Driver Ki Awaz

Driver Ki Awaz social media

میری ایک عاجزانہ گزارش ہے، خاص طور پر اپنی پاکستانی اور مسلمان بہنوں سے۔آج کل ہمارے معاشرے میں ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کا ...
16/12/2025

میری ایک عاجزانہ گزارش ہے، خاص طور پر اپنی پاکستانی اور مسلمان بہنوں سے۔
آج کل ہمارے معاشرے میں ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بہنوں! سب سے پہلی اور سچی بات یہ ہے کہ موت برحق ہے، یہ کسی وقت، کسی موڑ پر بھی آ سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی گزارنے کے واضح اصول دیے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ روزی روٹی کے لیے نوکری کرنا بعض اوقات مجبوری بن جاتی ہے، اور انسان ہر حال میں کامل نہیں ہو پاتا۔ مگر ٹک ٹاک بنانا، خود کو بے پردہ کر کے سب کے سامنے لانا، یہ کوئی مجبوری نہیں۔

ذرا سوچیں، جو لائکس، کمنٹس اور “بیوٹیفل” جیسے الفاظ آپ کو ملتے ہیں، کیا وہ واقعی آپ کی عزت کرتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر صرف خواہشات کے پجاری ہوتے ہیں، جو آپ کی شخصیت نہیں بلکہ صرف آپ کے جسم کو دیکھتے ہیں۔ اگر آپ یہ سمجھتی ہیں کہ وہ آپ سے محبت کرتے ہیں یا آپ پر مرتے ہیں، تو بہن! یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔

یہ دنیا اور یہ زندگی ہمیشہ رہنے والی نہیں۔
ہم سب کو ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
سوشل میڈیا پر چھوڑے گئے ویڈیوز اور تصویریں آپ کے بعد بھی رہ جاتی ہیں، اور ان کا گناہ بھی باقی رہتا ہے۔

میری یہ بات حکم نہیں، تنقید نہیں، بس ایک درد بھری نصیحت ہے۔
ہر انسان کی ذاتی زندگی ہوتی ہے، مگر اللہ کے آگے ہم سب جواب دہ ہیں۔

بس اتنی سی گزارش ہے کہ
اس راستے کو چھوڑ دیں، اللہ تعالیٰ کے سامنے سچی توبہ کریں،
وہ بہت رحم کرنے والا ہے، بہت معاف کرنے والا ہے۔

اللہ ہم سب کو ہدایت دے، آمین۔

اسلام علیکم! توجہ فرمائیں… توجہ فرمائیں…!خوشخبری نہیں بلکہ سپر ڈوپر خوشخبری! دیوو ایکسپریس نے ڈرائیوروں کی نئی کھیپ منگو...
22/11/2025

اسلام علیکم! توجہ فرمائیں… توجہ فرمائیں…!
خوشخبری نہیں بلکہ سپر ڈوپر خوشخبری! دیوو ایکسپریس نے ڈرائیوروں کی نئی کھیپ منگوانے کا اعلان کر دیا ہے۔

لیکن… شرطیں کچھ ایسی ہیں جنہیں پڑھ کر لگے گا کہ شاید ڈرائیور نہیں،
ہیرو + مکینک + جادوگر + فرشتہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

🔹 عمر: 30 سے 50 سال… اس سے کم ہو تو "تجربہ نہیں"،
اس سے زیادہ ہو تو "گاڑی نہیں، بندہ خود بریک ڈاؤن ہو جائے گا"۔

🔹 لائسنس: HTV، PSV، VIP، VVV…
بس ہر وہ لائسنس ہونا چاہیے جو بٹوے میں آ جائے۔

🔹 کام: گاڑی چلانی بھی آتی ہو اور گاڑی کی روحانی کیفیت بھی سمجھ سکتا ہو۔
کہیں راستے میں گاڑی رک جائے تو بغیر ڈر کے ٹول بکس کھول کر
ایسے ہاتھ چلیں جیسے ڈاکٹر آپریشن کر رہا ہوتا ہے۔

