27/09/2024
گزشتہ روز و شب پر کچھ مجھے خیرات کرنی ہے
کبھی ملنا ، مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے
نہ قاصد کا تکلف ہو ، نہ نامہ بر رہے حائل
بذریعہ خط نہیں اب گفتگو بالذّات کرنی ہے
جب آنا مجھ سے ملنے ذہن و دل بھی ساتھ لے آنا
کہ ٹکڑوں میں نہیں سب گفتگو اک ساتھ کرنی ہے
غرور و تمکنت والا تمھارا ناز کا معبد
بہا لے جاؤں میں اشکوں کی وہ بہتات کرنی ہے
فراق و ہجر کے قصے بیاں ہوں گے تو یوں ہوگا
میں شعلوں میں گِھرا ہوں گا تمھیں برسات کرنی ہے
اجازت ہے حضوری کی تو پردہ رازداں کیوں ہو؟
کہ عرضِ آرزو بھی قبلۂ حاجات کرنی ہے
مرا ہر واقعہ قرطاسِ دل پر ہے لکھا اکمل
تمھاری داستاں بھی زینتِ صفحات کرنی ہے
اکمل الہ آبادی