05/01/2019
جاوید لاہوری اپنے والد کی آخری خواہش پوری نہ کرسکے، اور اس نے طبلہ نواز بننے کے بجائے اپنی گلی میں چکن سیخ کباب اور تکا بوٹی لگانے کا فیصلہ کیا۔ ویسے تو بسیار خوراک لوگوں کے شہر لاہور میں معیار کے بجائے ذائقے کو اہمیت دی جاتی ہے مگر جاوید کے ہاتھوں میں نہ خاص لذت تھی نہ ہی اپنے ٹھیلے کا معیار اونچا کرسکا، ہاں مگر اس کا کاروبار چلتے رہنے کے لئے اس کے پاس کچھ اور کمال چیزیں موجود تھیں، جو کسی اور کے پاس شاید کم ہی ہوں ”شیریں لہجا، مسکراتا چہرا اور میٹھی زبان“ ، جاوید لاہوری کے گاہکوں کو متاثر کرنے کے لئے کافی تھیں۔ اس دوراں جاوید اپنے گھر کا خرچہ بٹانے کے لئے بچوں کو ٹیوشن بھی پڑہاتا رہتا تو کبھی ویڈیو گیم کی دکان پر ٹوکن بیچا کرتا۔
جاوید کے والد محمد عمر عرف بلھے خان صاحب کا شمار لاہور کے مشہور طبلہ نواز استادوں میں ہوتا تھا۔ ہیرامنڈی کے قریب ”گلی جوہریاں“ میں ہی رہنے کی وجہ سے استاد بلھے خان کا طبلہ اکثر ہر رات کسی نہ کسی محفل میں بجتا رہتا اور اسی وجہ سے ان کے گھر کا چولہا بھی جلتا رہتا تھا۔ کہتے ہیں کہ استاد بلھے خان کے ہاتھ میں بھی جادو تھا، طبلہ سننے والے دور سے تھاپ سن کر سمجھ جاتے تھے کے یہ انگلیاں استاد بلھے خان کی ہیں، ورنہ طبلے تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔
مگر اس کے بیٹے جاوید کا دل طبلہ بجانے اور سننے سے بالکل خائف تھا۔ ”لوگ ہمیں میراثی کہتے تھے، اور میراثی لفظ مجھے زہر لگتا تھا، اعتراض اس لفظ سے نہیں تھا مگر یہ لفظ ’میراثی‘ ادا کرتے لوگوں کے لہجے مجھے ماردیتے تھے۔ میں کچھ بھی بننا چاہتا تھا مگر میراثی نہیں۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ گلی میں بیٹھ کر سیخ کباب اور تکہ بوٹی لگاؤں گا مگر طبلہ نہیں بجاؤں گا، مطلب میراثی نہیں بنوں گا۔“ جاوید اب یہ بات کرتے ہوئے خود بار بار ”میراثی“ لفظ ادا کر رہا تھا۔ ”یہ بات 1992 ع کی ہے جب میراثی کو آرٹسٹ لفظ میں بدلنے کو ابھی 25 سال پڑے تھے۔ جاوید مسکرانے لگا۔
پھر یوں ہوا کہ نوجوان جاوید طبلہ بجانے کے بجائے اپنے گھر کے سامنے والی گلی میں ٹھیلے پر سیخ کباب اور تکے بناتا رہا، یہ وہ ہی گلی تھی جو شہر کی طرف سے آتی اور ”یوسف صلاح الدین“ کی حویلی کی طرف جاتی تھی۔ نہ صرف لاہور بلکہ پورے پنجاب میں فن، ثقافت اور موسیقی کی ترقی کے لئے کام کرنے والے یوسف صلاح الدین کے گھر کے قریب رہنے کی وجہ سے جاوید کے سیخ کباب شام ہوتے ہی بکنے شروع ہوجاتے اور آدھی رات سے پہلے ہی برتن خالی اور کوئلے ٹھنڈے پڑجاتے۔
”یوسف صلاح الدین موسیقی اور فن کے دلدادہ ہیں، ان کی حویلی میں اکثر انگریز، آمریکی اور دوسرے ممالک کے لوگ آیا کرتے، جو پھر گھومتے پھرتے میری ٹھیلے پر سیخ کباب دیکھنے یا کھانے آجاتے، میں ان سے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بات کرنے کی کوشش کرتا، اور گوری چٹی انگریز لڑکیوں سے بات کرتے بڑا مزہ آتا۔ پھر میں ان گوروں کے تعاقب میں اندروں لاہور کی گلیوں میں گھومتا رہتا۔ شاہی مسجد اور قلعہ سمیت شاہی حمام اور مسجد وزیر خان سے لے کر مختلف دروازوں کے چکر کاٹتا رہتا، جہان کوئی گورا ملا اس کو خود ہی لاہور کے بارے میں گائیڈ کرتا رہتا۔“ جاوید کا کہنا ہے کہ اک بار اک جرمن نوجوان مہمان نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ کی انگریزی بہت بہتر ہے، آپ پروفیشنل ٹورسٹ گائیڈ کیوں نہیں بن جاتے۔
