Pillers Of Eman

Pillers Of Eman Dubai home Shifting and packing 0525191786

Dubai home Shifting and packing 0525191786
14/07/2019

Dubai home Shifting and packing 0525191786

28/07/2018

🌹 *پریشانیوں کا حل*🌹

〰〰🌿💐🌿〰


*ٹھرئیے*

*پہلے اپنے اعمال دیکھئے*

🌹وہ میرے سامنے دو زانو بیٹھا اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی جانب دیکھ رہا تھا
🍁 اور کچھ سوچتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹ رہا تھا ۔
بالآخر میں نے ہی خاموشی توڑی اور پوچھا کہ
🍃کیسے آنا ہوا بھائی جان ؟
امام صاحب ! میں بہت پریشان ہوں ۔
🥀"کیا پریشانی ہے؟"
میں نے پوچھا ۔
جواب میں وہ تھوڑی دیر خاموش ہوگیا
🌸جیسے کہ ہمت جمع کر رہا ہو ،
اور پھر اس نے کہنا شروع کیا ۔
*امام صاحب ! میں بہت پریشان ہوں ،*
🍁 *کوئی بھی کام درست نہیں ہوتا بلکہ ہر کام میں رکاوٹ ،*
*ہر کام اُلٹا ہوجاتا ہے ۔*
☘ *میرے پاس کافی پیسہ تھا ،*
*جو کہ کاروبار میں ڈوب گیا ،*
*جو بھی کاروبار شروع کیا*
🥀 *وہ ٹھپ ہوگیا ۔*
*میں جو بھی کام شروع کرتا ہوں ،*
*ناکامی میرا استقبال کرتی ہے ۔*
🌷 *بیوی سے بھی ہمیشہ جھگڑا رہتا ہے ۔*
*گھر میں بھی بےسکونی ۔*
♣ *مجھے لگتا ہے کسی نے مجھ پر جادو کروا دیا ہے ۔*
*اور میں اسی وجہ سے آپ کے پاس آیا ہوں ۔*
🍂 *شیخ صاحب میرے رشتے دار ہیں ۔*
اس نے میرے ایک مقتدی کا نام لیا اور انہوں نے ہی آپ کا بتایا ہے ۔
🌿 *امام صاحب! بہت اُمید لے کر آیا ہوں ۔*
میں نے کہا کہ
🍃 *ان شاءاللہ آپ کی سب پریشانیاں ختم ہوجائیں گی*
*لیکن پہلے میرے چند سوالات کے جواب دیں ۔*
☘ اس کی آنکھوں میں پہلی بار مجھے چمک محسوس ہوئی ۔
اس نے کہا
*جی ؟*
🌸 *آپ نماز پڑھتے ہیں؟*
میں نے پوچھا .
*اس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا ۔*
📚 *قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں؟*
*جواب اس بار بھی نفی میں ۔*
💵 *صدقہ کرتے ہیں ؟*
جواب ملا کہ
*نہیں ۔*
میں نے کہا
📌 *بھائی غور سے سننا ،*
*میرے پاس یا کسی بھی عامل کے پاس آپ کے مسائل کا حل نہیں ہے ۔*
📍 *میرے بھائی !*
*جادو برحق ھے*
📍 *اور یہ بھی درست ہے*
*کہ آج کل جادو عام ہے*
📍 *لیکن یہ بھی حق ہے کہ اس کا علاج بھی ہر ایک مسلمان کی دسترس میں ہے ۔*
🍃 *قرآن کی آخری دو سورتیں*
*(الفلق اور الناس)*
☘ *جن کو "معوّذتین "کہتے ہیں ،*
*جادو کو توڑ دیتی ہیں ،*
*بشرطیکہ یقین کامل ہو ۔*
🍁 *اور آپ کا جو مسئلہ ہے*
*وہ جادو کا نہیں ہے ۔*
یہ سن کر وہ بجھ سا گیا
🥀 اور یک دم اس کے چہرے کی اُداسی بڑھ گئی .
🎫 *لیکن آپ کو میں ایک تعویذ دوں گا اور پانی پڑھ کے دوں گا ۔*
میں نے یہ کہا تو سن کر وہ بہت خوش ہوگیا ۔
🍁 *لیکن ،*
میں نے اپنی بات جاری رکھی ،
*اس عمل کے دوران آپ نے نماز پابندی سے پڑھنی ہے*
📚 *اور روز صبح نمازِ فجر کے بعد قران کریم کی تلاوت کرنی ہے ۔*
*چاھے ایک یا رکوع ہی پڑھو ۔*
*ایک نماز بھی قضا نہ ہو*
☘ *ورنہ یہ تعویذ کام نہیں کرے گا ۔*
*آپ ایک ہفتے کے بعد آنا اور یہ تعویذ بھی ساتھ لے کر آنا ۔*
🍃 وہ خوشی خوشی چلاگیا ۔
ایک ہفتے بعد وہ دوبارہ میرے سامنے تھا ۔
🌿لیکن پہلے سے مختلف حلیے میں ،
اس بار اُس نے سر پر ٹوپی بھی لگا رکھی تھی
🌷اور چہرے سے ہشاش بشاش لگ رہا تھا
*ہاں جی ؟*
*کیا حال ہیں آپ کے ؟*
میں نے پوچھا .
اس نے بتایا کہ
💐 *اس کے تمام معاملات تقریبا حل ہوچکے ہیں ۔*
*اب بیوی بھی جھگڑا نہیں کرتی*
☘ *اور امام صاحب!*
*یہ سب آپ کے اس تعویذ کا نتیجہ ہے .*
اس نے جیب سے وہ تعویذ بڑی احتیاط سے نکال کر میرے ہاتھ میں رکھ دیا ۔
🎫میں نے تعویذ اسے واپس کرتے ہوئے کہا کہ
🌿 *اسے کھولو ۔*
اس نے سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھا ۔
🍃میں نے دوبارہ کہا
*کھولو ۔*
*اس نے کھولا تو اس کی آنکھیں مارے حیرت کے پھیل گئیں ۔*
🗂 *وہ تو سادہ سا کاغذ کا ٹکڑا تھا*
میں نے اس کی حیرت دور کرتے ہوئے کہا کہ
📍 *میں نے آپ کو کوئی تعویذ دیا ہی نہیں تھا*
📍 *بلکہ اصل تو وہ آپ کے اعمال ہیں ۔*
📍 *آپ کو سمجھانا چاہتا تھا کہ*
📍 *عامل حضرات کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ،*
📍 *اور یہ سوچنا کہ ایک تعویذ سے ہمارے کام بن جائیں گے ،*
📍 *اور اپنے اعمال کی فکر نہ کرنا گمراہی ہے ۔*
📍 *اسی وجہ سے آج کل سچے عاملین بہت کم اور لٹیرے بہت زیادہ ہیں ،*
📍 *جو ہمارا مال اور ایمان تک لوٹ لیتے ہیں ۔*
وہ سمجھ گیا اور بہت خوش ہوا ۔
کہنے لگا کہ
🍃 *مجھے سمجھ آگئی امام صاحب ۔*
*اور آپ کا بہت بہت شکریہ ۔*
وہ چلاگیا ۔
🌿پھر وہ پابندی سے مجھے مسجد میں نظر آنے لگا ۔
اسے دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے ۔
☘ *ہمارے معاشرے کی اکثریت اسی طرف مائل ہوچکی ہے*
*اور اپنی ہر پریشانی کو جادو کے ساتھ جوڑ دیتی ہے*
☘ *حالانکہ اکثر اوقات حالات ہمارے اعمال بد کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔*
🍃 *لوگ اپنے اعمال بد درست نہیں کرنا چاہتے*
*اور چاہتے ہیں کہ سکون بھی میسر آئے ۔*
🍁 *ایسا ناممکن ہے ۔*
*ہماری تمام پریشانیوں کا حل دین میں ہے ۔*
💐 *اللہ تعالی اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے ۔*

