Four Friends

Four Friends حج و عمرہ سروسز کا ایک با اعتماد ادارہ

مغربی کھڑکی کے سامنے — وہ لمحہ جہاں دل بے اختیار جھک جاتا ہےمدینہ منورہ کی فضا میں وہ ایک گوشہ ایسا ہے جہاں وقت تھم سا ج...
28/08/2025

مغربی کھڑکی کے سامنے — وہ لمحہ جہاں دل بے اختیار جھک جاتا ہے

مدینہ منورہ کی فضا میں وہ ایک گوشہ ایسا ہے جہاں وقت تھم سا جاتا ہے۔ یہ ہے روضۂ رسول ﷺ کی مغربی کھڑکی۔ یہاں کھڑا ہونا دل کی سب سے قیمتی آرزو ہے، آنکھوں کے لیے سب سے حسین منظر ہے، اور روح کے لیے سب سے بڑی راحت۔ یہی ہے اصل قرب، وہ قرب جس میں محبوبِ خدا ﷺ کا حجرۂ مبارک اور آپ کا مسکنِ اقدس واقع تھا۔

یہ وہ زمین ہے جس پر اللہ کے محبوب ﷺ نے اپنی زندگی بسر فرمائی، وہیں آپ ﷺ کے مبارک قدموں کی چاپ گونجی، وہیں سے ہدایت کے چراغ روشن ہوئے۔ یہاں کے ذرے ذرے میں نور ہے، فضا میں برکت ہے، اور ہر لمحہ دل کو یقین دلاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے سچائی نے دنیا کو منور کیا۔

یہاں کھڑا ہو کر خیالات مہک جاتے ہیں، دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں، اور زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ قلم لرزنے لگتا ہے، شاعری رک جاتی ہے، اور الفاظ اپنی طاقت کھو بیٹھتے ہیں—کیونکہ یہاں جذبات اپنی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جسے اصل پڑوس کہا جا سکتا ہے: وہ پڑوس جس میں اللہ کا محبوب ﷺ بستا تھا۔

یہی تو وہ بستی ہے جہاں سے صداقت کی باتیں نکلیں، جہاں سے رحمت بھری روایتیں چلیں، اور جہاں سے انسانیت کو روشنی ملی۔ خوش نصیبی یہ ہے کہ کوئی انسان سیرت پڑھتے پڑھتے اچانک اس جگہ کھڑا ہو جائے، وقت کو محسوس کرے اور تاریخ کو اپنے دل سے لگا لے۔ اور سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ کوئی یہاں آ کر یہ دعا مانگے کہ یا اللہ! ہمیں اپنے نبی ﷺ کا پڑوس نصیب فرما، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی اپنے نبی ﷺ کی قربت اور ہمسائیگی نصیب فرما، اور جنت میں بھی ہمیں اُن کے جوار میں جگہ عطا فرما۔ جس طرح تُو نے ہمیں ان کے در کی حاضری کا شرف بخشا ہے، اسی طرح قیامت کے دن بھی ہمیں اُن سے جدا نہ کرنا۔ ہمیں ہمیشہ اُن کے پڑوس اور اُن کی دیدار کی نعمت سے بہرہ مند فرما۔
آمین یا رب العالمین۔


#مسجدِنبوی
#مدینہ
#سیرت

انصار کی فیاضی: میزبانِ رسولﷺ کلثوم بن ھدمؓ اور شہیدِ بدر سعد بن خثیمہؓایک پل کی قربانی عمر بھر کا خیر ثابت ہوتی ہے اور ...
23/08/2025

انصار کی فیاضی: میزبانِ رسولﷺ کلثوم بن ھدمؓ اور شہیدِ بدر سعد بن خثیمہؓ

ایک پل کی قربانی عمر بھر کا خیر ثابت ہوتی ہے اور نیکی میں آگے بڑھنے والے امر ہو جاتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ ایسے ہی بے شمار روشن ستاروں سے بھری پڑی ہے۔ ایسے ہی دو عظیم صحابہ کرام، کلثوم بن ھدمؓ اور سعد بن خثیمہؓ، انصار مدینہ میں سے تھے۔
​یہ دونوں وہ خوش نصیب تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے اپنے گھروں کو اسلام کے مرکز اور مسلمانوں کے لیے پناہ گاہ بنا دیا۔

