05/06/2025
کچھ دن پہلے ساہیوال سے میرے ایک دوست، جو ایک ٹرک اڈے کے مالک ہے، نے مجھے فون کیا۔ اس کی آواز میں پریشانی تھی۔ کہنے لگا، "میں ایک بڑی مشکل میں پھنس گیا ہوں، کچھ سمجھ نہیں آ رہا، آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔"
میں نے اُس سے کہا، "کوئی بات نہیں، سکون سے ساری بات بتاؤ۔"
اس نے بتایا کہ میں نے ایک گاڑی ہڑپہ سے مہیڑ، دادو، سندھ بھجوائی تھی، جس پر مونجی لوڈ تھی۔ یہ گاڑی ایک لیبر کے ٹھیکیدار، نے بک کروائی تھی، جو کہ پہلے بھی گاڑیاں منگوا لیا کرتا تھا۔ جب گاڑی مہیڑ پہنچی تو آدھی گاڑی خالی ہونے کے بعد مل مالک نے اچانک ان لوڈنگ رکوا دی۔ اُس نے کہا کہ مال کی وہ کوالٹی نہیں ہے جس کے میں نے پیسے دیے تھے، اس لیے میں یہ مال نہیں اتاروں گا۔
جس کے بعد مل مالک نے بیوپاری کو فون کیا، جس سے اُس نے مال خریدا تھا، اور اسے کہا کہ تم نے جو مال بھیجا ہے وہ خراب ہے۔ مل مالک اور بیوپاری کا جھگڑا شروع ہو گیا۔ اب صورتحال یہ ہو گئی کہ مل مالک، جو نہ صرف مال کا خریدار تھا بلکہ پیسے بھی خود بیوپاری کو بھیج چکا تھا، وہ گاڑی والے سے مطالبہ کرنے لگا کہ بیوپاری کو پکڑ کر میرے پاس لاؤ، ورنہ میں گاڑی نہیں چھوڑوں گا۔
دوسری طرف اڈہ مالک بیوپاری سے بار بار رابطہ کرتا رہا لیکن وہ ٹالتا رہا، پھر بیوپاری نے اپنا فون بند کر لیا۔ جانچ پڑتال کرنے پر پتا چلا کہ وہ مظفرگڑھ کا رہنے والا ہے اور اس وقت گھر سے بھی غائب ہے۔
جب لیبر کنٹریکٹر سے پوچھا گیا تو اُس نے صاف کہا، "مجھے اس بیوپاری کے بارے میں زیادہ پتا نہیں، وہ بس مال خریدنے آیا تھا، میں نے اُس پر بھروسہ کر کے آپ سے گاڑی منگوا دی۔"
اب اڈہ مالک نہ بیوپاری تک پہنچ سکتا تھا، نہ مل مالک کو سمجھا سکتا تھا، اور گاڑی کا مالک مسلسل کہہ رہا تھا کہ "میری گاڑی پھنسی ہوئی ہے، ڈرائیور وہاں پریشان ہے، میرا روز کا نقصان ہو رہا ہے، اور عید بھی قریب ہے۔"
جب مل مالک سے بات کی جاتی تو وہ یہی کہتا: "جب تک اُس بیوپاری کو مہیڑ نہیں لاؤ گے، میں گاڑی نہیں چھوڑوں گا۔"
اڈہ مالک نے سندھ کے کچھ اڈہ مالکان، پمپ مالکان اور دوسرے لوگوں سے بھی کہلوایا، کہ گاڑی والے کا اس تنازعے سے کوئی تعلق نہیں، لیکن مل مالک کسی کی بات ماننے کو تیار نہ تھا۔
گاڑی کا مالک آخرکار خود ساہیوال سے مہیڑ گیا، لیکن وہاں بھی کچھ نہ بنا۔ سب کچھ بےکار جا رہا تھا، تو آخر میں اڈہ مالک نے مجھ سے رابطہ کیا۔
---
میں نے ساری بات غور سے سنی۔ میرے نزدیک سب سے اہم سوال یہ تھا: ذمہ دار کون ہے؟
* گاڑی کا مالک؟ نہیں۔
* ڈرائیور؟ ہرگز نہیں۔
* اڈہ مالک؟ صرف اتنا کہ اس نے گاڑی بھجوائی، لیکن وہ بیوپاری کا ضامن نہیں تھا۔
یہ معاملہ خریدار اور بیچنے والے کے درمیان تھا۔ گاڑی کا کام صرف مال پہنچانا تھا، وہ مال کا معیار یا پیسے کا معاملہ نہیں جانتا۔ اس لیے اس پر یہ بوجھ ڈالنا کہ وہ بیوپاری کو لے کر آئے، سراسر غلط تھا۔
جب یہ بات میرے علم میں آئی، تو میں نے فوری طور پر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین، جناب امداد حسین نقوی سے بات کی۔ انہوں نے فوراً ڈی آئی جی سندھ پولیس سے رابطہ کیا، جنہوں نے دادو کے ایس ایس پی سعود مگسی صاحب کے ذمے لگایا کہ وہ گاڑی اور ڈرائیورز کو ریلیز کروائیں۔
یہاں ایک بات اور اہم ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی ہدایت کے باوجود، مقامی ایس ایچ او کو مل مالک کو سمجھانے میں ڈیڑھ دن لگ گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ علاقوں میں قانون کمزور پڑ جاتا ہے، اور بات زبردستی اور اثر و رسوخ پر آ جاتی ہے۔
آخرکار، ہماری مسلسل کوشش اور پولیس کی مدد سے تقریباً دو ہفتے بعد گاڑی اور ڈرائیورز کو چھوڑ دیا گیا۔
---
یہ کوئی عام واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا سبق ہے جو ہر ٹرانسپورٹر، اڈہ مالک، اور گاڑی مالک کو ذہن نشین کر لینا چاہیے۔
1- گاڑیوں کا بندوبست کرتے وقت مکمل پس منظر جانچنا لازم ہے – صرف تعارف یا وقتی ملاقات کی بنیاد پر گاڑی مہیا کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
2- ٹرانسپورٹر صرف مال کی بروقت ترسیل کا ذمہ دار ہوتا ہے، نہ کہ مال کی کوالٹی یا تجارتی معاہدے کا فریق – یہ نکتہ قانونی طور پر بھی واضح ہے، جس کا احترام ہر فریق پر لازم ہے۔
3- اگر کسی بھی معاملے میں ٹرانسپورٹرز کا استحصال ہو تو اجتماعی فورمز جیسے ایسوسی ایشنز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت کردار ادا کریں – یہی وہ تعاون ہے جو انفرادی کمزوری کو اجتماعی طاقت میں بدلتا ہے۔
آخر میں، میں امداد حسین نقوی صاحب، ڈی آئی جی جناب پیر محمد شاہ، ایس ایس پی دادو سعود مگسی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک مظلوم گاڑی والے اور اُس کے ڈرائیورز کی رہائی میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ ہماری مشترکہ جدوجہد تھی اور اس سے ثابت ہوا کہ اگر نیت صاف ہو، موقف درست ہو، اور تعاون کا جذبہ ہو تو بڑا سے بڑا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے۔
۔
منجانب:
محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ
صدر:آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن