09/07/2024
ابھی کچھ دیر قبل آفس سے ایک دس بارہ سال کا بچہ دراز کا پارسل رسیو کر کے گیا،
آفس سٹاف نے نوٹ کرتے ہوئے پارسل کی اماؤنٹ غلطی سے ایک ہزار کم نوٹ کی اور بچے سے پارسل کی مالیت سے ایک ہزار روپے کم پیسے رسیو کیے!
اب آفس میں کسی کو یہ بات علم نہیں تھی کہ بچہ ایک ہزار کم دے کر گیا ہے
اب تربیت اور اخلاقیات کی خوبصورتی دیکھیے اس بچے نے گھر جا کر اپنے والد کو یہ بتایا کہ بابا پارسل کی اماؤنٹ سات ہزار تھی لیکن آفس والوں نے مجھ سے ایک ہزار کم لیا ہے جبکہ وہ بچہ چاہتا تو یہ بات چھپا کر ایک ہزار کی عیاشی کر سکتا تھا۔
اب بات اسکے والد پر آ ٹھہری تھی وہ چاہتے تو کہہ سکتے تھے اٹس اوکے بیٹا ہزار بچ گیا ہمارا فائدہ ہی ہوا ہے، مگر نہیں وہ ان والدین میں سے تھے جو بچے کی عملی تربیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیٹے کو ساتھ لیا اور ہمارے آفس آ گئے اور ہمیں بتایا کہ آپکے سٹاف نے پارسل کی اماؤنٹ نوٹ کرتے ہوئے غلطی کی ہے۔ آپ نے ہم سے ایک ہزار روپے کم لیا ہے یہ آپ اپنا ایک ہزار ہم سے لے لیں۔
یقین جانیے یہ منظر دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ کیسے ایک والد اپنے بیٹے کو اخلاقی اقدار کی تعلیم سکھا رہا ہے۔ کیسے اپنے بچے کو بے ایمانی سے بچا رہا ہے۔
بچوں کی تربیت ہمیشہ ایسے ہی عملی اعتبار سے کی جا سکتی ہے، یہی بچہ کل کو بڑا ہو کر معاشرے کا ایک بہترین عملی انسان بنے گا۔ ♥️
حسن یوسف