25/08/2026
چاروں صوبوں کو جوڑنے والی زنجیر - پاکستان ریلوے کا بڑا اقدام
پاکستان ریلوے اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان تاریخی فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے
پاکستان ریلوے اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان صوبے میں ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی، اپ گریڈیشن، جدید کاری، مسافر سہولیات میں بہتری اور ریلوے رابطہ کاری کے بڑے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے اہم فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت طے پانے والا یہ معاہدہ خیبر پختونخوا میں ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک کو جدید بنانے کے ساتھ نئے اسٹریٹجک ریلوے رابطوں، بہتر سفری سہولیات اور علاقائی کنیکٹیویٹی کے ایک بڑے منصوبے کی بنیاد رکھتا ہے۔
معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا میں تقریباً 240 کلومیٹر مضافاتی ریلوے لائنوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا، جن میں پشاور–نوشہرہ–جہانگیرہ روڈ، نوشہرہ–مردان–درگئی، نوشہرہ–مردان–چارسدہ، ناصرپور (چمکنی)–جمرود اور جمرود–لنڈی کوتل کے اہم روٹس شامل ہیں۔
اسی فریم ورک کے تحت کوہاٹ سے تھل کے راستے خرلاچی تک تقریباً 192 کلومیٹر نئی اسٹریٹجک ریلوے لائن کی ترقی بھی شامل ہے، جو پاکستان کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا سے جوڑنے اور Uzbekistan–Afghanistan–Pakistan Railway Corridor (UAPRC) کے تحت علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کے نئے امکانات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
پشاور کینٹ، پشاور سٹی، نوشہرہ اور جہانگیرہ ریلوے اسٹیشنز کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کے ساتھ مسافروں کے لیے سہولیات اور سروسز کو بھی بہتر بنایا جائے گا، جبکہ صوبے میں موجود 81 غیر محفوظ ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان ریلوے اور حکومتِ خیبر پختونخوا مشترکہ اقدامات کریں گے۔
یہ معاہدہ صرف ریلوے لائنوں اور اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن تک محدود نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں ایک زیادہ مربوط، محفوظ اور جدید ریلوے نظام قائم کرنے اور پاکستان کو وسطی ایشیا تک وسیع تر ریلوے رابطے سے جوڑنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے حکومتِ خیبر پختونخوا اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس فریم ورک کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرکے اس کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے جائیں گے۔