​کلثوم بن ھدمؓ: میزبانِ رسولؐ

​کلثوم بن ھدمؓ انصاری صحابی تھے اور مدینہ کے قبیلہ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ کے مضافات میں قبا پہنچے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے گھر میں قیام فرمایا۔ اس طرح، حضرت کلثوم بن ھدمؓ کو "میزبانِ رسولؐ" ہونے کا ابدی شرف حاصل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بہت سے دیگر مہاجرین صحابہ کرام نے بھی ان کے گھر میں پناہ لی، جن میں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور ان کے اہل خانہ بھی شامل تھے۔ یہ ان کی فیاضی اور سخاوت کا ثبوت تھا۔ اپ کی وفات ہجرت کے پہلے سال ہی ہوئی اور آپؓ مدینہ میں وفات پانے والے سب سے پہلے صحابہؓ میں سے تھے۔

​سعد بن خثیمہؓ: شہیدِ بدر

​سعد بن خثیمہؓ کا تعلق بھی قبیلہ اوس سے تھا۔ ان کا گھر "منزل الاحزاب" کے نام سے جانا جاتا تھا، جہاں مہاجرین اور انصار کی ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ یہ وہ مبارک گھر تھا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر تشریف لاتے اور صحابہ کرام سے ملاقات کرتے تھے۔ آپؓ ان 12 نقیبوں میں سے تھے جو بیعتِ عقبہ ثانیہ میں منتخب ہوئے تھے۔
​آپؓ کی سب سے بڑی قربانی جنگِ بدر کے موقع پر سامنے آئی۔ جب آپ کے والد نے آپ کو جنگ پر جانے سے روکنا چاہا تو آپ نے کہا: "اگر یہ جنت کے سوا کوئی اور چیز ہوتی تو میں آپ کو ترجیح دیتا۔" یہ کہہ کر انہوں نے جنگ میں حصہ لیا اور بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ یوں، وہ اسلام کی خاطر اپنی جان قربان کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

یاد رہے ان دونوں انصاری صحابہ نے سفیرِ رسول حضرت مصعب بن عمیرؓ کی تبلیغ کے نتیجے میں مدینہ میں اسلام قبول کیا اور پھر بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شریک ہو کر دین کی نصرت کا جو عہد کیا تھا وہ پورا کیا
اللہ ہمیں ان روشن ستاروں کی نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے

ڈاکٹر طارق رمضان

مدینہ منورہ کی ہمسائیگی — سب سے حسین احساسدنیا کے تمام احساسات، تمام خوشیوں اور تمام راحتوں کو اگر ایک پلڑے میں رکھ دیا ...
22/08/2025

مدینہ منورہ کی ہمسائیگی — سب سے حسین احساس

دنیا کے تمام احساسات، تمام خوشیوں اور تمام راحتوں کو اگر ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے، اور دوسری طرف مدینہ منورہ کی ہمسائیگی کو رکھ دیا جائے… تو دل کہتا ہے کہ مدینہ ہی سب پر بھاری ہے۔ وہ لمحہ جب آپ مدینہ کی فضاؤں میں سانس لیتے ہیں، اور دل یہ جان لیتا ہے کہ آپ حضور ﷺ کے ہمسائے ہیں—یہی دنیا کا سب سے حسین احساس ہے۔

کتنے خوش نصیب تھے وہ لوگ جو روزانہ حضور ﷺ کی زیارت کرتے، آپ کے پاس رہتے، آپ کی محفل میں بیٹھتے اور براہِ راست آپ کے فیضان سے بہرہ مند ہوتے۔ وہ لمحات یقیناً جنت کی جھلک تھے۔ مگر آج بھی روضۂ رسول ﷺ کے پاس بیٹھ جانا، سر جھکا دینا، اور دل ہی دل میں اُس محفلِ نبوی کو محسوس کرنا، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ پر غور کرنا—یہ بھی ایسا سکون دیتا ہے کہ گویا زمانہ پلٹ گیا ہو اور آپ خود اُس عظیم بزم کا حصہ ہیں۔