🍃 *آپ کیا کہتے ہیں؟*

🍃🌷☘💐☘🌷🍃

27/07/2018

🌖🌖 *سورج اور چاند گرہن*🌖🌖

ماہرین فلکیات کے مطابق آج رات پاکستان میں چاند گرہن ہوگا۔سورج اور چاند گرہن کےبارے میں متعدد معاشرے افراط و تفریط کاشکار نظر آتے ہیں ہیں۔ کہیں تو سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لئے پارٹیاں منعقد کی جاتی ہیں تو کہیں اس دوران حاملہ خواتین کو کمروں میں بند کر دیا جاتا ہے اور انہیں چھری، کانٹے وغیرہ کے استعمال سے روک دیاجاتاہے تاکہ بچے پیدائشی نقص سے پاک پیداہوں۔
رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں جب سب سے پہلا سورج گرہن ہوا اتفاق سے اسی دن آپ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی تھی۔ لہذا لوگ کہنے لگے کہ سورج گرہن آپﷺ کے بیٹے کی وفات کی وجہ سے ہوا ہے۔ حضورﷺ نے اس ضعیف الاعتقادی کو ان الفاظ سے رد فرمایا:
إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَقُومُوا فَصَلُّوا
(صحيح بخاری: 1041)
سورج اور چاند کسی کے مرنے سے گرہن نہیں ہوتے۔ یہ تو قدرت الٰہی کی دو نشانیاں ہیں جب انہیں گرہن ہوتے دیکھو تو نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہو۔
ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ان کو گہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا۔ چنانچہ جب تم انہیں اس حالت میں دیکھو تو اللہ تعالی سے دعا کرو اور نماز پڑھو حتیٰ کہ سورج گہن کھل جائے۔ (صحيح بخاری: 1043)
صحیح بخاری ہی کی ایک اور حدیث میں مرقوم ہےکہ آپﷺ نے فرمایا:
’’چاند اور سورج کا گرہن آثار قدرت ہیں۔ کسی کے مرنے، جینے (یا کسی اوروجہ)سے نمودار نہیں ہوتے۔ بلکہ اللہ اپنے بندوں کو عبرت دلانے کے لئے ظاہر فرماتا ہے۔ اگر تم ایسے آثار دیکھو تو جلد از جلد دعا، استغفار اور یاد الٰہی کی طرف رجوع کرو۔‘‘ (صحیح بخاری : 1059)
لہذا جب ایسا معاملہ پیش آئے تو اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ اس نظارہ سے محظوظ ہونے اور توہمات کا شکار ہونے بجائے دربار خداوندی میں حاضری دیں اور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں۔ کیونکہ سورج اور چاند گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ان كى ذریعے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ڈراتاہے اور ان کے ذہنوں میں قیامت کا منظر تازہ کرتا ہے کہ اس دن سورج لپیٹ دیا جائے گا اور ستارے توڑ دئیے جائیں گے، سورج اور چاند جمع کردئیے جائیں گے، وہ دونوں بے نور ہو جائیں گے۔ سرورکائنات ﷺ کا شمس و قمر کے گہنائے جانے پر عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ گھبرا اٹھتے اور نماز پڑھتے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ جب سورج گرہن ہوا تو آپﷺ نے ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا:
أَنَّ الصَّلاَةَ جَامِعَةٌ
’’نماز (تمہیں) جمع کرنے والی ہے۔(تمہیں بلا رہی ہے۔)‘‘ (صحیح بخاری : 1045)
سورج و چاند گرہن کی نماز کا طریقہ
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ
نبی كريم ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن لگا۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھائی۔ آپ نے سورہ بقرۃ کی مقدار کے قریب لمبا قیام کیا پھر لمبار رکوع کیا، پھر سر اٹھاکر پہلے قیام سے کم لمبا قیام کیا، پھر پہلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا، پھر (قومہ کرکے) دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوکر پچھلے قیام سے کم لمبا قیام کیا پھر پچھلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا پھر پچھلے قیام سے کم لمبا قیام کیا پھر پچھلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا ، پھر دو سجدے کیے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیرا۔ اتنی دیر میں سورج روشن ہوچکا تھا۔ پھر آپﷺ نے لوگوں کو وعظ بھی کیا۔ (صحیح بخاری : ١٠٥٢)
گرہن کی نماز کے طریقے میں اگرچہ اختلاف موجود ہے لیکن جمہور نے اسی طریقہ کو ترجیح دی ہے۔
نماز کسوف سے ملحقہ مسائل
نماز کسوف کے حوالے سے درج ذیل مسائل ملحوظ رکھنا ضروری ہیں:

نماز کسوف کا پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔

نما ز کسوف مسجد میں ہی ادا کی جائے گی۔

نماز کسوف کے لیے اذان و اقامت نہیں کہی جائے گی۔

نماز کسوف کا باجماعت ادا کرنا بہتر ہے۔

راجح قول کے مطابق نماز کسوف میں قراء ت جہری ہو گی۔

پہلے رکوع کے بعد قومہ میں سورۃ فاتحہ دوبارہ نہیں پڑھی جائے گی۔

26/07/2018

JazakumAllah kher khna.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کا سلوک کیا گیا اور اس نے اس نیکی کرنے والے سے
جزاك الله خيراً
”اللہ تعالیٰ تم کوبہتر badla dy دلا دے“کہا اس نے اس کی پوری پوری تعریف کر دی“
جامہ ترمیزی جلد ١ ، ٢١٠١ -حسن

