لگا دیا۔ دو روز قبل ہی کسی ضروری کام کے سلسلے میں مجھے چاکیس گھنٹے مسلسل جاگنا پڑا تھا اور ان چالیس گھنٹوں میں، میں نے ۱۲ مقامات پر مختصر وقفہ کرتے ہوئے ۱۵۰۰ کلومیٹر کا سفر طے کیا۔ پشاور سے براستہ جی ٹی روڈ ترنول، ترنول سے جھنگ، اور پھر کمالیہ، ٹوبہ ٹیک سنکھ، چیچہ وطنی، ساہیوال، پاکپتن شریف، دیپالپور، اوکاڑہ، لاہور، ڈسکہ، وزیر آباد اور چکوال سے ہوتے ہوئے دوبارہ پشاور۔

میں سفر کرنے کا بہت قائل ہوں، لیکن خرابی اس بات میں ہے کہ اپنی jurisdiction سے باہر کہیں بھی میں سرکاری ڈرائیور کو ساتھ لے کر نہیں جاتا۔ اُس کی ایک وجہ شائید یہ بھی ہے کہ گاڑی چلانا اور اس سے لطف اندوز ہونا میری ایک hobby ہے۔ کوہستان میں سروس کے دوران اکثر جب سخت حالات یا پیچیدہ انتظامی مسائل کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تو فقط آدھے گھنٹے کی ڈرائیو بمعہ چند پرانے گیتوں کے، وہ دوا تھی جو میں نے اپنے کیے خود تجویز کی تھی.

محبت کو لازم ہے آوارگی بھی
نہیں عشق کرتا اثر، بیٹھے بیٹھے

آپ اگر اپنی زندگی کی زمین پر اچھی فصل بونا چاہتے ہیں، تو زمین پر اچھا ہل چلائیں۔ ہل چلانے کی کئی اقسام ہیں، لیکن اصول ایک ہے کہ جتنا گہرا ہل چلے گا، اتنی اچھی فصل پیدا ہوگی۔ سفر کی مثال ہل کی مانند ہے اور اس سفر کے بتیجے میں حاصل ہونے والے خیالات، تجربات اور تجزیات، بیج کی مانند۔ اور فصل۔۔ اس سب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آپ کی شخصیت میں مثبت تبدیلی۔

سفرنامہ لکھنے میں مصروف تھا کہ “اعلانات” دوبارہ شروع ہوئے “ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کا سفر ہمارے ساتھ اچھا گزرا” وقتی طور پر تو یہ مجھے اپنے زخموں پر نمک محسوس ہوا لیکن فیصل صاحب کی پی آئی اے کے بارے میں سنائی گئی داستان کے بعد مجھے اپنے پائلٹ سے بے پناہ اُنس اور اپنائیت محسوس ہوئی۔

فیصل صاحب کا تفصیلی تعارف تو بعد میں آئے گا لیکن مختصر یہ کہ صاحب بھی ہماری طرح “برسرِ روزگار مزدور” ہیں لیکن ذرا۔۔ نہیں بلکہ کافی اونچے درجہ پر فائز ہیں۔

ٹریننگ دوسرے دن جب تمام متاثرینِ ٹریننگ کی آپس میں کچھ برف پگلی تو کہنے لگے “ ہمارا پائلٹ اپنی مثال آپ تھا۔ واہ۔۔ کیا ہی حوصلے تھے جناب کے۔ موسم جیسا بھی ہو، آندھی طوفان بارش اولے۔۔ اس کا فیصلہ اٹل تھا کہ جہاز نے اُڑنا ہی اُڑنا ہے، پھر خواہ وہ لینڈ کر پاتا ہے یا نہیں۔۔ تو جناب ہمارا جہاز رن وے کے ایک کنارے پر پہنچا۔۔ طیارے نے جب رفتار تیز کی تو اچانک پہلے بائیں طرف کو مُڑا اور پھر بہکتا ہوا دائیں جانب کو چل پڑا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی تیز ڈرائیور موٹر وے پر کرتب دکھا رہا ہو۔۔ تو تین چار مرتبہ دائیں بائیں جانے کے بعد موصوف نے ہوا میں جہاز کے کرتب دکھانا شروع کر دیے اور جہاز، پشاور کی سڑکوں پر نظر آنے والے جہازوں کی مانند ہوا میں ہی لڑکھڑاتا ہوا بلندی کی طرف گامزن تھا۔۔ تمام مسافر خواتین و حضرات اپنے پچھلے تمام گناہوں کی معافی مانگنے میں مصروف تھے۔۔اور۔۔ ہماری یہ حالت بیس منٹ تک رہی”

