Beautiful Pakistan Beauty of Thoughts

Beautiful Pakistan Beauty of Thoughts Beautiful Pakistan

آٹھ سال کی عمر میں ’پیڈ‘ سنبھالتی ہوئی آپ کی بیٹییہ ترقی ہے یا زوال؟کل ہی کی بات ہے۔ او پی ڈی میں ایک ماں باپ اپنی آٹھ س...
17/01/2026

آٹھ سال کی عمر میں ’پیڈ‘ سنبھالتی ہوئی آپ کی بیٹی
یہ ترقی ہے یا زوال؟

کل ہی کی بات ہے۔ او پی ڈی میں ایک ماں باپ اپنی آٹھ سالہ بیٹی کو لے کر آئے۔ بچی کے ایک ہاتھ میں اب بھی اس کی پسندیدہ گڑیا تھی اور دوسری طرف ماں کی آنکھوں میں آنسو۔
شکایت کیا تھی؟
“ڈاکٹر صاحب، اسے ماہواری (Periods) شروع ہو گئی ہے۔”
یہ پڑھ کر آپ کا دل دہل گیا نا؟
میرا نہیں دہلا، کیونکہ اب میرے کلینک میں یہ روز کا معاملہ بن چکا ہے۔ جس عمر میں بچیوں کو رسّی کودنی چاہیے، اس عمر میں ان ننھے وجودوں کو سینیٹری پیڈز اور پیٹ کے درد سنبھالنے پڑ رہے ہیں۔
“امی، مجھے خون کیوں آ رہا ہے؟”
۸ سال کی بچی کا یہ سوال سن کر اس ماں کا کلیجہ پھٹ گیا تھا… اور ایک ڈاکٹر کے طور پر میرا دماغ سُن ہو گیا تھا۔
کیا یہ بچپن چھین لینا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
ایک ماہرِ اطفال (Pediatrician) کے طور پر میں آپ کو ایک نہایت تلخ سچ بتا رہا ہوں، جو ہضم کرنا مشکل ہوگا:
ہم اپنے بچوں کو پال نہیں رہے، ہم انہیں پھلا رہے ہیں۔
جس طرح پولٹری فارم میں انجیکشن دے کر ۴۰ دن میں ’برائلر مرغی‘ تیار کی جاتی ہے، کچھ ویسی ہی حالت آج ہم نے اپنی اولاد کی کر دی ہے۔ یہ نشوونما نہیں، یہ جسم کی سوجن ہے!
اس کا ذمہ دار کون ہے؟
ہماری ’ماڈرن‘ لائف اسٹائل اور والدین کی سہل پسند سوچ!
دیکھیں ہم لاشعوری طور پر ان کی زندگی سے کیسے کھیل رہے ہیں:
۵۰۰ روپے کا پیزا یا زندگی کی ہولی؟
ویک اینڈ پر مال میں ۵۰۰–۸۰۰ روپے کا پیزا/برگر کھاتے ہوئے آپ تصویر کھینچ کر انسٹاگرام پر ڈالتے ہیں… “فیملی ٹائم!”
ارے، یہ فیملی ٹائم نہیں، یہ آپ کے بچوں کی صحت کی ہولی ہے! ربڑ جیسے میدے اور پروسیسڈ چیز کا یہ کھانا ہارمونل عدم توازن کی فیکٹری ہے۔
جسم میں جتنی زیادہ چربی، اتنا ہی زیادہ ایسٹروجن بنتا ہے۔ اور یہی اضافی ہارمون اس ۸ سالہ بچی کے نازک دماغ کو پیغام دیتا ہے:
“بچی، تمہارا بچپن ختم، اب تم عورت ہو!”
گرم کھانے کے لیے پلاسٹک کا ڈبہ؟
اسٹیل کا ڈبہ بھاری لگتا ہے اور پلاسٹک کا فینسی، اس لیے وہی بچوں کو دے رہے ہو؟
