Pakistan Train's

Pakistan Train's We trying to show real face off pakistan railway

پاکستان ریلوے کسی عجوبے سے کم نہیں۔ یہاں پیسے اے سی کے لیے لیے جاتے ہیں، لیکن سہولت اکانومی کلاس والی دی جاتی ہے۔ صرف ات...
20/06/2026

پاکستان ریلوے کسی عجوبے سے کم نہیں۔ یہاں پیسے اے سی کے لیے لیے جاتے ہیں، لیکن سہولت اکانومی کلاس والی دی جاتی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، بکنگ پہلے کر لی جاتی ہے اور بعد میں بتایا جاتا ہے کہ آپ کی کوچ لگی ہی نہیں۔

کافی دنوں سے پاور وین کی کمی کے باعث مختلف لوگوں سے شکایات سننے کو مل رہی ہیں۔ کبھی پاور وین راستے میں ہی جواب دے جاتی ہے اور کبھی پاکستان ریلوے کی ترقی سے اتنا حسد کرنے لگتی ہے کہ دورانِ سفر ہی جل جاتی ہے، جس کا خمیازہ بیچارے مسافروں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

ایک مثال ہی دیکھ لیجیے۔ علامہ اقبال ایکسپریس، جو کراچی سے سیالکوٹ اور سیالکوٹ سے کراچی کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر چلتی ہے، اس میں ایک اے سی اسٹینڈرڈ کوچ ہوا کرتی تھی، جو اب پاور وین کی کمی کے باعث تیزگام ایکسپریس میں لگائی جاتی ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کوچ تیزگام ایکسپریس میں لگائی جاتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ کوچ سیالکوٹ تک نہیں جاتی بلکہ لاہور پہنچ کر الگ کر دی جاتی ہے، اور مسافروں سے کہا جاتا ہے کہ آگے اپنے انتظامات خود کر لیں۔

ایک مثال اور اپ کی خدمت میں پیش کرتا چلوں اور وہ یہ ہے کہ ائے دنوں پاکستان ریلویز کی پریمیم اور لگزری ٹرینوں میں شمار ہونے والی دو ریل گاڑیاں گرین لائن ایکسپریس اور پاک بزنس ایکسپریس ان دونوں کی بھی نئی چائنیز کوچوں کے ساتھ ہیر پھیر کی جاتی ہے لوگ بیچارے نہیں کوچ میں سفر کرنے کے لیے مہنگے داموں ٹکٹ خریدتے ہیں اور سٹیشن انے پر معلوم ہوتا ہے کہ کوچ تو وہی پرانی لگی ہے۔ اور اگر اس کوچ کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جائے تو ریلوے انتظامیہ اور کچھ نام نہاد ریلوے انفلوئنسرز کی طرف سے سننے کو ملتا ہے کہ ایڈجسٹ کریں۔ تو میرا ان سے سوال ہے کہ اگر ایڈجسٹ کرنا ہوتا تو مہنگے داموں ٹکٹ خریدتے ہی کیوں کسی سستی ریل گاڑی میں چلے جاتے کیونکہ ایڈجسٹ کر کے جانا تو اپنی منزل پہ ہی ہے۔

اپنی اس تحریر کا اختتام میں کچھ یوں کروں گا کہ خدارا لوگوں کے خون پسینے اور محنت سے کمائے ہوئے پیسوں کی قدر کریں۔ اپ کو ان کا یقین جیتنے کی کوشش کرنی چاہیے نئی سے نئی سہولیات دینی چاہیے نہ کہ صرف میڈیا پر ا کر بھڑکیں مارنی چاہیے کہ ہم یورپی طرز کی ریلوے بنا چکے ہیں۔

آدھی رات خانیوال اسٹیشن پر جو قرارقرم ایکسپریس کے مسافروں کے ساتھ ہوا وہ ریلوے کی نالائقی اور بد انتظامی کا منہ بولتا ثب...
20/06/2026