یا اللہ! ہمیں یہ ہمسائیگی نصیب فرما، دائمی نصیب فرما، ہر سال نصیب فرما۔ ہمیں وہ نصیب عطا فرما جس میں ادب بھی ہو، محبت بھی ہو، اور حضور ﷺ کے در کی حاضری کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق بھی۔ آمین یا رب العالمین۔


#مسجدِنبوی
#مدینہ
#سیرت

مسجد المصبح – مدینہ منورہ میں پہلی نمازِ فجر کی یادگارمدینہ منورہ کی بابرکت سرزمین پر ایک اور یادگار مسجد ہے جو تاریخ کے...
20/08/2025

مسجد المصبح – مدینہ منورہ میں پہلی نمازِ فجر کی یادگار

مدینہ منورہ کی بابرکت سرزمین پر ایک اور یادگار مسجد ہے جو تاریخ کے روشن اور ایمان افروز لمحوں کی گواہ ہے۔ یہ ہے مسجد المصبح، جسے مسجد بنی انیف بھی کہا جاتا ہے۔ مسجد قباء سے صرف چند قدم کے فاصلے پر جنوب مغرب کی سمت واقع یہ مقام اس شرف کا حامل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ شریف میں پہلی نماز فجر اسی جگہ ادا فرمائی۔

یہ جگہ محض ایک مسجد نہیں بلکہ ایک تاریخی یادگار ہے۔ ہجرت کے ابتدائی دنوں میں نبی کریم ﷺ جب مدینہ کے قریب قیام فرما ہوئے تو یہاں پر فجر کی نماز ادا کی۔ بعد میں قبیلہ بنی انیف نے اس مقام کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ایک مسجد تعمیر کی۔ آج بھی پرانی مسجد اپنی اصل جگہ پر قائم ہے، جس کی دیواروں کو محفوظ بنانے کے لیے اردگرد نئی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں تاکہ یہ مقام رہتی دنیا تک باقی رہے۔

آج بھی زائرین جب مسجد قبا جاتے ہیں تو چند قدم آگے بڑھ کر اس مسجد میں نوافل ادا کرتے ہیں اور خاص طور پر فجر کی نماز کی پابندی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ بہت سے اہلِ دل اس مقام کو اپنی زندگی کے معمولات سنوارنے اور نماز فجر کو باقاعدگی سے ادا کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اکثر انسانوں کے لیے صبح کی نماز سب سے مشکل امتحان ہوتی ہے، اور یہی نماز اصل کامیابی اور برکت کی کنجی ہے۔

یہ مسجد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین صرف عبادت نہیں بلکہ محبت، ادب، قربانی اور مستقل مزاجی کا درس دیتا ہے۔ جس طرح حضرت طلحہؓ نے ادب اور محبت کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا خیال رکھا، اسی طرح ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں حضور ﷺ کی سنتوں کو زندہ کرنا ہے۔

اے اللہ! ہمیں مسجد المصبح کی برکت سے حصہ عطا فرما، ہماری نمازوں کو وقت پر ادا کرنے کی توفیق دے، خصوصاً نمازِ فجر کو ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بنا دے۔ ہمیں حضور ﷺ کے عشق اور ادب سے سرشار کر دے، اور ہمارے دلوں کو نورِ ایمان سے منور فرما۔ آمین یا رب العالمین۔


#مسجدِنبوی

عشقِ رسول ﷺ کے پیکر: حضرت ابوبکر صدیقؓ بزبانِ اقبال​کلامِ اقبال پر عبور رکھنے والے ناقدین اور دانشور اس بات پر متفق ہیں ...
19/08/2025

عشقِ رسول ﷺ کے پیکر: حضرت ابوبکر صدیقؓ بزبانِ اقبال

​کلامِ اقبال پر عبور رکھنے والے ناقدین اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ اقبال کے کلام کا اعلیٰ حصہ فارسی میں ہے۔ اردو میں ان کا کلام بلا شبہ عظیم ہے، مگر فارسی کلام اس کے بعد آتا ہے۔ فارسی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے ہم اکثر اس قیمتی خزانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