وہ ساری رات فجر تک سوچتا رہا فجر کے وقت جب مؤذن نے آذان دی اور اس کے والد بلھے خان اٹھ کر خوش الحانی کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگے تب دوسرے کمرے میں سوئے ہوئے جاوید یہ فیصلہ کرنے میں جٹے ہوئے تھے کہ اب اس نے آگے کیا کرنا ہے؟ ۔ ”اسی شام میں نے سیخ کباب اور تکہ بوٹیاں نہیں لگائیں، آدھا سامان بیچ دیا باقی اپنے اک دوست کو تحفے میں دیدیا کہ اب یہ کام تم سنبھالو، میں چلا پروفیشنل ٹورسٹ گائیڈ بننے“ ۔
اس دن میں سیدھا دلی گیٹ پہنچا اور آنے والے غیر ملکی مہمانوں کا انتظار کرنے لگا۔ جن گلیوں میں خود پورا بچپن گذار کر جوان ہوا تھا، وہ گلیاں خود مجھے نئی نئی لگنے لگیں۔ اب جتنے بھی غیرملکی لوگ آتے ان کو میں گائیڈ کرتا، ساتھ کالج میں پڑھتا بھی رہتا۔ کچھ فارنرز مجھے واپس جانے کے بعد بھی یاد رکھتے جب کوئی خط کارڈ بھیجتا یا ای میل کرتا تو مجھے ”جاوید لاہوری“ کے نام سے یاد کرتا اس کے بعد میں محمد جاوید سے جاوید لاہوری بن گیا۔
لاہور واقعی کمال کا شہر ہے، جتنا خوبصورت ہے اتنا ہی لاجواب ہے، باہر سے آنے والے لوگ لاہور شہر کی سندرتا پر ایسے ہی تو فدا نہیں ہوتے۔ لاہور کی تنگ گلیوں کے بیچوں بیچ بنی ہوئی خوبصورت مسجد وزیر خان کا کیا کہنا۔ اس سے پہلے مسجد بازاروں سے علیحدہ اور دور بنائی جاتی تھیں، مسجد وزیر خان شاید اس خطے کی پہلی مسجد تھی جس کی تعمیر کے وقت مسجد کے مرکزی دروازے کے ساتھ درجنوں دکانیں بھی بنائی گئیں جن میں خطاط اور دیگر تاجر لوگ بیٹھے رہتے تھے۔
ساتھ میں بنے شاہی حمام کے بارے میں جاوید کی قصہ گوئی اتنی کمال کی ہے کہ بندہ خود ایسا محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ خود اس حمام میں نہا رہا ہو، اور وہاں یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ سارے لوگ ایک حمام میں ننگے کیسے ہوتے ہیں۔
شاہی قلعے کا دیوان عام، دیوان خاص، کھڑک سنگھ کی حویلے، مہمانوں کی آرام گاہیں، زنان خانہ اور خاص طور پر شیش محل اور نولکھا چبوترہ تو جیسے جاوید کے سامنے بنا ہو۔ مغلوں کی حویلی اور قلعے کی تاریخ کا وہ جیسے کوئی چشم دید گواہ ہو۔ ”پورے لاہور میں مجھے جو چیز سب سے زیادہ اپنے طرف کھینچتی ہے وہ شیش محل ہے۔ آپ یقیں کریں اس محل میں اب بھی اک جادو ہے، لوگ جیسے جیسے ان در و دیوار سے محبت کرنا شروع کرتے ہیں، وہ اس جادو کی گرفت میں آتے جاتے ہیں، میں نے اپنی دل کی آنکھوں سے کئی شہزادیوں اور کنیزوں کو یہاں ٹہلتے دیکھا ہے اور کانوں سے کئی شہزادیوں کی سسکیاں اور کنیزوں کے قہقہے سنے ہیں، اور میں نے محسوس کیا ہے اس رعب اور دبدبے کو جو کبھی دیوان عام اور دیوان خاص کا خاصا رہا ہوگا۔ کئی بار شاہی حرم سے ستار اور طبلے کی آوازیں آتی محسوس کی ہیں اور تہہ خانے در تہہ خانے میں اب بھی کئی چیخیں دبی پڑی ہیں، جو شاید ہم سے بعد میں آنے والے سن سکیں گے۔۔
