Nagri Nagri Phira Musafir

Nagri Nagri Phira Musafir V log of you Tube Channel

https://youtu.be/i_VYKvDX5W4Everyone Products
23/03/2025

https://youtu.be/i_VYKvDX5W4

Everyone Products

Nawab Of Kala Bagh Nawab Muhammad Khan Governor General Of Pakistan's city. This city is very famous. This city is famous f...

30/10/2024

🍁🍁ایک نوجوان کی توبہ 🍁🍁
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کی روایت ہے کہ ایک انصاری نوجوان نے اسلام قبول کیا جس کا نام ’’ثعلبہ‘‘ بن عبدالرحمٰن تھا۔ یہ نوجوان رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کسی کام کے لئے بھیجا تو اس نے گزرتے ہوئے ایک انصاری کے گھر جھانک لیا تو اندر عورت غسل کر رہی تھی اب اس نوجوان کو خوف لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ میری اس حرکت کی رسول ﷺ کو بذریعہ وحی اطلاع ہو جائے لہٰذا خوف اور شرمندگی کے باعث وہ واپس بارگاہ رسالتؐ میں حاضر نہ ہوا اور وہاں سے بھاگ کر مدینہ کے پہاڑوں میں جاکر چھپ گیا جب اسے غائب ہوئے چالیس روز گزر گئے تو حضرت جبرئیل نازل ہوئے اور فرمایا اے محمدؐ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور یہ کہ آپؐ کی امت کا ایک شخص ان پہاڑوں کی اوٹ میں چھپا مجھ سے پناہ کی درخواست کر رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ سے فرمایا کہ تم دونوں جائو اور اس نوجوان ثعلبہ کو تلاش کرکے میرے پاس لائو۔ یہ دونوں حضرات مدینہ منورہ سے ان پہاڑوں کی طرف تلاش میں نکلے تو راستہ میں مدینہ منورہ کے ذفافہ نامی ایک چرواہے سے ملاقات ہوگئی تو اس سے پوچھا کہ کیا تم نے ان پہاڑوں کے دامن میں ثعلبہ نامی کسی نوجوان کو تو نہیں دیکھا؟ اس نے کہا کہ شاید آپ لوگ جہنم کے ڈر سے بھاگے ہوئے نوجوان کے بارے میں سوال کر رہے ہیں ان حضرات نے کہا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ جہنم سے بھاگا ہوا ہے؟ چرواہے نے کہا وہ اس لئے کہ جب آدھی رات گزرتی ہے تو وہ اپنی پیشانی پرہاتھ رکھے پہاڑوں کے دامن سے نمودار ہوکر اس طرح صدا لگاتا ہے ’’اے کاش تو میری روح کو بھی روحوں میں قبض کرلیتا اور جسم کو جسموں میں اور مجھے فیصلے کے دن کے لئے موخر نہ رکھتا‘‘۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ہاں ہم اسی نوجوان کی تلاش میں ہیں تو چرواہا انہیں پہاڑوں کی طرف لےکر چلا یہاں تک کہ جب آدھی رات کا وقت ہوا تو وہ نوجوان حسب معمول اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھے نمودار ہوا اور وہی الفاظ دہرائے کہ اے کاش تو میری روح کو بھی روحوں میں قبض کرلیتا۔ اس دوران حضرت عمرؓ نے جھپٹ کر اسے گود میں اٹھا لیا تو اس نے پوچھا کی رسول اللہﷺ کو میرے گناہ کے بارے میں معلوم پڑ گیا ہے؟ فرمایا یہ تو مجھے معلوم نہیں البتہ کل شام آپؐﷺ نے تمہیں یاد کیا پھر مجھے اور سلمان کو تمہاری تلاش میں بھیج دیا کہ جائو ثعلبہ کو ڈھونڈ کر لائو اس نے کہا کہ پھر ایسا کرو مجھے اس وقت بارگاہ اقدس میں لے چلو جب آپؐ نماز پڑھ رہے ہوں، حضرت عمر اور سلمان فارسی اس کو ساتھ لے کر چلے اور پیچھے صف میں کھڑا کر دیا۔ ثعلبہ نے جب حالت نماز میں رسول اللہ ﷺ کی تلاوت سنی تو بے ہوش ہوکر گرپڑا، سلام کے بعد جب رسول اللہؓ نے ان حضرات سے ثعلبہ کے بارے میں پوچھا تو عرض کیا گیا یا رسول اللہﷺ یہ رہا ثعلبہ۔ رسول اللہﷺ نے اسے ہلایا تو وہ ہوش میں آگیا آپؐ نے فرمایا تجھے کس چیز نے مجھ سے غائب کر دیا تھا؟ عرض کیا میرے گناہ نے یا رسول اللہﷺ، آپ ؐ نے اسے تسلی دی اور اسے اپنے گھر جانے کا حکم فرمایا۔ جس کے بعد یہ نوجوان آٹھ روز تک بیمار پڑا رہا۔ اطلاع ملنے پر حضرت سلمان فارسی بارگاہ رسالت ؐ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے یا رسول اللہﷺ احساس گناہ نے ثعلبہ کو بیمار کر ڈالا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چلو ابھی ثعلبہ کی عیادت کریں۔ آپ ﷺاس کے پاس تشریف لائے اور اس کا سر اپنی گود میں لے لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت تم کیا محسوس کرتے ہو؟ اس نے فرمایا یا رسول اللہﷺ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے جسم کے گوشت، میری کھال اور ہڈیوں کو چیونٹیاں سی کاٹ رہی ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کوئی خواہش ہو تو بتائو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے رب کی طرف سے مغفرت کا پروانہ اور بس۔ حضرت جبرئیل نے نزول فرمایا اور فرمایا اگر میرا یہ بندہ زمین کی مقدار بھر بھی گناہ کرتا تو میں اسی مقدار میں اپنی رحمت اور مغفرت کے ساتھ اس کا استقبال کرتا۔ جب رسول اللہﷺ نے ثعلبہ کو اللہ کا یہ پیغام دیا تو اس نے ایک چیخ کے ساتھ جان دے دی۔ رسول اللہ نے ثعلبہ کی تجہیز و تکفین کا حکم فرمایا اور نماز جنازہ کے بعد اسے لے کر نکلے ہم نے دیکھا کہ رسول ﷺ چلتے ہوئے انتہائی احتیاط کے ساتھ پورا پائوں زمین پر رکھنے کے بجائے پنجوں کے بل چل رہے تھے۔ تدفین کے بعد رسول اللہ ﷺ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ ؐ نے فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے سچا نبی بنا کر بھیجا وجہ یہ تھی کہ ثعلبہ کے جنازے کے ساتھ چلنے کے لئے آسمان سے اس قدر فرشتے نازل ہوئے کہ زمین پر پائوں رکھنا مشکل تھا۔

