BackPacker Adventures

BackPacker Adventures Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from BackPacker Adventures, Travel Service, Islamabad.

یہ وہ مقام ہے جہاں دو عظیم پہاڑی سلسلوں کے درمیان دریائے سندھ بہہ رہا ہے ایک طرف کوئی ہمالیہ دنیا کا بلند ترین پہاڑی سلس...
24/03/2025

یہ وہ مقام ہے جہاں دو عظیم پہاڑی سلسلوں کے درمیان دریائے سندھ بہہ رہا ہے ایک طرف کوئی ہمالیہ دنیا کا بلند ترین پہاڑی سلسلہ
ہمالیہ دنیا کا سب سے بلند اور مشہور پہاڑی سلسلہ ہے، جو پاکستان، بھارت، نیپال، بھوٹان، اور چین میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کا نام سنسکرت زبان کے دو الفاظ "ہِم" (برف) اور "آلیا" (گھر) سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے "برف کا گھر
اور دوسری طرف سلسلہ قراقرم پر پاکستان کی 4 بلند ترین چوٹیاں ہیں جنہیں K-2 K-3 K-4 اور K-5 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس البم کا آغاز میں K-2 پہاڑ کے ذکر سے کرنا چاہونگا۔
کے ٹو K-2 دنیا کی دوسری اور پاکستان کی پہلی بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ چوٹی سلسلہ قراقرم پر پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کی بلندی 8611 میٹر/28251 فٹ ہے۔ اسے پہلی بار 31 جولائی 1954ء کو دو اطالوی کوہ پیماؤں لیساڈلی اور کمپانونی نے سر کیا۔

اسے ماؤنٹ گڈون آسٹن اور چوگوری(چھوغو ری) یعنی بڑا پہاڑ بھی کہتے ہیں۔
1856ء میں اس پہاڑ کا پہلی بار گڈون آسٹن نے سروے کیا۔ تھامس ماؤنٹ گمری بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے اس کا نام کے ٹو رکھا کیونکہ سلسلہ کوہ قراقرم میں یہ چوٹی دوسرے نمبر پر تھی۔گوڈون آسٹن کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔

کے ٹو پر چڑھنے کی پہلی مہم 1902ء میں ہوئی جو ناکامی پر ختم ہوئی۔ اس کے بعد 1909ء، 1934ء، 1938ء، 1939ء اور 1953ء والی کوششیں بھی ناکام ہوئیں۔ 31 جولائی، 1954ء کی اطالوی مہم بالاخر کامیاب ہوئی۔ لیساڈلی اور کمپانونی کے ٹو پر چڑھنے میں کامیاب ہوئے۔ 23 سال بعد اگست 1977 میں ایک جاپانی کوہ پیما اچیرو یوشیزاوا اس پر چڑھنے میں کامیاب ہوا۔ اس کے ساتھ اشرف امان پہلا پاکستانی تھا جو اس پہ چڑھا۔ 1978ء میں ایک امریکی ٹیم اس پر چڑھنے میں کامیاب ہوئی۔

کے ٹو کو ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ کے ٹو پر 246 افراد چڑھ چکے ہیں جبکہ ماؤنٹ ایورسٹ پر 2238۔

کے ٹو یا گاڈون آسٹن کی چوٹی قراقرم کے پہاڑی سلسلے کی وہ بلند ترین چوٹی ہے جو پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ یہ ماؤنٹ ایورسٹ کے بعد دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ کےٹو کو مقامی بلتی زبان میں چھوغوری بھی کہتے ہیں جو آٹھ ہزار چھ سو گیارہ میٹر یعنی سطح سمندر سے اٹھائیس ہزار دوسو اکاون فٹ کی بلندی پر سے اپنی تمام تر قاتلانہ رعونیت کے ساتھ کوہ پیماؤں کو پکارتی رہتی ہے۔
حال ہی میں سکردو کے مقامی گاون سدپارہ سے تعلق رکھنے والے مشہور کوہ پیماء محمد علی سدپارہ نے بھی اسی پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش میں اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر دی۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔
میں آپ کو گلگت بلتستان کے علاوہ پاکستان🇵🇰 کے خوبصورت اور دلکش خطے دکھاؤں گا وہ بھی حیرت انگیز معلومات کے ساتھ میرے اس اکاؤنٹ کو بھی جلد سے جلد فالو کریں شکریہ تاکہ اپ تک میری ویڈیو باسانی پہنچ سکے جزاك اللّٰه خيرًا🏔🏞🗻 خوبصورت علاقوں کی سیر کراؤں گا، جہاں کی حیرت انگیز معلومات آپ کو دنگ کر دیں گی۔ اس سفر میں آپ دیکھیں گے بلند و بالا پہاڑ، سرسبز و شاداب جنگلات، نیلگوں جھیلیں، شور مچاتی آبشاریں، دل موہ لینے والے میڈوز، وسیع گلیشیئرز اور بہت کچھ۔ میری ویڈیوز کو دیکھنے اور پاکستان کے ان دلکش مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے میرے اکاؤنٹ کو فالو کریں۔ جزاک اللّٰه خیرًا! 🏔🏞🗻