25 سالوں میں ہیرامنڈی اور اس سے منسلک گلیوں کا ماحول اور مزاج کافی تبدیل ہوچکا ہے۔ ”میراثی“ لفظ بھی اب انگریزی میں ٹرانسلیٹ ہوکر ”آرٹسٹ“ بن چکا ہے۔ اس لئے جاوید لاہوری کی رائے بھی کافی تبدیل ہوچکی ہے۔ ”میرے والد استاد بلھے خان مجھے سمجھایا کرتے تھے کہ بیٹا اک بات سن لو کہ میراثی وہ ہوتا ہے جو کسی میراث کا وارث ہو، پیسا اور اقتدار شخصیت کا اصل معیار نہیں، کبھی نہیں۔ یہ لوگ جو خود اپنے نسل اور شجرے کا پتا کرنے ہمارے پاس آتے ہیں اور ہماری بات پر من و عین یقین بھی کرلیتے ہیں، ان کا ہم سے کیا مقابلہ۔ تاریخ میں صرف وہ لوگ زندہ رہتے ہیں، جو کسی میراث کے وارث ہوتے ہیں۔“
ساری عمر طبلہ نہ سیکھنے کے باوجود جاوید لاہوری کا کہنا ہے کہ ”اب میں کسی غیر ملکی اعلی شخصیت کے ساتھ گائیڈ کے طور پر کام کرتا ہوں تو یہ بات بتاتے فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں اک طبلہ نواز بلھے خان میراثی کا بیٹا ہوں۔ مجھے واقعی فخر ہے اس بات پر کہ میں اس شہر لاہور کی تمام تر ثقافتی روایات اور تاریخی میراث کا وارث ہوں۔“
جاوید لاہوری اس وقت تک ترکی اور تاتارستان سمیت دیگر ممالک کے صدور سمیت کئی ممالک کے سفارتکاروں، بھارتی فلم اسٹار سید نصیرالدین شاہ سمیت پاکستانی اسٹارز، ریسلرز، تاجروں، سیاحوں اور دیگر طائفوں کے ساتھ گائیڈ کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ جس طرح اس کے والد موسیقی سے ملک کا نام روشن کر رہے تھے اسی طرح وہ بھی باہر سے آنے والوں کے سامنے ملک کا روشن چہرا دکھا کر اس دیس کی خدمت کر رہا ہے۔
دوسری طرف ”گلی جوہریاں“ میں اب کوئی جوہری نہیں، نہ کوئی جوہری کی دکان، اب وہاں موسیقی کے آلات کی دکانیں سج گئیں ہیں۔ ہر شام تھک کر جب جاوید لاہوری واپس گھر جاتا ہے تو دکانوں کی منڈیر پر سجے طبلے اب بھی اس کا دھیان اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔ ”اب جب میں خود اپنی خواہش کے مطابق اپنے دو بیٹوں محمد عبداللہ اور زین علی کو ٹورسٹ گائیڈ بننے کے گُر سکھا رہا ہوں تو مجھے اب افسوس ہوتا ہے کہ کاش میں بابا کی بھی خواہش پوری کرلیتا اور طبلہ بجانا سیکھ لیتا، بھلے نہ بجاتا، میراثی نہ بنتا مگر سیکھ لینے میں کیا حرج تھا۔“
جاوید لاہوری نے پھر اک کمال فیصلہ کیا کہ اپنے دونوں بیٹوں جو کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں کو ٹورسٹ گائیڈ کے ساتھ ساتھ موسیقی کا فن سیکھنے کے کام پر بھی لگا دیا ہے۔ اس کا بڑا بیٹا محمد عبداللہ کمال کا طبلہ بجاتا ہے جبکہ زین علی تو کبھی کبھار محافل میں گلوکاروں کے ساتھ ہارمونیم پر سنگت بھی کرتا ہے۔ تعلیمی میدان میں بھی دونوں نوجوان اچھے نتائج لے رہے ہیں۔
”اللہ پاک نے بہت عزت دی ہے، دنیا کی مشہور انگریزی اخبار گارڈین اور اپنی کئی قومی اخبارات میں میرے لکھے ہوئے اور میرے حوالے سے کئی مضامین شایع ہو چکے ہیں، مستنصر حسین تارڑ صاحب اپنے کتاب میں کئی بار میرا ذکر کر چکے ہیں۔ میرے لئے وہ دن بھی کافی یادگار تھا جب مجھے TED Talk میں اسپیکر کے طور پر مدعو کیا گیا۔ مگر یہ سچ ہے کہ مجھے سب سے زیادہ سکون اس وقت ملتا ہے جب میرا بیٹا محمد عبداللہ طبلہ بجاتا ہے اور میں گھر کے صحن میں آنکھیں بند کر کے طبلہ سنتا ہوں۔
یہ میراثی پن بھی کمال چیز ہے، دنیا کے کئی مسائل اور معاملات سے مکتی دی دیتی ہے۔ جاوید لاہوری صرف گلی جوہریاں نہیں بلکہ لاہور کا وہ جوہر نایاب ہے جسے اک خاص جوہری کی نظر کا انتظار ہے، بقول شاعر
تو جوہری ہے تو تجھے زیبا نہیں یہ گریز
مجھے پرکھ، میری شہرت کا انتظار نہ کر
Writer Chandio Anwar Aziz