🔹 الیکٹریشن: تاریں دیکھ کر یہ نہ کہے "بھائی کرنٹ تو نہیں لگے گا نا؟"
بلکہ چھلانگ مار کر کہے "اوہو یہ تو آسان کام تھا"۔

🔹 فرشتہ ٹائپ:
یعنی غصہ نہ ہو، شور نہ کرے،
کنڈکٹر بھی تنگ کرے تب بھی مسکرا کر کہے "بھائی چل جائے گا"۔
مسافر غلطی کرے تو دعا دے دے۔
گاڑی خراب ہو جائے تو گاڑی کو بھی "حوصلہ رکھ" کہہ دے۔

---

اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا ایسا پاکباز، محنتی، ٹول باکس بردار، فرشتہ صفت ڈرائیور ہے…
تو بس جلدی سے اپلائی کرے! ورنہ ایسی پوسٹیں روز نہیں ملتیں 😄

15/11/2025

---

🚨 ہر پیشے میں کچھ نہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں…

بات یہ ہے کہ ہر شعبے میں کچھ اُلو کے پٹھے ہوتے ہیں، جنہیں لوگ گندا انڈا کہتے ہیں۔ ایسے لوگ پورے شعبے کی عزت کو داغدار کر دیتے ہیں۔

ڈرائیونگ کے شعبے میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں۔ وہ تنگ کر دینے والی حرکتیں کرتے ہیں، قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور دوسروں کی جان و مال کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ 😡

💡 میری رائے:
تمام ڈرائیوروں کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کو کٹہرے تک پہنچائیں، ان کا لائسنس منسوخ ہو اور سکیورٹی ادارے سخت کارروائی کریں۔

کیونکہ جو غریب ڈرائیور محنت کر کے بچوں کے لیے روزی روٹی کما رہا ہے، وہ کبھی ایسی گھٹیا حرکت نہیں کرتا۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے پورے پیشے کی بدنامی ہوتی ہے۔

🚦 یاد رکھیں: احترام اور قانون سب کے لیے ضروری ہے۔

14/11/2025

پاکستان میں بس ڈرائیوروں کی بدقسمتی اور مسائل—لاوارث طبقہ بدستور مشکلات کا شکار

(اسپیشل رپورٹ)
پاکستان میں بس ڈرائیوروں کو آئے روز بڑھتی ہوئی پریشانیوں، معاشی دباؤ اور سماجی رویّوں کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے مسائل کسی بھی سطح پر سنجیدگی سے نہیں لیے جا رہے۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر کا اہم ترین ستون کہلانے والے ڈرائیور آج بھی لاوارث طبقہ سمجھتے جاتے ہیں۔

کم تنخواہیں، کوئی فکس سیلری نہیں

ذرائع کے مطابق ملک بھر میں بیشتر بس کمپنیوں کے ڈرائیوروں کو فکس تنخواہ نہیں دی جاتی، بلکہ صرف ٹرپ کے حساب سے ادائیگی کی جاتی ہے۔ اگر گاڑی کسی خرابی کے باعث 15 سے 20 دن تک کھڑی رہے تو ڈرائیور کو ایک روپیہ تک نہیں ملتا۔
مزید یہ کہ کمپنیز اضافی "اسپئیر ڈرائیور" بھی رکھ لیتی ہیں، جس سے ڈرائیوروں کے ٹرپ کم ہو جاتے ہیں اور ان کی آمدن مزید گھٹ جاتی ہے۔

حادثات کی صورت میں سارا الزام ڈرائیور پر

حادثات کی صورت میں ادارے، مسافر اور عوام فوری طور پر سارا ملبہ ڈرائیور پر ڈال دیتے ہیں۔
عام طور پر یہی سننے میں آتا ہے:
“ڈرائیور سو گیا تھا، اوور اسپیڈنگ کی تھی یا قوانین کی خلاف ورزی کی تھی”۔

لیکن کوئی اس حقیقت کو قبول کرنے کو تیار نہیں کہ ڈرائیور بھی ایک انسان ہے، اسے بھی اپنی جان پیاری ہے، اور وہ کبھی بھی جان بوجھ کر حادثہ نہیں کرے گا۔