23/09/2024

ایک آدمی نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔ وہ طوطا باتیں بھی کرتا تھا، ایک دن اس آدمی نے طوطے سے کہا کہ :
" میں دور کے سفر پر جا رہا ہوں، وہاں سے کوئی چیز منگوانی ہو تو بتا ... "

طوطے نے کہا کہ :
" وہاں تو طوطوں کا جنگل ہے, وہاں ہمارے گُرو رہتے ہیں، ہمارے ساتھی رہتے ہیں، وہاں جانا اور گرو طوطے کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ایک "غلام طوطا" پنجرے میں رہنے والا ، غلامی میں، پابند ِ قفس آپ کے آزاد طوطوں کو سلام کرتا ہے ... "

سوداگر وہاں پہنچا اور اس نے جا کر یہ پیغام دیا۔ اچانک جنگل میں پھڑ پھڑ کی آواز آئی، ایک طوطا گِرا، دوسرا گِرا اور پھر سارا جنگل ہی مر گیا۔ سوداگر بڑاحیران کہ یہ پیغام کیا تھا، قیامت ہی تھی اور اداس ہوکے چلا آیا۔

واپسی پر طوطے نے پوچھا کہ :
" کیا میرا سلام دیا تھا ...؟ "

اس نے کہا کہ :
" بڑی اداس بات ہے، سلام تو میں نے پہنچا دیا مگر تیرا گرو مر گیا اور سارے چیلے بھی مر گئے ... "

اتنا سننا تھا کہ وہ طوطا بھی مر گیا۔ سوداگر کو بڑا افسوس ہوا۔ اس نے مردہ طوطے کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ طوطا فوراً اُڑ گیا اور شاخ پر بیٹھ گیا۔

اس نے پوچھا :
" یہ_کیا ...؟ "

طوطے نے کہا کہ :
" بات یہ ہے کہ، میں نے اپنے گُرو طوطے سے پوچھا تھا کہ پنجرے سے بچنے کا طریقہ بتا۔ اس نے کہا کہ مرنے سے پہلے مر جا۔ اور جب میں مرنے سے پہلے مر گیا تو پنجرے سے بچ گیا ... ''


" موتوا قبل ان تموتوا "
یعنی :
" مرنے سے پہلے مر جاؤ "

اپنے نفس یعنی شریر خیالات کو مار دو اور ھمیشہ کی زندگی پاؤ -----------------------------------------------------وہ ایک سجدہ جیسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے ادمی کو نجات....*

15/09/2024

*حضور امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا فضل، اللہ نعمت اور اللہ کی رحمت ہیں*

فرمان باری تعالیٰ:
*وَ اَمَّا بِنِعمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّث*
اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو(الضحی آیۃ 11)

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں

*وَ مُحَمَّد صلی اللہ علیہ وسلم نِعمَۃُ اللہِ*
امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت ہیں(بخاری، حدیث #3977)

فرمان باری تعالیٰ:
*قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا*
تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں(یونس آیۃ58)

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں

*اس آیت میں فضل سے مراد امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں* (تاریخ ابن عساکر ج42 ص362)

فرمان باری تعالی:
*وَمَا أَرْسَلْنٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ*
ہم نے تمہیں سارے جہان کے لئے رحمت بناکر بھیجا
( الانبياء: آیۃ 107)

اللہ کی اس عظیم نعمت،فضل اور رحمت پر شکر کیسے ادا کریں؟

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
*یَستَحبُّ لَنَا اِظہَارالشُّکرِ لِمَولُودِہٖ علیہ السلام*
ہمارے لئے مستحب ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا ذکر کرکے شکر ادا کریں (تفسیر روح البیان ج9 ص56)

بلاشبہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا سب سے بڑا فضل، نعمت اور رحمت ہیں
لہذا اللہ رب العزت کی اس عظیم نعمت پر گج وج کے خوشیاں منائیں۔۔

✍🏻غلام مرسلین عطاری

15/09/2024

امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں شاہِ اربل سلطان مظفر الدین کوکبری (المتوفی 630ھ)کے میلاد منانے کو بیان کیا ہے
سلطان مظفر الدین صلاح الدین ایوبی کے بہنوئی تھے بہت نیک دل متقی اور سنی العقیدہ بادشاہ تھے
امام ذہبی لکھتے ہیں

