Umrah Updates

Umrah Updates UMRAH TRAVEL & TOURS SERVICES
Umrah Package | Hotel Booking
Airline Tickets | Work Visa

میں اس وقت مدینہ منورہ میں موجود ہوں۔سب سے پہلے پاکستانی حکومت اور پھر ٹریول ایجنٹس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتی ہو...
14/03/2026

میں اس وقت مدینہ منورہ میں موجود ہوں۔
سب سے پہلے پاکستانی حکومت اور پھر ٹریول ایجنٹس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتی ہوں کہ خدارا پاکستانی عوام کے ساتھ ظلم مت کریں۔ لوگ بہت امیدوں اور دعاؤں کے ساتھ عمرہ کی نیت سے یہاں آتے ہیں، لیکن کئی ٹریول ایجنٹس ان کے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں۔
اکثر ایجنٹس پہلے ویزا دینے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہماری رہائش لیں گے تو ہی ویزا ملے گا۔ مجبور ہو کر لوگ 15 سے 20 دن کے پیکج کے لیے لاکھوں روپے ادا کرتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ وہ سکون سے رہیں گے اور عبادت پر توجہ دے سکیں گے۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلتی ہے۔ ایجنٹس پہلے پڑھ لکھ کر اچھے ہوٹل اور کم فاصلے کا وعدہ کرتے ہیں، مگر جب لوگ مکہ یا مدینہ پہنچتے ہیں تو صورتحال بالکل مختلف ہوتی ہے۔
میرے اور بہت سے دیگر عمرہ زائرین کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہوٹل حرم سے تقریباً 600 میٹر کے فاصلے پر ہے، مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ہوٹل تقریباً 6 کلومیٹر دور ہے۔ عمرہ کے لیے اکثر بزرگ مرد اور خواتین آتے ہیں، جن کے لیے اتنا فاصلہ طے کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
مکہ مکرمہ میں تو ایک عورت کو ہوٹل تک بھی رسائی نہیں دی گئی اور وہ مجبور ہو کر سڑک پر سوتی رہی۔ کل مسجد نبوی میں بھی کئی خواتین کو پریشان اور روتے ہوئے دیکھا۔
جب ٹریول ایجنٹس کو فون کیا گیا تو انہوں نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے بدتمیزی کی، یہاں تک کہ عمرہ زائرین کو ہی بلیک میلر کہہ دیا گیا۔ کچھ ایجنٹس ایسے رویے اختیار کیے بیٹھے ہیں جیسے انہیں کسی کا خوف ہی نہیں۔
میری بھی کل اپنے ٹریول ایجنٹ سے بات ہوئی جس نے انتہائی بدتمیزی کی۔ ایک اور ایجنٹ سے میری دو سال پہلے ملاقات ہوئی تھی، اس کی ویڈیو بھی موجود ہے جس میں اس نے ویڈیو بنانے پر موبائل چھین لیا تھا اور ایک خاتون کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا تھا۔
ہم تو یہاں چند دن کے مہمان ہیں، رہ کر واپس چلے جائیں گے۔ ہم ٹیکسی افورڈ بھی کر سکتے ہیں اور کر بھی لیتے ہیں۔ لیکن یہاں آنے والے بہت سے بزرگ مرد اور خواتین ایسے ہوتے ہیں جنہیں روزے کی حالت میں سخت گرمی میں ایک گھنٹہ پیدل چلنا پڑتا ہے، تب جا کر وہ عبادت پر توجہ دے پاتے ہیں۔
ہماری حکومت پاکستان سے بار بار گزارش ہے کہ ایسے ٹریول ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی بھی عمرہ زائر کو اس طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اور مجھے لگتا ہے اگر ظلم ہوتا دیکھیں آواز نا اٹھائیں تب بھی یہ اچھی بات نہیں ہے ہماری عبادتیں کس کام کی ہیں اگر ہم ان بے بس لوگوں کو ایسے ہی روڈز ہر پڑا رہنے دیں ۔



enabvi




حج کی پہلی پرواز 18 اپریل کو سعودی عرب پہنچے گی ان شا اللہ اللہ ہمیں اور ہمارے والدین کو  #حج پر بلائے۔۔۔۔۔آمین
03/03/2026