آدھی رات خانیوال اسٹیشن پر جو قرارقرم ایکسپریس کے مسافروں کے ساتھ ہوا وہ ریلوے کی نالائقی اور بد انتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے
قرارقرم ایکسپریس کو 5 گھنٹے سے زیادہ خانیوال اسٹیشن پر روکا گیا کیونکہ ٹرین میں بجلی سپلائی کرنے والا ڈبہ جسے پاور وین کہا جاتا ہے وہ موجود نہ تھا بجلی نہ ہونے کے باعث نہ اے سی چل رہے تھے نہ لائٹ اور نہ پنکھے ہزاروں روپے کے ٹکٹ خریدنے کے باوجود مسافر زلیل و خوار ہوگئے
قرارقرم ایک برینڈ ٹرین ہے آج بھی لوگ اسے پسند کرتے ہیں لیکن رات جو مسافروں کے ساتھ ہوا ہے ہمیں نہیں لگتا وہ مسافر دوبارہ کبھی سفر کے لیے ریلوے کا انتخاب کریں گئے
خدا کے لیے گنی چنی 40 ٹرینوں کو ٹھیک چلا لو 🙏🏻

تیل کی قیمت میں 72 روپے کی کمی لیکن ٹرینوں کے کرائے میں کوئی کمی نہیں آئے گی کیونکہ تیل کی قیمت بڑھنے سے ٹرینوں کے کرائے...
20/06/2026

تیل کی قیمت میں 72 روپے کی کمی لیکن ٹرینوں کے کرائے میں کوئی کمی نہیں آئے گی کیونکہ تیل کی قیمت بڑھنے سے ٹرینوں کے کرائے میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا

پاکستان ریلویز واقعی ڈیجیٹلائزیشن کی جانب گامزن ہے۔ اسی اثنا میں ہونے والے کچھ واقعات درج ذیل ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ...
19/06/2026

پاکستان ریلویز واقعی ڈیجیٹلائزیشن کی جانب گامزن ہے۔ اسی اثنا میں ہونے والے کچھ واقعات درج ذیل ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر ہماری ریلوے ترقی پذیر ہو چکی ہے:
1. 34Dn Pak Business Express Engine No. 9003 Fail at Ranipur.
1. پاک بزنس ایکسپریس کا انجن رانی پور اسٹیشن پہ ہوا فیل۔

2. 34Dn Pak Business Express Buffer Breaks At Setharaja.
2. اسی پاک بزنس ایکسپریس کی ایک کوچ کا بفر سٹھا راجہ پہ ٹوٹ گیا۔

3. YSW/C Freight Train Last 2 Coaches Derailed At Hyderabad PF_1.
3. یوسف والا جانے والی مال گاڑی کی اخری دو بوگیاں حیدراباد کے پلیٹ فارم نمبر ایک پہ ڈیریل ہو گئی۔

4. 2Dn Khybermail Engine No. 6323 Fail at Kahna Kacha.
4۔ لاہور سے کراچی جانے والی خیبر میل کا انجن کانہ کاچہہ بے فیل ہو گیا۔

السلام علیکمجیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوچکا ہے ہر سال 8 اور 9 محرم کے دن جوکہ اس دفعہ 24 اور ...
18/06/2026

السلام علیکم

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوچکا ہے ہر سال 8 اور 9 محرم کے دن جوکہ اس دفعہ 24 اور 25 جون ہیں یہ دن ریل گاڑیوں کے مسافروں کے لئے بہت مشکل دن ہوتے ہیں

کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے ہم سب دیکھتے آرہے ہیں کہ ان دنوں ریل گاڑیوں میں کچھ شرپسند حضرات بہت توڑ پھوڑ مسافروں سے بد تمیزی اور بے تحاشہ پریشان کرتے ہیں
نا خواتین کا احترام کرتے ہیں نا بچوں اور بزرگوں کا خیال کرتے ہیں
اور سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ کہ ان کو کوئی کچھ کہنے والا نہیں ہے یہ جو چاہینگے آزادی سے کرینگے

اس لئے خیال آپ کو خودی کرنا ہے ریلوے والے تو یہ بات کبھی نہیں کہینگے لیکن ہم ریل فین جن کو ریل گاڑیوں سے خاص لگاو ہے تو اس کے مسافروں کا بھی خیال ہے

اس لئے گزارش ہے کہ ان دنوں سفر نا کریں پہلے سے بکنگ ہے تو کینسل کردیں پیسوں کا نقصان ضرور ہوگا لیکن زہنی اذیت اور بدتمیزی اور دوسری تکالیف سے بچت ہوجائیگی خاص کر خواتین اور بچوں کی