"ملک المظفر کے محفل میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کا انداز بیان کرنے سے الفاظ قاصر ہیں۔
جزیرہ عرب اور عراق سے لوگ کشاں کشاں اس محفل میں شریک ہونے کے لیے آتے ... اور کثیر تعداد میں گائیں، اونٹ اور بکریاں ذبح کی جاتیں اور انواع و اقسام کے کھانے پکائے جاتے ۔
وہ صوفیاء کے لیے کثیر تعداد میں خلعتیں تیار کرواتا اور واعظین وسیع و عریض میدان میں خطابات کرتے اور وہ بہت زیادہ مال خیرات کرتا۔ ابن دحیہ نے اس کے لیے "میلاد النبی" کے موضوع پر کتاب تالیف کی تو اس نے اسے ایک ہزار دینار دیے۔ وہ منکسر المزاج اور راسخ العقیدہ سنی تھا، فقہاء اور محدثین سے محبت کرتا تھا۔
سبط الجوزی کہتے ہیں: شاہ مظفر الدین ہر سال محفل میلاد پر تین لاکھ دینار خرچ کرتا تھا جب کہ خانقاہ صوفیاء پر دو لاکھ دینار خرچ کرتا تھا۔ اس محفل میں شریک ہونے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ اُس کی دعوت میلاد میں ایک سو قشلمیش گھوڑوں پر سوار سلامی و استقبال کے لیے موجود تھے۔ میں نے اُس کے دستر خوان پر پانچ ہزار بھنی ہوئی سریاں، دس ہزار مرغیاں، ایک لاکھ دودھ سے بھرے مٹی کے پیالے اور تیس ہزار مٹھائی کے تھال پائے ۔ (سیر اعلام النبلاء ج22 ص336)

*یہ میلاد سال دو سو سال پہلے کا نہیں ہے بلکہ یہ آج سے تقریباً آٹھ سو سال پہلے کا میلاد ہے*

✍🏻غلام مرسلین عطاری

14/09/2024

*علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی کا عشق رسول*

روئے زمین پر تین شخصیات ایسی گزری ہیں جن کے وصال کا سبب فراق مصطفیٰ ﷺ بنا
وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ،
مخدومہ کائنات سیدہ فاطمہ زہرا رضی ﷲ عنہا
اور علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی علیہ الرحمہ ہیں۔

علامہ نبھانی علیہ الرحمہ نے ساری زندگی سرکار دو عالم صلی ﷲ علیہ وسلم کی مدح خوانی میں گزاری،آپ کے گھرانے پر سرکار مدینہ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خصوصی کرم نوازی تھی کہ آپ کی زوجہ محترمہ کو 84بار آقا کریمﷺ کی زیارت کا شرف نصیب ہوا۔۔
حتی کہ کہا گیا اگر عشق مصطفی ﷺ جسمانی حالت میں ہوتا تو علامہ نبھانی علیہ الرحمہ کی شکل و صورت میں ہوتا، آپ کو عرب کا اعلی حضرت کہا جاتا ہے اور آپ نے ساری زندگی آقا کریمﷺ کی شان میں کتب تصانیف کیں اور آپ کا عشق رسول مثالی تھا کہ شمع رسالت پر پروانہ وار نثار تھے۔۔

فقیہ اعظم مولانا بشیر احمد کوٹلوی رحمۃ اللہ علیہ نے گنبد خضراء کے سامنے قبر انور کی جانب علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی علیہ الرحمہ کو بیٹھے دیکھا
فقیہ اعظم علیہ الرحمہ نے عرض کی کیا حضور آپ قبر انور سے اتنا دور کیوں بیٹھے ہیں تو آپ رو پڑے اور فرمایا
میں اس لائق نہیں کہ قریب جاؤں۔
(جواہر البحار 12/4)

آپ کی سیرت میں آتا ہے ساری زندگی مواجہہ شریف کے سامنے نہیں جا سکے

آپ جواہر البحار کے مقدمے میں فرماتے ہیں میں نے کتاب کی ترتیب کے دوران مکرر اقوال کو حذف نہیں کیا کیونکہ ایسی حسین و جمیل عبارتوں کو مسخ کرنا پسند نہیں کیا اور ایسا کیونکر کرتا جبکہ سید المرسلین صلی ﷲ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ ہیں ان میں شرف والے معانی اور مقدس اوصاف ہیں جن کا جتنا تکرار کیا جائے میٹھا اور خوشبودار معلوم ہوتا ہے۔
(جواہر البحار 26/4)