حج کی پہلی پرواز 18 اپریل کو سعودی عرب پہنچے گی ان شا اللہ
اللہ ہمیں اور ہمارے والدین کو #حج پر بلائے۔۔۔۔۔آمین

🌿 عہدِ نبوی ﷺ میں گھروں کی ترتیبجب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ ہی اس کے ا...
15/02/2026

🌿 عہدِ نبوی ﷺ میں گھروں کی ترتیب
جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ ہی اس کے اردگرد چند حجرے (کمرے) بنائے گئے۔ یہ سادہ مٹی اور کھجور کے تنوں سے بنے ہوئے تھے۔
1️⃣ ازواجِ مطہراتؓ کے حجرے
مسجد کے مشرقی جانب نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کے حجرے تھے۔
ہر حجرہ انتہائی سادہ تھا:
مٹی کی دیواریں
کھجور کی لکڑی کی چھت
ایک یا دو کمرے
حضرت عائشہؓ کا حجرہ وہی مقام ہے جہاں آج روضۂ رسول ﷺ واقع ہے۔
📖 حوالہ: طبقات ابن سعد، تاریخ ابن کثیر، وفاء الوفاء (سمہودی)
2️⃣ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا گھر
مسجد نبوی کے قریب ہی حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا گھر تھا۔
اس گھر کا دروازہ مسجد کی طرف کھلتا تھا۔
حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ صبح نماز کے وقت ان کے دروازے پر آکر فرماتے:
"الصلاة يا أهل البيت"
📖 حوالہ: مسند احمد، ترمذی
3️⃣ دیگر صحابہؓ کے مکانات
ابتداءً کئی صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے، جیسے:
حضرت ابوبکرؓ
حضرت عمرؓ
حضرت عباسؓ
بعد میں نبی ﷺ کے حکم سے مسجد کی طرف کھلنے والے دروازے بند کر دیے گئے، سوائے حضرت ابوبکرؓ کے دروازے کے۔
📖 حوالہ: صحیح بخاری (حدیث سدّوا الابواب)
🏗 165 ہجری میں صورتحال
165 ہجری تک:
مسجد نبوی کی توسیع خلفائے راشدینؓ اور بعد میں اموی خلفاء (خاص طور پر ولید بن عبدالملک) کے دور میں ہو چکی تھی۔
ازواجِ مطہراتؓ کے حجرات کو مسجد میں شامل کر لیا گیا تھا (88 ہجری میں)۔
اصل گھروں کی سادہ مٹی والی شکل باقی نہیں رہی تھی۔
مسجد کا رقبہ اور ساخت پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور مضبوط ہو چکی تھی۔
📖 حوالہ: وفاء الوفاء للسمہودی، تاریخ طبری، البدایہ والنہایہ
✨ خلاصہ
عہدِ نبوی ﷺ میں مسجد کے ساتھ سادہ مٹی کے گھر تھے۔
165 ہجری تک وہ اصل مکانات تاریخی یادگار کے طور پر باقی نہ رہے بلکہ مسجد کی توسیع میں شامل ہو چکے تھے۔
آج روضۂ رسول ﷺ کا مقام حضرت عائشہؓ کے حجرے کی جگہ پر ہے۔
#رِحمتہُ_اللّعَالمِین_مُحمدﷺ

ایک منفرد نوعیت کا مالی جرمانہ مقام: سعودی عرب کا مشرقی علاقہایک استاد بیان کرتے ہیں:میں اپنی گاڑی چلا رہا تھا کہ ٹریفک ...
24/01/2026

