Al Aaqeeq Travel & Tours

Al Aaqeeq Travel & Tours Launched in 2014 our proprietary system Al Aqeeq was specifically designed for the travel trade with a focus on seamless communication

Massive stone structures in Saudi Arabia may be some of oldest monuments in the world.They number in the hundreds, can b...
25/08/2020

Massive stone structures in Saudi Arabia may be some of oldest monuments in the world.

They number in the hundreds, can be larger than an NFL football field and are found across Saudi Arabia, including on the slope of a volcano. Sprawling stone structures reported in 2017 now appear to be some of the oldest monuments in the world, dating back some 7,000 years, archaeologists now report.

A new study of the mysterious stone structures — once called "gates" but now referred to as "mustatils," the Arabic word for "rectangle" —suggests they were used for rituals; and radiocarbon dating of charcoal found within one of the structures indicates people built it around 5000 B.C., a team of researchers report in an article recently published in the journal The Holocene.

"The mustatil phenomenon represents a remarkable development of monumental architecture, as hundreds of these structures were built in northwest Arabia," the researchers wrote in their paper. "This 'monumental landscape' represents one of the earliest large-scale forms of monumental stone structure construction anywhere in the world."

Ritual use
The structures are made from low stone walls that form what often looks like a field gate from above (hence their former name). They range in size with some measuring less than 49 feet (15 m) long and the largest measuring about 2,021 feet (616 m) long.

When first constructed, many of the mustatils would have had a platform on either end of the "rectangle," the researchers found when analyzing some of the structures. On the platform of one mustatil, they discovered a painting with geometric designs on it. The design of the painting "is not currently known from other rock art contexts" in the region, the team wrote in the journal article.

It "is quite possible that these structures would have been visually spectacular, and perhaps quite extensively painted," study lead author Huw Groucutt, the leader of the Extreme Events Group at the Max Planck Institute for Chemical Ecology in Germany, told Live Science.

Few artifacts were found within the mustatils, suggesting that the structures were not occupied or used year-round. Also, the "the long walls [of the mustatils] are very low and typically lack obvious entry points, and therefore do not seem to be obviously functional as something like animal corrals," the team wrote.

Still, if the mustatils were in fact the sites of rituals, it's still not clear what kinds of rituals would have taken place there.

Territorial markers?
Today, the structures are found in a number of very arid places including the southern Nefud Desert (where Groucutt's team conducted their fieldwork) as well as barren, inhospitable lava fields.

But if the structures were indeed crafted around 5000 B.C., they would have been in use when the climate in Saudi Arabia was wetter than it is today. "Between 10,000 and 6,000 years ago, "the Arabian Peninsula saw the most recent of the 'Green Arabia' periods, when increased rainfall transformed this generally arid region," the researchers wrote in the paper.

At the time, people in the region tended to be pastoralists — relying on herds of domesticated animals for food — while also hunting some wild animals, the researchers wrote in the paper. As such, the mustatils could have been a way for the people to mark their territory, the researchers said.

The mustatils may "represent one manifestation of the increasing territoriality that developed, induced by factors such as competition for grazing land in the challenging and unpredictable environments of Arabia," they wrote.

Even when the climate in Arabia was at its wettest, "the environment would have been highly seasonal and droughts would have occurred," they added.

روضہ سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں زندگی  بھر آپ نے ایسی معلومات نہیں پڑھی ہونگی پڑھ کر شئیر کیجئیے۔۔۔حرمین ...
12/08/2020

روضہ سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں زندگی بھر آپ نے ایسی معلومات نہیں پڑھی ہونگی پڑھ کر شئیر کیجئیے۔۔۔
حرمین شریفین کی انتظامیہ کی جانب سےایک تقریب منعقد کی گئی جس میں مسجد نبوی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قبر مبارک کے بارے میں مکمل وضاحت کی گئی “

تشریح وتوضیح:-
گزشتہ ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر مبارک تک نہیں جا سکا ہے۔
وہ حجرہ شریف جس میں آپ اور آپ کے دو اصحاب کی قبریں ہیں، اس کے گرد ایک چار دیواری ہے، اس چار دیواری سے متصل ایک اور دیوار ہے جو پانچ دیواروں پر مشتمل ہے۔
یہ پانچ کونوں والی دیوار حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے بنوائی تھی۔ اور اس کے پانچ کونے رکھنے کا مقصد اسے خانہ کعبہ کی مشابہت سے بچانا تھا۔
اس پنج دیواری کے گرد ایک اور پانچ دیواروں والی فصیل ہے۔ اس پانچ کونوں والی فصیل پر ایک بڑا سا پردہ یا غلاف ڈالا گیا ہے۔ یہ سب دیواریں بغیر دروازے کے ہیں،
لہذا کسی کے ان دیواروں کے اندر جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
روضہ رسولؐ کی اندر سے زیارت کرنے والے بھی اس پانچ کونوں والی دیوار پر پڑے پردے تک ہی جا پاتے ہیں۔

