20/08/2025
کیا اُوبر اِک کینسر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاک ٹیکسی کے صدر محمد اقبال کھوکھر نے زیرِ لف دو تصاویر اپ لوڈ کی ہیں جن میں بارسلونا ٹیکسی پر اُوبر بطور کینسر حملہ آور ہے،،،
کیا اُوبر اِک کینسر ہے؟ یاد رہے کینسر ایک ایسا موذی مرض ہے جو جسم میں خلیات کی خرابی سے پیدا ہوتا ہے اور پھر انسانی جسم کے اندر ہی پنپتے ہوئے جسم کے دیگر افعال کو متاثر کرنا اور خراب کرنا شروع کرتا ہے،،،
یہ اُوبر بھی میرے خیال میں کچھ اِسی طرح کی بیماری ہے جو مقامی سیکٹر میں مختلف حیلوں بہانوں اور ممبر بننے یعنی ایپ آئی ڈی بنوانے پر سہولت کاروں کو چند پیسوں کا لالچ دیتا ہے، ساتھ ہی ساتھ سروس پر اپنا کمیشن کم رکھتا ہے تاکہ مقامی سیکٹر میں وہ بطور سروس پرووائڈر اپنی جگہ بنا لے اور جب وہ اپنی جگہ کسٹمر اور سروس سیکٹر میں مضبوط کرلیتا ہے تو پھر گنگھرو رادہ کے وہ جیسے چاہے ناچے والے حساب سے اپنی من مانی پر آجاتا ہے، جب زیادہ من مانی پر مقامی سیکٹر یعنی ٹیکسی کچھ بے جان سی مزاحمت دکھانے پر آئے تو وہ اپنا مالیاتی اثر و رسوخ استعمال کرکے متعلقہ اداروں سے پرائیویٹ ہائیر کی اجازت لے کر مقامی ٹیکسی کو ٹکے ٹوکری کردیتا ہے،،،
یاد رکھیں کسٹمر یا گاہک کسی کا سگا نہیں ہوتا اُس نے اپنی جیب دیکھتے ہوئے اُس طرف جانا ہے جہاں اُسے سستی چیز ملے اور مہنگی وہ تب لیتا ہے جب اُسے کوئی اور آسرا نہ دکھائی دے، یہی حال ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ہائی ڈیمانڈ اور لو ڈیمانڈ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جس میں کسٹمر کو ایک طرح کا بلیک میل کیا جاتا ہے کہ یہی کچھ ہے لینا ہے تو لو ورنہ دھکے کھاتے رہو، اور یہی حال وہ اپنے سے جُڑے سروس پرووائڈرز کا کرتا ہے کہ یہ ریٹ منظور ہے تو لے جاؤ سواری نہیں تو جلاتے رہو اپنا تیل سواری کی تلاش میں جس کی دو تین مثالیں انگلینڈ کے ایک فیس بک پیج سے لی گئی تصاویر سے ظاہر ہے جن میں سفر کا فاصلہ بہت زیادہ ہے جبکہ آفر کیا گیا ریٹ بہت کم،،،
اگر ایسی ہی صورتحال آپ لوگ یہاں دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر کریں شوق سے اُوبر کو پروموٹ بعد میں روتے رہے گا جب آپ کی اپنی لاکھوں کی انوسٹمنٹ آپ کا منہ چڑا رہی ہوگی،،،
حکومت نے تو ہر ایپ یا سروس پروائڈر کو اجازت دینی ہے کہ وہ کام کرے بظاہر آپ کا یہ اعتراض بھی درست ہے کہ اُوبر غیر قانونی نہیں ہے لیکن آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ آپ کا مستقبل کہیں 50 سے 20 پہ تو نہیں آجائے گا، ویسے بھی ہم بہت سی ایسی چزیں کھانا چھوڑ دیتے ہیں جو بظاہر تو حلال اور درست ہوتی ہیں لیکن اُن کے کھانے سے ہماری صحت خراب ہونے کا امکان بھی موجود ہوتا ہے،،،
سوچئیے وقتی لالچ کو کچھ سائیڈ پہ رکھ کے، اپنا اور اپنے بچوں کا روزگار باعزت بنائیے ناکہ رادہ ناچتی بھی رہے اور گھنگرو بھی توڑتی رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
BDK-(63)/2025