PAF acadmy Resalfur

PAF acadmy Resalfur paf

05/02/2023

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف انتقال کرگئے۔

سفارتی ذرائع نے سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔
پرویز مشرف طویل عرصے سے امریکن اسپتال دبئی میں زیرعلاج تھے۔

سابق صدر کے اہلخانہ نے بھی سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف کے انتقال کی تصدیق کردی ہے، اہلخانہ کے مطابق پرویز مشرف کا آج علی الصبح دبئی میں انتقال ہوا۔

سابق صدر پرویز مشرف گیارہ اگست 1943 کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے، ان کا انتقال 79 سال کی عمر میں ہوا۔

جنرل (ر) پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998 کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے، 12 اکتوبر 1999 کو وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو ہٹا کر چیف ایگزیکٹو بنے اور بعد ازاں اپریل 2002 میں ریفرنڈم کراکے باقاعدہ صدر پاکستان منتخب ہوئے۔

سال 2004 میں آئین میں 17 ویں ترمیم کے ذریعے مزید 5 سال کے لیے پرویز مشرف باوردی صدر منتخب ہوئے، پرویز مشرف 18 اگست 2008 کو مستعفی ہوکر ملک سے باہر چلےگئے تھے۔

28/01/2023
14/04/2020

🍃 ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺘﺮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻻﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ اﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﮓ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﮐﺎﺟﻮ ﮐﺸﻤﺶ, ﺑﺎﺩﺍﻡ ﮐﮭﻼﺗﺎ ہے ....
ﺟﺐ ﺗﯿﺘﺮ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ہے ﺗﻮ اﺳﮯ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﻟﯿﮑﺮﺟﻨﮕﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ .....
ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﻝ ﺑﭽﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺘﺮﮐﻮ ﻭﮨﯿﮟ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﺟﮭﺎﮌﯼ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭗ ﺟﺎﺗﺎ ہے ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺘﺮ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﺘﺎ ہے ﮐﮧ " ﺑﻮﻝ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻮﻝ " ﺗﯿﺘﺮ اﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﭼﻼﺗﺎ ﮨﮯ ....
ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺗﯿﺘﺮ ) ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﺮﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ہے ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ, ﭼﻠﻮ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ( ﮐﮭﻨﭽﮯ ﭼﻠﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﭽﮭﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ .....
ﺷﮑﺎﺭﯼ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﺗﺎ ہے ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻟﺘﻮ ﺗﯿﺘﺮ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﺗﯿﺘﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ ﺟﮭﻮﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻻﺗﺎ ہے .....
ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﻟﺘﻮ ﺗﯿﺘﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﮑﮍﮮ ﮔﺌﮯ ﺳﺐ ﺗﯿﺘﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﺎﭨﺘﺎ ہے ﻣﮕﺮ ﭘﺎﻟﺘﻮ ﺗﯿﺘﺮ ﺍﻑ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ, ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺼﮧ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﺎﺟﻮ , ﮐﺸﻤﺶ , ﺑﺎﺩﺍﻡ ﺟﻮ ﻣﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ...........
ﮐﻢ ﻭﺑﯿﺶ ﯾﮩﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺁﺝ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ........
ﺷﮑﺎﺭﯼ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﺗﯿﺘﺮ ﭘﺎﻝ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻗﻮﻡ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺴﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﭩﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ اﻑ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﺍﻧﮑﮯ ﺣﺼﮧ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ !!..
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﮐﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺸﯿﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻓﻮﺟﯽ ﺍﻓﺴﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮐﺎ ﮔﺸﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﭘﻨﺠﺮﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﮐﺎ ﺑﯿﭻ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮐﯿﻼ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻭﮦ ﺩﺱ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﻣﺎﻧﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻋﺠﯿﺐ ﻓﺮﻕ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺗﻌﺠﺐ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ، ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﭘﻮﺭﺍ ﭨﻮﮐﺮﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮐﯿﻼ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺩﺱ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﮐﺎ؟ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺣﻀﻮﺭ ، ﯾﮧ ﻭﺍﻻ ﺍﮐﯿﻼ ﺳﮑﮭﻼﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﮯ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﺟﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﯾﮧ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﺩﺱ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻭﮦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺧﺮﯾﺪﺍ، ﻧﯿﻔﮯ ﺳﮯ ﺧﻨﺠﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮐﺎ ﺳﺮ ﺗﻦ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺎ۔ ﻋﺴﮑﺮﯼ ﻭ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻣﺼﺎﺣﺒﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻌﺠﺐ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ ﺣﻀﻮﺭ ، ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺗﻨﺎ ﻣﮩﻨﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﮭﻼﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺎ؟ ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﯾﮩﯽ ﺳﺰﺍ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﮨﺮ ﺍﺱ ﺧﺎﺋﻦ ﺍﻭﺭ ﭼﺮﺏ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﮐﯽ، ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻮﻟﯽ ﺳﮯ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺧﯿﺎﻧﺖ ﮐﺮﮮ۔.

14/09/2019

پاکستان نے ڈرون ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوا لیا، مقامی طور پر تیار کیا گیا سیلیکس گلیلیو ٹیکنالوجی سے لیس براق ڈرون پندرہ ہزار فٹ کی بلندی سے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
دفاعی ٹیکنالوجی میں اہم ہدف حاصل، میزائل ٹیکنالوجی سے مسلح ڈرون بھی تیار، براق ڈرون پاکستانی سائنسدانوں اور انجنئیرز کی صلاحیتوں کا شاہکار ہے۔ براق ڈرون 15 ہزار فٹ کی بلندی پر مسلسل 10 گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے۔
میزائل سے لیس یہ ڈرون مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے اور اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ براق سیلیکس گلیلیو ٹیکنالوجی کا حامل ڈرون ہے۔
مسلح افواج کے زیر استعمال شہپر ڈورن بھی مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہے جو سرحدوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت آٹھ سے زائد ادارے ڈرون ٹیکنا لوجی پر کام کر رہے ہیں جن میں پرائیویٹ سیکٹر بھی شامل ہے۔
ڈرون ٹیکنالوجی کے تمام منصوبے سٹریٹیجک پلان ڈویژن کے زیر انتظام کام کر رہے ہیں۔ پاکستان متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک کو سرویلنس ڈرون برآمد بھی کر رہا ہے۔

🇵🇰

گذشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ملک کے لئے "آخری جوان آخری گولی" تک لڑنے کی بات کی آپ میں س...
14/09/2019

گذشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ملک کے لئے "آخری جوان آخری گولی" تک لڑنے کی بات کی آپ میں سے بہت کم لوگ اس فقرے کی تاریخ سے واقف ہیں۔اس کو سمجھنے کے لئے آپ کو 1965کی پاک بھارت جنگ کے پہلے مارکے کے بارے میں جاننا ہوگا ذیل میں دی گئی تحریرکو پڑھنے کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ میجر جنرل آصف غفور نے آخر "آخری جوان ،آخری گولی" تک لڑنے کی بات کیوں کی۔۔۔

پاک بھارت جنگ 1965: بھارتی فوج کو صرف 2 گھنٹے روک لو ، ساری قوم آپ کا یہ احسان یاد رکھے گی

6سمتبر 1965 کو ہمارے ازلی دشمن بھارت نے بغیر کسی پیشگی اطلا ع کے پاکستان پر حملہ کر دیا تھا لیکن پاکستانی سپوتوں نے وطن کی حفاظت کے لئے وہ کارنامے انجام دئیے کہ دشمن کو اُلٹے پاؤں دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اسی لئے ہم ہر سال6 ستمبر کو یوم دفاع پاکستان مناتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے مابین 1965 میں لڑی گئی جنگ بارے نامور کالم نگار اسلم لودھی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ 5اور 6ستمبر کی درمیانی رات میجر شفقت بلوچ کی قیادت میں 17پنجاب کی ڈی کمپنی ٹرکوں کے ذریعے بی آربی نہر کے پاس پہنچی اس وقت ۔ہر طرف رات کاسناٹا تھا ۔ 17 پنجاب کی ڈی کمپنی جب ہڈیارہ گاؤں کے قریب پہنچی تو آدھی رات گزر چکی تھی ۔میجر شفقت بلوچ نے چند جوانوں کو نگہبانی کی ڈیوٹی سونپ کر باقی جوانوں کو آرام کرنے کا حکم دیا۔ ابھی مورچے بھی نہیں کھودے تھے کہ جنرل چودھری نے اپنے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل ہم لاہور جم خانہ کلب میں فتح کا جشن منائیں گے ۔ رات کا آخری پہر چل رہا تھا کہ میجر شفقت بلوچ کی آنکھ اچانک کھل گئی وہ نماز کی تیاری کرنے لگے کہ فائرنگ کی آواز سنائی دی یہ مشن گن اور ماٹر کا فائر تھا۔ میجر شفقت بلوچ نے رینجر سے رابطہ کیا تو وہاں سے جواب ملا کہ بھارتی فوج ٹینکوں اور توپوں سمیت لاہور کی جانب پیش قدمی کرتی ہوئی چلی آرہی ہے یہ اطلاع ملتے ہی میجر شفقت نے بریگیڈ کمانڈر کو بھارتی حملے کی اطلاع دی تو کرنل ابراہیم قریشی نے کہا کہ بھارتی فوج کو آپ صرف دوگھنٹے روک لو ‘پوری قوم آپ کی احسان مند ہو گی۔

