31/07/2026
اسلام آباد کی ایک اچھی کہانی سناتا ہوں، جو بہت کم لوگوں کو پتا ہے۔
اسلام آباد - ایک خواب جو جنگل سے نکلا
1960 سے پہلے یہاں اسلام آباد نہیں تھا، صرف گھنا جنگل، چند گاؤں جیسے سید پور، شاہدرہ، بری امام اور نور پور تھے۔ مارگلہ کی پہاڑیاں تھیں اور نیچے خاموشی۔
پاکستان کا دارالحکومت کراچی تھا، لیکن صدر ایوب خان نے کہا ہمیں ایک نیا دارالحکومت چاہیے جو سب کے لیے ہو، جو محفوظ ہو، جو خوبصورت ہو۔
تو ایک یونانی آرکیٹیکٹ کو بلایا گیا، جس کا نام تھا دوکسیاڈس (Doxiadis)۔ اس نے ہیلی کاپٹر سے اس پورے علاقے کا چکر لگایا اور کہا "یہیں بنے گا"۔
اس نے ایک عجیب بات کہی۔ اس نے کہا میں شہر کو انسان کے جسم کی طرح بناؤں گا۔
• مارگلہ ہلز سر ہیں - جو شہر کی سوچ اور سکون ہیں
• بلیو ایریا دل ہے - جہاں سارا کاروبار دھڑکتا ہے
• سیکٹرز اس کے پھیپھڑے ہیں - F-6, F-7, G-9 جہاں لوگ سانس لیتے ہیں
• سڑکیں اس کی رگیں ہیں - جو سب کو جوڑتی ہیں
لوگ ہنستے تھے کہ جنگل میں کون رہے گا؟ لیکن آہستہ آہستہ سرکاری ملازمین لاہور اور کراچی سے آئے، انہوں نے یہاں گھر بنائے۔
سب سے پہلی مسجد فیصل مسجد نہیں تھی، سب سے پہلے یہاں کے گاؤں والوں کی چھوٹی مسجدیں تھیں۔ پھر 1986 میں شاہ فیصل نے فیصل مسجد کا تحفہ دیا، جو آج بھی پہاڑوں کے سامنے ایسے لگتی ہے جیسے پہاڑوں نے اسے گود میں لیا ہو۔
کہتے ہیں اسلام آباد کا اصل جادو یہ ہے کہ یہ شہر تمہیں بدلتا نہیں، تمہیں واپس تمہارے پاس لے آتا ہے۔ کراچی تمہیں بھاگنا سکھاتا ہے، لاہور تمہیں کھانا سکھاتا ہے، لیکن اسلام آباد تمہیں رکنا، سوچنا اور سانس لینا سکھاتا ہے۔