جب آپ اس میں بھاپ اڑاتی گرم سبزی رکھتے ہیں تو اس میں موجود زینو-ایسٹروجنز (Xenoestrogens) کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل جسم میں جا کر بہروپئے کی طرح کام کرتے ہیں۔ جسم کو لگتا ہے کہ یہ ایسٹروجن ہے، اور جسم قبل از وقت بالغ ہونے لگتا ہے۔
آپ کی ’فینسی‘ عادت نے قدرتی گھڑی ہی بگاڑ دی ہے!
دودھ-چکن یا ’ہارمونل بم‘؟
“ڈاکٹر، بچی بہت دبلی ہے، نان ویج دیں؟ دودھ کتنا پلائیں؟”
کھلائیں ضرور، مگر بازار کا وہ ۴۰ دن میں پھولا ہوا برائلر چکن اور تھیلی کا ’کیمیائی‘ دودھ دیتے وقت سو بار سوچیں۔
چکن: مرغی کو جلدی بڑا کرنے کے لیے گروتھ ہارمونز کے بھاری ڈوز دیے جاتے ہیں۔ وہی ہارمون بچی کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ اسی لیے آج کل چوتھی جماعت کی بچیوں کے ہونٹوں پر بال (Facial Hair) آ رہے ہیں۔ یہ PCOD کی پہلی علامت ہے!
دودھ: گائے-بھینس کو زیادہ دودھ کے لیے دیے گئے آکسیٹوسن کے انجیکشن دودھ کے ذریعے آپ کی بچی کے ننھے سے رحم کو “بڑا ہونے” کے غلط سگنل دیتے ہیں۔
جن چیزوں کو آپ ’پروٹین‘ سمجھ کر کھلا رہے ہیں، وہ دراصل ہارمونل بم ہیں!
💉 سب سے خوفناک حقیقت:
اس عمر میں ماہواری شروع ہو جائے تو ہڈیاں جلدی جُڑ جاتی ہیں اور قد ہمیشہ کے لیے رک جاتا ہے۔ اسے روکنے کے لیے پھر کیا کرنا پڑتا ہے؟
“ہارمون سپریشن تھراپی!”
ذرا تصور کریں…
اس ۸ سالہ نازک پھول کو، اپنی ماہواری روکنے کے لیے اگلے ۳–۴ سال تک ہر مہینے ایک تکلیف دہ، موٹے انجیکشن کی سوئی لگوانی پڑے گی!
آپ کی لاڈلی بیٹی ہر مہینے اس سوئی کے خوف سے کانپے گی، اور آپ بے بس ہو کر یہ سب دیکھیں گے۔
سوچیے والدینو…
۱۰ سال بعد جب وہ آپ سے پوچھے گی:
“امی، ابو، تب کیوں دھیان نہیں دیا؟ کیا وہ پیزا-برگر میری زندگی سے زیادہ اہم تھے؟”
تو آپ کے پاس کیا جواب ہوگا؟
ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا… سدھر جاؤ!
1۔ کچن سے ’سفید زہر‘ (میدہ، چینی) باہر پھینک دیں۔
2 پلاسٹک کے ڈبوں کو آگ لگا دیں: صرف اسٹیل استعمال کریں۔
3 بچوں کو ’برائلر‘ نہ بنائیں: انہیں مٹی میں کھیلنے دیں، دھوپ میں دوڑنے دیں۔
4 لاڈ پیار کا مطلب زہر کھلانا نہیں، یہ بے حسی اب بند کریں!
اس مضمون کو پڑھ کر بھول مت جانا۔ یہ معلومات ہر فیملی گروپ تک پہنچانا آپ کا اخلاقی فرض ہے۔
اپنی بیٹیوں کا بچپن بچانے کے لیے یہ قدم اٹھانا ہی ہوگا۔
کیا آپ کے آس پاس بھی ایسی صورتحال نظر آتی ہے؟
اپنے تجربات نیچے ضرور شیئر کریں۔