اگر لوگوں کو جزاك الله خيراً کہنے کا ثواب معلوم ہو جائے تو وہ ایک دوسرے کو یہ بہت زیادہ کہنے لگ جائے
مصنفه ابنُ أبي شيبة ٢٦٥١٩

ایک بار اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جزاك الله خيراً یعنی الله آپ کو اچّھا صلہ عطا فرماۓ کہا تو ان کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا
یعنی "آپ کو بھی ، الله آپ کو بھی اچّھا صلہ عطا فرماۓ کہا"
صحيح ابن حبان ٧٤٣٦-حسن

سنن ابی داؤد جلد ۳ ۱۳۸۳ صحیح بخاری

26/07/2018

🌹👧𑨧عوذ باللہ من الشیطان الرجیم*
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*🌳دعا کیجئے*
*دعا نمبر 3*《پارٹ 2》
*👦👧ازواج اور اولاد کے لئے دعائیں*
*👶نیک اور پاکیزہ اولاد کے حصول کی دعا*
*1⃣رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۝*
اے میرے رب! مجھے صالح اولاد عطا فرما۔

*📿زکریا علیہ السلام کی دعا*

*2⃣رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّأَنْتَ خَیْرُ الْوَارِثِیْنَ۝*
اے میرے رب! تو مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہتر ہے۔

*3⃣رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ۝*

اے میرے رب! مجھے اپنی طرف سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تو ہی دعا سننے والا ہے۔

*📿اولاد کے حصول کے لئے استغفار کرنا*

*4⃣فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ اِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ۝ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِدْرَارًا۝ وَیُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِیْنَ . . . ۝*

(نوح علیہ السلام کہتے ہیں)تو میں نے کہا کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، بلاشبہ وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔ اور تمہاری مال اور بیٹوں سے مدد کرے گا . . . ۔

*5⃣اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاهْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ*

اے الله! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔

*(زکریا علیہ السلام کی دعا) اولاد کی دعا کرنا جو علمی وارث بنے*

*6⃣ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا ۝ إِذْ نَادٰى رَبَّهُ نِدَآءً خَفِيًّا ۝ قَالَ رَبِّ إِنِّىْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّىْ وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيًّا ۝ وَإِنِّى خِفْتُ الْمَوَالِىَ مِنْ وَرَآءِىْ وَكَانَتِ امْرَأَتِىْ عَاقِرًا فَهَبْ لِىْ مِنْ لَّدُنكَ وَلِيًّا ۝ يَرِثُنِىْ وَيَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا ۝*

یہ آپ کے رب کی (اس) رحمت کا ذکر ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔ جب اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا۔ کہا: اے میرے رب! بے شک میری ہڈیاں بوسیدہ ہو چکیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر کے بال سفید ہو گئے، تاہم اے میرے رب! میں تجھے پکار کر کبھی محروم نہیں رہا اور بےشک میں اپنے پیچھے اپنے وارثوں (کی برائیوں سے) ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو اپنی پاس سے مجھے ایک وارث عطا فرما۔ جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ انسان بنانا۔

*📿اولاد کو اللہ کے راستے میں قبول کرنے کی دعا*

*7⃣رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۝*

اے میرے رب! بے شک میں نے تیرے لیے اس کی نذر مانی ہے جو میرے پیٹ میں ہے کہ آزاد چھوڑا ہوا ہو گا، سو تو مجھ سے قبول فرما، بے شک تو ہی سب کچھ سننے والا ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔

*👺اولاد کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھنے کی دعا*

*8⃣اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِكَ وَذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۝*

بے شک میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

*9⃣بِاسْمِ اللهِ اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا*

الله کے نام کے ساتھ۔ اے الله! ہمیں شیطان سے بچا اور شیطان کو اس سے دور رکھ جو تو ہمیں عطا فرمائے۔

*🍃اولاد کو شرک سے محفوظ رکھنے کی دعا کرنا*

*🔟وَاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ۝*

اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بھی(اس بات سے) بچائے رکھنا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔

*🕌اولاد کی نماز قائم کرنے کی دعا کرنا*

*1⃣1⃣رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ۝*

اے میرے رب! مجھے اور میری او لاد کو نماز قائم رکھنے والا بنا۔ اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما۔

*📯اولاد کی اصلاح کے لئے دعا*

*2⃣1⃣رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۝*

اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہے اور یہ بھی کہ میں ایسے اچھے عمل کروں جو تجھے پسند ہوں اور میری خاطر میری اولاد کی اصلاح کر، بے شک میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور بلاشبہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔

*🍃ایسی اولاد سے پناہ مانگنا جو سرکش بن جائے*

*3⃣1⃣اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُبِكَ مِنْ جَارِ السُّوْءِ وَمِنْ زَوْجٍ تُشَیِّبُنِیْ قَبْلَ الْمَشِیْبِ وَمِنْ وَلَدٍ یَكُوْنُ عَلَیَّ رَبًّا وَمِنْ مَالٍ یَكُوْنُ عَلَیَّ عَذَابًا وَمِنْ خَلِیْلٍ مَاكِرٍعَیْنُهُ تَرَانِیْ وَقَلْبُهُ یَرْعَانِیْ اِنْ رَاٰی حَسَنَةً دَفَنَهَا وَاِذَا رَاٰی سَیِّئَةً أَذَاعَهَا*

اے الله!بے شک میں تیری پناہ لیتا ہوں برے پڑوسی سے اور ایسے زوج سے جو مجھے بڑھاپے سے پہلے بوڑھا کردے اور ایسی اولاد سے جو میرا آقا بن بیٹھے اور ایسے مال سے جو میرے لیے باعث عذاب بن جائے اور ایسے چال باز دوست سے جس کی آنکھیں مجھے دیکھ رہی ہوں اور اس کا دل میری نگرانی کرتا ہو اگر وہ کوئی نیکی (کی بات) دیکھے تو اس کو دبا دے اور اگر کوئی برائی (کی بات ) دیکھے تو اسے نشر کردے۔

*🍃اولاد کی حفاظت کی دعا*

*4⃣1⃣أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَیْطَانٍ وَّهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَیْنٍ لَامَّةٍ*

میں پناہ لیتا ہوں الله کے کامل کلمات کے ذریعے ہر شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے۔

