Sailoona.com

Sailoona.com Tourism MarketPlace

اکثر لوگوں کو کے ٹو دیکھنے کا شوق تو ہوتا ہے مگر شگر کے راستے کئی دن کا پیدل ٹریک نہی کر پاتا۔ جو لوگ کچھ گھنٹوں کے پیدل...
10/08/2024

اکثر لوگوں کو کے ٹو دیکھنے کا شوق تو ہوتا ہے مگر شگر کے راستے کئی دن کا پیدل ٹریک نہی کر پاتا۔ جو لوگ کچھ گھنٹوں کے پیدل ٹریک کے بعد کے ٹو کا نظارہ چاہتے ہیں تو ان کے لیے پیش ہے خپلو گانچھے مچلو لا سے کے ٹو کا ایک دلفریب نظارہ ۔ سکردو سے خپلو ڈھائی گھنٹے کا سفر پھر خپلو سے مچلو آدھا گھنٹہ سفر۔ آرام دہ روڈ۔ موٹر سائیکل اور کار بھی بآسانی پہنچ سکتی ہے۔ مچلو گاوں سے 6گھنٹے کا ٹریک
جہاں سے کے ٹو سمیت تمام 4 آٹھ ہزار میٹر سے بلند قراقرم کی چوٹیوں کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

وادی بروغل درکوت یاسین سے وادی بروغل کا ٹریک تقریباً دو دن کا ہے۔وادی کی کل آبادی تقریباً 250 گھرانوں پر مشتمل ہے ۔ اس و...
20/07/2024

وادی بروغل

درکوت یاسین سے وادی بروغل کا ٹریک تقریباً دو دن کا ہے۔وادی کی کل آبادی تقریباً 250 گھرانوں پر مشتمل ہے ۔ اس وادی میں تین زبانیں واخی، سری قلی ، اور کرغیز بولی جاتی ہے ۔ ان زبانوں میں بولنے والوں کی تعداد کے حساب سے واخی بروغل کی بڑی زبان ہے ۔

اس وادی کی خاص بات جو سعید ولی بھائی سے پتہ چلا کہ قرمبرجھیل کے علاوہ 40 کے قریب اور بھی کئی رنگین پانیوں والی چھوٹی چھوٹی جھیلیں ہیں ۔

جون کے آخری ہفتے یا جولائی میں یہاں کی خوبصورتی اپنے عروج پر ہوتی ہے ۔یہی دورانیہ بروغل جانے کے لیے سب سے موزوں ہے

یہاں سردیوں کا موسم بہت سخت ہوتا ہے ۔ سردیوں کا دورانیہ سال میں سات مہینہ رہتا ہے ۔چھ سے سات مہینے کی برف باری کی وجہ سے علاقے کے لوگ بچے، بوڑھے اور عورتیں موسم کی شدت کو کم کرنے کے لیے افیون کا نشہ کرتے ہیں ۔

وادی بروغل کے لوگوں کا واحد زریعہ معاش گلہ بانی ہے ۔وادی کے لوگ مال برداری اور سفر کے لیے زیادہ تر گھوڑا، گدھا اور یاک استعمال کرتے ہیں ۔ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ابھی تک موبائل فون، تارکولی سڑک اور چترال کا بازار بھی نہیں دیکھا ہے ۔

یہاں کوئی درخت نہیں اگتا، اس علاقے میں ایک خاص قسم کا گھاس پایا جاتا ہے ۔جو گرمیوں کے موسم میں مٹی سمیت اکھاڑ کر سوکھایا جاتا ہے جس کو سال کے بارہ مہینے ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ مقامی زبان میں اسے "چیم" کہتے ہیں ۔

Credit : خوش باز غمگین



ہوپر گلیشئیر🗻 دنیا کا دوسرا اور پاکستان کا پہلا واحد تیز رفتار گلیشئیر ہے جو روزانہ 1.5 فٹ حرکت کرتا ہے۔ اسکی سب سے خاص ...
10/07/2024

ہوپر گلیشئیر🗻 دنیا کا دوسرا اور پاکستان کا پہلا واحد تیز رفتار گلیشئیر ہے جو روزانہ 1.5 فٹ حرکت کرتا ہے۔ اسکی سب سے خاص بات کہ اسے ہوپر ویلی سے جھک کر دیکھنا پڑتا ہے۔ جسکی گہرائ کم و بیش 500 فٹ کے آس پاس ہے۔