یہ بات کسی فرقے یا مسلک کے خلاف نہیں کی گئی بس ایک احتیاط کے طور پے بتائی گئی ہے کیونکہ بہت سارے مسافر اس تکلیف سے گزر چکے ہیں تو ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کو تکلیف سے بچایا جاسکے کیونکہ ریلوے کی جانب سے کوئی حفاظتی اقدام نہیں کئے جاتے نا پہلے سے کسی خطرے سے آگاہ کیا جاتا ہے ایسے ہی بے یارومددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اس لئے جس کا دل چاہتا ہے وہ اپنا غصہ ریلوے پے نکال کے چلا جاتا ہے

اللہ تعالی ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمارے ملک پاکستان اور پاکستان ریلوے کو بہت ترقیاں عطا فرمائے
آمین

**🚆 کیا عوام ایکسپریس کی سروس بھی شالیمار ایکسپریس کی طرح اچھی ہوگی؟**ریلوے حلقوں میں یہ خبر زیرِ بحث ہے کہ **عوام ایکسپ...
17/06/2026

**🚆 کیا عوام ایکسپریس کی سروس بھی شالیمار ایکسپریس کی طرح اچھی ہوگی؟**

ریلوے حلقوں میں یہ خبر زیرِ بحث ہے کہ **عوام ایکسپریس** کا آپریشن بھی **اے اے انٹرپرائزز** کے پاس آ گیا ہے، جو پہلے سے **شالیمار ایکسپریس** چلا رہی ہے۔ اس خبر کے بعد مسافروں کے ذہن میں ایک اہم سوال پیدا ہو رہا ہے:

**کیا عوام ایکسپریس کا معیار بھی شالیمار ایکسپریس کی طرح بہتر ہو جائے گا؟**

شالیمار ایکسپریس کے حوالے سے اکثر مسافروں کی رائے یہ رہی ہے کہ نجی انتظام کے بعد ٹرین کی صفائی، کیٹرنگ، کوچوں کی دیکھ بھال اور مجموعی سروس میں کافی بہتری آئی۔ اگرچہ ہر مسافر کا تجربہ مختلف ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر شالیمار ایکسپریس کو پاکستان ریلویز کی بہتر ٹرینوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہی ماڈل عوام ایکسپریس پر بھی کامیاب ہوگا؟

عوام ایکسپریس ملک کی اہم اور مصروف ترین ٹرینوں میں شامل ہے، جو بڑی تعداد میں متوسط اور عام مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ مسافر طویل عرصے سے درج ذیل مسائل کی شکایت کرتے رہے ہیں:

🔹 کوچوں کی صفائی کا ناقص انتظام
🔹 واش رومز کی خراب حالت
🔹 کیٹرنگ کے معیار پر اعتراضات
🔹 وقت کی پابندی کے مسائل
🔹 کوچوں کی مرمت اور دیکھ بھال میں کمی

اگر اے اے انٹرپرائزز واقعی شالیمار ایکسپریس کی طرح عوام ایکسپریس پر بھی خصوصی توجہ دیتی ہے تو مسافروں کو بہتر ماحول، معیاری کیٹرنگ، صاف ستھری کوچیں اور زیادہ آرام دہ سفری سہولیات مل سکتی ہیں۔ تاہم کامیابی کا انحصار صرف انتظامیہ پر نہیں بلکہ پاکستان ریلویز کی نگرانی، کوچوں کی دستیابی اور آپریشنل سہولیات پر بھی ہوگا۔

فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عوام ایکسپریس مکمل طور پر شالیمار ایکسپریس جیسی بن جائے گی، لیکن مسافروں کی توقعات ضرور بڑھ گئی ہیں۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آنے والے دنوں میں عوام ایکسپریس میں کیا عملی تبدیلیاں نظر آتی ہیں اور آیا یہ ٹرین بھی شالیمار ایکسپریس کی طرح مسافروں کی پسندیدہ ٹرین بن پاتی ہے یا نہیں۔

**آپ کی کیا رائے ہے؟**
کیا اے اے انٹرپرائزز عوام ایکسپریس کو بھی شالیمار ایکسپریس کی طرح ایک معیاری اور بہترین ٹرین بنا سکے گی؟