ایک منفرد نوعیت کا مالی جرمانہ

مقام: سعودی عرب کا مشرقی علاقہ
ایک استاد بیان کرتے ہیں:
میں اپنی گاڑی چلا رہا تھا کہ ٹریفک پولیس کی گاڑی نے مجھے روک لیا۔
ٹریفک افسر نے مجھ سے لائسنس اور گاڑی کے کاغذات مانگے،
اور سیاہ دھوپ کے چشمے کے پیچھے سے میرا چہرہ غور سے دیکھنے لگا۔
میں نے اس کی مانگی ہوئی تمام دستاویزات دے دیں، تو اس نے نہایت پُرسکون مگر پُرعزم لہجے میں کہا:
— آپ نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھی، استاد!
میں نے کہا: جی ہاں، بدقسمتی سے…
اس نے کہا: یہ خلاف ورزی ہے۔
میں نے کہا: جی ہاں، میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے غلطی کی ہے اور جرمانے کا مستحق ہوں۔
افسر نے چالان لکھنا شروع کیا اور مجھ سے پوچھا:
— آپ استاد اور تربیت دینے والے ہیں؟
میں نے کہا: جی ہاں۔
اس نے کہا: اگر کوئی طالبِ علم امتحان میں نقل کرے تو کیا آپ اسے معاف کر دیتے ہیں؟
میں نے کہا: نہیں۔
اس نے کہا: پھر آپ کیا کرتے ہیں؟
میں نے کہا: میں اس پر قانون لاگو کرتا ہوں۔
اس نے مسکراتے ہوئے مجھے جرمانے کی پرچی تھمائی
اور کہا: کیا آپ گاڑی سے نیچے اتر سکتے ہیں؟
میں حیرت اور تذبذب کے ساتھ نیچے اترا…
تو اچانک اس نے مجھے گلے لگا لیا اور میرے سر کو بوسہ دیا۔
میں اس منظر پر سخت حیران تھا…
اس نے کہا:
— استاد! میں فلاں ہوں، آپ کا شاگرد۔
کیا آپ کو یاد ہے، جب میں نے امتحان میں آپ کے بیٹے فلاں سے نقل کی تھی؟
تو آپ نے ہمیں سزا دی تھی، ہماری کاپیاں ضبط کر لی تھیں،
ہم دونوں کو صفر دیا تھا،
اور قانون کو مجھ پر بھی اور اپنے بیٹے پر بھی یکساں نافذ کیا تھا؟
اس دن میں نے جان لیا تھا کہ قانون اس لیے ہوتا ہے کہ سب پر لاگو ہو،
کسی کو استثنا نہ دیا جائے، چاہے وہ آپ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو…
اس دن میں آپ کے احترام میں رویا تھا
اور اس غم میں بھی کہ آپ نے اپنے بیٹے پر بھی قانون نافذ کیا،
لیکن اسی عمل نے آپ کو میرے لیے ایک مثال بنا دیا…
اور آج، میرے استاد، میں آپ پر قانون لاگو کر رہا ہوں،
اور کسی کو استثنا نہیں دے رہا، چاہے وہ میرا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔
میں خوشی سے اپنے آنسو نہ روک سکا،
کہ یہ افسر میرا ہی شاگرد تھا
اور اس نے قانون کی حقیقت کو سمجھ لیا تھا،
جبکہ وہ اپنی وردی کی ہیبت برقرار رکھنے کے لیے
اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا…
پھر اس نے اپنی پچھلی جیب سے رقم نکالی
اور کہا:
میں آپ کو قسم دیتا ہوں، استاد، میری یہ ہدیہ قبول کر لیجیے۔
میں نے انکار کیا…
اس نے اصرار کیا…
اس نے کہا:
قانون تو میں نے آپ پر لاگو کر دیا،
لیکن جرمانے کی رقم میری طرف سے ہے۔
آپ میرے معلم، میرے باپ اور میری مثال ہیں،
اللہ آپ کو ہمارے سروں پر تاج کی طرح قائم رکھے۔
میں نے پھر بھی انکار کی کوشش کی، مگر اس نے بہت اصرار کیا،
اور اس کے ساتھی افسر نے بھی، جو یہ منظر دیکھ کر متاثر ہو رہا تھا۔
میں وہاں سے اس حال میں روانہ ہوا
کہ میرے سینے میں ایک عجیب سی طمانیت،
ایک پراسرار خوشی
اور فخر کے آنسو تھے…
یہ وہ نسل ہے جو میرے ہاتھوں میں پروان چڑھی،
جو نہ اپنی ذمہ داری میں خیانت کرتی ہے
اور نہ اپنے وطن سے بے وفائی…
یہی ایک معلم اور مربی کی اصل دولت ہے،
اگر وہ یہ اقدار اپنے طلبہ میں بو دے
تو معاشرہ بھی سنور جاتا ہے
اور وطن بھی…
⚡️ تعلیم اور قانون کا نفاذ، بے قیمت نہیں ہوتا! ⚡️

