08/09/2025
بلوچستان کے معروف سرمایہ دار ٹرانسپورٹر میر فیروز لہڑی کل کراچی میں انتقال کر گئے۔
ان کی شخصیت سے اختلاف کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں۔ (ہم جیسے سرمایہ دار مخالفوں کو تو خامخواہ بھی ہو سکتے ہیں) لیکن انھوں نے ایک ایسا کارنامہ سرانجام دیا، جس کا کریڈٹ ان سے کسی صورت چھینا نہیں جا سکتا اور وہ ہے کمیونیکیشن کے جدید ذرائع سے محروم بلوچستان کو جدید ٹرانسپورٹ سسٹم سے آراستہ کرنا۔ اور وہ بھی آج سے ساٹھ سال پہلے کے بلوچستان میں۔
آپ تصور کریں جب دوردراز تک پھیلے پیچیدہ جغرافیے والے بلوچستان میں (سرکاری ریل کے علاوہ) ٹرانسپورٹ کا تیزترین ذریعہ گھوڑا یا اونٹ ہوا کرتے تھے، اس آدمی نے پہلی مسافر وین متعارف کروائی اور یہ زمانہ ہے 1964 کا۔ جب ہمارے ہاں عام آدمی کی سواری بیل گاڑی یا گدھا گاڑی ہوا کرتی تھی۔ قافلے اونٹوں کے ذریعے سفر کیا کرتے تھے۔ کسی بھی قسم کی گاڑی ایک لگژری ہوا کرتی تھی، جسے صرف ایلیٹ طبقے کے لوگ ہی افورڈ کر سکتے تھے۔
1964ء میں میر فیروز لہڑی نے پہلی مسافر وین سبی اور جیکب آباد کے دوران چلائی۔ آہستہ آہستہ یہ معروف اور عوامی ہونا شروع ہوئی۔ تقریباً ایک دہائی بعد سدابہار کوچز کا آغاز ہوا۔ اور پھر اَسی اور نوے کی دہائی تک سدابہار بلوچستان سمیت پاکستان کے کونے کونے تک پھیل چکی تھی۔ آج یہ پاکستان کی بڑی ٹرانسپورٹ سروسز میں شامل ہے۔
آج اس کی سروسز کی عمومی شکایات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، آپ تصور کریں کہ ستر کی دہائی میں کوچ کا سفر لگژری کے ساتھ ساتھ کتنی بڑی سہولت ہو گا؟ طویل فاصلوں میں بکھرے بلوچستان کو اس سہولت نے قریب تر کر دیا۔ پہلی بار عوامی فاصلے سمٹ گئے۔ لوگوں کی ایک دوسرے تک، دیہات کی شہروں تک، مارکیٹ تک رسائی آسان ہوئی۔ زندگی کے ارتقا کو پہیہ لگ گیا۔
ٹرانسپورٹ محض سواری کی سہولت نہیں، اس سے کتنے ہی اور کاروبار وابستہ ہیں۔ سیکڑوں کوچز اور وین کے آنے سے ہر سڑک پر ٹائر کی دکانیں کھل گئیں۔ گاڑیوں کے مستریوں کی دکانیں کھل گئیں۔ ان کے پرزہ پارٹ والوں کا کام چل پڑا۔ ڈرائیوروں اور کلینرز کی مانگ بڑھ گئی۔ روزگار کے درجنوں وسیلے پیدا ہو گئے۔
یوں میر فیروز خان لہڑی نے ایک مسافر سے شروع ہونے والی سروس سے ایک ایمپائر کھڑی کر دی۔ وہ بلاشبہ ہماری ٹرانسپورٹ کی دنیا کے ملک ریاض تھے۔ انہوں نے فائلوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے سماجی ارتقا کو بھی پہیہ لگا دیا۔ یوں بھیڑپال سماج نے چرواہی و دیہی معشیت سے نکل کر تیزی سے شہری معیشت کا سفر کیا۔
قدرت کا اتفاق دیکھیے کہ بلوچستان کے اس "پہیہ ساز" کے انتقال پر آج پورے صوبے میں پہیہ جام ہوا پڑا ہے۔ گویا، اس وطن کو تیزرفتار پہیے سے روشناس کروانے والے کی رخصتی پر پہیہ بھی سوگ میں ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کسی علاقے میں تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھنے والے کسی استاد کی وفات کے دن اتفاق سے تمام تعلیمی ادارے بند ہو جائیں یا کسی علاقے میں پہلے اسپتال کی بنیاد رکھنے والے کی وفات پر اتفاقاً تمام ہسپتال بند ہو جائیں۔
کسی بھی شعبے یا پیشے سے وابستہ شخص کے لیے اس سے بڑا "قدرتی خراج" اور کچھ نہیں ہو سکتا۔
حاجی صاحب! بلوچستان کا پہیہ آپ کو سلام پیش کرتا ہے!!عابد میر