مسافروں کی بدتمیزی معمول بن گئی

ایک اور بڑا مسئلہ عام مسافروں کا رویّہ ہے۔ سفر کے دوران معمولی بات پر بھی لوگ ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے لگتے ہیں، جو ڈرائیور کے لیے ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔

پولیس کے بھاری جرمانے تنخواہ سے زیادہ

پولیس کی جانب سے دس دس اور بیس بیس ہزار روپے کے جرمانے بھی ڈرائیوروں کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔
اکثر اوقات ایک ماہ میں 10 سے 15 ہزار روپے تک کے چالان ہو جاتے ہیں، جو ان کی مجموعی آمدن سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ پورا مہینہ ذہنی دباؤ اور ٹینشن کا شکار رہتے ہیں۔

مسافر کی شکایت پر کمپنی فوری نوکری سے فارغ کر دیتی ہے

صورتحال یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اگر کوئی مسافر محض یہ شکایت کر دے کہ ڈرائیور نے گاڑی سلو چلائی تھی یا کچھ دیر رک گیا تھا تو کمپنی بغیر کسی تحقیق کے فوراً ڈرائیور کو ملازمت سے فارغ کر دیتی ہے۔

کیمرے اور ٹریکر صرف دکھاوے کے لیے؟

بہت سی کمپنیوں نے گاڑیوں میں کیمرے اور ٹریکر نصب کر رکھے ہیں، مگر جب حادثہ ہوتا ہے تو نا کیمرے کی ریکارڈنگ دیکھی جاتی ہے نا ٹریکر ڈیٹا۔
تحقیق کے بغیر ہی ڈرائیور پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔

بس ڈرائیور—ایک ایسا طبقہ جسے عزت نہیں ملتی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں بس ڈرائیوروں کو وہ عزت، مقام اور تحفظ نہیں دیا جاتا جو ان کے پیشے اور ذمہ داریوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
روزانہ ہزاروں مسافروں کی زندگیاں انہی ڈرائیوروں کے ہاتھ میں ہوتی ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کی اپنی زندگی عدم تحفظ اور بے بسی میں گزرتی ہے۔

📰 بس حادثات میں اضافے کی وجوہات — ڈرائیوروں کا نظام اور مسافروں کا رویہ بھی ذمہ دار قرار(رپورٹ: نمائندہ خصوصی)ملک بھر می...
13/11/2025

📰 بس حادثات میں اضافے کی وجوہات — ڈرائیوروں کا نظام اور مسافروں کا رویہ بھی ذمہ دار قرار

(رپورٹ: نمائندہ خصوصی)
ملک بھر میں موٹروے اور ہائی ویز پر مسافر بسوں کے حادثات میں اضافہ تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ماہرین اور ڈرائیورز کے مطابق ان حادثات کی کئی اہم وجوہات ہیں جن پر نہ تو ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مالکان توجہ دے رہے ہیں اور نہ ہی متعلقہ ادارے۔

ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی وجہ کمپنیوں کا ٹرِپ سسٹم ہے۔ زیادہ تر بس سروسز میں ڈرائیور کو صرف اُس وقت آمدنی ملتی ہے جب وہ ایک ٹرِپ مکمل کرے۔ اگر کسی وجہ سے گاڑی خراب ہو جائے، موسم خراب ہو، سواری کم ہو یا کوئی ہنگامی صورتِ حال پیش آ جائے، تو ڈرائیور کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ اس مالی دباؤ کے باعث وہ ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ڈرائیوروں کا مطالبہ ہے کہ کمپنیوں کو چاہیے کہ انہیں فِکس (مستقل) تنخواہ دی جائے تاکہ وہ سکون سے اپنا کام کر سکیں اور حادثات میں کمی آئے۔