مکہ مکرمہ پہلے اور اب، پرانی عمارتوں کو ہٹانے کے بعد
05/01/2026

مکہ مکرمہ پہلے اور اب،
پرانی عمارتوں کو ہٹانے کے بعد

𝑱𝑼𝑴𝑴𝑨 𝑴𝑼𝑩𝑨𝑹𝑨𝑲
02/01/2026

𝑱𝑼𝑴𝑴𝑨 𝑴𝑼𝑩𝑨𝑹𝑨𝑲

‏1960 میں ترکی کے پاگل خانے سےچوکیداروں کی لاپرواہی کی بناء پر کھلے ہوئے دروازے سے موقع پا کر 423 پاگل فرار ہو گئے شہر ک...
05/12/2025

‏1960 میں ترکی کے پاگل خانے سےچوکیداروں کی لاپرواہی کی بناء پر کھلے ہوئے دروازے سے موقع پا کر 423 پاگل فرار ہو گئے شہر کی سڑکوں پر پاگلوں نے اودھم مچا دیا،ہسپتال کی طرف سے شہر کی انتظامیہ کو اطلاع ملی۔ فوری طور پر ایک بڑے ماہر نفسیات کو بلوا لیا گیا۔ ماہر نفسیات نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے فوراً ایک سیٹی منگوائی۔ ہسپتال کے عملے اور انتظامیہ کے کچھ لوگوں کو چھکڑا بنا کر اپنے پیچھے لگایا گاڑی بنائی ایک دوسرے کے دامن کو پکڑ کر اور وسل بجاتے چھک چھک کرتے سڑک پر نکل آیا۔ ماہر نفسیات کا تجربہ کامیاب رہا۔ سڑک پر چلتے پھرتے مفرور پاگل ایک ایک کر کے گاڑی کا حصہ بنتے گئے۔ شام تک ماہر نفسیات ڈاکٹر صاحب سارے پاگلوں کی گاڑی بنا کر ہسپتال لے آئے۔ انتظامیہ نے پاگلوں کو واپس اُن کے وارڈز میں بند کیا اور ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ مسئلہ شام کو اُس وقت بنا جب پاگلوں کی گنتی کی گئی تو 612 پاگل شمار ہوئے جبکہ ہسپتال سے صبح کے وقت صرف 423 پاگل فرار ہوئے تھے...

یہ تصویر حرمِ مکی میں کسی انہدام (گرنے) یا حادثے کی نہیں ہے، بلکہ یہ وہ تعمیراتی کام ہیں جو تقریباً 1400 ہجری میں، شاہ خ...
18/11/2025

یہ تصویر حرمِ مکی میں کسی انہدام (گرنے) یا حادثے کی نہیں ہے، بلکہ یہ وہ تعمیراتی کام ہیں جو تقریباً 1400 ہجری میں، شاہ خالد رحمہ اللہ کے دورِ حکومت میں کیے گئے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ کام حرم کے صحن کی فرش بچھانے کے سلسلے میں تھا۔

