03/07/2026
لاہور جنکشن ریلوے اسٹیشن کی تاریخ کو ہم تین اہم ادوار میں تقسیم کر کے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں:
۱۔ برطانوی دور اور قلعہ نما تعمیر (1859–1860)
1857ء کی جنگِ آزادی کے فوراً بعد، برطانوی حکومت برصغیر میں اپنے دفاع اور فوجی نقل و حرکت کو لے کر بہت زیادہ فکر مند تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب 1859ء میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر جان لارنس نے اس اسٹیشن کا سنگِ بنیاد رکھا، تو اسے محض ایک ریلوے اسٹیشن کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط فوجی قلعے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا۔
برطانوی انجینئرز کے تیار کردہ اس ڈیزائن کو لاہور کے مشہور ٹھیکیدار میاں محمد سلطان چغتائی نے عملی جامہ پہنایا۔ اسٹیشن کی دیواریں سرخ اینٹوں سے غیر معمولی حد تک موٹی بنائی گئیں، اس میں بڑے بڑے برج (Turrets) شامل کیے گئے اور دیواروں میں بندوقوں اور توپوں کے لیے خاص سوراخ (Gun slits) چھوڑے گئے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا بغاوت میں برطانوی فوج یہاں پناہ لے کر اپنا دفاع کر سکے۔ 1860ء میں یہاں سے پہلی ٹرین امرتسر کے لیے روانہ ہوئی۔
۲۔ تحریکِ آزادی کا مرکز (1928)
یہ اسٹیشن صرف ریل گاڑیوں کی آمدورفت کا گواہ نہیں رہا، بلکہ برصغیر کے لوگوں کی آزادی کی تڑپ کا بھی شاہد ہے۔ 30 اکتوبر 1928ء کو جب برطانوی حکومت کا "سائمن کمیشن" لاہور پہنچا، تو معروف رہنما لالا لاجپت رائے کی قیادت میں ہزاروں لوگوں نے اسی ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک بہت بڑا پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج کو کچلنے کے لیے برطانوی پولیس نے اندھا دھند لاٹھی چارج کیا، جس میں لالا لاجپت رائے شدید زخمی ہوئے اور بعد میں انہی زخموں کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ اس واقعے نے آزادی کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی۔
۳۔ تقسیمِ ہند اور ہجرت کا منظر (1947)
لاہور ریلوے اسٹیشن کی تاریخ کا سب سے حساس اور دردناک باب 1947ء میں تقسیمِ ہند کے وقت لکھا گیا۔ یہ اسٹیشن تاریخ کی سب سے بڑی انسانی ہجرت کا مرکزی نقطہ بن گیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی "آزادی کی ٹرینیں" (Refugee trains) اسی اسٹیشن پر آ کر رکتی اور یہاں سے روانہ ہوتی تھیں۔ اس دور میں اسٹیشن نے جہاں لاکھوں لوگوں کو اپنے نئے وطن پہنچنے کی خوشی میں روتے دیکھا، وہاں ہجرت کے دوران ہونے والے فسادات اور انسانی المیوں کا بھی خاموش گواہ رہا۔