بھارتی فوج پاکستان کے سرحدی ہڈیارہ گاؤں پر قابض ہوچکی تھی ہڈیارہ گاؤں کے لوگ چیخ و پکار کرتے آرہے تھے ۔ اس لمحے میجر شفقت بلوچ نے اپنے جوانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ بھارتی فوج نے حملہ کردیا ہے ‘ یہ امتحان کی گھڑی ہے ‘ ہندووں کے سامنے مجھے شرمسار مت کرنا‘اگر ہم ایک سو دس جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے 33لاکھ آبادی کے شہر لاہورکو بچا لیتے ہیں تو یہ سود ا مہنگا نہیں ہے۔ میجر شفقت بلوچ نے اپنے جوانوں کو دور دور پھیلا دیا۔ دور دور پھیلانے کا مقصد یہ تھا کہ دشمن کسی بھی جگہ سے نالہ عبور نہ کرسکے۔ یہ کم نفری سے بہت بڑی سپاہ کو روکنے کا وہ حربہ تھا جو میجر شفقت کے ذہن میں آیا۔ میجر شفقت بلوچ جب ہڈیارہ ڈرین کے کنارے کھڑے ہوکر دن کے اجالے میں دشمن کو اپنی جانب آتا ہوا دیکھ رہے تھے تو ایک گولی ان کے بائیں بازو کو چھو کر گزر گئی ۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بازو کا زخم دکھاکر کہا کافر کی گولی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔اسی اثناء میں حولدار رحمت چلایا سر وہ دیکھیں دشمن کے ٹینک۔ واقعی دشمن کے ٹینک صف بندی کیے ادھر ہی چلے آرہے تھے۔ میجر شفقت نے حکم دیا ڈرین کے پل کو بارود لگا کر تباہ کردو۔

اسی دوران ایک زور دار دھماکہ ہوا لیکن پل تباہ نہ ہوا کچھ اس طرح بیٹھ گیا کہ گاڑیاں آسانی سے گزر سکتی تھیں۔ میجر بلوچ نے ایس او ایس کا فائر مانگا ۔ساتھ ہی اپنی جیپوں سے آر آر پر فائر بھی کھول دیا۔نائیک منصف کو حکم ملا وہ دشمن کے پہلے ٹینک کا نشانہ لے کر فائر کرے۔ فائر کھلتا ہے دشمن کے پہلے ٹینک کے پرخچے اڑ جاتے ہیں بھارت دشمن کی پیش قدمی رک جاتی ہے۔ دشمن کو پہلی بار احساس ہوا کہ پاک فوج کے جوان بھی ڈرین کے اس پار موجود ہیں۔ اب دونوں جانب سے تابڑ توڑ جنگ شروع ہوچکی تھی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ ہمارے فائر نشانے پر لگتے لیکن بھارتی فوج کے فائر بیکار جاتے ۔ جب بریگیڈئر اصغر قریشی نے وائر لیس پر میجر شفقت سے رابطہ کیا تو اس وقت دشمن کو ہڈیارہ ڈرین کے اس پار رکے ہوئے دو گھنٹے سے زائد وقت ہوچکاتھا۔ بریگیڈ کمانڈر نے کہا‘ میجر شفقت مجھے تم پر فخر ہے تم نے وہ معجزہ کردکھایا ہے جس کی قوم کو ضرورت تھی۔ میجر شفقت نے کہا سر میں آخر ی جوان اور آخری گولی تک دشمن کو ادھر سے پیش قدمی نہیں کرنے دوں گا۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایک کمپنی کے خلاف دشمن کی اٹھارہ کمپنیاں برسرپیکار تھیں۔

