Gilgit Baltistan-The Land of Beauty

Gilgit Baltistan-The Land of Beauty Personnel Blog

راجگیری نامنظور
04/12/2023

راجگیری نامنظور

 #راجگیری نامنظور
04/12/2023

#راجگیری نامنظور





گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں 1970 سے راجگیری نظام کے خاتمے کے باوجود اس اس نظام کو ختم نہیں کیا جا سکا جو کہ گلگت بلتستان گورنمنٹ اور ریاست پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے راجوں کی سیاسی انتظامی اثر و رسوخ کی بنیاد پر لوگوں کی زمینوں کو جعلی کاغذات کے ذریعے اپنے نام پہ کر لیا ہے حالانکہ جن زمینوں کے دعوی دار ہیں نہ وہاں پہ کبھی رہے نہ کوئی جگہ آ باد کی ۔ اہلیان معوضع شغر تھنگ نسل نسل در نسل وہاں پہ آباد ہیں اور زمینوں کو خود اباد کی ہیں اور رہ رہے ہیں عوام اور راجوں کی رضامندی سے شریعت پر بھی گئے اور شرعی فیصلہ عوام کے حق پر ہو چکا ہے شرعی فیصلے کے بعد راجگان اس فیصلے سے مکر گیں ہیں اب کئی دنوں سے عوام اپنے حقوق کے لیے دسمبر کی اس ٹھٹھرتی سردی میں سراپا احتجاج ہیں کہ زمینوں کے مالکانہ حقوق عوام کو دیا جائے لیکن بدقسمتی سے انتظامیہ کو ٹس سے مس نہیں الٹا راجوں کی غلامی پر تلے ہوئے ہیں لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ زمینی ملکیت کا حق عوام کو دیا جائے اور جو بھی پراجیکٹ یہاں پہ بنے تو عوام کو کمپنسیٹ کیا جائے نہ کہ راجوں کو ایسا نہ ہونے کی صورت میں کوئی بھی پراجیکٹ اس علاقے سے نہیں گزر سکتا اور نہیں بن سکتا ہے لہذا ہم #وزیراعلی گلگت بلتستان #چیف جسٹس سپریم کورٹ اف پاکستان اور #وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا نوٹس لیا جائے اور فلفور عوام کے حق میں فیصلہ دیا جائے شکریہ۔( از قلم نصرت عباس)

     گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں 1970 سے راجگیری نظام کے خاتمے کے باوجود اس  اس نظام کو ختم نہیں کیا جا سکا جو کہ گلگ...
03/12/2023





گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں 1970 سے راجگیری نظام کے خاتمے کے باوجود اس اس نظام کو ختم نہیں کیا جا سکا جو کہ گلگت بلتستان گورنمنٹ اور ریاست پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے راجوں کی سیاسی انتظامی اثر و رسوخ کی بنیاد پر لوگوں کی زمینوں کو جعلی کاغذات کے ذریعے اپنے نام پہ کر لیا ہے حالانکہ جن زمینوں کے دعوی دار ہیں نہ وہاں پہ کبھی رہے نہ کوئی جگہ آ باد کی ۔ اہلیان معوضع شغر تھنگ نسل نسل در نسل وہاں پہ آباد ہیں اور زمینوں کو خود اباد کی ہیں اور رہ رہے ہیں عوام اور راجوں کی رضامندی سے شریعت پر بھی گئے اور شرعی فیصلہ عوام کے حق پر ہو چکا ہے شرعی فیصلے کے بعد راجگان اس فیصلے سے مکر گیں ہیں اب کئی دنوں سے عوام اپنے حقوق کے لیے دسمبر کی اس ٹھٹھرتی سردی میں سراپا احتجاج ہیں کہ زمینوں کے مالکانہ حقوق عوام کو دیا جائے لیکن بدقسمتی سے انتظامیہ کو ٹس سے مس نہیں الٹا راجوں کی غلامی پر تلے ہوئے ہیں لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ زمینی ملکیت کا حق عوام کو دیا جائے اور جو بھی پراجیکٹ یہاں پہ بنے تو عوام کو کمپنسیٹ کیا جائے نہ کہ راجوں کو ایسا نہ ہونے کی صورت میں کوئی بھی پراجیکٹ اس علاقے سے نہیں گزر سکتا اور نہیں بن سکتا ہے لہذا ہم #وزیراعلی گلگت بلتستان #چیف جسٹس سپریم کورٹ اف پاکستان اور #وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا نوٹس لیا جائے اور فلفور عوام کے حق میں فیصلہ دیا جائے شکریہ۔( از قلم نصرت عباس)