روضہ رسولؐ پر سلام عرض کرنے والے عام زائرین جب سنہری جالیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو جالیوں کے سوراخوں سے انہیں بس وہ پردہ ہی نظر آ سکتا ہے، جو حجرہ شریف کی پنج دیواری پر پڑا ہوا ہے۔
اس طرح سلام پیش کرنے والے زائرین اور آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر اطہر کے درمیان گو کہ چند گز کا فاصلہ ہوتا ہے لیکن درمیان میں کل چار دیواریں حائل ہوتی ہیں۔
ایک سنہری جالیوں والی دیوار، دوسری پانچ کونوں والی دیوار، تیسری ایک اور پنج دیواری، اور چوتھی وہ چار دیواری جو کہ اصل حجرے کی دیوار تھی۔
گزشتہ تیرہ سو سال سے اس پنج دیواری حجرے کے اندر کوئی نہیں جا سکا ہے سوائے دو مواقع کے۔
ایک بار 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں ان کا غلام
اور دوسری بار 881 ہجری میں معروف مورخ علامہ نور الدین ابو الحسن السمہودی کے بیان کے مطابق وہ خود۔

مسجد نبوی میں قبلہ کا رخ جنوب کی جانب ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا روضہ مبارک ایک بڑے ہال کمرے میں ہے۔
بڑے ہال کمرے کے اندر جانے کا دروازہ مشرقی جانب ہے یعنی جنت البقیع کی سمت۔
یہ دروازہ صرف خاص شخصیات کے لیے کھولا جاتا ہے۔ اس دروازے سے اندر داخل ہوں تو بائیں جانب حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی محراب ہے۔ اس کے پیچھے ان کی چارپائی (سریر) ہے۔
العربیہ ویب سائٹ نے محقق محی الدین الہاشمی کے حوالے سے بتایا کہ ہال کمرے میں روضہ مبارک کی طرف جائیں تو سبز غلاف سے ڈھکی ہوئی ایک دیوار نظر آتی ہے۔
1406 ہجری میں شاہ فہد کے دور میں اس غلاف کو تبدیل کیا گیا۔
اس سے قبل ڈھانپا جانے والا پردہ 1370 ہجری میں شاہ عبد العزیز آل سعود کے زمانے میں تیار کیا گیا تھا۔
مذکورہ دیوار 881 ہجری میں اُس دیوار کے اطراف تعمیر کی گئی جو 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تعمیر کی تھی۔ اس بند دیوار میں کوئی دروازہ نہیں ہے۔ قبلے کی سمت اس کی لمبائی 8 میٹر، مشرق اور مغرب کی سمت 6.5 میٹر اور شمال کی جانب دونوں دیواروں کی لمبائی ملا کر 14 میٹر ہے۔
کہا جاتا ہے کہ 91 ہجری سے لے کر 881 ہجری تک تقریباً آٹھ صدیاں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر مبارک کو نہیں دیکھ پایا۔
اس کے بعد 881 ہجری میں حجرہ مبارک کی دیواروں کے بوسیدہ ہو جانے کے باعث ان کی تعمیر نو کرنا پڑی۔ اس وقت نامور مورخ اور فقیہ علّامہ نور الدین ابو الحسن السمہودی مدینہ منورہ میں موجود تھے، جنہیں ان دیواروں کی تعمیر نو کے کام میں حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔
وہ لکھتے ہیں 14 شعبان 881 ھ کو پانچ دیواری مکمل طور پر ڈھا دی گئی۔ دیکھا تو اندرونی چار دیواری میں بھی دراڑیں پڑی ہوئی تھیں، چنانچہ وہ بھی ڈھا دی گئی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اب مقدس حجرہ تھا۔ مجھے داخلے کی سعادت ملی۔ میں شمالی سمت سے داخل ہوا۔ خوشبو کی ایسی لپٹ آئی جو زندگی میں کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔
میں نے رسول اللہ اور آپ کے دونوں خلفاء کی خدمت میں ادب سے سلام پیش کیا۔ مقدس حجرہ مربع شکل کا تھا۔ اس کی چار دیواری سیاہ رنگ کے پتھروں سے بنی تھی، جیسے خانہ کعبہ کی دیواروں میں استعمال ہوئے ہیں۔ چار دیواری میں کوئی دروازہ نہ تھا۔
میری پوری توجہ تین قبروں پر مرکوز تھی۔ تینوں سطح زمین کے تقریباً برابر تھیں۔ صرف ایک جگہ ذرا سا ابھار تھا۔ یہ شاید حضرت عمر کی قبر تھی۔ قبروں پر عام سی مٹی پڑی تھی۔ اس بات کو پانچ صدیاں بیت چکی ہیں، جن کے دوران کوئی انسان ان مہر بند اور مستحکم دیواروں کے اندر داخل نہیں ہوا۔
علامہ نور الدین ابو الحسن سمہودی نے اپنی کتاب (وفاءالوفاء) میں حجرہ نبوی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ”اس کا فرش سرخ رنگ کی ریت پر مبنی ہے۔
حجرہ نبوی کا فرش مسجد نبوی کے فرش سے تقریبا 60 سینٹی میٹر نیچے ہے۔
اس دوران حجرے پر موجود چھت کو ختم کر کے اس کی جگہ ٹیک کی لکڑی کی چھت نصب کی گئی جو دیکھنے میں حجرے پر لگی مربع جالیوں کی طرح ہے۔ اس لکڑی کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد تعمیر کیا گیا جس کی اونچائی 8 میٹر ہے اور یہ گنبد خضراء کے عین نیچے واقع ہے“۔
یہ سب معلومات معروف کتاب ”وفاء الوفاء با اخبار دار المصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم“ کے مؤلف نور الدین ابو الحسن السمہودی نے اپنی مشہور تصنیف میں درج کی ہیں----واللہ اعلم بالصواب
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ یہ تحریر صدقہ جاریہ ہے ، شیئر کرکے باقی احباب تک پہنچائیے ، شکریہ, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. جزاک اللہ خیرا کثیرا

