20/03/2026
مجھے لڑکیاں چاہئیں، لڑکیاں کدھر ہیں؟ لڑکیوں جلدی سے اسٹیج پر آ جاؤ! ہاں تم، آئے ہائے کیا بات ہے! تم چشمے والی، تم بھی آ جاؤ!
یہ وہ جملے اور اندازِ تخاطب ہے جو آج کے میگا گیم شوز کا طرہ امتیاز بن چکا ہے۔ میزبان فہد مصطفیٰ کا خواتین کو مجمعے سے اس طرح چھانٹ کر اسٹیج پر بلانا اور پھر ان کے حلیے یا چشمے پر فقرے کسنا، دراصل اس فیملی انٹرٹینمنٹ کا اصل چہرہ ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سارا تماشہ اور میزبان کا یہ لچر پن ٹی وی اسکرینوں کے ذریعے کروڑوں لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ گھروں میں بیٹھے خاندان، بوڑھے، بچے اور نوجوان اس تذلیل کو 'تفریح' سمجھ کر ہضم کر رہے ہیں، جس سے معاشرے میں بدتہذیبی کو سندِ قبولیت مل رہی ہے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک منظر وہ 'ندیدا پن' ہے جو عوام میں سرایت کر چکا ہے۔ محض ایک واشنگ مشین، جوسر بلینڈر یا موٹر سائیکل کی چابی کے لیے لوگ اپنی عزتِ نفس کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ اسٹیج پر عجیب و غریب حرکات کرنا، چیخنا چلانا اور میزبان کی جملہ بازیوں پر مصنوعی قہقہے لگانا اب انعام پانے کی بنیادی شرط بن چکا ہے۔
چیخ و پکار، شرکاء کا مذاق اڑانا اور غیر ضروری جسمانی حرکات اس شو کا خاصہ بن چکی ہیں۔
گیم شو تو دراصل نیلام گھر تھا، جہاں پاکستان کی پہچان طارق عزیز اسٹیج پر جلوہ افروز ہوتے تھے۔ وہاں "دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں" کو صرف سلام نہیں پہنچایا جاتا تھا، بلکہ انہیں شعور اور آگاہی کی روشنی بھی دی جاتی تھی۔ طارق عزیز کا لباس ان کی شخصیت کے وقار کو چار چاند لگا دیتا تھا اور ان کا اردو تلفظ سماعتوں میں رس گھولتا تھا۔
نیلام گھر کی کامیابی کی بنیاد معلوماتِ عامہ تھی۔ وہاں انعام پانے کے لیے آپ کو علامہ اقبال کا شعر، تاریخ کا کوئی واقعہ یا جغرافیے کی معلومات ہونی ضروری تھیں۔ وہاں کوئی اچھل کود یا غیر اخلاقی حرکت نہیں ہوتی تھی، بلکہ شرکاء اپنی ذہانت کے بل بوتے پر جیتے تھے۔ اب تو اسٹیج پر ٹھمکہ لگانے، عجیب و غریب شکلیں بنانے یا کسی لغو حرکت پر موٹر سائیکل کی چابی تھما دی جاتی ہے۔
کاش آج کے میزبان اور پروڈیوسرز یہ سمجھ سکیں کہ تفریح کا مطلب تذلیل اور لچر پن نہیں ہوتا۔