Welcome to Beautiful Sultanate of Oman 🇴🇲 a peaceful Country Oman
where is much more historical places
23/07/2026
Namaz
08/05/2024
ہمارا تعلیمی نظام۔۔!
پوزیشن ہولڈرز ڈاکٹرز اور انجئنئرز بن جاتے ہیں
پیچھے رہ جانے والے کامرس پڑھ کر کاروبار کرتے ہیں اور ان ڈاکٹرز اور انجئنئرز کو ملازم رکھتے ہیں
ان سے پیچھے رہ جانے والے آرٹس پڑھتے ہیں اور سی ایس ایس کرتے ہیں اور اوپر والے دونوں کو اپنے سامنے کھڑا رکھتے ہیں
ان سب سے پیچھے رہ کر فیل ہونے والے اسمبلی میں آ جاتے ہیں اور اوپر والے تینوں کو سیدھا کرکے رکھتے ہیں.
Please don't be offended
08/05/2024
پاکستان کے 7 نامور شخصیات جنہوں نے 7 باتیں بلکل سچ کہیں
(1) دنیا میں کامیاب جوڑا صرف جرابوں کا ہے ایک کے بنا دوسرا ادھورا رہتا ہے۔
(مستنصر حسین تارڑ)
(2) مجھ میں اور میرى بیوى میں بڑا عجیب سا اتفاق ہے نیند کی گولیاں وہ کھاتى ہے اور سکون مجھے ملتا ہے۔
( اِبنِ انشا)
(3) ہم اتنے امن پسند ہیں کہ ہمارے سب سے بڑے اخبار کا نام جنگ ہے۔
(مشتاق احمد یوسفى)
(4) پاکستان میں کھانے کا ادب صرف سربراہوں اور وزیروں کو آتا ہے وہ خاموشى سے کھاتے ہیں۔
( انور مقصود)
(5) دنیا میں سب سے زیادہ سچ شراب خانے میں شراب پى کر بولا جاتا ہے۔اور دنیا میں سب سے زیادہ جھوٹ عدالتوں میں مقدس کتاب پر ہاتھ رکھ کر بولا جاتا ہے۔
(منٹو)
(6) حساب اگر جج سے مانگو تو توہین عدالت مولوى سے مانگو تو کافر اور اگر جرنیل سے مانگو تو غدار۔
(باچا خان)
(7) حساب کتاب اور قانون صرف غریب کے لئے ھے۔ امیر کو تو NRO مل جاتا ھے
( پروفیسر سید ظفر الیاس)
08/05/2024
*"بکریاں رات کو فورا سو جاتی*
*ھیں اور فجر سے پہلے پہلے اٹھ*
*جاتی ھیں*
*یہ نزولِ رحمت کا وقت ھوتا ھے*
*اسی لئے بکریوں میں برکت*
*ہوتی ہے*
*اور کتے رات بھر بھونکتے رہتے*
*ھیں*
*اور فجر کے قریب سو جاتے ھیں*
*اسی لئے رحمت و برکت سے*
*محروم ھوتے ھیں"*
*پس غور و فکر کا مقام ھے*
*آج ھمارا بھی یہی حال ھے*
*ھم اپنی راتوں کو فضولیات میں*
*گزارتے ھیں*
*اور صبح بوقتِ نزولِ رحمت سو*
*جاتے ھیں*
*اسی وجہ سے آج نہ ھی ھمارے*
*مال میں اور نہ ھی ھماری اولاد*
*میں اور نہ ھی کسی دوسری*
*چیز میں برکت ھے.*
* *سوچیئے*
*ذرا نہیں.پورا سوچیئے*
گذارش ھے کہ ملک بھر میں تمام الیکٹرک سپلأيز کمپنیز سے درج ذیل 13 نکاتی ٹیکسز کی وضاحت طلب کی جاۓ۔ شکریہ۔
(1). بجلی کی قیمت ادا کر دی، تو اس پر کون سا ٹیکس؟
(2). کون سے فیول پر کونسی ایڈجسٹمنٹ کا ٹیکس؟
(3). کس پرائس پہ الیکٹریسٹی پہ کون سی ڈیوٹی؟
(4) . کون سیے فیوئل کی کس پرائس پر ایڈجسٹمنٹ؟
(5). بجلی کے یونٹس کی قیمت "جو ھم ادا کر چکے" پر کونسی ڈیوٹی اور کیوں؟
(6). ٹی وی کی کونسی فیس، جبکہ ھم الگ سے پیسے دے کر کیبل استعمال کرتے ہیں؟
(7). جب بل ماہانہ ادا کیا جاتا ھے، تو یہ بل کی کواٹرلی ایڈجسٹمنٹ کیا ھے؟
(8). کون سی فنانس کی کاسٹ چارجنگ؟
(9). جب استعمال شدہ یونٹس کا بل ادا کر رھے ہیں، تو کس چیز کے ایکسٹرا چارجز؟
(10). کس چیز کے اور کون سے further "اگلے" چارجز؟
(11). ود ھولڈنگ چارجز کس شے کی؟
(12). میٹر تو ہم نے خود خریدا تھا، اسکا کرایہ کیوں؟
(13). بجلی کا کون سا انکم ٹیکس؟
منجانب؛
صارفینِ بجلی، آل پاکستان۔
(نوٹ):
سب احباب اس تحریر کو کاپی کرکے سوشل میڈیا اور تمام گروپ میں شیئر کریں، اس سے بھی آپ کے بچوں کا مستقبل جڑا ہے.