*(إبراهيم علیہ السلام کی دعا) اولاد کی دینی و دنیاوی ضروریات پوری ہونے کی دعا*

*5⃣1⃣رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْٓ اِلَیْھِمْ وَارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّھُمْ یَشْكُرُوْنَ ۝*

اے ہمارے رب! بےشک میں نے اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے قابل احترام گھر کے پاس ایسی وادی میں لا بسایا ہے جہاں کوئی کھیتی نہیں، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ سو لوگوں کے دل ایسے کر دے کہ ان کی طرف مائل رہیں اور انہیں پھلوں سے رزق عطا کر، تاکہ وہ شکر کریں۔

*بچوں کو علم و حکمت کی دعا دینا*

*6⃣1⃣اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ*

اے الله اسے کتاب (قرآن) کی تعلیم دے۔

*7⃣1⃣اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِکْمَةَ*

اے الله اسے حکمت (سنت) سکھا۔

*8⃣1⃣اَللّٰهُمَّ فَقِّهْهُ فِیْ الدِّیْنِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِیْلَ*

اے الله! اسے دین میں سمجھ عطا فرما اور اسے (کتاب کی) تاویل و تفسیر سکھا۔

*بچوں کے درست فیصلہ کرنے کی دعا*

*9⃣1⃣اَللّٰهُمَّ اهْدِهِ*

اے الله! اسے ہدایت دے۔

*0⃣2⃣اَللّٰهُمَّ اهْدِهَا*

اے الله! اس بچی کو ہدایت دے۔

*بچوں کی لمبی زندگی کی دعا*

*1⃣2⃣اَللّٰهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَأَطِلْ حَیَاتَهُ، وَاغْفِرْ لَهُ*

اے الله! اس کے مال واولاد کوزیادہ کر، اس کی زندگی لمبی کر اور اسے بخش دے۔

*🍱اولاد کے رزق میں برکت کی دعا*

*2⃣2⃣اَللّٰهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِکْ لَهُ فِیْمَا أَعْطَیْتَهُ*

اے الله! اس کے مال و اولاد کو زیادہ کر اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے، اس میں اسے برکت عطا فرما۔

*🍗🥛اولاد کے کهانےمیں برکت کی دعا*

*3⃣2⃣اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِی اللَّحْمِ وَالْمَاءِ*

اے الله! ان کے لیے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما۔

*فرمانبردار اولاد کو دی جانے والی دعا*

*4⃣2⃣ جَزَاكَ اللهُ خَیْرًا وَرَضِیَ عَنْكَ كَمَا بَرَرْتَنِیْ كَبِیْرًا*

تمہیں الله بہترین جزا دے اور تم سے راضی ہو جیسا کہ تم نے بڑھاپے میں میرے ساتھ نیک سلوک کیا۔

*بچوں کے بچوں کے لئے دعا کرنا/نسلوں کے لئے دعا کرنا*

*5⃣2⃣اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْاَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْاَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْاَنْصَارِ*

اے الله! انصار کی، انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔
*{"انصار" کی جگہ اپنے بچوں کا نام لیں }*

*🚗سفر پرجاتے ہوئے بھی ان کر فکر اور ان کے لئے دعا کرنا*

*6⃣2⃣اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُبِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُوْمِ وَسُوْءِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ*

اے الله! بےشک میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی سختی سے اور لوٹنے کے رنج وغم سے اور نفع کے بعد نقصان سے اور مظلوم کی بد دعا سے اور اہل اور مال اور بچوں میں برا منظر دیکھنے سے۔

*اولاد کی وفات پر پڑھنے کی دعا*

*7⃣2⃣اِنَّا للهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ*

بےشک ہم الله کے لیے ہیں اور بےشک ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

*میت بچے کی بخشش کی دعا*

*8⃣2⃣اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا وَسَلَفًا وَأَجْرًا*

اے الله! اس (بچے) کو ہمارے لیے ہم سے پہلے آگے جا کر انتظام کرنے والا، آگے چلنے والا اور اجر کا باعث بنا دے۔

*میت بچے کو عذاب قبر سے محفوظ رکھنے کی دعا*

*9⃣2⃣اَللّٰهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ*

اے الله! اس کو قبر کے عذاب سے بچا۔

*یتیم بچوں کو دعا دینا*

*0⃣3⃣اَللّٰهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِی أَهْلِهِ وَبَارِکْ لِعَبْدِ اللهِ فِی صَفْقَةِ یَمِیْنِهِ*

اے الله! جعفرکے اہل خانہ کواس (جعفر) کا نعم البدل عطا فرما اور عبدالله کے دائیں ہاتھ کے معاملے میں برکت عطا فرما۔
*●{"جعفر" کی جگہ میت اور "عبداللہ" کی جگہ یتیم بچے کا نام لیں}●*

🌹🍃👧👨‍👩‍👧‍👦
👦🍃🌹

26/07/2018

🍃🍃🌹🍃🍃🌹🍃🍃🌹🍃?
*میں سوچتی ہوں کہ میں صبر کیسے کروں ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔!*
زندگی میں اکثر ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ ہمارے قدم ڈگمگانے لگتے ہیں۔ بالکل اُسی طرح کہ جب ہم ساحلِ سمندر پہ کھڑے ہوں اور لہروں کے پیچھے ہٹنے سے ریت پیروں کے نیچے سے کھسک جائے۔
ایسے ہر موقعے پر میں یہ سوچتی ہوں کہ۔۔۔۔۔۔
"میں صبر کیسے کروں ؟"۔۔۔۔۔۔ اور یقیناً میری ہر مومنہ بہن بھی یہی سوچتی ہوگی ۔ یہاں میں یہ واضح کر دوں کہ "کیسے" سے میری مراد کوئی اکتاہٹ نہیں بلکہ وہ *"احسن طریقہ"* ہے جو مصیبت پڑنے پر ایک مومنہ کو اختیار کرنا چاہیے۔ مصیبت کسی بھی صورت میں آسکتی ہے ۔ کبھی روپے پیسے کی تنگی اور کبھی اُسی روپے پیسے کی ریل پیل۔۔۔۔۔۔دونوں صورتوں میں آزمائش ۔ غرض کبھی مال ، کبھی اولاد ، کبھی صحت اور کبھی روز مرہ کے گھریلو معاملات۔۔۔۔۔۔۔ لیکن مصیبت تو آنی ہے۔ کیونکہ یہ تو اللٰہ تعالٰی کا وعدہ ہے اور حدیثِ پاک سے ثابت ہے کہ ہمارے مال اور ہماری اولاد میں ہمارے لیے آزمائش ہے۔ اِس لیے سب سے پہلے تو مجھے یہ کرنا چاہیے کہ اِن معاملات کو "مصیبت" کی سُرخی سے نکال کر "سرزنش"، "سزا" یا "آزمائش" کی سرخی کے نیچے رکھ دوں.

