سیر و سیاحت

سیر و سیاحت قل سیروا فی الارض ۔۔۔
سفر وسیلہ ظفر ہے ۔۔
اپنے سفروں کی ?

24/03/2026

آج کے دور میں جب ہم بڑی گاڑیوں اور گوگل میپس کے بغیر سفر کا سوچ بھی نہیں سکتے، عبدالوحید طارق صاحب نے 90 کی دہائی میں وہ کارنامہ انجام دیا جو آج بھی ناممکن ل...

21/03/2026

Celebrating my 9th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

21/03/2026

جون 2014 کی ایک خُنک یاد
خنجراب ، ہماری ننھی مہران ، ہم سفر اور میں
سفید پوش پہاڑوں سے امڈتا برفانی طوفان
آسمان سے اتر کر ہمیں چھوتی برف کی نرم و ملائم پتیاں

خرم سعید خان کے گھر دعوتِ افطار !گھٹن زدہ ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا !سیرو سیاحت کے دلدادہ قبیلے والوں کے سنگ گزرے یاد...
07/03/2026

خرم سعید خان کے گھر دعوتِ افطار !
گھٹن زدہ ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا !
سیرو سیاحت کے دلدادہ قبیلے والوں کے سنگ گزرے یادگار پل !

گو کہ یہ اللہ کی رحمتوں اور برکتوں والا ماہ رمضان ہے جس کی ہر ساعت مقدس ہے کہ یہ ماہِ نزولِ قرآن بھی ہے لیکن دنیا بھر اور خصوصاً ہمارے خطّے کے آسمان پر منڈلاتے جنگ و جدل کے بادلوں کے باعث دل بوجھل اور ذہن پریشان ہے ، ایسا لگتا ہے کہ گویا ہر سو وحشت کا راج اور بربریت کا ناچ جاری ہے ،، زمین پر خدا بنے ہوئے خوں آشام درندوں کی وحشت و بربریت غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی نسل کشی اور قتلِ عام کرچکی ،، مظلوموں کے لہو سے رنگی یہ سرخ آندھی بارود کی بُو سنگ سنگ لئے ہمارے پیارے ملک پاکستان کی مغربی سرحدوں تک آن پہنچی ہے ،، ویسے ہی گزشتہ دو ڈھائی برس سے ہمارے ملک کے اندرونی حالات بھی مبتلائے بدامنی و بے سکونی ہوتے چلے آئے ہیں ،، جس کے باعث ملکی سیاحت رفتہ رفتہ اس بدامنی و بے سکونی کی دھند میں جا پھنسی ہے ،، راہوں کے پرخطر ہو جانے کے باعث سفر مشکل سے مشکل تر ہوتے چلے جارہے ہیں ،، ہم سیاحوں کے قدم اٹھنا چاہتے ہیں لیکن سنگینی حالات کے باعث تھم تھم جاتے ہیں ،، پھر ستم بالائے ستم کہ پیٹرول اور ڈیزل کی روزافزوں بڑھتی اور آسمان کو چھوتی قیمتوں نے بھی سواریِ سفر کے پہیوں کو جام کرکے رکھ دیا ہے ،، اِک کیفیتِ جمود ہے کہ ہم اُڑان بھر کر پیارے وطن کی دلکش و خوبصورت وادیوں کا رُخ کرنا چاہتے ہیں لیکن صرف اپنے پر پھڑپھڑا کر رہ جاتے ہیں ،، ایک گھٹن سی ہے کہ جس میں خود کو قید پاتے ہیں ،،
ہم کہ جو سیاحت کے شوقین ہی نہیں بلکہ مجنوں ہیں ،،
گھر کہاں در کہاں دیار کہاں
مبتلائے جنوں کو بھلا قرار کہاں
پکارے فطرت لبیک روح کہے
رکتے نہیں قدم کہ اختیار کہاں
ایسے گھٹن زدہ ماحول میں ہمارے سیاح دوست خرم سعید خان نے سیرو سیاحت کے دلدادہ قبیلے والوں کو اپنے ہاں دعوتِ افطار پر مدعو کیا تو قبیلے والے دوست احباب کے ساتھ مل بیٹھ کر اور گپ شپ لگا کر ایسا محسوس ہوا کہ ماحول پرطاری گھٹن میں جکڑی فضا میں تازہ ہوا کا خوشگوار جھونکا روح کو تروتازہ کرگیا ہو ،، دل کی گہرائیوں سے خرم بھائی کا شکرگزار کہ انہوں نے سیاحت کی قبیل سے تعلق رکھنے والوں کو چند پلوں کے لیے یکجا کرکے ہمارے مضطرب دلوں کو سکون اور بوجھل ذہنوں کو تازگی بخشی ،، اللہ سے دعا ہے کہ وہ خرم بھائی کے رزق میں کشادگی عطا فرمائے ، ہمارے پیارے ملک کو امن و سکون کا گہوارہ بنادے اور اس خطے اور پوری دنیا سے وحشت و بربریت کا خاتمہ فرمائے آمین ثم آمین 🙏