👇 اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔

🚂✨

رواں ماہ  میں یہ جنریٹر  پاور وین کو آگ لگنے کا دوسرا واقعہ پیش آیا ہے۔   کچھ دن قبل  خانیوال کے قریب  تیزگام  اور کل ات...
16/06/2026

رواں ماہ میں یہ جنریٹر پاور وین کو آگ لگنے کا دوسرا واقعہ پیش آیا ہے۔ کچھ دن قبل خانیوال کے قریب تیزگام اور کل اتوار کو صادق آباد کے قریب ہزارہ ایکسپریس کے پاور وین کو آگ لگ گئ۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ موجودہ وزیر موصوف کے دور اقتدار میں ریلوے کو سنگین حالات سے گزر نا پڑا ہے کئ حادثات رونما ہوئے جس میں کئ زندگیاں بھی چلی گئیں مگر کسی کو ٹس سے مس نہںں ہوا۔ ان حادثات کی صرف انکوائریاں ہوتی رہیں مگر افسوس کہ کسی بڑے افسران کو کوئ سزا نہں ملی سزا اور جزا صرف نچلے طبقے تک محدود رہی وہ بھی ان کیٹیگریز میں جو لاوارث ہیں۔ ان حادثات میں جہاں ریلوے کو اربوں کا نقصان ہوا انجن بوگیاں ٹریک ڈیمیج ہوئیں سو ہوئیں لیکن ٹرین آپریشن بری طرح متاثر ہوا جس میں ریفنڈ اور کلیم کے مد میں اربوں ادارے کودینے پڑے
اس وقت ٹرین آپریشن بری ظرح متاثر ہے سخت گرمی میں انجن کا فیل ہونا اے سی کا نا چلنا اور ان پاور وینز کو آگ لگنے کی وجوہات ان کو بلکل ریسٹ نہںں ملتی آؤ اور جاؤ والی پالیسی چل رہی ہے۔ پاور وینز کی کمی اور پرانے ہونے کیوجہ سے ہر پاور وین کو دو گھنٹے بھی ریسٹ نہیں مل رہا اور نا تجربے گار عملہ جو اے سی میں سویا رہتا ہے بجائے اپنے پینل میں رہنے کے اور سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ایک یا دو بندے ہوتے ہیں جو اسٹارٹنگ سے ڈیسٹینیشن تک دیکھ بال کیلئے رکھے گئے ہںں جن کو 36 گھنٹے بھی نوکری کرتے گزر جاتے ہیں بھلا وہ اپنی ریسٹ کریں یا ان کی دیکھ بال۔
اس نظام کو بدلنا ہوگا جس طرح ڈرائیور گارڈ یا ٹرین کا دوسرا عملہ 10 سے 12 گھنٹے بعد تبدیل ہوتا ہے اسی طری ہر ڈویزن میں پاور وین اور اے سی اٹینڈنٹ کا عملہ بھی تںدیل ہونا چاھئے اور کم سے کم ایک ٹرپ مکمل کرنے یعنے کہ 24 گھنٹے سے 36 گھنٹے مسلسل چلنے کے بعد کم سے کم 6 سے 10 گھنٹے اس مشین کو ریسٹ دیا جائے اس کا آئل پانی چیک کیا جائے اس کی مطلوبہ مرمت کی جائے تو شاید بھتر نتائج موصول ہو سکیں۔

ملتان ریلوے اسٹیشن (جسے ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن بھی کہا جاتا ہے) پاکستان کے قدیم ترین اور اہم ترین ریلوے اسٹیشنوں میں سے...
16/06/2026

ملتان ریلوے اسٹیشن (جسے ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن بھی کہا جاتا ہے) پاکستان کے قدیم ترین اور اہم ترین ریلوے اسٹیشنوں میں سے ایک ہے۔ اس کی تاریخ برطانوی دورِ حکومت سے جڑی ہوئی ہے جب ہندوستان میں ریلوے کے نظام کا آغاز ہو رہا تھا۔

ملتان ریلوے اسٹیشن کی تاریخ کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

1۔ آغاز اور تعمیر (19 ویں صدی)

• پہلی ریلوے لائن: ملتان میں ریلوے کی تاریخ کا باقاعدہ آغاز 1863ء میں ہوا جب شیر شاہ سے ملتان شہر تک 11 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھائی گئی۔