• سرزنش : اِس طرح کہ ہم ابھی ڈگمگانا شروع ہی ہوتے ہیں کہ اللٰہ کی مہربان ذات ہمیں "ٹوک" کر "روک" دیتی ہے ۔
اور

• سزا : اِس طرح کہ ہم بھٹک جاتے ہیں اور اللٰہ سبحان و تعالٰی ہماری گرفت کر کے ہمیں توبہ کا موقع دیتے ہیں۔ اور ••• الحمدُ اللٰہ معاف بھی کر دیتے ہیں کیونکہ وہ تو "غفور" ہیں اور 'غفر' کے معنی ہی ڈھانپ لینا ہیں۔

• آزمائش : اِس طرح کہ اللٰہ تعالٰی ہمارے صبر و تحمل اور ثابت قدمی کو آزما رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ اُن کو پختہ کرنے کا موقع بھی دے رہے ہوتے ہیں۔

اب یہ سَراسر میرے اوپر ہے کہ میرے کان، آنکھیں اور دماغ اتنے کھلے ہیں کہ نہیں ، کہ میں اپنے پروردگار کے اِن اشاروں کو سمجھ سکوں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر کوئی کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے ۔ کہیں اپنے اور بچوں کے اِخراجات پورے کرنے کے لیے پیسے کم پڑتے ہیں، تو کہیں پیسوں کی اتنی فراوانی ہے لیکن اولاد کی نعمت سے محرومی ہے. کہیں پیسوں کی تنگی ہے اور موسم بے موسم بیماریاں کہ علاج مشکل ، کہیں پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے لیکن صحت روٹھی بیٹھی ہے. کہیں شوہر و بیوی کے نازک رشتے میں آئے دن اُتار چڑھاؤ ، تو کہیں سسرال والوں کی آئے دن کی زیادتیاں ۔۔۔ جس طرح پیسوں کی تنگی ، صحت کے مسائل وغیرہ پر ایک مومنہ کو احسن صبر کرنا چاہیے اُسی طرح شوہر اور سسرال کی زیادتیوں کو بھی درگزر کر دینا چاہیے ۔ مثال کے طور پر موقع ملتے ہی اپنے میکے والوں سے شوہر اور سُسرال کی برائیاں نہیں شروع کرنی چاہیے.

🌻 *کیونکہ حدیثِ پاک صلی علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ غیبت کرنا ایسا ہے جیسے اپنے مُردار بھائی کا گوشت کھانا.* 🌻

یا پلٹ کر بات بے بات زبان درازی نہیں کرنی چاہیے بلکہ سِرے سے درگزر کر دینا چاہیے ۔ اگر کوئی یہ کہتا بھی ہو کہ "تم نے یہ کر دیا، تمھاری وجہ سے وہ ہوگیا، سب تمھاری ذمہ داری ہے ، تم ہمیشہ یہی کرتی ہو ، یا کوئی اور بہتان" جبکہ درحقیقت ایسا نہ ہو تو بھی ۔۔۔۔۔۔"اچھا آئندہ خیال رکھوں گی" یا
"سوری" ۔۔۔۔۔ کہہ کر بات کو وہیں ختم کر دینا چاہیے یا کم از کم کوشش تو کرنی چاہیے. اور اگر مدِمقابل پھر بھی چپ ہونے اور طعنہ زَنی سے باز آنے پر تیار ہی نہ ہو تو خاموشی سے اپنی زبان اور دل و دماغ میں استغفار کی تسبیح جاری رکھنی چاہیے ۔

جیسا کہ ربِ عظیم نے اپنی پیاری *مریم علیہا السلام* کو *سورۃ اٰلِ عمران آیت 34* میں سمجھایا ہے کہ : 🍁 *"مریم اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا."* 🍁

یقیناً اِس سے بہت مدد ملتی ہے کیونکہ سامنے والا کب تک بولے گا یا بولے گی؟ زندگی میں کبھی نہ کبھی وہ تھک کر چپ ہو ہی جائے گا۔ تو بس مجھے چاہیے کہ اُس ایک لمحے کے انتظار میں سالوں محنت کیے جاؤں کہ کبھی نہ کبھی تو سکون کا وہ لمحہ ضرور آتا ہے اور یہ امید ہمیشہ زندہ رہنی چاہیے۔

جیسا کہ *حضرت علی رضی اللہ عنہ* کا قول ہے کہ: 🍂 *"خالص عبادت یہ ہے کہ انسان اپنے پروردگار کے علاوہ کسی سے امید نہ رکھے اور اپنے گناہ کے علاوہ کسی سے نہ ڈرے."* 🍂

اور اگر خدانخواستہ مرتے دم تک وہ لمحہ نہ بھی آیا تو یہ یاد ہونا چاہیے کہ اصل زندگی تو مرنے کے بعد شروع ہوگی۔

اسی طرح وہ 'اللہ کا بندہ' جسے اللٰہ نے میرا شریکِ حیات بنایا ہے جب تھکا ہارا گھر واپس آئے تو میں اُسے خوش و خرم ملوں نہ کہ بچوں پہ چیختی چلّاتی نظر آؤں. اور چائے کے ساتھ دلفریب مسکراہٹ پیش کرنے کی بجائے اپنے پورے دن کے دکھڑے نہ رونے بیٹھ جاؤں یا بات بے بات یہ نہ جتاؤں کہ میں کتنی تھکی ہوئی ہوں اور میں نے کیا کیا کام کیے ہیں ۔ اُس وقت مجھ پر یہ یاد رکھنا فرض ہے کہ جس طرح میں تھکی ہوئی ہوں وہ شخص بھی اُتنا ہی خوار لوٹا ہے ۔ گھر و بچوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے میں تو چار دیواری کے اندر اور اپنی چھت کے نیچے تھی مگر وہ تو فکرِ معاش میں روز گھر سے باہر جاتا ہے کیونکہ وہ تو کفیل بنا دیا گیا ہے اور میرے ساتھ ساتھ اُس کے اوپر بھی بہت بھاری ذمہ داری ہے۔ تو اُس وقت شوہر کا حق بنتا ہے کہ میں اُس کی دلجوئی کروں ، ہلکی پھلکی گفتگو سے اُس کا ذہن بٹاؤں اور ساتھ اگر بچوں کی شوخیاں بھی جمع ہو جائیں تو سبحان اللٰہ۔۔۔ کیونکہ بیشک پورے دن کی تھکن کے بعد عورت کا بھی یہی دل چاہتا ہے کہ کوئی اُسے پیار سے پوچھے، ہمت بڑھائے ، زخموں پر مرہم رکھے یا اگر میں ایک ملازمت پیشہ عورت ہوں تب تو لازماً مجھے اپنے شوہر کی پریشانیوں کو سمجھنا چاہیے کیونکہ مجھے بھی ملازمت کی دشواریوں اور نزاکتوں کا بھر پور اندازہ و تجربہ ہے۔۔۔۔ تو بس پھر اس نیک کام میں پہلا قدم بیوی اٹھا لینا چاہیے تاکہ وہ مظلوم سے ظالم نہ بن جائے کیونکہ جب مظلوم بدلہ لینے کے لیے خود ہی ظالم بن جاتا ہے تو اللٰہ سبحان و تعالٰی کے پاس اپنا اجر کھو دیتا ہے لہٰذا ایک مومنہ کو اپنا معاملہ اپنے رب کے سپرد ہی کر دینا چاہیے ۔