علامہ موصوف کو" جواہر البحار فی فضائل النبی المختار " کی تصنیف کے کچھ عرصے بعد سرکار دوعالم ﷺ کی زیارت ہوئی آقا کریمﷺ نے جواہر البحار کو بہت پسند فرمایا اور علامہ نبھانی کو سینے سے لگایا،امام نبھانی علیہ الرحمہ نے عرض کی یارسول اللّٰه ﷺ اب جدائی برداشت نہیں ہوتی
اس خواب کے کچھ دنوں بعد آپ کا وصال ہوگیا
(جواہر البحار 13/4)

اللہ تعالیٰ علامہ موصوف کے عشق کا صدقہ ہمیں بھی عشق مصطفی ﷺ کا ذرہ نصیب فرمائے۔ آمین

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو میری والدہ صاحبہ کے لئے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب ضرور کیجیے گا۔

✍️ محمد ساجد مدنی

15/08/2024

*‏‎افسوناک خبر*
*پاکستان کی پشت میں خنجر*
*ضلع تھرپارکر میں قادیانی مشنری کا مسلمان بچوں کو قادینت پڑھانے کا سلسلہ زور و شور سے جاری*
*قادیانیوں نے کروڑوں روپے لگا کر تھرپارکر جانے والی سڑک کنارے کئی ایکڑ زمین خرید لی ہے*
*ساتھ ہی ساتھ یہ لوگ ان غریب تھر واسیوں کو روٹی،*
*‏کپڑا، مکان ، تعلیم اور علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں اور بدلے میں ان لوگوں کو ‎قادیانی مذہب قبول کروا رہے ہیں*
*اسکولوں میں قادیانی ٹیچرز بھرتی کئےگئے ہیں جنکی کارکردگی روزانہ کی بنیاد پر چیک کیجاتی ہے*
*بچوں کو مرزاغلام احمد ‎قادیانی کی سیرت پڑھائی جاتی ہے*
*‏مرزا قادیانی کے پانچ خلفاء کےنام یاد کروائےجاتے ہیں*
*دیواروں پر مرزا قادیانی اور*
*اسکےخلفاء کی تصاویر لگی ہیں*
*یہ سب کچھ انڈر گراؤنڈ اتنی خاموشی سےکیا جا رہاھےکہ* *کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دیگئی*
*اساتذہ کی فہرستیں بنائی جاتیں ہیں، انکو فنڈز دئیے جاتےہیں*
*انکی کارکردگی رپورٹ*
*‏بنائی جاتی ہے اور تھر میں *غربت کا فائدہ اٹھا کر اپنے مذہب میں تبدیل کر لیا جاتا ہے*.
*بے شک بھوک انسان کو کفر تک لے جاتی ہے اور اس میں سندھ حکومت کے ساتھ ساتھ تمام مذہبی اور سماجی جماعتیں قصوروار ہیں.*
*قادیانیوں کی اس خاموش سازش کا پردہ فاش کرنے کیلئےاس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ‏لوگوں تک پہنچائیں.*
👈 *علماء کو چاھیےکہ وہاں پر ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد یقینی بنائیں*
*اس پوسٹ کو جس قدر ممکن ہو سوشل میڈیا پر پھیلائیں*
*شئیر کریں۔*
*اس پوسٹ کے ذریعے اپنی آواز پہنچائیں*
*پیارے نبی کا معاملہ ھے*
*خاموش نہ رہیں*
*بولیں اور خوب بولیں...*
*ختم نبوت زندہ باد*