اس تمام داستان میں جو واحد چیز محسوس کرنے اور دیکھنے والی تھی، وہ فیصل صاحب کا چہرہ تھا، جس معصومیت اور خوف کے ملے جُلے تاثرات سے وہ یہ قصہ بیان کر رہے تھے۔

میں نے فیصل صاحب سے واقع کی تعزیت کی، اور انہیں واپسی کے سفر کے لیے حوصلہ دیا۔

خیر، ہمارے پائلٹ کی طرف سے دوسرا اعلان ہوا

“ہم کچھ ہی دیر میں کراچی ائیر پورٹ پر لینڈ کرنے والے ہیں”۔ یہ آج کے دن کی واحد اچھی بات اور خبر تھی جو میں نے سنی۔
میں نے سب سے نظریں بچا کر سُرخ لباس میں ملبوس ائیر ہوسٹسز کو دیکھا جو، میرے خیال میں، ابھی تک ہم تمام مسافروں کے حال احوال پر مسکرا رہی تھیں۔۔

کراچی۔۔
محبت کرنے والوں کا شہر
محبت اور اپنائیت کا مرکز، جو ہر شخص کو اپنے آغوش میں زندگی گزارنے کے لیے، مستقل جگہ فراہم کرتا ہے۔۔
ایک ایسا شہر، جس کو اس کے باسیوں نے، عمر بھر کے احسانات کے باوجود، تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دینے میں کوئی کثر نا چھوڑی۔۔
ایک ایسا شہر، جس کی ہواؤں میں سکون، محبت، خلوص اور اپنائیت ہے!
ایک ایسا شہر، جو میرے شہرِ لاہور جیسا ہی ہے!

کراچی ائیر پورٹ پر اُترے تو میں نے اس شہر کو ایک مقدّس نگاہ سے دیکھا۔۔ اور چند لمحے اس آسمان کی طرف دیکھے اس کی فضاء میں سانس لینے کی کوشش کی۔۔ایک سکون تھا جو سانسوں سے جسم کی رگوں اور خلیوں تک پہنچ رہا تھا۔۔

شام بھی تھی دھواں دھواں، حُسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کہی کہانیاں۔۔ یاد سی آ کے رہ گئیں!

کراچی کی شام نے فراق گھورکھ پوری کے اس شعر سے میرا استقبال کیا۔ شام کیا تھی، ایک احساسِ زندگی تھا جسے شائید میں الفاظ میں بیان نا کر سکوں۔ میں دور دراز گاؤں سے شہر کے میلے میں آئے ہوئے بچے کی طرح حیرانگی، خوشی اور مسرت کے ملے جلے احساسات کے ساتھ سر آسمان کی طرف اُٹھائے دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں جانب نگاہیں گھما رہا تھا۔۔
موسم خوشگوار تھا۔۔ اور شام ڈھل رہی تھی

دور کہیں سے لتا منگیشکر کی آواز سنائی دی

“کبھی کبھی شام ایسے ڈھلتی ہی جیسے گھونگھٹ اتر رہا ہے”

ائیر پورٹ سے باہر ہی MoveNPick ہوٹل کا ایک نمائندہ ہمارے انتظار میں موجود تھا۔ ایک executive کوسٹر ہماری منتظر تھی!

جاری ہے

فطرت کے لیے وقت نکالنا سیکھیں ورنہ فطرت اپنے ترتیبِ وقت سے آپ کو نکال دے گی! تبریز
07/06/2023

فطرت کے لیے وقت نکالنا سیکھیں ورنہ فطرت اپنے ترتیبِ وقت سے آپ کو نکال دے گی!

تبریز

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tabrez Naama posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share