15/02/2024
ٹرانسپورٹ سے وابستہ لوگ نہایت سیدھا سادھا،رحم دل،حلال کھانے ،محنت کش ،ملک سے مخلص،ذیادہ ٹکس دینےوالے،ملک میں بے روزگاری کو کنٹرول کرنے والے اور پورے ملک میں اپنے ارام کو نظر انداز کرکے ضروری سامان ملک کے مخلتف علاقوں میں پہنچاتے ہے۔
جو بہت بڑی خدمت ہے۔
لیکن بدقسمتی یہ سب جان کر بھی سب سے ذیادہ مظلوم بھی یہ لوگ ہے۔
گھر میں جھگڑا بھی کرے تو باہر اکر ان لوگوں پر اپنا غصہ نکالتے ہے۔
سب سے کم تر سمجھتے ہے پاکستان میں۔
جو بہت بڑی نمک حرامی ہے۔
لیکن پھر بھی یہ اپنے حقوق کیلے اواذ نہی اٹھاتے
متحد نہی ہوتے فریاد نہی کرتے۔
میں نے اوپر بھی بیان کیا ہے کہ سب سے اچھے نرم دل اور نیک ہے جو اسانی سے اعتبار کرتے ہے۔
اور اسی کہ وجہ سے اکثر اسے لوگ استعمال کرکے اپنا ذاتی فایدے حاصل کرتے ہے۔
جس کی وجہ سے اکثر کوی مزاحمت کامیاب نہی ہوتا۔
نا کوی سنجیدہ لیتے ہے نا کوی فریاد سنتے ہے
کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ نا متحد ہو سکتے ہے اور نا کچھ کر سکتے ہے
اسلیے کام بھی لیتے ہے،ظلم بھی کرتے ہے اور حکارت کی نظر سے بھی دیکھتے ہے۔
کیونکہ متحد کرنے کے نام پر سب بڑے بڑے اپنے کام نکلواتے ہے
ٹرانسپورٹ کے طاقت کو اپنے ذات کیلے استعمال کرتے ہے
اور نقصان دن بدن ٹرانسپورٹ کو پہنچتا ہے۔
اسلیے ٹرانسپورٹ کو اپنے اپ کو ،اپنے پیسو کو اور اپنے بچوں کے مستقبل کو بچانے کیلے کسی پر بھی اسانی سے اعتبار نہی کرنا ہوگا۔
اپنے مسائل کیلے خود لڑنا ہوگا
اپنے اپ کو مضبوط کرنا ہوگا۔
ورنہ ذلیل بھی ہونگے
محنت بھی سب سے ذیادہ کرنگے
لیکن کوی اور اسے اپنا نصیب سمجھ کر ٹرانسپورٹ کے حقوق پر قابض ہوگا۔
ذندہ رہنا ہے تو خود لڑنا ہوگا
اپنے مسایل کیلے۔