کیونکہ میرے رب تو مجھ سے کہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
☘ "اور اللٰہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے." ☘
(سورۃ آلِ عمران؛ آیت : ۳۰)

اصولاً مجھے تمام تر زیادتیوں ، شکایتوں سے بالاتر ہو کر صرف یہ مدِ نظر رکھنا چاہیے کہ میں اپنی ذمہ داریاں پوری طرح نبھاؤں کیونکہ روزِآخرت ہر فرد اپنے کیے کا جواب دِہ ہوگا۔۔۔۔میں بھی اور وہ بھی جس نے زیادتی کی تھی۔ سو مجھے اپنے معاملات درست رکھنے ہوں گے اور نفسِ مطمئنہ بننا ہوگا تاکہ عذاب سے محفوظ رہ سکوں اور ساتھ ہی ساتھ اُس زیادتی کرنے والے یا والی کے لیے بھی صدقِ دل سے ہدایت کی دعا کرنی ہوگی اور میں ہرگز نہیں چاہوں گی کہ میرا کوئی اپنا یا عزیز کسی بھی درجے کا عذاب جھیلے کیونکہ مجھے اپنے مومن بہن یا بھائی کے لیے وہی پسند کرنے کا حکم دیا گیا ہے ہے جو میں اپنے لیے پسند کروں ۔۔۔۔۔

🌸 اور وہ ذاتِ جو *السمیع، البصیر* ہے مجھ سے کہتی ہے کہ : (سورۃ الطلاق ؛ آیت ۲-۵) :
"اور جو کوئی اللٰہ سے ڈرے گا ۔۔۔
- اللٰہ اُس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دیں گے،
- اللٰہ اُس کو ایسی جگہ سے رزق عطا کریں گے جہاں سے اُس کا گمان بھی نہیں ہوگا،
- اللٰہ اُس کے کام میں آسانی پیدا کر دیں گے،
-اللٰہ اُس کے گناہوں کو معاف کر دیں گے اور اُس کو زبردست ثواب دیں گے۔۔۔" 🌸

غرض یہ کہ ایک مومنہ ایک دن ، ایک مہینے ، ایک سال یہاں تک کہ اپنی پوری زندگی میں کیا کیا نہیں سہتی ۔ گویا یہ مومنہ اپنی ساری زندگی جدوجہد کرنے میں گزار دیتی ہے اور یہ "جہد" دراصل ایک "جہاد" ہے جس کی بدولت وہ ایک مجاہدہ بن جاتی ہے۔ بس ضرورت اِس بات کو سمجھنے اور اپنے عمل میں داخل کرنے کی ہے کیونکہ

~ • حدیثِ پاک ہے کہ • ~
*"عمل کا دارومدار نیت پر ہے."*

اگر وہ جہاد سمجھ کر اپنے تمام مصائب کا مقابلہ کرے گی تو ان شاءاللٰہ بعد الموت اُسے *مجاہدہ* کا درجہ ضرور نصیب ہوگا. رہا غازی یا شہید بنانا تو وہ تو میرے پروردگار، میرے خالق و مالک کے اختیار میں ہے کیونکہ دنیا میں تو ربِّ کائنات کی رحمت و محبت کا صرف 1 فیصد حصہ مل رہا ہے باقی 99 فیصد تو آخرت میں ہی نصیب ہوگا. ان شاء اللہ
※ لہٰذا مجھے اپنی پوری محنت تو کرنی ہی چاہیے نا !

*"رَبَّناَ فَاغفِرلَنَا ذُنُوبَنَا وَ کَفِّر عَنَّا سیِّٰاتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الاَبرَار."*
"اے پروردگار ! ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا." (سورۃ آل عمران : آیت 193)
آمین ثمَّ آمین۔۔۔ ◦
✍🏻 *مہوش کرن*
🍃🍃🌹🍃🍃🌹🍃🍃🌹🍃🍃

خدا کا جوابوہاٹس ایپ سماجی رابطے کی ایک معروف ایپلیکیشن ہے۔ یہ ہر لحاظ سے بلامعاوضہ ہونے کے علاوہ اپنے اندر بعض ایسی خصو...
26/07/2018

خدا کا جواب

وہاٹس ایپ سماجی رابطے کی ایک معروف ایپلیکیشن ہے۔ یہ ہر لحاظ سے بلامعاوضہ ہونے کے علاوہ اپنے اندر بعض ایسی خصوصیات رکھتی ہے جس کی بنا پر لوگ اسے زیادہ سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً بعض دوسری ایپلیکیشن کے برعکس وہاٹس ایپ پیغام بھیجنے والے کو فوراً یہ بتادیتی ہے کہ اس کا پیغام پڑھ لیا گیا ہے۔ یہ چیز نہ صرف پیغام بھیجنے والے کے لیے باعث اطمینان ہوتی ہے بلکہ پیغام پڑھنے یا سننے والوں کو بھی آمادہ کرتی ہے کہ وہ جلد از جلد جواب دے۔ یہ وہ نفسیاتی اثر ہے جو پیغام بھیجنے اور سننے والے دونوں پر لازمی ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے حوالے سے یہ صاف صاف بتادیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف ہر پکارنے والے کی صدا سنتے ہیں بلکہ فوراً ہی جواب بھی دیتے ہیں، (البقرہ186:2)۔ اگر کوئی شخص واقعی مومن ہے تو پھر قرآن مجید کی یہ بات اس کی نفسیات پر بھی بہت گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ ایسا مومن اپنا ہر مسئلہ اپنے رب کی بارگاہ میں پیش کرکے مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کی فریاد سن لی گئی ہے اور فرشتوں کو حکم دے دیا گیا ہے۔