حادثات کی ایک اور بڑی وجہ مسافروں کا غیر مناسب رویہ بھی بتایا جا رہا ہے۔ بعض اوقات مسافر تاخیر پر یا معمولی باتوں پر ڈرائیور سے بدتمیزی کرتے ہیں، جس سے وہ ذہنی دباؤ میں آ جاتا ہے۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی مسافر کی جانب سے بدتمیزی یا ہراسانی ہو تو اُس پر بھی قانونی کارروائی (ایف آئی آر) ہونی چاہیے، جیسے کسی شہری کی جانب سے پولیس اہلکار سے بدتمیزی پر کی جاتی ہے۔

ڈرائیوروں نے مزید کہا کہ اکثر اوقات انہیں 16 سے 17 گھنٹے مسلسل ڈرائیونگ کرنی پڑتی ہے، جس سے اُنہیں مناسب آرام نہیں مل پاتا۔ اگر فکس تنخواہ اور بہتر شفٹ سسٹم متعارف کرایا جائے تو وہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ کمپنی مالکان اور موٹروے پولیس کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ڈرائیور بھی انسان ہے، اُس کی جان بھی قیمتی ہے۔ کوئی بھی ڈرائیور جان بوجھ کر حادثہ نہیں کرتا — اکثر حادثات دباؤ، تھکاوٹ اور نظام کی خامیوں کے باعث پیش آتے ہیں۔

---📰 خبر: بس ڈرائیورز پر ذہنی دباؤ، حادثات میں اضافہ — بس مالکان کا نظام ذمہ دارلاہور (نامہ نگار خصوصی):پنجاب میں گزشتہ ...
13/11/2025

---

📰 خبر: بس ڈرائیورز پر ذہنی دباؤ، حادثات میں اضافہ — بس مالکان کا نظام ذمہ دار

لاہور (نامہ نگار خصوصی):
پنجاب میں گزشتہ دنوں موٹر وے پر اسکائی ویز کمپنی کی بس کے ایک اور حادثے نے ایک بار پھر بس کمپنیوں کے انتظامی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حادثات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی بنیادی وجہ بس مالکان کا ایسا نظام ہے جو ڈرائیوروں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔

ایک سابق ڈرائیور، جس نے چھ سے سات سال مختلف مشہور بس کمپنیوں میں خدمات انجام دی ہیں، نے بتایا کہ ان حادثات کے اصل ذمہ دار خود بس مالکان ہیں۔ ان کے مطابق کمپنیوں نے ایک ایسا “ٹرپ سسٹم” رائج کر رکھا ہے جس کے تحت ڈرائیور کو صرف اسی وقت تنخواہ ملتی ہے جب اس کا ٹرپ مکمل ہوتا ہے۔ اگر بس کسی وجہ سے ورکشاپ میں چلی جائے یا راستے میں خراب ہو جائے تو ڈرائیور کو کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔

ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کے باعث وہ تھکاوٹ یا نیند کی کمی کے باوجود سڑک پر نکلنے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ اپنی آمدنی پوری کر سکیں۔ بعض اوقات طویل سفر کے دوران وہ مسلسل ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں، کیونکہ مالکان کی جانب سے لگے کیمرے “آن لائن مانیٹرنگ” کرتے ہیں اور معمولی حرکت پر بھی بازپرس کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “اگر ڈرائیور کا ہاتھ اوپر نیچے ہوا تو فوراً مالک کی کال آ جاتی ہے کہ تم نے یہ کیوں کیا؟ اس رویے سے ڈرائیور ذہنی طور پر کمزور ہو جاتا ہے، جو حادثات کا باعث بنتا ہے۔”

ڈرائیوروں کا مطالبہ ہے کہ بس کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ ٹرپ سسٹم ختم کر کے ماہانہ فکس تنخواہ مقرر کریں تاکہ ڈرائیور اطمینان سے اپنا کام کر سکیں اور سڑکوں پر حادثات کی شرح میں کمی آئے۔

ماہرین کے مطابق اگر ڈرائیوروں کی سماجی و مالی حالت بہتر نہ کی گئی تو یہ سلسلہ مزید خطرناک نتائج اختیار کر سکتا ہے۔

Address

Sahiwal
Sargodha

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Driver Ki Awaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share