• لاہور-ملتان سیکشن: 24 اپریل 1865ء کو لاہور اور ملتان کے درمیان ریلوے لائن کا افتتاح کیا گیا، جس نے ملتان کو پنجاب کے دیگر اہم شہروں سے جوڑ دیا۔

• کینٹ اسٹیشن کی تعمیر: موجودہ ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن کی عمارت کی تعمیر 1898ء سے 1899ء کے درمیان مکمل ہوئی، جو آج بھی اپنی تاریخی شان و شوکت کے ساتھ قائم ہے۔

2۔ جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت

ملتان شروع ہی سے ایک اہم تجارتی اور دفاعی مرکز رہا ہے۔ برطانوی دور میں اسے "کراچی-پشاور" مین لائن (Main Line 1) پر ایک کلیدی جنکشن کی حیثیت حاصل تھی۔ یہاں سے ٹرینیں نہ صرف کراچی اور لاہور کی طرف جاتی تھیں بلکہ لودھراں اور مظفر گڑھ کے راستے دیگر علاقوں کو بھی جوڑتی تھیں۔

3۔ طرزِ تعمیر

ملتان کینٹ اسٹیشن کی عمارت برطانوی نوآبادیاتی دور (Colonial Architecture) کا بہترین نمونہ ہے۔

• اس میں سرخ اینٹوں کا استعمال اور بلند محرابیں اس دور کے مخصوص اسٹائل کو ظاہر کرتی ہیں۔

• اسٹیشن کے اندر مسافروں کے لیے وسیع پلیٹ فارم، انتظار گاہیں اور دفاتر بنائے گئے تھے جو آج بھی زیرِ استعمال ہیں۔

4۔ ملتان شہر اسٹیشن (Multan City Station)

کینٹ اسٹیشن کے علاوہ ایک اور تاریخی اسٹیشن "ملتان شہر ریلوے اسٹیشن" ہے جو 1906ء میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ اسٹیشن اندرونِ شہر کے قریب ہونے کی وجہ سے عوامی نقل و حمل کے لیے بہت اہم تھا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ کینٹ اسٹیشن کو زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی۔

5۔ قیامِ پاکستان کے بعد
1947ء کے بعد یہ اسٹیشن پاکستان ریلویز (سابقہ نارتھ ویسٹرن ریلوے) کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ آج یہ پاکستان کے مصروف ترین اسٹیشنوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے روزانہ درجنوں مسافر اور مال بردار ٹرینیں گزرتی ہیں۔

Multan Railway Station (also known as Multan Cantt Railway Station) is one of the oldest and most important railway stations in Pakistan. Its history dates back to the British rule when the railway system was just starting in India.

The following are the important aspects of the history of Multan Railway Station:

1. Inception and Construction (19th century)

• First Railway Line: The history of railways in Multan officially began in 1863 when an 11-kilometer railway line was laid from Sher Shah to Multan city.

• Lahore-Multan Section: The railway line between Lahore and Multan was inaugurated on 24 April 1865, connecting Multan with other important cities of Punjab.

• Construction of Cantt Station: The construction of the present Multan Cantt Railway Station building was completed between 1898 and 1899, which still stands today with its historical splendor.

2. Geographical and Strategic Importance

Multan has been an important commercial and defense center since its inception. During the British era, it was a key junction on the "Karachi-Peshawar" main line (Main Line 1). Trains from here not only went to Karachi and Lahore but also connected other areas via Lodhran and Muzaffargarh.

3. Architectural Style

The building of Multan Cantt Station is a fine example of British Colonial Architecture.

• The use of red bricks and high arches in it reflects the specific style of that era.

• Inside the station, spacious platforms, waiting rooms and offices were built for passengers, which are still in use today.

4. Multan City Station

Apart from Cantt Station, another historic station is "Multan City Railway Station" which was established in 1906. This station was very important for public transport due to its proximity to the inner city, however, over time, Cantt Station gained more importance.

5. After the formation of Pakistan
After 1947, this station became a major hub of Pakistan Railways (formerly North Western Railways). Today, it is one of the busiest stations in Pakistan, with dozens of passenger and freight trains passing through it daily.

Credit Multani Tarekh

Address

Multan

Telephone

+923088388719

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Train's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan Train's:

Share