تاہم عام مشاہدہ قرآن مجید کے اس بیان کے برعکس محسوس ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کی بعض دعائیں ساری زندگی قبول نہیں ہوتیں۔ بعض کے مسائل ختم نہیں ہوتے اور ان کی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ بعض لوگوں کی دل پسند چیز اتنی دیر میں ملتی ہے کہ اس کا ملنا نہ ملنا برابر ہوتا ہے۔

اس حوالے سے کچھ باتیں سمجھ لینی چاہئیں۔ اس کے بعد اس قسم کی ساری الجھنیں دور ہوجائیں گی۔ پہلی بات یہ ہے کہ قرآن مجید کے اس بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب ضرور دیتے ہیں، لیکن ان کے فیصلے کے نفاذ میں ان کی حکمت کی بنا پر کچھ وقت لگتا ہے۔ وہ حکمت یہ ہے کہ وہ ایسا نہ کریں تو غیب کا پردہ اٹھ جائے گا اور امتحان ختم ہوجائے گا۔ اس کے بعد کون خدا کا انکار کرسکے گا۔ چنانچہ امتحان کو برقرار رکھنے کے لیے وہ اپنے فیصلے کچھ بعد میں نافذ کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ ضروری نہیں کہ وہ ہمارا مسئلہ ہماری مرضی کے مطابق حل کریں۔ کیونکہ بارہا جو ہم مانگتے ہیں وہ ہمارے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کسی اور طریقے سے ہمارا مسئلہ حل کرتے ہیں۔ ہمیں وہ مل جاتا ہے جو ہمارے لیے بہت بہتر ہوتا ہے اور وہ ہماری دعا ہی کا نتیجہ ہوتا ہے مگر ہمیں اس کا پوری طرح شعور نہیں ہوتا۔

تیسری بات یہ ہے کہ ہم لوگوں کے برعکس جو ہمیشہ فانی دنیا کو ترجیح دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ترجیح ابدی آخرت ہے۔ چنانچہ وہ ہر دعا کے جواب میں پہلے آخرت کے نفع کو دیکھتے ہیں۔ پھر وہاں سے جو بچتا ہے وہ دنیا میں دیتے ہیں۔ وہ یہ نہ کریں تو ہم آخرت میں بالکل مفلس اور قلاش ہوکر پیش ہوں گے اور جتنا اس دنیا میں پریشان ہوتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ روز حشر پریشان ہورہے ہوں گے۔ چنانچہ پہلے وہ وہاں کے مسائل کو دیکھتے ہیں اور پھر دنیا کے مسئلے حل کرتے ہیں۔

چنانچہ ایک بندہ مومن کو خدا سے مایوس ہوئے بغیر دعا مانگتے رہنا چاہیے۔ اسے وہاٹس ایپ کے ایک صارف کی طرح یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ جو کچھ اس کی زبان سے نکل کر بارگاہ اقدس میں پیش ہوا ہے، وہ لازماً سن لیا گیا ہے۔ اس کا کوئی مسیج ان ریڈ نہیں ہے۔ اور جس نے سنا ہے وہ بڑا کریم مگر اتنا ہی حکیم و علیم بھی ہے۔

اصل اطمینان اس پر ہونا چاہیے کہ خدا کے در کا فقیر کائنات کا بادشاہ ہوتا ہے۔ اس کی ہر مانگ پوری ہوتی ہے، چاہے اس دنیا میں ہو یا اگلی دنیا میں۔ چاہے ایک طرح ہو چاہے دوسری طرح۔ یہی وہ یقین ہے جو ایک مومن کو نہ مایوس ہونے دیتا ہے نہ کسی اور کے در پر جانے دیتا ہے۔

By Abu Yahya
YouTube Channel: Inzaar
http://www.inzaar.pk/khuda-ka-jwab-abu-yahya
----
To get books of Abu Yahya, please contact 0345-8206011 or 0332-3051201

وہاٹس ایپ سماجی رابطے کی ایک معروف ایپلیکیشن ہے۔یہ ہر لحاظ سے بلامعاوضہ ہونے کے علاوہ اپنے اندر بعض ایسی خصوصیات رکھتی ہے جس کی بنا پر لوگ اسے زیادہ سے زیادہ استعمال ....

https://islamqa.info/ur/72204enar72204: محبت و عشق والے قصے اور رومانٹك فلميں ديكھنے كا حكمميرا بہترين مشغلہ رومانٹك ڈائ...
26/07/2018

https://islamqa.info/ur/72204enar
72204: محبت و عشق والے قصے اور رومانٹك فلميں ديكھنے كا حكم
ميرا بہترين مشغلہ رومانٹك ڈائجسٹ اور ناول پڑھنا ہے، جن ميں بعض اوقات ہيرو اور ہيروئن كے جنسى تعلقات اور مشاہد كو تفصيلا بيان كيا گيا ہوتا ہے، يہ علم ميں رہے كہ ميں نماز بھى ادا كرتى ہوں، اور پردہ بھى كرتى ہوں، اور بہت زيادہ اللہ كا تقوى اور ڈر بھى ركھتى ہوں، اور ميرا كسى بھى نوجوان سے كوئى تعلق نہيں ہے، ليكن ميں ايك رومانسى لڑكى ہوں، اور موسيقى سننا، ار رومانٹك افلام ديكھنا پسند كرتى ہوں، ليكن مجھے جو چيز پريشان كرتى ہے وہ يہ ناول ہى ہيں.
Published Date: 2007-08-11
الحمد للہ:

اول:

عشق و محبت كے قصے اور ناول پڑھنے كے بہت سے نقصانات ہيں خاص كر جب انہيں پڑھنے والا نوجوان لڑكا يا لڑكى ہو، اور وہ نقصانات يہ ہيں:

ايسے ناول اور قصوں سے شہوت انگيزى، ہيجان پيدا ہوتا ہے، اور گندے اور ردى قسم كے خيالات كو مہيز ملتى ہے، اور دل اس ناول اور قصہ ميں بيان كردہ ہيرو يا اس كے مقابلہ ميں ہيروئن كے ساتھ دلى تعلق پيدا ہوتا ہے، اور وقت وہاں صرف كيا جاتا ہے جس ميں نہ تو دنياوى فائدہ ہے اور نہ ہى دينى فائدہ، بلكہ غالبا اس ميں نقصان ہى ہوتا ہے.