الیکٹرک بس کی مکمل تفصیل جس جس جگہ پر جاتی ہے
19/01/2025

الیکٹرک بس کی مکمل تفصیل جس جس جگہ پر جاتی ہے



ایبٹ آباد نجی بنک کی خاتون منیجر  سے گاڑی بے قابو ہو کر ہرنو سوڑی پل سے نیچے سینکڑوں فٹ گہری کھائی میں جا گری۔ خاتون شدی...
19/01/2025

ایبٹ آباد نجی بنک کی خاتون منیجر سے گاڑی بے قابو ہو کر ہرنو سوڑی پل سے نیچے سینکڑوں فٹ گہری کھائی میں جا گری۔ خاتون شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقلی کے دوران جاں بحق ہو گئیں

Gasherbrum 2
04/12/2024

Gasherbrum 2

For those, looking for best tracking and mountaineering gears. . . . . ⬇️السلام علیکم اتوار بخیر۔طویل وقفے کے بعد دوبارہ...
02/12/2024

For those, looking for best tracking and mountaineering gears. . . . . ⬇️

السلام علیکم اتوار بخیر۔
طویل وقفے کے بعد دوبارہ حاضر خدمت ھوں۔ارادہ تھا کہ یہ جو چھوٹا سا سٹیپ لیا ھے اس کی اناٶنسمنٹ اور تفصیلات آپ احباب کے ساتھ ایک ایکسکلوسیو نیوز کی صورت شئیر کروں گا اور اس آفس پلس گئیرز شاپ کی باقاعدہ اوپننگ اپنے ھم ذوق لوگوں کو مدعو کر کے کی جائے گی۔مگر جیسا کہ بیشتر دوست جانتے ھیں کچھ دن قبل ھی میری فیملی نے میرے باپ جیسے بڑے بھائ کے وچھوڑے کے المناک سانحے کا سامنا کیا ھے۔
مگر خیر کیا کیجیئے کہ زندگی کسی بھی ڈھنگ سے سہی گزارنی تو ھے ھی۔
لہذا اب یہیں مختصر احوال حاضر خدمت ھے۔
بات یوں تھی کہ جیسا کہ آپ جانتے ھیں میں کافی عرصے سے ٹریکنگ سے وابستہ ھوں اور گزشتہ کچھ برسوں سے ٹریکس بھی کروا رھا ھوں اور ساتھ ھی یوزڈ ٹریکنگ گیئرز سیل بھی کر رھا ھوں۔الحمدللہ آپ لوگوں کی قدردانی حوصلہ افزائ و ذرہ نوازی ھے کہ ھمیشہ میرے کام کو سراھا اور بہترین فیڈبیک دیا۔
اور یہ سارا کچھ گھر سے ھی چلا رھا تھا یعنی کہ سیل کرنے کا سارا سامان بھی گھر پہ ھوتا تھا اور کیمپنگ گئیرز سارے بھی۔مگر اکثر دوستوں اور کسٹمرز کا اصرار ھوتا تھا کہ کوئ فزیکل سٹور بھی ھو جہاں سے وہ اپنی ضرورت کے مطابق چیز کو پہن اور پرکھ کے خرید سکیں۔جب کہ بعض اوقات میرے آرگنائز کردہ ٹریکنگ ٹرپس کے لیئے نئے کلائینٹس کے تحفظات ھوتے تھے کہ آنلائن سے ھٹ کے برسرزمین آپ کا آفس تو کہیں ھے نہیں ھم کیسے اعتبار کر کے نصف پیمنٹ ایڈوانس بھیج دیں۔اور یہ بات اپنی جگہ درست تھی کہ خیر سے ھمارے ھاں دیگر شعبہ ھائے زندگی کی طرح یہاں بھی کم دونمبری نہیں پائ جاتی۔
تو اب بات یوں ھے کہ اب یہی جگہ مابدولت کا مستقل مستقر (مطلب ھے کہ دفتر☺) ھو گی یعنی کہ جب بھی آپ ملنا چاھیں یہ ناچیز آپکو یہاں چشم براہ ملے گا (جب جب پہاڑوں پہ لترنے سے فارغ ھوا تو😜)۔اور ھمارا کیمپنگ کا سارا سامان بھی یہیں پہ سٹور ھو گا،جلد ھی کیمپنگ گیئرز بھی رینٹ پہ فراھم کرنے کا کام شروع کروں گا اس کے لیئے الگ سے تفصیلی پوسٹ لگاٶں گا۔آپ بھی اپنی قیمتی آراء سے نواز سکتے ھیں۔
جبکہ یہاں میرے پاس فی الحال آپکو ملیں گے یوزڈ ٹریکنگ شوز، ٹریل رنر شوز (جوگرز بھی جلد ھی) بیک پیکس،ڈے پیکس، ورلڈ فیمس برینڈز کی ڈاٶن جیکٹس یعنی فیدرز والی جیکٹس، گلوز نیک وارمرز، سلیپنگ بیگز
جبکہ نیو پراڈکٹس میں دستیاب ھوں گے پاکٹ سائز منی سٹو اور انکے فیول والی گیس کی بوتلیں ، ھاف کے جی والے بلکل سمال سائز کے گیس سلینڈرز ، ھائیکنگ سٹکس ، مائنس پندرہ سے پچیس تک کے ٹمپریچر میں کام آنے والے ٹیکنو ورلڈ برینڈ ڈاٶن سلیپنگ بیگز ، (مختلف سائزز کے کیمپس آن ڈیمانڈ)۔
اور اب آتے ھیں سب سے اھم بات یعنی کہ لوکیشن کون سی ھے۔۔۔۔تو جناب شمال کے تمام تر مسافروں کی انتہائ معروف راہ گزر پہ ھم آپکو ملیں گے۔۔۔۔یعنی کہ ھزارہ موٹروے کا ایبٹ آباد اور حویلیاں کا جو مشترکہ انٹرچینج ھے اس کے بلکل ایگزٹ پہ۔۔۔۔بس جونہی آپ ایگزٹ سے باھر ھوں گے تو سب سے پہلے آپکے بائیں طرف ترکمن ھوٹل آئے گا جبکہ آپ کے دائیں بازو روڈ کی دوسری طرف دیکھیں گے تو یہ ناچیز منتظر ملے گا ☺😊جبکہ جی ٹی روڈ سے اگر ھزارہ موٹروے پہ چڑھیں تو بائیں ھاتھ نیازی ٹریول کے بلکل ساتھ والی شاپ ھے ☺
اس لوکیشن کی کافی ساری خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے اس کو فائنل کیا جس میں اھم ترین تو اسکا صاحبان شوق یعنی کہ ٹریولرز بائیکرز اور ٹریکرز کی لازمی گزرگاہ ھونا ھے۔مثال کے طور پہ سوات دیر چترال کو چھوڑ کے چاھے آپ ایبٹ آباد کے گردونواح یا وادئ کاغان جائیں سرن ویلی کا ارادہ کریں GB کے سکردو ھنزہ خنجراب دیوسائ کا سفر ھو بلکے وادئ نیلم اور گلیات کے مسافروں کا بھی آپشنل راستہ یہی ھے۔اچھی بات یہ ھے کہ موٹروے کے بلکل ساتھ جڑی ھوئ جگہ ھے جس کا فائیدہ یہ بھی ھے کہ اگر آپ کو دوران سفر یاد آ جائے کہ کوئ چیز لینے سے رہ گئ ھے تو ایک منٹ لگتا ھے آپ موٹروے سے باھر نکل کے اپنی درکار چیز خرید کر دوبارہ اپنا سفر شروع کر سکتے ھیں۔
ایک اور پلس پوائنٹ کہ اس لوکیشن پہ ایک بہترین صاف ستھرا ریسٹورینٹ ھے جبکہ اوپر ایک معیاری گیسٹ ھاٶس کا آپشن بھی موجود ھے گاڑیوں کی مرمت کے لیئے کئ ورکشاپس ھیں اور ضروریات زندگی کی بیشتر اشیاء کی دوکانیں بھی پاس پاس ھی ھیں۔
ھمارے سیٹ اپ کی تصاویر حاضر ھیں ابھی کچھ کام باقی ھیں.