​تاہم، جہاں کہیں بھی کسی تحریر، تقریر یا مضمون میں اقبال کے فارسی اشعار نقل کیے جاتے ہیں، انہیں پڑھنے اور ان کا مفہوم سمجھنے کے بعد یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ ان اشعار کی شان ہی الگ ہے۔

​حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان و عظمت بیان کرنے کے لیے اقبال نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں اشعار کہے ہیں۔ اردو میں ان کا یہ مشہور شعر:
​پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس

یہ شعر اپنی مثال آپ ہے، جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی عشقِ رسول ﷺ میں فنا ہونے والی حالت کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ لیکن جب بات ان کی شان میں کہے گئے فارسی اشعار کی آتی ہے تو ان کی ایک الگ
ہی عظمت اور گہرائی نظر آتی ہے:

من شبے صدیق را دیدم بخواب
گل زِ خاکِ راہِ اُو چیدم بخواب
​آں اَمَنُّ النَّاس بر مولائے ما
آں کلیمے اوّلِ سینائے ما
​ہمتِ اُو کشتِ ملّت را چو ابر
ثانیِ اسلام و غار و بدر و قبر

ان اشعار میں علامہ اقبالؒ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی عظمت کو بے مثال خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک رات خواب میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی زیارت کی اور ان کی قدموں کی خاک سے پھول چنے۔ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہیں اور ان کا مقام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہے جو اللہ سے ہمکلام ہوئے۔ ان کی ہمت امت کی کھیتی کے لیے ابرِ رحمت کی مانند ہے۔ وہ اسلام قبول کرنے میں، غارِ ثور میں، غزوۂ بدر میں، اور روضۂ رسول ﷺ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھی اور ثانی تھے۔ یہ اشعار حضرت ابوبکر صدیقؓ کی زندگی کے اہم ترین پہلوؤں کو نہایت بلیغ انداز میں سمیٹتے ہیں۔

ڈاکٹر طارق رمضان




#مسجدِنبوی

حضورﷺ دہر میں آسودگی نہیں ملتی۔________________________اے إمام برحق! اے أفضل الخلائق! ہم آپ کے احسانات کی قیمت میں سر پر...
18/08/2025

حضورﷺ دہر میں آسودگی نہیں ملتی۔
________________________
اے إمام برحق! اے أفضل الخلائق! ہم آپ کے احسانات کی قیمت میں سر پر سر اور جان پر جان دیے جائیں، دیے جائیں یہاں تک کہ سر نہ رہیں، تو بھی آپ کے حق کا عشر عشیر ادا نہیں ہوسکتا۔
آپ کے پروردگار کی قسم! آپ ہماری ہر محرومی کا ازالہ ہیں۔ہر سیاہ بختی کو خوش بختی کی خبر ہیں۔آپ بے اماں کو اماں ہیں۔آپ درماندگان کو عظمت و شوکت کا پیغام ہیں۔
اے حبیب الله و المومنین! آپ کے چشمِ مبارک سے روشن چراغ کبھی نہ دیکھے گئے۔آپ کی مسکراہٹ سے بڑھ کر کرب و الم شکن کچھ نہ ہوا۔آپ کی بعثت ہر رحمت کا سرچشمہ تھی۔آپ کے چہرے مبارک کی روشنی سے جہانِ رنگ و بو روشن ہوگئے۔
اے محمود و احمدﷺ! اب دردِ دل کہتا ہوں، اب آپ کی ملت کا حال کہتا ہوں۔اب آپ کے غم و فکر کے مرکز کا ذکر کرنا ہے۔اب آپ کی دعاؤں کے محور کی بے حرمتی عرض کرنا ہے۔
اے غمِ خوارِ امت ﷺ! آپ کے نام لیواؤں کی کوئی آبرو نہیں۔آپ کی بیان کی گئی حرمتِ مسلم کا کسی کو پاس نہیں۔کعبہ کے نگہبان کعبہ کے پاسبان نہیں۔آپ کے وارثین(ہونے کے دعویدار) طاغوت کے جنشِ چشم و ابرو کی مخلوق ہیں۔
امتِ مرحوم کے سینے میں کیسے کیسے خنجر اتارے گئے ہیں،کیسے کیسے تڑپائے گئے ہیں۔یہ بیان کی سہار سے باہر ہے۔
یا رسول الله ﷺ! ہماری جوانیاں آپ کی حرمت اور امت کے تقدس پر نثار ہوں۔حق حق پرستی کا ہم سے حق ادا کروا دیں!