08/05/2024
کینسر یماری نہیں بلکہ بے حسی ہے
اوش اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی ، ماسکو ، روس کے کینسر کے ماہر۔ گپتا پرساد ریڈی (بی وی) کہتے ہیں کہ کینسر کوئی مہلک بیماری نہیں ہے ، بلکہ لوگ اس سے صرف بے حسی کی وجہ سے ہی مر جاتے ہیں۔
ان کے مطابق ، اگر صرف دو طریقوں پر عمل کیا جائے تو کینسر ختم ہوسکتا ہے۔ طریقے یہ ہیں: -
1_ پہلے ہر طرح کی چینی کھانا چھوڑ دیں۔ کیونکہ ، اگر آپ کو اپنے جسم میں شوگر نہیں ملتی ہے تو ، کینسر کے خلیات قدرتی یا قدرتی طور پر ختم ہوجائیں گے۔
2 _ اس کے بعد ایک گلاس گرم پانی میں ایک لیموں کا چمچ مکس کریں۔ اس لیموں ملا ہوا گرم پانی کو خالی پیٹ پر صبح تین بجے صبح کھانے سے پہلے پی لیں۔ کینسر ختم ہو جائے گا۔
میری لینڈ کالج آف میڈیسن کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کیموتھریپی سے ہزار گنا بہتر ہے۔
3۔ روزانہ صبح اور رات تین چمچ نامیاتی ناریل کا تیل کھائیں ، اس سے کینسر کا علاج ہوگا۔
شوگر سے گریز کرنے کے بعد درج ذیل میں سے کسی بھی دو معالجے میں سے ایک لیں۔ کینسر آپ کو تکلیف نہیں دے سکتا۔ تاہم ، غفلت یا بے حسی کا کوئی عذر نہیں ہے۔
نوٹ کریں کہ لوگوں کو کینسر سے بچانے کے لئے۔ گپتا پرساد گذشتہ پانچ سالوں سے اس معلومات کو سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع سے پھیلارہا ہے۔
انہوں نے سب کو جاننے کا موقع فراہم کرنے کے لئے اس معلومات کو پھیلانےکی درخواست کی۔
انہوں نے کہا ، "میں نے اپنا کام کیا۔ اب آپ اپنا کام کریں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو کینسر سے بچائیں! کینسر کے ماہر گپتا پرساد ریڈی نہ صرف ایک ڈاکٹر ہیں بلکہ ایک مسیحا بھی ہیں!
08/05/2024
پاکستان کے روتے ہوئے مرد کو دلاسے کی ضرورت ہے!
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کہتے ہیں کہ کچھ عناصر جان بوجھ کر مایوسی پھیلا رہے ہیں لیکن میں نے آج سے پہلے پاکستانی مردوں کے چہروں پر ایسی بے بسی اور پژمردگی کبھی نہیں دیکھی۔ ایسی اکتاہٹ، افسردگی، تفکرات اور بے چارگی ہے کہ فکریں چہروں سے اُمڈ رہی ہیں۔
کوئی ایک بندہ ہاتھ میں مائیک پکڑے پوچھتا ہے، مہنگائی ہو گئی ہے آپ کے حالات کیسے ہیں؟ جواباً منہ سے ٹوٹے پھوٹے چند فقرے نکلتے ہیں، ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں رواں ہو جاتی ہیں۔ ایسی کوئی ایک ویڈیو نہیں ہے، ایسی سینکڑوں ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
ایک ویڈیو میں تو ایک موٹر سائیکل سوار انتہائی متانت والا ہے، کسی طرح بھی نہیں لگ رہا تھا کہ غریب ہے یا اس کے حالات مشکل ہوں گے۔ ایک مائیک والا بس ایک فقرہ کہتا ہے کہ پیٹرول مزید مہنگا ہو گیا ہے۔
وہ شخص کچھ توقف کے بعد بڑے حوصلے سے جواب دیتا ہے، ’’یہ بھی سہہ لیں گے۔‘‘
یہ فقرہ ابھی مکمل نہیں ہوتا لیکن آنسو ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کے طرح آنکھ سے گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھتا ہے تا کہ آنسوؤں کا سیلاب بند نہ توڑ پائے لیکن جنموں کے مارے آنسوکہاں رکتے ہیں، غیرت ایسی ہے کہ فوراً اپنے سر پر ہیلمٹ پہن لیتا ہے تاکہ اُسے روتا ہوا نہ کوئی دیکھ لے۔
یہ کیسی بے بسی ہے، آپ چیخنا چاہتے ہیں، آپ چلانا چاہتے ہیں، آپ حکومت کو کوسنا چاہتے ہیں، آپ حاکم اور منصف کا گریبان پکڑنا چاہتے ہیں لیکن آپ اپنا غصہ، اپنا غم اندر ہی اندر پیتے جا رہے ہیں، اپنی ہی موٹر سائیکلیں توڑتے جا رہے ہیں اور یہ گھن آپ کو اندر ہی اندر کھاتا جا رہا ہے۔ ریاست جبر کے سامنے آپ خاموش ہیں، کوئی سننے والا نہیں اور احتجاج کرنے والے جیلوں میں پھینک دیے جاتے ہیں۔