26 ستمبر 2022 کو سیزن کی پہلی برفباری کے بعد بابوسر ٹاپ کے مناظر
26/09/2022

26 ستمبر 2022 کو سیزن کی پہلی برفباری کے بعد بابوسر ٹاپ کے مناظر

22/09/2022


22/09/2022




22/09/2022



راجگیری نامنظور پشتی آباد غریب عوام کی کل کمائی زبردستی راجاؤں نے اپنے نام کرنے کی کوشش۔شریعتیں محمدی کا فیصلہ عمائدین م...
20/09/2022

راجگیری نامنظور
پشتی آباد غریب عوام کی کل کمائی زبردستی راجاؤں نے اپنے نام کرنے کی کوشش۔
شریعتیں محمدی کا فیصلہ عمائدین موضع شغرتھنگ کے حق میں آنے کے باوجود راجگان عوام کا حق ہٹرپنا چاہتے ہیں۔
عوام سڑکوں پر نکلے اور راجگیری سسٹم کے خلاف پرذور احتجاج کیا ۔
زبردستی کرنے کی صورت میں پورا عوام کچورا شغرتھنگ سمیت کچورا کنڈور چوک میں احتجاج ریکارڈ کرائینگے۔۔۔
اہلیان موضع شغرتھنگ

 شاہراہ قراقرم  کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور تکمیل 1978 میں ہوئی۔ شاہراہ قراقرم کی کُل لمبائی 1,300 کلومیٹر ہے جسکا...
07/09/2022


شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور تکمیل 1978 میں ہوئی۔ شاہراہ قراقرم کی کُل لمبائی 1,300 کلومیٹر ہے جسکا 887 کلو میٹر حصہ پاکستان میں ہے اور 413 کلومیٹر چین میں ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان میں حسن ابدال سے شروع ہوتی ہے اور ہری پور ہزارہ, ایبٹ آباد, مانسہرہ, بشام, داسو, چلاس, جگلوٹ, گلگت, ہنزہ نگر, سست اور خنجراب پاس سے ہوتی ہوئی چائنہ میں کاشغر کے مقام تک جاتی ہے۔