(ڈاکٹر سُجیت بھارت پاٹل)
(ماہرِ اطفال، پونے)

11/01/2026

گوگل کا مفت AI ٹول جو آپ کی زندگی بدل سکتا ہے

اکثر لوگوں کو لگتا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) جیسی ٹیکنالوجی بہت پیچیدہ اور مہنگی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ ایک ایسا طاقتور ٹول موجود ہے جو نہ صرف مفت ہے بلکہ ہر اس شخص کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو اپنی زندگی کو بہتر، آسان اور تیز رفتار بنانا چاہتا ہے۔
اس ٹول کا نام ہے گوگل اے آئی اسٹوڈیو (Google AI Studio)۔ اسے آپ اپنی ایک ایسی "ذہین لیبارٹری" یا ایک "جادوئی دروازہ" سمجھیں جو آپ کو مستقبل کی ٹیکنالوجی تک مفت رسائی دیتا ہے۔ اس بلاگ پوسٹ میں، ہم اس ٹول کی چار ایسی حیران کن اور زندگی بدل دینے والی صلاحیتوں سے پردہ اٹھائیں گے جنہیں جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔
آئیے تفصیل سے سمجھتے ہیں کہ یہ آپ کی زندگی کو کس طرح بدل سکتا ہے اور آپ اس سے کیا کیا فائدے حاصل کر سکتے ہیں:

1: یہ صرف پڑھتا نہیں، بلکہ دیکھتا اور سنتا بھی ہے
یہ عام اے آئی چیٹ بوٹس کی طرح صرف لکھے ہوئے الفاظ پر کام نہیں کرتا، بلکہ یہ ویڈیوز، تصاویر اور نقشوں جیسی چیزوں کو بھی سمجھ سکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی ایسی ویڈیو ہے جو انگریزی میں ہے اور آپ اسے سمجھنا چاہتے ہیں، تو بس وہ ویڈیو یہاں ڈالیں، یہ اسے دیکھ کر آپ کو اردو میں خلاصہ بتا دے گا۔
یہ ایک انقلابی صلاحیت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دو گھنٹے کا وہ انگریزی لیکچر جس کے لیے آپ کبھی وقت نہیں نکال پائے، اب چائے پیتے ہوئے پڑھنے والا دو منٹ کا اردو خلاصہ بن سکتا ہے۔ یہ صرف وقت بچانے کی بات نہیں، یہ اس علم کو حاصل کرنے کے بارے میں ہے جو پہلے آپ کی پہنچ سے باہر تھا۔
لیکن مختلف قسم کی فائلوں کو سمجھنا تو صرف شروعات ہے۔ جو چیز اس ٹول کو آپ کا حقیقی ساتھی بناتی ہے، وہ ہے اس کی ناقابلِ یقین یادداشت...

2: اس کی یادداشت اتنی تیز ہے کہ انسان بھی رشک کرے
اکثر اے آئی ٹولز تھوڑی دیر بعد آپ کی پچھلی گفتگو بھول جاتے ہیں، لیکن گوگل اے آئی اسٹوڈیو ایک ہزار صفحات کی پوری کتاب جیسی معلومات بھی یاد رکھ سکتا ہے۔ اس کی یہ صلاحیت اسے ایک عام ٹول سے کہیں زیادہ طاقتور بناتی ہے۔
فرض کریں آپ ایک مصنف ہیں یا کارٹون بناتے ہیں۔ آپ اپنی پچھلی تمام اقساط کے اسکرپٹ یہاں اپ لوڈ کر دیں۔ اب اے آئی کو آپ کی کہانی کا ہر کردار اور ہر موڑ یاد رہے گا۔ یہ آپ کو اگلی قسط بالکل آپ کے اپنے انداز میں لکھنے میں مدد کرے گا، گویا یہ آپ کا ذاتی معاون ہو۔ یہ صلاحیت اسے آپ کے تخلیقی اور پیشہ ورانہ منصوبوں کے لیے ایک حقیقی پارٹنر بنا دیتی ہے جو آپ کے کام کے پورے سیاق و سباق کو سمجھتا ہے۔
تو یہ دیکھ اور سن سکتا ہے، اور سب کچھ یاد بھی رکھ سکتا ہے۔ لیکن کیا ہو اگر آپ اسے ایک شخصیت بھی دے سکیں؟ اسے بتا سکیں کہ اسے کون بننا ہے؟

