22/08/2026
پردیس میں ہمارے اپنے پاکستانی ہی ہماری مدد نہیں کرتے۔ وہ ہمیں اچھی نوکریوں پہ نہیں دیکھنا چاہتے، وہ ہمیں ریفر نہیں کرتے۔
یہ گلہ ہم اکثر سُنتے ہیں۔ یہ یک طرفہ کہانی ہے جسے پورا جذباتی ٹچ دے کے سنایا جاتا ہے۔ اور یہ کہانی ہاتھوں ہاتھ بِکتی ہے۔
اس کہانی کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے۔میرا سارا کیرئیر ایچ آر( بندے بھرتی کرنے) کا ہے اور پھر اپنے کاروبار میں بھی ہائرنگ بنیادی کام ہے۔میں اس کہانی کا دوسرا رُخ بھی سُنا سکتا ہوں۔ہم صرف گلف کی مثال لیں گے اور یہاں کی بات کریں گے۔گلف میں انڈین،فلپینی،نیپالی آپ کو ہر جگہ نظر آئیں گے۔پاکستانی ایک مخصوص سرکل میں ڈرائیونگ کرتے،ڈلیوری کرتے،یا اے سی ٹیکنیشن ملیں گے۔کیوں؟
سادہ سی وجہ ہے،اٹیٹیوڈ،یعنی رویہ اور کام کرنے کے ایتھکس۔آپ کو فلپینی اور نیپالی کام کی جگہ پہ مسکراہٹ کے ساتھ ملیں گے،وہ اپنے کام سے راضی ہیں،انڈین پروفیشنل ہیں،مگر اپنے والے؟انہیں کِک نہیں ملتی۔انہیں ہمیشہ لگتا ہے کہ یہ کام بہت چھوٹا ہے،بس مجبوری میں یہ کام کر رہے ہیں۔یہ شروعات اور چھوٹے کاموں کے عادی نہیں،انہیں ڈاریکٹ حوالدار لگنا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ جہاں کوئی اچھی پوزیشن پہ بیٹھا پروفیشنل آپ کو ریفر کرتا ہے آپ اس کی ہی بدنامی کا باعث بنتے ہو۔چند ہفتوں میں آپ کا اصلی رنگ ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔آپ کو کام سیکھنے سے پہلے، پروبیشن کے خاتمے سے پہلے پروموشن چاہیے،آپ کو کبھی رہائش اچھی نہیں لگتی،کبھی کھانا پسند نہیں آتا،کبھی ٹیم کے ساتھ نہیں بنتی،کبھی مینجمنٹ سے مسائل ہوتے ہیں۔ایسے میں کون ریفر کرے گا آپ کو؟
عام رائے کے برعکس ریفر کرنے اور سفارش کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ریفر کا مطلب یہ ہے کہ کسی کمپنی نے ہائرنگ کرنی ہے اور میں کسی ایسی بندے کو جانتا ہوں جو اس نوکری کے لیے موزوں ہو سکتا ہے اسکا سی وی کمپنی میں بھیج دیا۔ملازمت دینا یا نہ دینا کمپنی کی مرضی اور امیدوار کی قابلیت ہے۔کوئی بھی آپ کو صرف اس وجہ سے ہائر نہیں کرے گا کہ آپکو کسی اے بی سی بندے نے ریفر کیا ہے۔آپ کو انٹرویو ٹیبل تک بٹھایا جاسکتا ہے،باقی آپ کی قابلیت ہوتی ہے۔آپ کا ہنر ہوتا ہے اور آپ کی قسمت ہوتی ہے۔
میرے سمیت کوئی بھی ایمپلائر ایسا بندہ نہیں بھرتی کرے گا جو کوئی ویلیو ایڈ نہیں کرسکتا۔اگر آپ ہنر مند ہیں تو آپ کو ریفر کے بعد نوکری ملے گی،ورنہ وہ ریفرنس بے سود ہیں۔آپ ریفرنس سے پہلے اپنے ہنر،سکل اور قابلیت پہ بھی تھوڑی محنت کر لیں۔
عام مشاہدہ یہ ہے کہ نئے آنے والے جس سرکل میں آتے ہیں اس سے محض منفی سوچیں اور خیالات کشید کرتے ہیں۔پھر اپنے علاوہ ساری دنیا ولن نظر آتی ہے۔اگر انہیں ملازمت نہیں مل رہی تو خال ہی کوئی اپنی قابلیت پہ کام کرے گا،سب کو پہلے سے سیٹ لوگوں سے مسئلہ ہوگا۔اگر فلاں مجھے کام پہ رکھوا دیتا۔آپ کو کام پہ رکھوا دیتا؟کس کام پہ؟کس تجربے کی بنیاد پہ،کس ہنر کی بنیاد پہ؟یا کس رویے کی بنیاد پہ؟آپ ہنر اور قابلیت سیکھ سکتے ہیں،آپ رویے نہیں سیکھ اور سیکھا سکتے۔کمپنیز آپ کو ہنر پہ ٹریننگ دیں گی،مگر وہ آپ کے ایٹیٹوڈ کو درست نہیں کرسکتیں۔رویے آپ نے خود درست کرنے ہیں،خود سیکھنے ہیں۔ساری زندگی کی منفی انرجیاں اور بلاوجہ کے زعم خود نکالنے ہیں۔
مختصر کہانی یہ ہے کہ اگر آپ نئے آئے ہیں،تو بس ایک کام کریں۔اپنے آپ کو نئے نظام کے مطابق ڈھالیں،منفی رویوں سے کنارہ رکھیں اور ذہن نشین کر لیں کہ آپ اس نظام میں صفر سے شروع کرنے والے ہیں۔ریفر کرنے والے آپ کے سی وی سے پہلے آپ کا رویہ دیکھتے ہیں،اور ہائرنگ کمپنی تک آپ کی قابلیت سے پہلے آپ کے رویے پہنچتے ہیں۔
رویے درست کیجیے۔
بہت پیار
واسلام
Nadeem Jaspal ندیم جسپال~