14/09/2025

تمام پاکستان کیلئے عمرہ ویزہ سسٹم بند ھو گیا ہے اللہ تعالیٰ رحم والا معاملہ کریں

میں راولپنڈی سے ہوں اور حال ہی میں موت کے کنویں سے باہر نکلا ہوں- آج آپ کے ساتھ اپنی کہانی شیئر  کر رہا ہوں تا کہ دوسرے ...
08/09/2025

میں راولپنڈی سے ہوں اور حال ہی میں موت کے کنویں سے باہر نکلا ہوں- آج آپ کے ساتھ اپنی کہانی شیئر کر رہا ہوں تا کہ دوسرے لوگ اس کنویں میں گرنے سے محفوظ رہیں اور میری طرح نقصان نا اٹھائیں۔

چند سال قبل کاروبار میں خسارے کی وجہ سے تقریباً 40 لاکھ کا مقروض ہو چکا تھا- اس دلدل سے نکلنے کےلیے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر کوئی کنارا ہاتھ نہ آ سکا- آخر تنگ آ کر باہر جانے کا فیصلہ کیا-

ایک کاروباری دوست نے بتایا کہ فلاں شخص کے پاس ویزے آئے ہوئے ہیں اس سے ملاقات کی تو معلوم ہوا کہ کمبوڈیا کے ویزے ہیں ٹیلی کام کمپنی کی جاب ہو گی اور تنخواہ لاکھوں میں ہے-

اس شخص نے ہر طرح سے تسلی دی- میں نے پیمنٹ دے دی اور ایک ہفتے کے اندر اندر ویزا اور ٹکٹ آ گئی۔

لاہور ائیرپورٹ پر پہنچا تو ایجنٹ کی کال آ گئی کہ آپ انتظار کریں آپ کو ہمارا نمائندہ ہے وہ کلیئر کروائے گا میں نے کہا جب ڈاکومنٹس پورے ہیں تو پھر ایسا کیا مسئلہ ہے تو اس نے کہا کہ نہیں آپ پہلی دفعہ جا رہے ہیں- ہم نہیں چاہتے کہ کوئی مسئلہ بنے-

خیر ہمارا گروپ چیک ان کیلئے گیا تو امیگریشن کے دوران ایک بندے نے روک لیا کہ آپ لوگ سارے سائیڈ پر ہو جائیں- ابھی وہ ہمارے پاسپورٹ چیک کر ہی رہا تھا کہ ایک دوسرا اہلکار آگیا اور اسے کہا کہ ان کو میں دیکھتا ہوں آپ جائیں- اس شخص نے ہمیں لاؤنج میں بھیج دیا اور کہا کہ آپ کلیئر ہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

جب ہم کمبوڈیا پہنچے تو ائیرپورٹ سے نکلتے ہی وہاں موجود ایجنٹ آیا ہوا تھا جس نے ہم سے پاسپورٹ لے لیا اور ہمیں اپنی رہائش پر لے گیا-

یہ ایک کمپاؤنڈ نما عمارت تھی جس میں کئی کمرے تھے- ہر کمرے میں پچیس پچیس لڑکے ٹھونسے ہوئے تھے جو کئی ماہ سے وہاں قید تھے-

یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھ فراڈ ہو گیا ہے-

یہ فراڈی ایجنٹ پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں- کمبوڈیا میں ان کے ایجنٹس موجود ہیں- ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ پاکستان سے بندے منگوا کر ان کو آگے Scam کمپنیوں میں بیچ دیتے ہیں-

چونکہ میں مقروض تھا اور ادھار لے کر یہاں تک پہنچا تھا تو واپسی میرے لیے موت کے برابر تھی- چنانچہ فیصلہ کیا کہ واپس جانے کی بجائے حالات کی سختی برداشت کروں گا اور جو بلا سر پہ آئی برداشت کروں گا-