3: آپ اپنے ذاتی ماہرین کی ٹیم خود بنا سکتے ہیں
اس ٹول کی ایک خاص بات یہ ہے کہ آپ اسے اپنی مرضی کا کردار اپنانے کا حکم دے سکتے ہیں۔ آپ اسے بتا سکتے ہیں کہ "آج سے تم میرے پرسنل فٹنس ٹرینر ہو" یا "تم میرے بچوں کے لیے سائنس کے استاد ہو"۔ اس کے بعد وہ آپ سے بالکل اسی ماہر کی طرح بات کرے گا۔
اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو مہنگے ٹیوٹرز یا مشیروں (Consultants) کی ضرورت نہیں رہے گی۔ آپ ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنی ضرورت کے مطابق الگ الگ "ماہرین" بنا سکتے ہیں جو صرف آپ کے لیے کام کریں گے۔ یہ فیچر ماہرانہ مشورے تک رسائی کو ہر ایک کے لیے ممکن بناتا ہے۔
ذاتی ماہرین کی ایک پوری ٹیم رکھنا ہی ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ لیکن گوگل اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر آپ کو یہ طاقت اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے مفت میں فراہم کرتا ہے۔

4: آپ مفت میں اپنا کاروبار یا ایپ شروع کر سکتے ہیں
کیا آپ کوئی ویب سائٹ یا موبائل ایپ بنانا چاہتے ہیں لیکن آپ کے پاس بجٹ نہیں ہے؟ گوگل آپ کو اپنی اس طاقتور ٹیکنالوجی کو مفت میں استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تاکہ آپ اپنی پروڈکٹس بنا سکیں۔ اسے فری اے پی آئی کیز (Free API Keys) کہتے ہیں۔
اس موقع سے فائدہ اٹھا کر آپ اپنا نیا کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ بچوں کے لیے اردو کہانیاں سنانے والی ایک ایپ بنا سکتے ہیں۔ اس ایپ کا سارا دماغ گوگل اے آئی کا ہوگا، لیکن وہ آپ کے نام سے چلے گی۔ یہ ابھرتے ہوئے کاروباری افراد اور تخلیق کاروں کے لیے بغیر کسی بڑی سرمایہ کاری کے اپنے آئیڈیاز کو حقیقت میں بدلنے کا ایک ناقابل یقین موقع ہے۔

اس ٹول کو استعمال کرنا انتہائی آسان ہے۔ بس ان مراحل پر عمل کریں
ا1. ویب سائٹ aistudio dot google dot com پر جائیں۔
ا2. 'Create New' پر کلک کریں اور 'Chat Prompt' منتخب کریں۔
ا3 بائیں طرف 'System Instructions' کے خانے میں لکھیں کہ آپ اے آئی سے کیا کام لینا چاہتے ہیں (مثلاً: "تم ایک ہمدرد اور سمجھدار استاد ہو")۔
ا4. اپنی کوئی بھی فائل (تصویر، پی ڈی ایف، یا ویڈیو) اپ لوڈ کریں اور اس سے سوال پوچھنا شروع کر دیں!
یہ صرف آپ کے لیے کام نہیں کرتا، بلکہ یہ آپ کے سیکھنے، تخلیق کرنے اور کچھ نیا بنانے کی صلاحیت کو ان طریقوں سے بہتر بناتا ہے جن کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اصل مقابلہ انسان اور مشین کا نہیں، بلکہ ان لوگوں کا ہے جو اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے
اے آئی آپ کو ری پلیس نہیں کرے گا، بلکہ اے آئی استعمال کرنے والا انسان اس انسان کو پیچھے چھوڑ دے گا جو اسے استعمال نہیں کرتا۔ یہ ٹول آپ کو ایک عام انسان سے ایک "سپر ہیومن" بنا سکتا ہے۔

اب جبکہ یہ طاقت آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ سب سے پہلے کون سا مسئلہ حل کریں گے؟

عامر پٹنی

Copy
10-جنوری-2026

#تعلیم

10/01/2026

🏠 بغیر اطلاع کے آنے کا غیر اخلاقی رواج !

ہماری ثقافت میں سب سے زیادہ غیر اخلاقی اور تکلیف دہ عادتوں میں سے ایک یہ خیال ہے کہ کسی کے گھر بغیر اطلاع دیے، اچانک "آ ٹپکنا" بالکل درست ہے۔ کوئی کال نہیں، کوئی میسج نہیں، کوئی تصدیق نہیں...

بس گھنٹی بجا دینا اور یہ توقع کرنا کہ آپ کو فوراً گرم جوشی سے خوش آمدید کہا جائے گا، تازہ چائے ملے گی، اور بھرپور مہمان نوازی کی جائے گی...