اسکی لمبائ 18.50 کلو میٹر ہے۔ اور برف کی گہرائ 200 فٹ ہے۔ اس گلیشئیر کی 200 فٹ گہرائ کے نیچے پانی بہتا ہے جسے آج تک دیکھا نہیں گیا جس وجہ سے یہ کھربوں ٹن برف لئیے دس دن میں 15 فٹ آگے کھسک جاتا ہے۔ قدرت کی اس عظیم ترین نشانی کو دیکھنے سیاح حضرات پوری دنیا سے ہوپر ویلی میں آتے ہیں۔ قدرت کے اس عظیم الشان اور محیر العقول مظاہرے کو دیکھ کر ایک عجیب طرح کی ہیبت طاری ہوتی اور الگ ہی قسم کا سکون ملتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا کم از کم میرے بس کی بات نہیں ہے۔
یہ مادہ گلیشئیر ہے جو آگے جا کر نر گلیشئیر سے مل جاتا ہے۔ یہاں ایک مشہور زمانہ رش لیک (جھیل) بھی ہے۔ جو سارا سال جمی رہتی ہے، جسکا ٹریک کرنے بہت سے جانباز سیاح وہاں جاتے ہیں۔ میں بھی انشاء اللہ اگلے ٹور پر رش لیک کی یاترا ضرور کرونگا۔

#لوکیشن
اگر آپ ہنزہ نگر سے خنجراب پاس کی جانب جائیں تو جعفر آباد سے 43 کلو میٹر آگے گنیش پل کیساتھ ہی دائیں طرف کا کچا راستہ سیدھا ہوپر ویلی کی جانب جاتا ہے۔ وہاں سائن بورز بھی لگے ہوئے ہیں۔ ہوپر ویلی کی جانب 35 فٹ چوڑا بلکل نیا روڈ بہت ہی تیزی سے بن رہا ہے۔ مگر 5 کلو میٹر آگے جا کر راستہ بہت صاف ہو جاتا ہے۔ اس راستے میں بہت سے چھوٹے چھوٹے مگر انتہائ خوبصورت گاوں اور بلخصوص سحر انگیز نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جنکا الفاظ میں اظہار کرنا میرے لئیے بلکل ناممکن ہے۔

جن سیاحوں نے یہ ویلی نہیں دیکھی انکو یہ ویلی ضرور دیکھنی چاہئیے۔ یہاں بہت سردی بھی ہوتی ہے اور اس ویلی میں رات گزارنے کا تو مزہ بھی کچھ الگ ہی ہے۔
اور اگر آپ اس میری طرح اپنے ٹور کا مزہ کئی گناء بڑھانا چاہتے ہیں تو پھر آپکو یہاں بائک پر جانا چاہئیے👈🏍👉
یہاں سے آپکو خالص سلاجیت میں ملے گی۔

Post Credit: inbox for credit

مکڑہ پیک۔مکڑہ مانسہرہ اور کشمیر کی باؤنڈری پر واقع ایک خوبصورت پیک ہے۔ یہ پیک اور اسکے آس پاس وسیع و عریض سرسزوشاداب چرا...
10/07/2024

مکڑہ پیک۔
مکڑہ مانسہرہ اور کشمیر کی باؤنڈری پر واقع ایک خوبصورت پیک ہے۔ یہ پیک اور اسکے آس پاس وسیع و عریض سرسزوشاداب چراگاہوں پر مشتمل ہے۔
اس ی پانچ پاوں ہیں۔ ایک پائے کی جانب، دوسرا پونجا، تیسرا بھیڑی، چوتھا بتی اور پانچواں گھول کی جانب والا۔
مکڑہ نتہائ خوبصورت چوٹی ہے جس کو آسانی سے کشمیر اور مانسہرہ شوگران ویلی سے سر کیا جا سکتا ہے۔
مکڑہ فطرت سے محبت کرنے والوں کی منتظر ہے۔






Courtesy: lodhi sab

Rakaposhi
10/07/2024

Rakaposhi

سوات۔۔!  مانکیال میں جنگلات کا حشر نشر حسب معمول بے دردی کے ساتھ جاری۔ کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ، محکمہ جنگلات والے سو...
08/07/2024

سوات۔۔! مانکیال میں جنگلات کا حشر نشر حسب معمول بے دردی کے ساتھ جاری۔ کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ، محکمہ جنگلات والے سو رہے ہیں



بابر نامہ پارٹ 2 یہ ہے مِنی مرگ ، 2022 کے بعد کھلنے والی والی جنت نظیر وادی۔2022 سے پہلے ٹورسٹس کیلئے بند تھی کیوں کہ سا...
06/07/2024