ڈاکٹر طارق رمضان





#مسجدِنبوی
#

مسجد عتبان بن مالکؓ – محبتِ رسول ﷺ اور سہولتِ امت کی علامتمدینہ منورہ میں مسجد قبا کی سمت جاتے ہوئے راستے میں ایک نہایت ...
12/08/2025

مسجد عتبان بن مالکؓ – محبتِ رسول ﷺ اور سہولتِ امت کی علامت

مدینہ منورہ میں مسجد قبا کی سمت جاتے ہوئے راستے میں ایک نہایت باوقار اور تاریخ سے جڑا ہوا مقام آتا ہے—مسجد عتبان بن مالکؓ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں نبی اکرم ﷺ نے ایک بدری صحابیؓ کی درخواست پر ان کے گھر میں نماز ادا فرمائی، اور اسی نسبت سے یہ جگہ ہمیشہ کے لیے بابرکت ہو گئی۔ بعد میں اسی مقام پر مسجد قائم کی گئی، جو آج تک قبا کے راستے میں آنے والے زائرین کے لیے عقیدت کا مرکز ہے۔

حضرت عتبانؓ بن مالک الانصاری، قبیلہ بنی سالم بن خزرج کے معزز صحابی، کمزور بصارت کے باعث بارش کے دنوں میں مسجد میں جماعت کے لیے آنا مشکل تھا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور ایک جگہ نماز پڑھ دیں تاکہ میں اُسے ہمیشہ کے لیے مُصلّیٰ بنا لوں۔ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکرؓ کے ہمراہ ان کے گھر آئے، حضرت عتبانؓ نے جگہ دکھائی، اور آپ ﷺ نے وہاں دو رکعت ادا فرمائیں۔ وہ لمحہ صرف ایک نماز نہ تھا بلکہ ایک دل کی تسلی، ایک معذور صحابی کی سہولت اور دین کی وسعت کا عملی اظہار تھا۔

آج یہ مسجد مدینہ کے اُس تاریخی راستے کی بھی یاد دلاتی ہے، جس پر چلتے ہوئے زائرین مسجد نبوی ﷺ سے سنت کے مطابق پیدل مسجد قبا کی طرف جاتے ہیں۔ مسجد جمعہ سے قریب ہونے کے باعث یہ زیارت کے لیے ایک خاص ٹھہراؤ کا مقام ہے۔ اس کی فضا میں اُس دن کی خوشبو اب بھی باقی ہے، جب رسول رحمت ﷺ نے ایک چھوٹے سے گوشے کو اپنی نماز سے قیامت تک کے لیے بابرکت بنا دیا۔

یہ مسجد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دین آسانی اور سہولت کا نام ہے۔ نبی ﷺ نے ایک معذور صحابی کے لیے خود چل کر ان کے گھر جانا پسند کیا، تاکہ وہ عبادت کو سہولت اور دل کی خوشی کے ساتھ ادا کر سکیں۔ اور یہ بھی کہ جب عبادت اخلاص سے کی جائے تو جگہیں بھی بابرکت اور یادگار بن جاتی ہیں۔

دعا:

اے اللہ! ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق دے، ہمیں دین میں آسانی اور دوسروں کے لیے سہولت پیدا کرنے والا بنا۔ ہمارے گھروں کو بھی عبادت کا مرکز اور تیری رحمت کا نزول گاہ بنا۔ ہمیں ان مقامات کی برکت نصیب کر اور مدینہ کی گلیوں میں بار بار چلنے کا شرف عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔





#مسجدِنبوی

11/08/2025

مولا، ہمیں بھی ایسی تڑپ اور عشق نصیب فرما۔ آمین





#مسجدِنبوی

سقیفہ بنی ساعدہ – جہاں امت نے خلافت کا پہلا باب لکھامسجد نبوی کے پرنور احاطے کے قریب، تاریخ آج بھی خاموشی سے سانس لیتی ہ...
06/08/2025