Sink holeOman
06/01/2026

Sink hole
Oman

پہاڑوں کا عالمی دن 2025ہمراہ ہم سفربلوچستان کے معروف گڈانی ساحل کے پہاڑ کی سنگت میں ہفتہ 20 اور اتوار 21 دسمبر کی درمیان...
22/12/2025

پہاڑوں کا عالمی دن 2025
ہمراہ ہم سفربلوچستان کے معروف گڈانی ساحل کے پہاڑ کی سنگت میں
ہفتہ 20 اور اتوار 21 دسمبر کی درمیانی شب !

20/12/2025

سفر ہمراہ ہم سفر !
پہاڑوں کا عالمی دن 2025 ،، ان شاءاللہ گڈانی کے ساحل
سے متصل پہاڑ کے سنگ ،، ہفتہ 20 اور اتوار 21 دسمبر 2025

13/05/2025

السلام علیکم میرے سیاح دوستو !

08/03/2025

وادی الحامضہ تا القصیبہ
سفرِ ہجرتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم

قسط نمبر 8

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حجاب

عالمِ آب و خاک میں تیرے حضور کا فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب

اللہم صلّ و بارک علی محمد وعلٰی آلہٖ واصحابہٖ وسلّم

قافلوں کی عام رہگزر وادی الحامضہ کے مغرب سے گزرتی تھی اس لیے مسافرانِ مدینہ شمال ، شمال مشرق یا مشرق کی سمت ہی اختیار کرسکتے تھے ،، چنانچہ انہوں نے شمال مشرق کی طرف جانے والی ایک گھاٹی کا رخ کیا ،، اِسی سمت دور پرے جبل الملیساء جس کا قدیم نام صخرۃ الاکہٰی تھا کہ بلند چوٹی بھی دکھائی دے رہی تھی ،،دونوں اطراف موجود پہاڑیوں کے درمیان واقع یہ وادیِ رفقہ تھی جو سطح سمندر سے تقریباً 425 فٹ بلندتھی،، وادی کے بیچوں بیچ برساتی ندی نالوں کی گزرگاہ بھی تھی اس لیے یہاں درخت اور جھاڑیاں تو تھیں ہی ،کہیں کہیں کنویں بھی موجود تھے ،، پہاڑیوں کی درمیانی گھاٹیوں میں موجود یہ وادی رفتہ رفتہ گھومتی گھماتی شمال مشرق کے بجائے بالکل شمال کی طرف بڑھنا شروع ہوگئی تو قافلہ ہجرت نے وادی کے بیچ سے گزرنے والی ہموار رہگزر کو چھوڑ کر دائیں جانب موجود پہاڑیوں کا رخ کرلیا ،، وادی الحامضہ سے چھ کلومیٹر تک نسبتاٌ آسان سفر طے کرنے کے بعد اب پہاڑیوں پر چڑھتی کٹھن پتھریلی راہوں کا سفر شروع ہوگیا ،، ایک دوجے سے پیوستہ پہاڑیوں کی سطحِ مرتفع والا یہ علاقہ ریع الرتقہ کہلاتا تھا ،، ریع الرتقہ پر چڑھنے کے فوراً بعد دورِ حاضر کے ضلع مکہ مکرمہ کی حدود ختم اور ضلع مدینہ منورہ کی حدود کا آغاز ہو جاتا ہے ،، غار ثور پر چڑھنے اور اترنے کے بعد سے یہ قافلے والوں کے لیے سفر