24/01/2026
بہاول نگر سے روانہ ہو کر ریل گاڑی ریاست بہاول پور کے آخری قصبوں میں سے ایک منڈی صادق گنج پر پہنچ کر دو مختلف راستوں سے دہلی چلی جاتی تھی۔ ایک راستہ امروکا اور فاضلکا کی طرف سے اور دوسرا مشرق کی طرف نکل جاتا اور بھٹنڈہ سے ہوتا ہوا دہلی جا نکلتا۔ بعد ازاں جب پنجاب کا بٹوارہ ہوا تو نارتھ ویسٹرن ریلوے بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ بٹھنڈہ کا راستہ معطل ہونے کے بعد منڈی صادق گنج سے اب صرف ایک ہی لائن امروکا اسٹیشن تک جاتی تھی جو پاکستان نے شامل ہو گیا تھا اور اب یہ لائن بھی اسی سرحدی قسب یعنی امروکا تک ہی محدود ہو کر چلی گئی تھی جہاں وہ اپنے سفر کا اختتام کر کے الٹے قدموں ایک بار پھر بہاول نگر اور سمہ سٹہ کی طرف واپس چلی جاتی تھی۔
پاکستان بننے کے بہت عرصے بعد تک سمہ سٹہ بہاول نگر والی لائن پر تین چار گاڑیاں روانہ روزانہ آتی جاتی تھیں۔ ایک دو تو امروکا تک نکل جاتی تھی اور دو وہاں کی برانچ لائن پر فورٹ عباس کی راہ پر چل پڑتی تھیں۔ رفتہ رفتہ بہاول نگر سے امروکا جانے والی یہ لائن اپنی افادیت کھونے لگی تو مختصر سی اس پٹری کو مالی اور انتظامی طور پر ناقابل عمل قرار دے کر ستمبر 1993 میں مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔
یہ خو تو ڈوبی ہی تھی لیکن جاتے جاتے بہاول نگر سے فورٹ عباس جانے والی ایک بڑی برانچ لائن بھی ساتھ لے ڈوبی۔ عین اسی دن اس کو بھی انہی وجوہات کی بنیاد پر بند کر دیا گیا گویا ایک ہی دن میں دو برانچ لائنوں پر دوڑتی بھاگتی گاڑیوں کی چپ چاپ ہی موت واقع ہو گئی تھی۔ جن کو تو ان لائنوں اور ان پر چلنے والی گاڑیوں سے محبت تھی وہ تو دل مسوس کر کے رہ گئے، تاہم عام لوگوں نے اسے معمول کی کاروائی سمجھ کر کوئی توجہ ہی نہ دی۔
ریل کی جادو نگری