اور شريعت اسلاميہ نے حرام كام كى طرف لے جانے والے وسائل اور دروازوں كو بھى بند كرتے ہوئے حكم ديا ہے كہ:

آنكھيں نيچى ركھى جائيں، اور عورت كے ساتھ خلوت سے بھى منع كيا ہے، اور اسى طرح عورت كا بات چيت ميں نرمى اختيار كرنا بھى منع ہے، جس سے مرد ميں ہيجان اور شہوت پيدا ہو، اور وہ اسے فحاشى پر آمادہ كرے.

اس ميں كوئى شك و شبہ نہيں كہ اس طرح كے قصے اور ناول پڑھنا شريعت كے بالكل مخالف ہے، كيونكہ اس ميں مردوں سے تعلق قائم كرنے اور ان كى تصاوير اور اشكال اور لڑكيوں سے ان كے انداز مخاطب كى نقالى پيدا ہوتى ہے، اس پر مستزاد يہ كہ عشق و محبت كى فاحشہ قسم كى اقسام اور حرام ملاقات پيش كى جاتى ہيں، اور جو چيز بھى اس طرح كى ہو اس كے حرام ہونے ميں كوئى شك و شبہ نہيں.

دوم:

موسيقى سننا حرام ہے، كيونكہ اس كى حرمت كے كئى ايك دلائل احاديث ميں ملتے ہيں، ان دلائل كو ہم نے تفصيلا سوال نمبر ( 5000 ) اور ( 20406 ) كے جوابات ميں بيان كيا ہے، آپ اس كا مطالعہ كريں.

سوم:

رومانٹك فلميں ديكھنے كے متعلق بھى وہى كلام كى جاتى ہے جو رومانٹك ناول پڑھنے ميں، بلكہ فلميں تو اس سے بھى زيادہ نقصان دہ ہيں، اور اس ميں خرابى زيادہ ہے، كيونكہ اس ميں تو ان معانى كو جسمانى شكل اور حركات و مختلف صور ميں سكرين پر پيش كيا جاتا ہے، اور فلم بين اس كا اپنى آنكھوں سے مشاہدہ كرتے ہيں، اور اس ليے بھى كہ اس ميں ستر پوشى نہيں ہوتى بلكہ عورتوں كا ستر ديكھا جاتا ہے، اور فجور كا مطالعہ ہوتا ہے اور پھر اس پر مستزاد يہ كہ اس ميں اس قسم كى موسيقى ہوتى ہے جو شہوت ميں ہيجان پيدا كرتى ہے، اور فحاشى كى دعوت ديتى ہے، جو كسى عقل مند پر مخفى نہيں، تو يہ بہت ہى تعجب والى بات ہے كہ آپ ان افلام كے متعلق پريشان نہ ہوں.

حاصل يہ ہوا كہ: يہ سب كچھ ممنوع ہے، اور يہ حرام اور گناہ كا ذريعہ اور دروازہ ہے، اور اس كام كو انجام دينے والا بہت خطرناك موڑ پر پہنچ چكا ہے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ سبحانہ و تعالى نے ابن آدم پر زنا كا حصہ لكھ ركھا ہے جسے وہ لا محالہ پا كر رہےگا، تو آنكھ كا زنا ديكھنا ہے، اور زبان كا زنا بات چيت كرنا ہے، اور نفس اس كى خواہش كرتا اور چاہتا ہے، اور ف*ج اس سب كى تصديق كرتى ہے، اور جھٹلاتى ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6243 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2657 ).

اور مسلم كى روايت ميں ہے:

" ابن آدم پر اس كا زنا سے حصہ لكھ ديا گيا ہے، وہ اسے لامحالہ پا كر رہيگا، تو آنكھوں كا زنا ديكھنا ہے، اور كانوں كا زنا سننا ہے، اور زبان كا زنا كلام ہے، اور ہاتھ كا زنا پكڑنا ہے، اور پاؤں كا زنا چلنا ہے، اور دل اس كى خواہش كرتا اور چاہتا ہے، اور اس سب كى تصديق يا تكذيب شرمگاہ كرتى ہے "

چنانچہ آپ اس حديث پرغور كريں، اور جن فلموں كا آپ نے ذكر كيا ہے انہيں ديكھيں اور ان كے متعلق غور كريں، كيونكہ ان افلام كا مشاہدہ آنكھوں اور كانوں كے زنا پر مشتمل ہے، اور دل خواہش كرتا اور چاہتا ہے، اللہ تعالى ہميں سلامتى و عافيت سے نوازے.

آپ كو معلوم ہونا چاہيے كہ حرام فعل اور چيز فورى طور پر ترك كرنى ضرورى اور واجب ہے، اور گناہ كے بعد گناہ كرنا دل كو سياہ كر ديتا ہے، جيسا كہ درج ذيل حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا جب بندہ كوئى برائى اور گناہ كرتا ہے تو اس كے دل ميں ايك سياہ نقطہ لگا ديا جاتا ہے، اور جب وہ اس گناہ كو ترك كر كے توبہ كر ليتا ہے تو اس كا دل صاف ہو جاتا ہے، اور اگر وہ دوبارہ وہى گناہ كرتا ہے تو اس ميں زيادتى كر دى جاتى ہے، حتى كہ وہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور يہ وہى ران ( يعنى زنگ ) ہے جسے اللہ تعالى نے ﴿ بلكہ ان كے دلوں پر زنگ چڑھ چكا ہے، اس كے باعث كہ جو وہ عمل كرتے رہے ہيں ﴾. كے الفاظ ميں قرآن مجيد ميں بيان كيا ہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 3334 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 4244 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور آپ يہ بھى علم ركھيں كہ جو كوئى بھى اللہ تعالى كے ليے كوئى چيز ترك كر كے اس سے رك جاتا ہے تو اللہ تعالى اس كے بدلے اسے اس كا نعم البدل عطا فرماتا ہے، اس ليے آپ جتنى جلدى ہو سكے اس سے سچى اور پكى توبہ كريں، اور ان حرام كاموں كو فورا چھوڑ ديں، اور آپ اپنے آپ كو ان كاموں ميں مشغول ركھيں جو آپ كے دين اور دنيا كے ليے فائدہ مند ہوں اور آپ قرآن مجيد كى تلاوت كثرت سے كريں، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور امہات المومنين اور صحابہ كرام رضى اللہ عنہم كى سيرت كا مطالعہ كريں، اور فائدہ مند تقارير اور دروس كى سماعت كريں، جو آپ كو اللہ كى ياد دلائيں، اور آپ كو دار آخرت كى ياد دلاتى رہيں، اور آپ كو حرام سے دور ركھيں.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں اور آپ كو سيدھى راہ كى راہنمائى اور توفيق سے نوازے.

واللہ اعلم .

Address

21c
Dubai
00971

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pillers Of Eman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category