Fb page
Travel With Moazam

02/12/2024

Maho Dhand experiences snowfall during the winter months, typically from late November to February. The area transforms into a winter wonderland, with the lake and surrounding meadows blanketed in snow. This period offers a serene and picturesque landscape, making it an ideal destination for those who enjoy winter scenery and snow-related activities like trekking and camping in the snow.

However, due to the high altitude and potentially harsh weather conditions, it's essential to be well-prepared if you plan to visit during the snowfall season. Proper clothing, gear, and possibly a guide are recommended to ensure a safe and enjoyable trip.


Lowari Tunnel todayThe Lowari Tunnel is a crucial road tunnel located in the Khyber Pakhtunkhwa province of Pakistan. It...
02/12/2024

Lowari Tunnel today
The Lowari Tunnel is a crucial road tunnel located in the Khyber Pakhtunkhwa province of Pakistan. It connects the Chitral Valley with the rest of the country, providing a year-round route that bypasses the often impassable Lowari Pass.

Trango Group Baltoro Karakoram Shigar Valley Pakistan
02/12/2024

Trango Group Baltoro Karakoram Shigar Valley Pakistan

A railway station in Capital 🚋❤️
01/12/2024

A railway station in Capital 🚋❤️

30/11/2024

Shahzeb khan back to back sixes

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BackPacker Adventures posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to BackPacker Adventures:

Share

Category