بظاہر تو یہ بے ضرر لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ دوسرے شخص کے وقت، جگہ (Space)، اور ذہنی حالت سے شدید لاپرواہی ہے۔

آپ کو کوئی اندازہ نہیں کہ اس دروازے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے...

• ہو سکتا ہے گھر میں صفائی نہ ہو...

• ہو سکتا ہے کوئی بیمار ہو...

• ہو سکتا ہے بچے ابھی ایک بھرپور "جنگ کے میدان" کے بعد سوئے ہوں...

• ہو سکتا ہے میزبان تھکا ہوا ہو، پریشان ہو، یا کسی کے لیے بھی "سماجی طور پر پیش ہونے" کے موڈ میں نہ ہو...

• ہو سکتا ہے ان کے کوئی منصوبے ہوں، کام کی ڈیڈلائن ہو، کوئی میٹنگ ہو، فیملی ٹائم طے ہو، کسی دوسرے مہمان کا انتظار ہو، یا وہ آخر کار سکون کے چند لمحے گزار رہے ہوں...

مگر آپ کا یہ 'اچانک' دورہ سب کچھ درہم برہم کر دیتا ہے!

حدود کا احترام کرنا کوئی عیاشی نہیں، یہ بنیادی انسانی تہذیب ہے۔

ایک سادہ سا میسج، ایک چھوٹی سی کال، ایک "ارے، اگر میں کل یا کچھ گھنٹوں بعد آؤں تو کیا آپ فارغ ہیں؟" پوچھنا مشکل نہیں، یہ ذمہ داری ہے۔

صرف چند گھنٹوں کی اطلاع بھی لوگوں کو تیاری کا موقع دیتی ہے اور انہیں ہاں یا نہ کہنے کا اختیار دیتی ہے، تاکہ وہ دباؤ کے بجائے سکون سے آپ کی میزبانی کر سکیں۔

لہٰذا، یہ بات واضح ہو:

بغیر بتائے اچانک آ جانا نہ تو اچھا لگتا ہے، نہ ہی یہ کوئی روایتی طریقہ ہے اور نہ ہی یہ محبت کا اظہار ہے... یہ سراسر بے احترامی ہے!

یہ اصول طے ہونا چاہیے:

آپ اجازت کے بغیر کسی کے گھر نہیں پہنچتے۔ آپ پوچھتے ہیں، آپ تصدیق کرتے ہیں، اور پھر آپ ملاقات کے لیے جاتے ہیں، تاکہ آپ کی موجودگی ایک تکلیف نہیں بلکہ ایک خوشی کا احساس دلائے.

Copy

Is that true ?
25/08/2025

Is that true ?

11/08/2025

یہ جاپان ہے جناب

جاپان میں کوّوں کو ناپسندیدہ پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کچرے کے تھیلے پھاڑ کر سڑکوں پر گندگی پھیلا دیتے ہیں، کھیتوں اور سبزی و پھل کی فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کی چیخ پکار بھی بہت شور مچاتی ہے۔

چونکہ جاپانی قانون جانوروں کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے حل نکالنا ضروری تھا۔ حل یہ نکلا کہ کوّوں کی زبان سیکھی جائے اور ساؤنڈ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے۔

یہ کام محقق "ناوکی تسوکاہارا" کو سونپا گیا جو کوّوں کے رویے کا ماہر ہے۔ اس نے نہایت حساس آلات سے کوّوں کی آوازیں ریکارڈ کیں، بالکل ویسے جیسے فوجداری تحقیقات میں کیے جاتے ہیں، اور ساتھ ہی ہر آواز کے بعد کوّے کیا عمل کرتے ہیں، یہ بھی نوٹ کیا۔

ڈیٹا کے تجزیے سے تقریباً 40 الفاظ کا پتہ چلا، جیسے "مجھے کھانا مل گیا"، "آؤ یہاں محفوظ ہے" اور "خطرہ ہے، یہاں سے بھاگ جاؤ"۔