اس سڑک کی تعمیر نے دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ ایک عرصے تک دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں یہ کام کرنے سے عاجز رہیں۔ ایک یورپ کی مشہور کمپنی نے تو فضائی سروے کے بعد اس کی تعمیر کو ناممکن قرار دے دیا تھا۔ موسموں کی شدت, شدید برف باری اور لینڈ سلائڈنگ جیسے خطرات کے باوجود اس سڑک کا بنایا جانا بہرحال ایک عجوبہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مل کر ممکن بنایا۔ایک سروے کے مطابق اس کی تعمیر میں 810 پاکستانی اور 82 چینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق شاہراہ قراقرم کے سخت اور پتھریلے سینے کو چیرنے کے لیے 8 ہزار ٹن ڈائنامائیٹ استعمال کیا گیا اور اسکی تکمیل تک 30 ملین کیوسک میٹر سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹا گیا۔یہ شاہراہ کیا ہے؟ بس عجوبہ ہی عجوبہ!کہیں دلکش تو کہیں پُراسرار, کہیں پُرسکون تو کہیں بل کھاتی شور مچاتی, کہیں سوال کرتی تو کہیں جواب دیتی۔ اسی سڑک کنارے صدیوں سے بسنے والے لوگوں کی کہانیاں سننے کا تجسس تو کبھی سڑک کے ساتھ ساتھ پتھروں پر سر پٹختے دریائے سندھ کی تاریخ جاننے کا تجسس !!شاہراہ قراقرم کا نقطہ آغاز ضلع ہزارہ میں ہے جہاں کے ہرے بھرے نظارے اور بارونق وادیاں "تھاکوٹ" تک آپ کا ساتھ دیتی ہیں۔تھاکوٹ سے دریائے سندھ بل کھاتا ہوا شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ جگلوٹ تک چلتا ہے پھر سکردو کی طرف مُڑ جاتا ہے۔تھاکوٹ کے بعد کوہستان کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے جہاں جگہ جگہ دور بلندیوں سے اترتی پانی کی ندیاں سفر کو یادگار اور دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔کوہستان کے بعد چلاس کا علاقہ شروع ہوتا ہے جوکہ سنگلاخ پہاڑوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ چلاس ضلع دیا میر کا ایک اہم علاقہ ہے اسکو گلگت بلتستان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ ناران سے بذریعہ بابو سر ٹاپ بھی چلاس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ چلاس کے بعد شاہراہ قراقرم نانگا پربت کے گرد گھومنے لگ جاتی ہے اور پھر رائے کوٹ کا پُل آجاتا ہے یہ وہی مقام ہے جہاں سے فیری میڈوز اور نانگا پربت بیس کیمپ جانے کے لیے جیپیں کرائے پر ملتی ہیں۔ رائے کوٹ کے بعد نانگا پربت, دریائے سندھ اور شاہراہ قراقرم کا ایک ایسا حسین امتزاج بنتا ہے کہ جو سیاحوں کو کچھ وقت کے لیے خاموش ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔اس کے بعد گلگت ڈویژن کا آغاز ہوجاتا ہے جس کے بعد پہلا اہم مقام جگلوٹ آتا ہے جگلوٹ سے استور, دیوسائی اور سکردو بلتستان کا راستہ جاتا ہے۔ جگلوٹ کے نمایاں ہونے میں ایک اور بات بھی ہے کہ یہاں پر دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلے کوہ ہمالیہ, کوہ ہندوکش اور قراقرم اکھٹے ہوتے ہیں اور دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تین بڑے سلسلے اکھٹے ہوتے ہوں۔جگلوٹ کے بعد شمالی علاقہ جات کے صدر مقام گلگت شہر کا آغاز ہوتا ہے جو تجارتی, سیاسی اور معاشرتی خصوصیات کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ نلتر, اشکومن, غذر اور شیندور وغیرہ بذریعہ جیپ یہیں سے جایا جاتا ہے۔ گلگت سے آگے نگر کا علاقہ شروع ہوتا ہے جس کی پہچان راکا پوشی چوٹی ہے۔ آپکو اس خوبصورت اور دیوہیکل چوٹی کا نظارہ شاہراہ قراقرم پر جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گا۔ نگر اور ہنزہ شاہراہ قراقرم کے دونوں اطراف میں آباد ہیں۔ یہاں پر آکر شاہراہ قراقرم کا حُسن اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے میرا نہیں خیال کہ شاہراہ کے اس مقام پر پہنچ کر کوئی سیاح حیرت سے اپنی انگلیاں دانتوں میں نہ دباتا ہو۔ "پاسو کونز" اس بات کی بہترین مثال ہیں۔ہنزہ اور نگر کا علاقہ نہایت خوبصورتی کا حامل ہے۔ بلند چوٹیاں, گلیشیئرز, آبشاریں اور دریا اس علاقے کا خاصہ ہیں۔ اس علاقے کے راکاپوشی, التر, بتورہ, کنیانگ کش, دستگیل سر اور پسو نمایاں پہاڑ ہیں۔عطاآباد کے نام سے 21 کلومیٹر لمبائی رکھنے والی ایک مصنوعی لیکن انتہائی دلکش جھیل بھی ہے جو کہ پہاڑ کے گرنے سے وجود میں آئی۔سست کے بعد شاہراہ قراقرم کا پاکستان میں آخری مقام خنجراب پاس آتا ہے۔سست سے خنجراب تک کا علاقہ بے آباد, دشوار پہاڑوں اور مسلسل چڑھائی پر مشتمل ہے۔ خنجراب پاس پر شاہراہ قراقرم کی اونچائی 4,693 میٹر ہے اسی بنا پر اسکو دنیا کے بلند ترین شاہراہ کہا جاتا ہے۔ خنجراب میں دنیا کے منفرد جانور پائے جاتے ہیں جس میں مارکوپولو بھیڑیں, برفانی چیتے, مارموٹ, ریچھ, یاک, مارخور اور نیل گائے وغیرہ شامل ہیں۔اسی بنا پر خنجراب کو نیشنل پارک کا درجہ مل گیا ہے۔اس سڑک پر آپکو سرسبز پہاڑوں کے ساتھ ساتھ پتھریلے و بنجر پہاڑی سلسلے اور دیوقامت برفانی چوٹیوں, دریاؤں کی بہتات, آبشاریں, چراگاہیں اور گلیشیئر سمیت ہر طرح کے جغرافیائی نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں جو نا صرف آپکا سفر خوبصورت بناتے ہیں بلکہ آپ کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ شاہراہِ قراقرم محض ایک سڑک نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے.
Copied