بابر نامہ پارٹ 2
یہ ہے مِنی مرگ ، 2022 کے بعد کھلنے والی والی جنت نظیر وادی۔
2022 سے پہلے ٹورسٹس کیلئے بند تھی کیوں کہ ساتھ میں کارگل کا بارڈر ایریا لگتا ہے۔ استور سے 50 کلومیٹر دور چلم چوکی سے آپ کو رجسٹریشن کرانی پڑتی ہے . اگر آپ بائیک پر ایڈونچر کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس 150 cc بائیک ہونا ضروری ہے نہیں تو آپ کو جیپ پر جانا پڑے گا۔
چلم چوکی سے 20 کلومیٹر کرنے کے بعد آے گا برزل ٹاپ جس کو گیٹ وے آف کارگل بھی کہا جاتا ہے ۔ وہاں ٹمپریچر تقریباً پورا سال منفی میں رہتا ہے۔ وہاں آپ کو فوجی انکل انرجیائل بھی پلائیں گے اور شاید آپ کا منہ دیکھ کر آپ کو آپ کو ایک پیکٹ گفت بھی کر دیں۔
وہاں سے 10 کلومیٹر اترائی کے بعد ایک گاؤں آتا ہے منی مرگ، اس کی خوبصورتی دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے ۔ پھر وہاں سے تھوڑا سا آگے دومیل گاؤں آتا ہے اور اس کے ساتھ ہے اس علاقے کا آخری ٹورسٹ سپاٹ رینبو جھیل جس کو پہلے ییلڈرام جھیل کہا جاتا تھا ۔ اور اسی جھیل والی جگہ سے 1999 والی کارگل جنگ شروع ہوئی تھی.
آپ بھی اپنی زندگی میں کم سے کم ایک بار یہ سپاٹ لازمی کریں۔




Gabeen Jaba Swat
05/07/2024

Gabeen Jaba Swat

بلتستان کو ہم یورپ نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ 30 جون 2024 کو اسلام آباد سے واپس ا کر سکردو میں موجود  اپنی  گاڈی لے کر اکی...
05/07/2024

بلتستان کو ہم یورپ نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟
30 جون 2024 کو اسلام آباد سے واپس ا کر سکردو میں موجود اپنی گاڈی لے کر اکیلا سکردو سے خپلو کی طرف نکلا تھا۔

نر تھنگ ایریا میں گاڈی گرم ہونے کے باعث بند ہوا۔ پانی بھی نہی تھا گاڑی میں۔ خپلو اور کھرمنگ کے گاڑیوں اور ٹورسٹ کی گاڑیوں سے پانی لے کے جیسے تیسے موضع گول پہنچ کر گاڑی نے بلکل جواب دے دی۔

اب میرے پاس 2 آپشن تھے۔
یا تو کسی ٹرک کو بلا کے گاڑی سکردو لے جایا جائے یا کسی میکینک کو گول بلاتے۔ بہت دیر ہو چکی تھی شام کو تو
میں نے دونوں آپشن چھوڈ کے گاڈی کو گول بازار میں کھڑی کی۔ لاک لگایا اور خود سامان سمیت لوکل گاڑی میں خپلو گیا ۔

آج 3 دن بعد میں خپلو سے لوکل گاڑی میں ا کر دیکھا گاڈی کو کسی نے ہاتھ تک نہی لگایا ہے۔ البتہ گندم کٹائی سیزن میں تھریشر کی وجہ سے گاڑی کی حالت تصویر میں ملاحظہ فرمائیں۔ خیر گاڑی سکردو لا کر ٹھیک کر دیا۔ مگر کہنے کا مقصد یہ ہے اگر پاکستان کے کسی اور علاقے میں اپنی گاڑی کو خود سے 80 کلو میٹر دور انجان جگہ پہ چھوڈ کے او تو کنفرم چاروں ٹائر بمعہ بیٹری اور دوسری چیزیں غائب ہو جانا طے ہے۔

بلتستان میں اخلاقی بلندی کی اصل وجہ کیا ہے یہ میں ابھی تک نہی جان سکا۔
یوں تو بلتستان کے تمام علاقے سکردو۔ شگر۔ کھرمنگ اور خپلو خوبصورت قدرتی نظاروں سے مالا مال امن و اشتی کا مسکن ہے۔

مگر اج خصوصی طور اہلیان گول کو میری طرف سے خراج تحسین پیش خدمت ہے۔
انجینئر ظہیر خپلوی

From wall of khapaluvi

Great News
04/07/2024

Great News

Address

Gilgit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sailoona.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share