پاکستان ایک روایتی معاشرہ ہے، جہاں خاندان کا سارے کا سارا معاشی بوجھ زیادہ تر ایک مرد پرڈال دیا جاتا ہے۔ کہاں اسکول چھوڑتے ہی فکر معاش شروع ہوتی ہے اور پھر زندگی بھر یہ تگ و دو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ بیٹی یا بہن کے جہیز سے شروع ہونے والی یہ جمع تفریق موت کی آخری ہچکیوں تک جاری رہتی ہے۔
اس مہنگائی اور اس بیروزگاری میں ایک غریب مرد اتنا بے بس ہو گیا ہے کہ اسے کوئی چھوٹا سا سوال کرتا ہے اور وہ نا چاہتے ہوئے بھی رونا شروع کر دیتا ہے۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ بیوی کو کیسے بتائے کہ چیزیں اور اخراجات اس کے بس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، وہ بوڑھے ماں باپ اور چھوٹے بہن بھائیوں کو کیسے سمجھائے کہ وہ سب کا بوجھ تنہا نہیں اٹھا سکتا، وہ اپنے بچوں کو کیسے بتائے کہ میں تمہارے لیے نئے کپڑے، نئے جوتے لینے کی سکت نہیں رکھتا۔
مہنگائی، بیروزگاری یا کم تنخواہوں کی وجہ سے یہ وہ لمحہ ہوتا ہے، جب ایک باپ، بڑا بھائی یا بڑا بیٹا باقی مردوں کی نسبت خود کو ناکام تصور کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جب وہ آگے پیچھے گاڑیوں کی ریل پیل دیکھتا ہے، امرا کے بڑے بڑے شاپنگ بیگز دیکھتا ہے تو خودکو ناکارہ تصور کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے، جب مرد اپنا موازنہ باقی لوگوں سے کرتا ہے اور خود اپنے جسم سے نفرت کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے، جب ایک مرد اپنا دکھ نہ اپنی ماں، نہ باپ، نہ بیوی اور نہ ہی اپنے بچوں سے شیئر کر پاتا ہے۔
ایسے لمحات میں فقط خودکُشیاں باقی بچتی ہیں، لڑائی جھگڑے سروں پر کھڑے رہتے ہیں، تنہائی میں اپنا ہاتھ اور اپنا ہی گریبان ہوتا ہے یا پھر سڑک پر کوئی آپ سے سوال پوچھتا ہے اور آپ جواب دینےکی بجائے آسمان کو تکتے ہیں اور آنسو رکنے کا نام نہیں لیتے۔
یقین کیجیے پاکستان کی اشرافیہ آج بھی اپنے لانز میں پانچ پانچ ٹن کے اے سی لگا کر بیٹھی ہوئی ہے، انہیں بس آپ پر حکمرانی کرنے سے سروکار ہے۔ ان کی طرف سے بس یہی بیان آنا ہے کہ احتجاج میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
عوام اپنے پسینے میں اتنا ڈوب چکے ہیں کہ ان کا سانس لینا محال ہو چکا ہے۔ پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں یہ قول مشہور ہے کہ مرد روتا نہیں ہے لیکن اس ملک کی فوج، سیاستدانوں، جاگیرداروں، سرمایہ کاروں اور اشرافیہ نے مل کر اتنا ظلم کیا ہے کہ اب یہ مرد رو پڑا ہے۔
اس مرد کو حوصلہ دیجیے، اس کا درد بھی سمجھیے، اس کو گلے سے لگائے، ایک دوسرے کے آنسو اپنے دامن میں سمیٹ لیں۔ ایسے مشکل حالات میں گھروں کی کفالت کرنے والے مردوں اور خواتین کی صورت حال کو سمجھیں۔ آپ کے اردگرد ایسی لاکھوں آنکھیں ہوں گی، جو رونا چاہتی ہیں لیکن بزدل نہ بنو اور مرد روتا نہیں ہے، جیسے فقرے ان کے سامنے اژدھے بن کر کھڑے ہیں۔
ایسے طعنے سننے والے مردوں کی پتھرائی ہوئی آنکھوں کو حوصلہ درکار ہے۔ گھر کی خواتین، رشتہ داروں اور دوستوں کی طرف سے ایک تھپکی اور’’بے فکر ہو جاؤ، سب ٹھیک ہو جائے گا، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘، ایسا کوئی ایک چھوٹا سا ایک فقرہ درکار ہے۔ اب کی بار مرد رو پڑا ہے۔
Be the first to know and let us send you an email when Muscat Oman tourism posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.