سقیفہ بنی ساعدہ – جہاں امت نے خلافت کا پہلا باب لکھا

مسجد نبوی کے پرنور احاطے کے قریب، تاریخ آج بھی خاموشی سے سانس لیتی ہے۔ کھجوروں کے درختوں کے درمیان ایک سادہ سا چبوترہ ہے—نہ کوئی سنگِ مرمر کا فرش، نہ قیمتی محرابیں، مگر عظمت ایسی کہ تاریخ کے صفحات جھک جاتے ہیں۔ یہی ہے سقیفہ بنی ساعدہ، وہ جگہ جہاں امت نے نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد پہلا بڑا فیصلہ کیا، اور اسلامی خلافت کی بنیاد رکھی۔

یہ وہ لمحہ تھا جب مدینہ کی فضا سوگوار تھی، آنکھیں اشک بار، دل لرزیدہ اور امت اپنے محبوبﷺ کے بغیر نئی صبح کا آغاز کر رہی تھی۔ ایسے وقت میں انصار نے اپنے قبیلے کی جگہ، بنو ساعدہ کے اس چبوترے پر جمع ہو کر غور و فکر کیا—امت کی قیادت اب کس کے ہاتھ میں ہو؟ یہ وہی چبوترہ تھا جہاں پہلے قبیلہ خزرج کے سردار بیٹھ کر مشورے کرتے، لیکن آج معاملہ پوری امتِ محمدیہ ﷺ کا تھا۔

جب حضرت عمرؓ، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ اس اجتماع میں پہنچے، تو وہ گفتگو شروع ہوئی جس میں نہ تلواریں چلیں، نہ الزام لگے، بلکہ جو کچھ ہوا وہ دل کی گہرائی، دین کی روشنی، اور امت کی بھلائی میں ہوا۔ انصار نے اپنی قربانیوں کا ذکر کیا، مہاجرین نے قریش کی قیادت کی حجت پیش کی، اور پھر حضرت عمرؓ نے یکایک حضرت ابوبکرؓ کا ہاتھ پکڑ کر اعلان کیا:

"میں ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں!

یہ بیعت، محض ایک فرد کی بیعت نہ تھی—یہ اجتماعی شعور، مشورے، اور امت کے اتفاق کی بیعت تھی۔ وہ دن تھا، جب کوئی تخت نہ تھا، کوئی تاج نہ تھا، لیکن ایک ایسا خلیفہ چنا گیا جو صدق، علم، فہم، قربِ نبوی اور زہد میں سب سے بلند تھا۔ وہ لمحہ، جب امت نے خلافتِ راشدہ کا پہلا ورق رقم کیا، اور یہ ثابت کیا کہ قیادت کا حق مشورے اور تقویٰ سے جیتا جاتا ہے، نہ کہ قوت اور وراثت سے۔

آج بھی سقیفہ بنی ساعدہ اپنی خاموش عظمت کے ساتھ موجود ہے۔ زائر جب اس کے قریب سے گزرتا ہے، تو دل میں ایک لرزہ سا دوڑتا ہے—یہیں پر امت نے اپنی تقدیر کا پہلا شعور پایا تھا۔ یہاں صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں ہوا تھا، یہاں خلافت کا اخلاقی، اجتماعی اور دینی معیار طے ہوا تھا۔

سقیفہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خلافت تلوار سے نہیں، دلوں کی رضا سے قائم ہوتی ہے۔ قیادت تخت سے نہیں، تقویٰ سے جنم لیتی ہے۔ اور امت کا اتحاد کسی علم پر نہیں، بلکہ باہمی مشورے اور خیرخواہی پر استوار ہوتا ہے۔

اے اللہ! ہمیں بھی ایسی قیادت نصیب فرما جو صدق، عدل، دیانت اور امت کی خیرخواہی پر قائم ہو۔ ہمیں امت کے وہ شعور عطا فرما جو سقیفہ بنی ساعدہ میں جگا تھا۔ اور ہمیں ایسے فیصلے کرنے کی توفیق دے جو تیرے رسول ﷺ کی سیرت اور خلفائے راشدین کے طریقے پر ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔





#مسجدِنبوی

05/08/2025




اسطوانہ تہجد – راتوں کا وہ ستون جہاں عشق سجدہ کرتا تھامسجد نبوی ﷺ کی پرسکون فضا میں جب دن کی گہماگہمی تھم جاتی، چراغ مدھ...
04/08/2025

اسطوانہ تہجد – راتوں کا وہ ستون جہاں عشق سجدہ کرتا تھا

مسجد نبوی ﷺ کی پرسکون فضا میں جب دن کی گہماگہمی تھم جاتی، چراغ مدھم ہو جاتے، اور دنیا نیند کی آغوش میں چلی جاتی—تب ایک گوشہ ایسا بھی تھا جو جاگتا رہتا تھا۔ وہ جگہ جہاں نیند نہیں، نور اُترتا تھا۔ وہ مقام جہاں دنیا سے کٹ کر آسمان سے جُڑنے کا راستہ کھلتا تھا۔ یہی ہے ’’اسطوانہ تہجد‘‘ جسے نبی مہربان ﷺ کے سجدوں کا مقام کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔

یہ ستون روضۂ رسول ﷺ کی پچھلی جالیوں کے قریب، حجرۂ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے شمال میں واقع ہے۔ یہاں وہ مبارک محراب ہے، جسے دیکھتے ہی دل گواہی دیتا ہے کہ اس مقام پر راتوں کے سجدے گواہ ہیں اُس عشق کے، جس میں محبوبِ خدا ﷺ اپنے رب کے حضور جھکتے، آنکھیں اشکبار ہوتیں، اور امت کے لیے دعائیں نکلتی تھیں۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں نبی اکرم ﷺ تہجد کی نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ وہ سجدے صرف فرض کی ادائیگی نہ تھے، وہ سراپا محبت تھے، قربت کی پکار تھے، اور رب کی رضا کے لیے تنہائی میں بہنے والے آنسو تھے۔ یہاں وہ لمحے بیتے جب مسجد خاموش، فضا مہک رہی ہوتی اور ایک سجدہ، ایک آہ، ایک گریہ عرش تک جا پہنچتا۔

یہی مقام ’’اصحابِ صفہ‘‘ کے چبوترے کے قریب ہے—جنہوں نے دنیا کی چمک کو ترک کر کے مسجد نبوی کی چھاؤں کو اپنا گھر بنایا۔ یہی وہ سادہ مگر بلند روحیں تھیں جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے: "اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں…"
حضرت ابوذرؓ، سلمان فارسیؓ، بلالؓ، ابو ہریرہؓ، صہیبؓ، عمارؓ، اور بے شمار دیگر صحابہؓ اسی جگہ علم و عبادت میں مشغول رہتے، اور نبی کریم ﷺ ان سے محبت کرتے۔

آج، سنہری جالیوں کے آگے قرآنِ پاک کی الماریاں سجی ہیں، اور کورونا کے بعد یہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں، لیکن دل کا زائر جب بھی یہاں سے گزرتا ہے، نگاہیں جھک جاتی ہیں، اور دل کی ایک دھیمی سی دعا آسمان کی طرف اڑان بھرتی ہے۔

یا اللہ! ہمیں بھی ان سجدوں کی لذت میں سے حصہ نصیب فرما جو تیرے محبوب ﷺ کو نصیب تھیں۔ ہمیں بھی تہجد کی وہ خلوت عطا فرما جہاں صرف تُو ہو، اور ہم تیرے سامنے روتے رہیں۔ ہمارے دلوں میں وہ تڑپ پیدا کر جو اصحابِ صفہ کو عطا ہوئی۔ ہمیں راتوں کا وہ ذوق دے جو نبی ﷺ کی سنت ہے، اور ہمیں قیامت کے دن اُن چہروں کے ساتھ کھڑا کر جو تیرے ذکر میں راتیں گزارا کرتے تھے۔ آمین یا رب العالمین، بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔




#اسطوانہ
#مسجدِنبوی

Address

Galaxy House, Bypass Road, Mingora

19926

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Four Friends posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Four Friends:

  • Want your business to be the top-listed Transport Service?

Share