16/12/2025
میری ایک عاجزانہ گزارش ہے، خاص طور پر اپنی پاکستانی اور مسلمان بہنوں سے۔
آج کل ہمارے معاشرے میں ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بہنوں! سب سے پہلی اور سچی بات یہ ہے کہ موت برحق ہے، یہ کسی وقت، کسی موڑ پر بھی آ سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی گزارنے کے واضح اصول دیے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ روزی روٹی کے لیے نوکری کرنا بعض اوقات مجبوری بن جاتی ہے، اور انسان ہر حال میں کامل نہیں ہو پاتا۔ مگر ٹک ٹاک بنانا، خود کو بے پردہ کر کے سب کے سامنے لانا، یہ کوئی مجبوری نہیں۔
ذرا سوچیں، جو لائکس، کمنٹس اور “بیوٹیفل” جیسے الفاظ آپ کو ملتے ہیں، کیا وہ واقعی آپ کی عزت کرتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر صرف خواہشات کے پجاری ہوتے ہیں، جو آپ کی شخصیت نہیں بلکہ صرف آپ کے جسم کو دیکھتے ہیں۔ اگر آپ یہ سمجھتی ہیں کہ وہ آپ سے محبت کرتے ہیں یا آپ پر مرتے ہیں، تو بہن! یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔
یہ دنیا اور یہ زندگی ہمیشہ رہنے والی نہیں۔
ہم سب کو ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
سوشل میڈیا پر چھوڑے گئے ویڈیوز اور تصویریں آپ کے بعد بھی رہ جاتی ہیں، اور ان کا گناہ بھی باقی رہتا ہے۔
میری یہ بات حکم نہیں، تنقید نہیں، بس ایک درد بھری نصیحت ہے۔
ہر انسان کی ذاتی زندگی ہوتی ہے، مگر اللہ کے آگے ہم سب جواب دہ ہیں۔
بس اتنی سی گزارش ہے کہ
اس راستے کو چھوڑ دیں، اللہ تعالیٰ کے سامنے سچی توبہ کریں،
وہ بہت رحم کرنے والا ہے، بہت معاف کرنے والا ہے۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے، آمین۔