تحقیق درست ثابت ہونے کے بعد یاماجاتا کے حکام نے کوڑا جمع کرنے کے مقامات کے پاس اسپیکر لگائے جو کوّؤں کی زبان میں پیغام "خطرہ ہے، یہاں سے بھاگ جاؤ" بجاتے تھے۔ حیرت انگیز طور پر کوّے فوراً وہاں سے اڑ جاتے اور تب تک واپس نہ آتے جب تک صفائی کی گاڑیاں آکر کچرا اٹھا نہ لیتیں۔

پھر حکام نے ایک اور جگہ کوّؤں کے لیے کھانا رکھا اور وہاں اسپیکر سے "مجھے کھانا مل گیا" کا پیغام کوّؤں کی زبان میں چلایا۔ کوّے فوراً وہاں پہنچے اور وہیں کھانے لگے۔

اب جانوروں کے سائنس کے محکمے نے اس تجربے کو مزید آگے بڑھایا ہے اور پرندوں و جانوروں کی مختلف زبانیں سمجھنے کی ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے۔

واقعی جاپان ہمیں حیران کرنے سے باز نہیں آتا۔

﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا طَائِرٖ يَطِيرُ بِجَنَاحَيۡهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمۡثَالُكُمۚ﴾

ترجمہ: اور زمین میں چلنے والا کوئی جاندار اور اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں مگر وہ بھی تمہاری ہی طرح ایک امت ہے۔

یہ آیت سورۃ الانعام (آیت 38) سے ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو ایک منظم نظام اور اندازِ زندگی عطا کیا ہے، جیسے انسانوں کی اپنی معاشرت اور اصول ہیں۔۔۔

*ہجرت کریں، گھبرائیں نہیں…!**ہجرت میں ہی بقا ہے۔*چاہے کسی انسان سے ہو یا کسی جگہ سے —جہاں دل نہ لگے، جہاں سکون نہ ہو، وہ...
10/08/2025

*ہجرت کریں، گھبرائیں نہیں…!*
*ہجرت میں ہی بقا ہے۔*
چاہے کسی انسان سے ہو یا کسی جگہ سے —
جہاں دل نہ لگے، جہاں سکون نہ ہو، وہاں سے خود کو آزاد کیجیے۔
زندگی بہت خوبصورت ہے،
اسے چند تلخ لمحوں کی نظر مت کیجیے۔

لاگن کی آخری خواہش – جب 20,000 موٹر سائیکل سوار فرشتے بن گئےچھ سال کا لاگن، ایک چھوٹے سے امریکی قصبے کا خوبصورت، ہنستا ک...
09/08/2025

لاگن کی آخری خواہش – جب 20,000 موٹر سائیکل سوار فرشتے بن گئے

چھ سال کا لاگن، ایک چھوٹے سے امریکی قصبے کا خوبصورت، ہنستا کھیلتا بچہ تھا۔ سپر ہیروز، کھلونے اور موٹر سائیکلوں کی آوازیں اسے بے حد پسند تھیں۔ لیکن قسمت نے اسے صرف چار سال کی عمر میں خطرناک بیماری، لیوکیمیا میں مبتلا کر دیا۔

علاج نے اس کے بال چھین لیے، اس کی طاقت کمزور کر دی، لیکن اس کی معصوم مسکراہٹ باقی رہی۔

اس کی صرف ایک خواہش تھی — کہ وہ اپنی کھڑکی کے قریب بیٹھ کر موٹر سائیکلوں کی آواز سن سکے۔

ایک رات اس کے والدین نے فیس بک پر صرف یہ لکھا:
اگر کوئی موٹر سائیکل سوار ہفتے کے دن ہمارے گھر کے سامنے سے گزر سکے تو لاگن بہت خوش ہوگا۔ وہ کافی دنوں سے اداس ہے۔ یہ اس کے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔"

انہیں امید تھی کہ 5 یا 10 موٹر سائیکلیں آئیں گی...
مگر جو ہوا، وہ ناقابل یقین تھا۔
تقریباً 20,000 موٹر سائیکل سوار امریکہ بھر سے جمع ہو گئے۔
ریٹائرڈ فوجی، نرسیں، دادی اماں چمڑے کی جیکٹوں میں، اور مکمل بائیکر گینگ — سب ایک خاموش قافلے میں لاگن کے گھر سے گزرے۔
لاگن نے کھڑکی پر ہاتھ رکھا اور آہستہ سے پوچھا:
کیا یہ سب میرے لیے آئے ہیں؟"