رات چڑھتی تو مختلف کمپنیوں کی گاڑیاں آتیں- انسانی منڈی سج جاتی اور بولی لگا کر لڑکوں کو بیچا جاتا-

مجھے 2000 ڈالر میں ایک کمپنی کو بیچا گیا- یہ کمپنی 18 گھنٹے مجھ سے کام لیتی- ڈانٹ ڈپٹ ، گالم گلوچ دماغی ٹارچر جسمانی تشدّد ، الیکٹرک شاک، اس کے علاوہ تھا-

تین ماہ میں ہمّت جواب دے گئی- آخر یہ کمپنی چھوڑنے اور واپس پاکستان آنے کا فیصلہ کیا لیکن جب پاکستان میں اپنے ایجنٹ سے بات کی تو اس نے بلاک کر دیا-

کمبوڈین ایجنٹ سے بات کی تو اس نے 3500 ڈالر کے تاوان کا مطالبہ رکھ دیا- بالاخر پاکستان میں اپنے کزنز اور دوستوں کو حالات بتائے اور منت ترلہ کیا- خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے مل جل کر تاوان کی رقم جمع کی تب جا کر اس اذیّت سے رہائی ملی- مجھے پاسپورٹ واپس ملا اور میں ٹکٹ کروا کے واپس پاکستان آ گیا-

میرے ہوتے ہوئے کمپنی میں دو لڑکوں نے خودکشی کی- حالات ہی ایسے تھے کہ زندگی جہنم اور موت جنت معلوم ہوتی تھی-

قرض اتار کر اپنی فیملی کو سپورٹ کرنے والا خواب تو بکھر ہی گیا، لیکن جو ذہنی طور پہ بکھرا ہوں شاید ہی کبھی سنبھل پاؤں-

آپ کے ساتھ یہ کہانی شیئر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج بھی پاکستان میں کمبوڈین ویزے دھڑا دھڑ بک رہے ہیں شاید کوئی شخص میری کہانی پڑھ کر موت کے اس اندھے کنویں میں گرنے سے بچ جائے-

اس وقت 10 ہزار سے زائد پاکستانی کمبوڈیا میں پھنسے ہوئے ہیں- یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ایجنٹوں نے دھوکہ دے کر فیک کمپنیوں کے ہاتھ بیچا اور آج بھی دھڑلے سے بیچ رہے ہیں-
#کاپی
ایک لڑکے کی وال سے

مدینہ 😘
03/09/2025

مدینہ 😘

یہ مسجد غمامہ ہے، مسجد نبوی کی مغربی جنوبی جانب یعنی قبلہ کی طرف دائیں جانب کونے میں باب نمبر 310 سے جب آپ باہر نکلیں گے...
06/08/2025

یہ مسجد غمامہ ہے، مسجد نبوی کی مغربی جنوبی جانب یعنی قبلہ کی طرف دائیں جانب کونے میں باب نمبر 310 سے جب آپ باہر نکلیں گے تو سامنے ہی یہ مسجد غمامہ ہے، یہ مسجد اُس جگہ بنائی گئی ہے جہاں حضور اقدس ﷺ کے مبارک دور میں عید گاہ تھی جہاں حضور اقدس ﷺ عید کی نماز ادا فرماتے تھے۔ اس عید گاہ سے متعلق احادیث سے متعدد امور ثابت ہیں، چنانچہ اس عید گاہ میں حضور اقدس ﷺ نے نجاشی حاکم رضی اللّٰہ عنہ کی نمازِ جنازہ بھی ادا فرمائی تھی، اور اس میں نمازِ استسقاء بھی ادا فرمائی تھی۔ (صحیح البخاری) اس مسجد کے پاس سے ہی مسجد جمعہ اور مسجد قبا کی طرف راستہ جاتا ہے۔

Address

Office # 3 Basement Potohar Plaza, AK, AKM Fazl-ul-Haq Rd, G 6/2 Blue Area
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umrah Updates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category