دشمن کے پاس بھاری ٹینک اور بھاری توپ خانہ بھی تھا جبکہ پاکستانی کمپنی موثر ہتھیاروں سے محروم تھی۔اسی اثناء میں میجر شفقت بلوچ نے دیکھا کہ جنوب مشرق کی جانب سے دشمن کے ٹینک نالے کو عبور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔آرٹلری کا فائر مانگا تو جواب ملا میجر ہمارے پاس اتنے گولے نہیں ہیں۔معاملے کی نزاکت بتائی تو گولے برسے آگ اور دھوئیں کے بادل بلند ہوئے اور ایک بار پھر دشمن کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے۔9بجے صبح جنرل چودھری نے لاہور جم خانہ کلب میں شراب کے جام ٹکڑانے تھے لیکن اب ساڑھے دس بج رہے تھے ۔دشمن کی بکتر بند گاڑیاں پہلی دفاعی لائن سے ٹکرا کر سر پھوڑ رہی تھیں۔ لاہور بہت دور تھا۔ انہی لمحات میں صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان کے ولولہ انگیز خطاب نے پوری قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا اور پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے آسمان کو چھونے لگے۔امریکی ہفت روزہ میگزین “ٹائم”کے جنگی وقائع نگار لوئیس کرار نے 23ستمبر 1965ء کے شمارے میں لکھا ۔میں شاید اس جنگ کو بھول جاؤں لیکن میں اس پاکستانی افسر ( میجر شفقت ) کی مسکراہٹ کونہیں بھول سکتا جو مجھے اپنے ساتھ محاذ جنگ پر لے گیا۔

ان کی مسکراہٹ مجھے بتارہی تھی کہ پاکستانی جوان کس قدر دلیر اور نڈر ہیں۔جوان سے جرنیل تک کو میں نے اس طرح آگ سے کھیلتے دیکھا جس طرح گلی کوچوں میں چھوٹے بچے کانچ کی گولیوں سے کھیلتے ہیں۔جب میجر عزیز بھٹی نے بی آر بی پر دفاعی پوزیشن سنبھال لی تو میجر شفقت کو ڈی کمپنی کے ہمراہ واپس آنے کا حکم ملا۔ میجر شفقت ‘ بٹالین ہیڈ کوارٹر پہنچے تو کرنل قریشی نے پوچھا کتنے جوان شہید ہوئے ۔میجر شفقت نے بتایا صرف دو جوان وہ بھی واپس آتے ہوئے اپنی ہی بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر شہید ہوئے ۔بھارتی فوج ہمارا ایک بھی جوان شہید نہیں کرسکی۔جبکہ اسی علاقے سے بھارتی فوج تین دن تک اپنے فوجیوں کی نعشیں اٹھاتی رہی ۔میجر شفقت کو محافظ لاہور کے خطاب کے علاوہ جنرل محمدایوب خان نے ستارہ جرات سے بھی نوازا ۔ یہ ہیں پاکستان کے وہ بہادر سپوت
جو نہ گولیوں سے ڈرتے ہیں نہ بارود سے جن کا مقصد صرف وطن کے چپے چپے کی حفاظت کرنا ہے زندہ قومیں اپنے ان بہادر ہیروز کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتیں یہ ہیرو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ اے راہ ھق کے شہیدو وفا کی تصویرو تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔
Pakistan zndabad Pakistan army zndabad isi zndabad.

27/05/2019
28 مئی یوم تکبیر پاکستان بھر میں منایا جائے گا. یہ وہ دن ہے جب پاکستان نے انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں دھماکے کر ک...
27/05/2019

28 مئی یوم تکبیر پاکستان بھر میں منایا جائے گا. یہ وہ دن ہے جب پاکستان نے انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں دھماکے کر کے اپنے ایٹمی قوت ہونے کا ثبوت دیا تھا اور انڈیا پر اپنی برتری واضح کر دی تھی۔
کل ہم نے بھرپور طریقے سے یوم تکبیر کا دن منانا ہے۔ ایک طرف ہم ایٹمی قوت ہونے کی خوشی منائیں گے تو دوسری طرف دشمن کو یہ بتائیں گے کہ ہمیں کمزور نہ سمجھے ہم ہر لحاظ سے مضبوط اور مستحکم ہیں۔

افواج پاکستان زندہ باد 🏹
پاکستان پائندہ باد 🇵🇰.
Pakistan zndabad Pakistan army zndabad isi zndabad.

Address

Charsadda

Telephone

03161997466

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PAF acadmy Resalfur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to PAF acadmy Resalfur:

Share

Category