12/09/2026
نوٹ! اس پوسٹ کا مقصد ویوز لینا بلکل بھی نہیں!
امتحان، توکل اور محکم ایمان کی ایک زندہ مثال
آج سبزی کی دکان پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے دل کو دہلا کر رکھ دیا اور ساتھ ہی ایمان کو ایک نئی جلا بخشی۔
ایک شخص ہاتھ میں منرل واٹر کی چار بوتلیں لیے سبزی خریدنے آیا۔ سبزی والے نے معمول کے مطابق اس کے بیٹے کی خیریت دریافت کی، تو اس نے نہایت ضبط کے ساتھ جواب دیا: "بس پمز (PIMS) ہسپتال میں ایڈمٹ ہے، بلڈ کینسر کا علاج چل رہا ہے اور کیمو تھراپی ہو رہی ہے۔"
یہ سن کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے مزید احوال پوچھا۔ اس کے بعد جو باتیں اس نے بتائیں، وہ سن کر انسان کے پاس الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ اب تک بچے کے علاج پر 53 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ اس کٹھن سفر میں رشتہ دار اور اپنے تک ساتھ چھوڑ گئے، لیکن اس بندہِ خدا کی زبان پر ذرا برابر بھی گلہ یا شکوہ نہیں تھا۔
اس کا ایمان، حوصلہ اور توکل اس قدر مضبوط تھا کہ اس کی باتوں نے روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس نے کہا:
"مجھے اپنے اللہ اور اس کی کتاب پر کامل یقین ہے۔ میں ان بوتلوں پر سورۂ رحمن کا دم کر کے اپنے بچے کو پلاتا ہوں۔ سب سے بڑا طبیب میرا رب ہے اور وہی شفا دینے والا ہے۔"
آج کے اس مادّی دور میں، جہاں معمولی سی پریشانی انسان کو توڑ دیتی ہے، اس والد کا یہ ہمت و توکل ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔ اتنی بڑی آزمائش کے باوجود اس کے ایمان کی پختگی اور رب کی ذات پر اندھا اعتماد دیکھ کر آنکھیں نم ہو گئیں۔
آپ تمام احباب سے عاجزانہ درخواست:
جو بھی اس تحریر کو پڑھے، برائے مہربانی کسی بھی وقت دو نفل نمازِ حاجت ادا کر کے اس معصوم بچے کی شفائے کاملہ کے لیے خصوصاً دعا فرمائیں۔
اللہ رب العزت اس معصوم کو اپنے فضل و کرم سے مکمل صحت عطا فرمائے، اس والد کے توکل کا پاس رکھے اور اس کی تمام مشکلات کو آسان فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!