کا یہ دشوار ترین مرحلہ تھا ،، پہاڑیوں کی چوٹیوں سے لپٹ کر آگے بڑھنے والی اس کٹھن راہ پر شمال مشرق کی طرف پیش قدمی جاری تھی ،، راہ کہیں بلند ہوتی تو جبل الملیساء کی چوٹیاں نگاہوں کے سامنے وارد ہوجاتیں ،، تقریباً ڈھائی کلومیٹر بعد قافلہ حرۃ الافاعی پر موجود سطحِ سمندر سے تقریباَ 795 فٹ بلند سیاہ میدان پر جا پہنچی ،، حرۃ الافاعی نامی سیاہ چٹانوں کا طویل سلسلہ ریع الرتقہ کے شمال سے شروع ہوکر شمال مغرب میں خاصی دور تک پھیلا ہوا ہے ،، شمال مشرق میں حرۃ الافاعی کے اختتام پر القصیبہ نامی وادی واقع ہے ،، وادی میں اترنے سے ذرا قبل حرۃ الافاعی کی سیاہ سطحِ مرتفع پر پتھروں سے تعمیر کردہ کچھ جیومیٹریکل اشکال کی صورت کے قدیم آثار موجود ہیں ، ممکن ہے کہ یہ یہاں سے گزرنے والوں کو راستوں کی رہنمائی کے لیے بنائے گئے نقوش کے آثار ہوں ،، واللہ اعلم
قافلہ حرۃ الافاعی اور پھر اُس کے شمال میں اُس سے متصل ریع الرتقہ نامی پہاڑیوں سے ہوتا ہوا جلد ہی وادی القصیبہ میں جا اترا ،، بالکل سامنے کچھ ہی دوری پر دیوہیکل اور بلندوبالا جبل الملیساء وادی کے ہموار میدان کی شمال مشرقی سمت سر اٹھائے کھڑا تھا ،، قافلہ ہجرت کٹھن مسافت طے کر کے ایک بار پھر کشادہ اور ہموار وادی القصیبہ میں آپہنچا تھا ،،
بعض مورخین کے مطابق قافلہ ہجرت وادی الحامضہ سے شمال مشرق کا رخ کرنے کے بجائے سیدھا شمال کی جانب آگے بڑھ کر وادی ابوھماج اور ریع مطوی سے ہوتا ہوا حرۃ الافاعی پر پہنچا تھا اور پھر مشرقی سمت مڑ کر ریع القصیبہ کے راستے وادی القصیبہ میں اترا تھا ،، واللہ اعلم ،، بہرحال وہ راستہ بھی وادی ابوھماج کے بعد سے القصیبہ تک خاصی دشوار گزار ہی ہے ،،
حرۃ الافاعی کی تقریباً 800 فٹ کی بلندی سے اتر کر راہیانِ مدینہ اب 580 سے 590 فٹ بلند کشادہ اور ہموار وادی القصیبہ میں داخل ہوچکے تھے ،، وادی الحامضہ سے القصیبہ تک قافلہ ہجرت نے 9 کلومیٹر جبکہ تیسرے روز صبح جحفہ سے روانہ ہوکر یہاں پہنچنے تک کُل 55 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرلیا تھا ،،

سفرِ ہجرت جاری ہے
ملتے ہیں اگلی قسط میں ان شاء اللہ

Address

Karachi

Telephone

+923333659648

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سیر و سیاحت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share