19/09/2024
"بجھ گیا رات وہ ستارا بھی"
اِنَّا لِلّهِ وَاِنَّـا اِلَيْهِ رَاجِعونَ
اجملؔ سراج بھی رخصت ہوئے۔ اللہ پاک بلند ترین درجات عطا فرمائے۔
بجھ گیا رات وہ ستارا بھی
حال اچھا نہیں ہمارا بھی
اب مجھے نیند بھی نہیں آتی
خوب تھا خواب کا سہارا بھی
لوگ جیتے ہیں کس طرح اجملؔ
ہم سے ہوتا نہیں گزارا بھی
---------۔
کہیں زمین نہ ہٹ جائے اپنے محور سے
میں اپنے خواب سناتا نہیں اسی ڈر سے
---------۔
اجمل سراج ہم اسے بھولے ہوئے تو ہیں
کیا جانے کیا کریں گے اگر یاد آگیا
--------۔
اس نے پوچھا کہ کیا حال ہے
اور میں سوچتا رہ گیا
---------۔
تیرے ڈوا کسی کی تمنا کروں گا میں
ایسا کبھی ہوا ہے جو ایسا کروں گا میں
ہے دیکھنے کی چیز تو یہ التفات بھی
دیکھو گے تم۔گریز بھی ایسا کروں گا میں
---------۔
بتاؤ تم سے کہاں رابطہ کیا جائے..!
کبھی جو تم سے ضرورت ھو بات کرنے کی..!!
---------۔
کتنا سوچا تھا پر اتنا تو نہیں سوچا تھا
یاد بن جائے گا وہ خواب نظر آئے گا وہ
---------۔
راہ چلتی ہوئی اس راہ گزر پر اجملؔ
ہم سمجھتے ہیں قدم ہم نے جمایا ہوا ہے
---------۔
مر گئے ہوتے تو یاد آتے تمہیں بھی اجملؔ
جی رہے ہیں تو قصور اس میں ہمارا کیا ہے
---------۔
کون ہے مستقل مکین یہاں
ایک ہجرت تو سب پہ لازم ہے
---------۔
سب کے ہوتے ہوئے اک روز وہ تنہا ہو گا
پھر وہ ڈھونڈے گا ہمیں اور نہیں پائے گا وہ
---------۔
کوئی دن آساں نہیں جاتا مرا
کوئی مشکل آزما جاتی ہے روز
---------۔
رنگ محفل کا عجب ہو گیا جس دم اس نے
خامشی کو بھی مری حسن طلب بتلایا
---------۔
وہ جب تلک نہیں آتا پکارتے رہتے
تو دیکھ لیتے کہ وہ کب تلک نہیں آتا