23/09/2026
دریائے سندھ کے مغربی کنارے واقع آمری، ضلع جامشورو کی ایک چھوٹی سی بستی ہے، لیکن اس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ یہاں سے ملنے والے آثار بتاتے ہیں کہ موئن جو دڑو کی مشہور تہذیب کے عروج سے بھی پہلے، تقریباً ساڑھے پانچ ہزار سال قبل، اس علاقے میں انسانی آبادیاں موجود تھیں۔ قدیم آمری کی تہذیب اپنی مخصوص مٹی کے برتنوں اور رہن سہن کی وجہ سے آثارِ قدیمہ میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ دریائے سندھ کی قربت نے اس علاقے کو پانی اور زراعت کی سہولت فراہم کی اور یہاں انسانی آبادیوں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ آج کی اس چھوٹی سی بستی کے قریب موجود قدیم ٹیلے ہمیں اس زمانے کی یاد دلاتے ہیں جب دریائے سندھ کے کنارے آبادیاں بس رہی تھیں اور یہاں انسانی تہذیب آہستہ آہستہ ترقی کر رہی تھی۔
آمری کا اپنا ایک چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن بھی ہے، جو پاکستان ریلوے کی مرکزی لائن نمبر دو پر واقع ہے۔ اس وقت یہاں روزانہ چلنے والی واحد مسافر گاڑی موئن جو دڑو پسنجر ہے، جو کوٹری اور سکھر کے درمیان سفر کرتے ہوئے آمری میں بھی رکتی ہے۔ چھ ماہ کی بندش کے بعد اس گاڑی کی بحالی سے یہاں کے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر ریل کے سفر کی سہولت میسر آئی ہے۔ آمری کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ جس علاقے میں ہزاروں سال پہلے انسانی تہذیب پروان چڑھی، آج اسی علاقے سے موئن جو دڑو کے نام سے منسوب مسافر ٹرین گزرتی ہے۔