30/08/2022
 کھلا خط/اپیل برائے چیف جسٹس گلگت بلتستان, گورنر گلگت بلتستان،چیف منسٹر گلگت بلتستان ،چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، کمانڈر ا...
30/08/2022


کھلا خط/اپیل برائے چیف جسٹس گلگت بلتستان, گورنر گلگت بلتستان،چیف منسٹر گلگت بلتستان ،چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، کمانڈر ایف۔سی۔این۔اے گلگت بلتستان

وسیم عباس کی کہانی
وسیم عباس محکمہ بجلی میں ملازم ہے جو کہ دوران ڈیوٹی 6 محرم الحرام کے دوران 11 ہزار وولٹ پر کرنٹ لگنے کی وجہ 55 فیصد جسم کا مکمل حصہ جلنے کی وجہ سے زخمی ہالت میں ڈی۔ایچ۔کیوں ہسپتال منتقل کر دیا گیا بعد ازاں وسیم عباس کو انتہائ نگہداش ہالت میں پیمز ہسپتال اسلام آباد ریفر کر دیا گیا
وسیم عباس اس وقت بھی پیمز برن سینٹر اسلام آباد پھچلے 24 دنوں سے زیر علاج ہے پھچلے 24 دنوں کے اندر وسیم عباس کے فیملی کے بار بار رابطے کرنے کے باوجود محکمے پاور کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اس طرح کے مریضوں کیلئے کوئ سپیشل فنڈ موجود نہیں ہے محکمے کا کہنا ہے کہ یہ جو کچ ہم دے رہے ہیں اپنی طرف سے دے رہے ہیں محکمے پاور کی طرف سے کھبی لاکھ اور کبھی دو لاکھ کی شکل میں ٹوٹل وسیم عباس کو 5 لاکھ موصول ہوے ہیں
جبکہ وسیم عباس کا پیمز ہسپتال میں ایک دن دوائیوں کے اخراجات ایک لاکھ چوراسی ہزار (184000) روپے ہیں اب تک 25 لاکھ سے زائد اخراجات تجاوز کر چکے ہیں اور *اس وقت بھی وسیم عباس پمز ہسپتال میں زیر علاج ہیں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے*
وسیم عباس جیسے ایسے کئ نوجوان جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر شہید ہو چکے ہیں کئ لوگ معذور ہوچکے ہیں اور کئ لوگ وسیم عباس کی طرح اپنی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے
حکومت گلگت بلتستان سے اپیل کی جاتی ہے کہ ایسے افراد کیلئے اسمبلی سے کوئی سپیشل فنڈ مختص کیا جائے تاکہ غریب عوام کی بر وقت علاج ممکن ہو سکے

*PWD* ڈپارٹمنٹ کے اندر *Officially* اس طرح کے واقعات کیلئے کوئ سپیشل فنڈ موجود نہی ہے
*PWD*
کے محکمے کا کہنا ہے کہ وسیم عباس کا علاج کرواں بعد میں ہم ری ایمبرس مٹنٹ سکیم کے تحت واپس کریں گے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے افراد کیسے کروائیں گے کیا یہ ممکن ہے ؟

SubhanAllah The recent images captured by James Webb space telescope is surely amazingly beautiful. This is the creation...
13/07/2022

SubhanAllah The recent images captured by James Webb space telescope is surely amazingly beautiful. This is the creation of Allah subhanou Wa ta3ala, how great is Allah.
Allahu Akbar.

Address

Islam Abad
Islamabad

Telephone

+923454549372

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gilgit Baltistan-The Land of Beauty posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category