جی لاگن، یہ سب تمہارے لیے ہی آئے تھے۔
وہ چار ماہ بعد دنیا سے رخصت ہو گیا، لیکن اُس دن، وہ بیمار بچہ نہیں بلکہ ایک سپر ہیرو تھا
تحقیق و ترجمہ: راشد حسین

08/08/2025
💚
07/08/2025

💚

Madina 💚💚
07/08/2025

Madina 💚💚

یہ سال دو ہزار تین کی ایک ٹھنڈی دوپہر ہے ۔ ہمارے گھر کا پیناسانک ٹی وی ہے اور اتوار کا دن ہے ۔۔۔ جائنٹ فیملی ہے سارے کزن...
07/08/2025

یہ سال دو ہزار تین کی ایک ٹھنڈی دوپہر ہے ۔ ہمارے گھر کا پیناسانک ٹی وی ہے اور اتوار کا دن ہے ۔۔۔ جائنٹ فیملی ہے سارے کزنز بچے گھر پہ ہیں اور سنا ہے کرکٹ کا ورلڈکپ شروع ہے آجکل ، ٹی وی لگایا تو پچ رپورٹ چل رہی تھی ، اور فیصلہ ہوا کہ آج میچ دیکھیں گے ۔۔۔ اس سے پہلے کرکٹ ہمارے لئے صرف گھر کے اندر بالٹی رکھ کر ٹک ٹک سے ذیادہ کچھ نہیں تھا ۔۔۔ وہ بھی جب باقی کھیل کانچے وغیرہ میسر نہیں ہوتے تب تھوڑا بہت کھیل لیا ۔

خیر میچ شروع ہوا تو ایک لمبا تڑنگا لمبے بالوں والا ایک بندہ امپائر کو اپنی گول ہیٹ پکڑا کر بال لیکر زمین سے ایک سفید گولہ اٹھا کے چلتا جاتا ہے یہاں تک کہ باونڈری کی رسی نظر آنے لگتی ہے ۔ یہاں وہاں دیکھ کے فیلڈ سیٹ کرتا ہے اور جیسے ہی اپنی اڑان بھرتا ہے بال یہاں وہاں، گلے کا چین بے چین ہو کر اچھلتا ہے اور جب ایسے ترچے زاویے سے بال پھینکتا ہے تو ایک عجیب قسم کا ڈوپامین سرج ہوتا ہے اور اس دن ہمیں کرکٹ نامی کھیل سے عشق ہوجاتا ہے ۔۔۔ بڑے بھائی نے اسکا نام شعیب اختر بتایا ۔ اور اس دن کرکٹ فارغ وقت کا کھیل نہیں رہا بلکہ ہماری رگوں میں ایسے اترا کہ باقی کھیل ماند پڑگئے ۔

یہ ویڈیو ایک احساس ہے جو میرے لئے بہت خاص ہے ۔۔۔ اس بندے کی گستاخیوں اور بغاوتوں کے بارے میں سن سن کر ہم بڑے ہوئے مگر اسے کبھی کوئی سیاسی، مذہبی تعصب کسی سازشی منصوبے کا شکار نہیں دیکھا ۔۔ ۔۔۔

آج بھی جب بولتا ہے تو سن کے مزہ آتا ہے، نپی تلی بات کرتا ہے اور تکنیکی بات کرتا ہے ، تنقید کرتا ہے تو دل سے کرتا ہے کرکٹ کی بہتری کیلئے کرتا ہے ۔ ایک صحتمند ریٹائرمنٹ لائف گزار رہا ہے اپنی سائیکل لیکر اسلام آباد کی سڑکیں ناپتا ہے ، نہ کوئی سیاسی ڈرامے نہ مذہبی نمائیش ۔۔۔ اندر باہر ایک خوبصورت انسان جس نے ہمارے بچپن کو اپنے کھیل سے خوبصورت بنایا ۔۔۔ اور اپنے پیشے کے ساتھ انصاف کرکے اسمیں کمال حاصل کرنے کا سبق دیا ۔

شکریہ شعیب اختر ♥️
Shoaib Akhtar

Address

Karachi
75500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Beautiful Pakistan Beauty of Thoughts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category