The Rail Valley

The Rail Valley Explore Pakistan Railway

17/02/2025

Race with Jaffar Expess at Darra e Bolan ✌️

کھیوڑا پاکستان کا ایک آباد مقام جو کھیوڑہ نمک کی کان میں واقع ہے۔کھیوڑہ نمک کی کان میں لوگ ارد گرد کے قصبوں سے پیدل چل ک...
22/10/2024

کھیوڑا پاکستان کا ایک آباد مقام جو کھیوڑہ نمک کی کان میں واقع ہے۔کھیوڑہ نمک کی کان میں لوگ ارد گرد کے قصبوں سے پیدل چل کر کام کرنے آتے تھے جو کافی مشکل تھا چنانچہ اس مشکل کے حل کے لیے 1876ء میں انگریزوں نے سیاسی اور انتظامی بنیادوں اور مصلحتوں کی بنا پر نمک کی کانوں پر کام کرنے والے خاندانوں کو کھیوڑہ میں آباد کیا۔ اس سے پہلے یہ لوگ ارد گِرد کے قریبی علاقوں اور مقامی پہاڑوں پر قیام پزیر تھے اس سے پہلے اس علاقہ میں انگریز اور ہندوں زیادہ تر آباد تھے مگر 1876ء سے باقاعدہ مسلمانوں کو بھی رہائش کے حقوق دیے گئے۔ اس وقت کے انگریز حکمرانوں کی زیادہ تر کوشش یہ ہی تھی کہ تمام مسلمان کان کنی کے فن میں ہی مشغول رہیں اور ترقی نہ کر سکیں- چنانچہ 14 مارچ 1876ء کو باقاعدہ کھیوڑہ شہر کی بنیاد رکھی گئی۔
اس علاقے میں نمک کی دریافت گھوڑوں کی مدد سے ہوئی تھی۔ سکندرِاعظم جب دنیا فتح کرنے نکلا تو اس علاقے میں یہاں کے بادشاہ راجا پورس سے اس کی جنگ ہوئی۔ سکندرِاعظم کی فوج نے دریائے جہلم کے کنارے جلالپور شریف کے قریب پڑاؤ ڈالا اور تھکے ماندے گھوڑوں کو بھی وہیں باندھ دیا۔ مگر تھوڑی ہی دیر میں گھوڑے پتھر چاٹنے لگے - سپاہی یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور سارا ماجرا سکندرِاعظم کو بیان کیا۔ تو معلوم ہوا کہ وہ پتھر نمک کا تھا۔ جسے چاٹنے کہ بعد گھوڑے تازہ دم ہو گئے۔ مگر اُس وقت نمک نکالنے کا کوئی باقاعدہ طریقہ کار موجود نہ تھا اس طرح نمک کی دریافت اس چھوٹے سے علاقے کھیوڑہ میں 326 قبل مسیح میں ہوئی- ماہرین ارضیات اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کھیوڑہ (نمک) بھی ایک معدن(منرل) ہے۔ تو اس وجہ سے اس علاقے کو کھیوہ یعنی نمک کا گڑھ کہا جاتا تھا جو بعد میں بگڑ کر کھیوڑہ کے نام سے مشہور ہونے لگا-

بوستان جنکشن سے ژوب تک تقریبا 296 کلومیٹر لمبی یہ لائن دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے راستے میں کان مہترزئی کا ...
17/10/2024

بوستان جنکشن سے ژوب تک تقریبا 296 کلومیٹر لمبی یہ لائن دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے راستے میں کان مہترزئی کا اسٹیشن آتا تھا جو سمندر کی سطح سے 7221 فٹ اونچائی پر ہے اور یہ نارتھ ویسٹرن ریلوے کا سب سے اونچا اسٹیشن تھا۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے 499 اپ سہ پہر کو بوستان سے چلتی تھی اور رات بھر پہاڑوں اور دریاؤں اور وادیوں کا سفر طے کرکے اگلی دوپہر سے ذرا پہلے فورٹ سنڈیمن پہنچتی تھی۔ کبھی کبھی برفانی طوفان آجاتے تو گاڑی راستے میں پھنس جاتی اور ٹرین کا سارا پانی جم جاتا۔ جاڑوں میں ڈبے گرم رکھنے کا کوئی بندوبست نہ تھا۔ صرف ریلوے کے افسر اپنے ڈبوں میں تیل کے چولہے جلاتے تھے۔
اس سال 1970 میں اس لائن پر اتنی زیادہ برف گری کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس وقت بوستان اور ژوب کے درمیان ہفتے میں صرف ایک مسافر گاڑی چلا کرتی تھی۔ برف باری کے دوران ایک ٹرین چلی جارہی تھی جو کان مہترزئی کے قریب برف میں دھنس گئی۔ ڈرائیور اور فائرمین نے لاکھ چاہا کہ گاڑی کو نکال لے جائیں مگر بے سود۔ آخر کار وہ تھک ہار کر بیٹھ گئے اور مدد کا انتظار کرنے لگے۔ برف میں دھنسی ہوئی ٹرین وہیں کھڑی رہی۔ کہتے ہیں کہ آسمان کو چھونے والی یہ ریلوے لائن کئی روز بعد کھلی۔ بظاہر یہ چھوٹی سی مگر انجئینری کی یہ شاہکار ریلوے لائن اجڑ کر رہ گئی۔ کہتے ہیں کہ آج کے جدید زمانے میں کوئی مصر کے اہرام دوبارہ بنانا چاہے نہیں بناسکتا۔ بالکل وہی حل اس بے یار و مددگار پڑی ہوئی ریلوے لائن کا ہے۔ اب شاید کوئی اس میں نئی روح پھونک نہ سکے۔ نہ ہوتی تو رنج بھی نہ ہوتا۔ تھی اور اسے مرجانے دیا گیا۔ کتنا بڑا خسارہ ہوا۔ کتنا بڑا خسارہ۔
اس کے بعد یہ ہوا کہ چھ سات سال تک ریلوے ٹائم ٹیبل میں اس گاڑی کے اوقات شائع ہوتے رہے، اس کے بعد اس کی اتنی بھی اوقات نہیں رہی۔ یہ لائن مسلم باغ سے معدنیات لانے کے لئے ڈالی گئی تھی۔ بعد میں کسی کو اس سے دلچسپی نہ رہی

Address

Balochistan
Quetta
87300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Rail Valley posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share