صلی_اللہ_علیہ_والہ_وسلم ❤️

08/08/2020

اقامہ ہولڈر لوگ جو سعودی عرب سے چھٹی پر پاکستان آئے ہیں انکی رجسڑیشن شروع ہوگئ ہے آپ اپنے آپکو رجسڑ کروا سکتے ہیں , یا پھر ھم سے رابطہ کرے 03006751804 , محمد ندیم , العقیق ٹریول

20/12/2019
20/11/2019

20 روزا عمرہ 3 سٹار
مکہ 500 میٹر
مدینہ 150 میٹر
ایک لاکھ دس ہزار میی

02/11/2019

Urgent Female Staff Required for Data Entery Al Aqeeq Travel and Tours
03006751804

Get 3 star Umra Package started from 39000 PKR Per Pax , include , 3 Star Hotel , full Transport , visa Call : 030067518...
02/11/2019

Get 3 star Umra Package started from 39000 PKR Per Pax , include , 3 Star Hotel , full Transport , visa
Call : 03006751804

*MAKKAH HOTEL* Al-RIHAB HOTEL4 STAR **** 2 TO 5 BED SHARING : AVAILABLE1000 METER IBRAHIM KHALEEL ROADFOR BOOKING : AL A...
30/10/2019

*MAKKAH HOTEL*
Al-RIHAB HOTEL
4 STAR ****
2 TO 5 BED
SHARING : AVAILABLE
1000 METER
IBRAHIM KHALEEL ROAD

FOR BOOKING : AL AQEEQ TRAVEL AND TOURS
CONTACT : 0685573983
MOBILE. : 03006751804

Address

AHMED Plaza, BY PASS ROAD NEAR CHUGHTAI HOTEL
Khanpur Janubi
64100

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:30
Tuesday 09:00 - 19:30
Wednesday 09:00 - 19:30
Thursday 09:00 - 19:30
Friday 09:00 - 19:30
Saturday 09:00 - 19:30

Telephone

+92685573983

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Aaqeeq Travel & Tours posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

AL AQEEQ TRAVEL AND TOURS

AL Aqeeq Travel & Tours

It is with great pleasure that we welcome you to AL Aqeeq Travel & Tours! It has maintained within the travel Industry fields of Air Ticketing, Pilgrim Tours, leisure travel, Corporate Travel, Meetings, Worldwide Tours– simply it’s our one Supplier one Solution approach.

We do not say we are the best, we just say "Try us" others may claim it but we stake our reputation on it. We are an approved Travel Agency by the Department of Tourist Services, Ministry of Tourism, and Government of Pakistan.

Keeping our vision, “value for money & client satisfaction” as a compass. The number of passengers serviced annually today, is more than 5 times higher than that we serviced on annual basis when we first started up.