05/10/2023
تُم اپنا مکاں جب کرو تقسیم تو یارو
گِرتی ہوی دیوار کا سایہ مجھے دینا
محسن نقوی صاحب کے شعر کی تشریح۔
میرے خیال میں شاعر ہم سب کو پیغام دینا چاہتا ہے کے جگہ، زمین ، جائیداد نسل در نسل تقسیم ہوتی آئی ہے اور کۂی ہزاروں لاکھوں سال سے زمیں وہی کی وہی ہے اور کوئی اس عارضی ٹھکانے کو اپنے ساتھ لے کر نہیں گیا حالانکہ اس عارضی اور کم مدت مکان کے لیے وہ سارے رشتوں کا تقدس بھول جاتا ہے ، بھائی بھائی کا دست گریبان ، اولاد والدین کے جیتے جی جائیداد کی تقسیم پر اتر آتی ہے ۔ والدین جو عمر بھر اس امید پر جیتے ہیں کے اولاد جوان ہو گی تو ہمارا خیال رکھے گی مگر افسوس ناجانے اولاد کب جوان ہوتی ہے اور کب والدیں آخری دم بھرنے لگتے ہیں ۔
اولاد دنیا کی کم قیمت رنگینیوں اور بے وقعت روشنیوں میں اس قدر محو و مگن ہو جاتی ہے کے ان کے گھر کا سورج غروب ہونے کو آ جاتا ہے مگر انھیں کوئی خبر تک نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔
مکان کی تقسیم جب بھی ہوئی والدیں کو یہی سوچ کھا گئی کہ ہم کہاں جائیں گے۔۔
ان کے سامنے اولاد جائیداد کی تقسیم پر رٹ لگاتی ہے اور ہر لمحہ یہ سوچ اور فکر والدین کا کلیجہ چیرتی ہے۔ کے ہم نے جن کے لیے اپنی جوانی رول دی ، اپنی زندگی کے انتہائی قیمتی لمحات قربان کر دیے آج ہم ان کے لیے کس قدر بے وقعت ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔۔
جب بھی ہوا تقسیم کا تذکرہ
ہر شے پے ہاتھ تھا والدین کے سوا۔۔
مکان سے مراد کنبہ لیا گیا ہے اور جائیداد کی تقسیم کے وقت کنبہ تقسیم ہو جاتا ہے رشتے اپنا اپنا حصہ لے کر کنارا کشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ اس پورے کنبہ میں جہاں سب جوان، طاقت ور توانا ہوتے ہیں وہی والدیں عمر کے آخری حصہ میں خدمت کے طلب گار ہوتے ہیں اور اولاد ان سے بے خبر , شاعر نے ہمیں سبق دیا کے سب سے قیمتی کنبہ میں وہ دیوار ہے جو عمر کے آخری حصہ میں ہے اور اس کا سایہ ہی دارین کی کامیابی ہے۔۔۔
گر سمجھے کوئی تو بے شک پورے مکان میں وہی دیوار سب سے بیش بہا قیمتی ہے۔۔۔۔
از سہیل توفیق