15/08/2024

*واعظین کی عادت*

حضرت سیدنا ابو الولیدطیالسی رحمة اللہ علیہ سے مروی ہے ' فرماتے ہیں : میں شعبہ کے ساتھ تھا تو ایک نوجوان قریب آیا اور حدیث کے متعلق پوچھنے لگا _ آپ نے اس سے فرمایا: کیا تو واقعات سنانے والے ہو ؟ (یعنی قصہ گو )بولا : ہاں _ فرمایا چلے جاو کیونکہ ہم۔قصہ گو سے حدیث بیان۔نہیں کرتے _ میں نے عرض کی : ابو بسطام! کیوں ؟ فرمایا : وہ ہم سے ایک بالشت کی حدیث لیتے ہیں اور ایک گز کی بنا لیتے ہیں _
القصاص والمزکرین ' الباب العاشر' رقم : 168 ' صفحہ: 308 'المکتب الاسلامی بیروت_
امام جلال الدین سیوطی رحمة اللہ علیہ نے بھی یہ واقعہ نقل کیا ہے :
تحزیر الخواص من اکاذیب القصاص للسیوطہ ' الفصل العاشر' صفحہ: 229 ''المکتب الاسلامی ' بیروت
اب آپ سوچیں کیا کہا جاسکتا ہے ' ایک خطیب صاحب ہوا کرتے تھے جو واقعہ سارا اپنی طرف سے بنا کر لکھا کرتے تھے بلکہ ایک شعر لکھنا ہوتا تو اس کےلیے ایک فرضی کہانی گھڑ لیتے پھر اپنی طرف سے موقع پر لاکر شعر لکھا کرتے اور ایسی سینکڑوں مثالیں ہیں جبکہ بزرگ فرماتے ہیں حدیث جتنی ہو اتنی ہی سنانی چاہی اس کے بعد اس سے استدلال و استنباط اور نکات بیان کیے جائیں اور یہ لوگ خیر سے ڈائرکٹ اللہ رسول سے ہم کلام ہو جاتے ہیں_
حضرت شیخ الحدیث علامہ محمد اشرف سیالوی رحمة اللہ علیہ جب حدیث بیان کرتے تو مکمل بیان کرنے کے بعد اس سے نکات بیان فرماتے اور فرماتے یوں عبارت یوں ہوتی تو کیا مطلب ہوتا اور یوں ہوتی تو کیا مطلب ہوتا یہ نہیں کہ : میں آکھیا یااللہ ! ایہ تو انج کیوں فرمایا ؟ تے اللہ نے فرمایا : مولوی تینوں سمجھ نہیں آئی _ توبہ توبہ ' لا حول والا قوة
یہی انداز ان خطیبوں کا ایسےہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے ' حضرت سیدنا موسی علیہ السلام کواللہ کریم سے ہم کلام ہونے کے لیے کوہ طور پر جانا پڑتا لیکن یہ وہیں منبر پر ہی شروع ہو جاتے ہیں ' اللہ پاک ہدایت عطا فرمائے ان کو بھی اور سننے والوں کو بھی _
اچھا پھر آیات و احادیث کے مطابق بیان کرنے چاہیں نہ اپنا وجدان بیچ میں گھسیڑ دیا رہتی سہتی کسر تب نکل جاتی ہے ' ان کا وجدان ہی اصل نقصان ہوتا ہے

https://click.daraz.pk/e/_C6sLlF
29/03/2024

https://click.daraz.pk/e/_C6sLlF

Rs.150 OFF for New Users! ✓10% Extra Bank Discount on 2.4G Dual Mode Slim Portable USB Rechargeable Bluetooth Wireless Wireless Mouse Rechargeable,Wireless Mouse LED BT Wireless Mouse Portable Mobile Optical Office Mouse Slim Silent Click at Daraz.pk. ✓Low Prices ✓Fast Delivery across Pakistan

https://click.daraz.pk/e/_CXbtVB
28/03/2024

https://click.daraz.pk/e/_CXbtVB

Rs.150 OFF for New Users! ✓10% Extra Bank Discount on Pack of 10 quality ATM & Id Card Covers at Daraz.pk. ✓Low Prices ✓Fast Delivery across Pakistan

Address

Chak 216 TDA
Bhakkar
30000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nagri Nagri Phira Musafir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nagri Nagri Phira Musafir:

Share